بلوچستان، سیاسی منظرنامہ

403

بلوچستان کی سیاسی پس منظر پر اگر تنقیدی نظر دوڈائیں تو وہ پختہ سیاسی کارکن جو کہ بلوچستان کی سیاسی منظر نامے کو قریب سے مشاہدہ کرتے آرہے ہیں اور اسی سیاسی عمل سے انکی بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ سیاسی جماعتوں کی عوام کے اندر غیر فعالیت اور عوام کی طاقت پہ بھروسہ کم اور روایتی لوگوں کو سیاسی کارکن پر فوقیت دینا اس وقت بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ آج سے تیس چالیس سال پہلے بلوچ قوم پرستی کی سیاست میں ایک مثالی قیادت موجود تھا جس پر لاکھوں لوگوں کا بھروسہ و اعتماد ہوا تھا اور اُس قیادت کی کمٹمنٹ پر کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی اور نا ہی اُس قیادت کے سامنے کوئی ذاتی لالچ اور خوف اُن کے مضبوط ارادوں کو کمزرو کرتا۔

اس پہلو سے کوئی انکاری نہیں ہے کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کو تقسم در تقسیم کرنے میں اسٹیبلشمنٹ کا اہم رول رہا ہے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  اگر ہماری سیاسی قیادت جن نعروں سے عوام کو اکھٹا کر کے بلوچستان بھر میں اُن کی جماعت کو مقبولیت ملتی ہے کیا وہ خود اسی نعروں پر عمل کرتے ہیں یا یہ محض  مقبول اور روایتی نعروں سے عوام کی جزباتوں سے کھیل کر اقتدار  کی  سیڑھی پھار  اُنکا نظریہ برائے ضرورت بن جاتا ہے؟

مجھ جیسے سیاسی کارکنوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے جب میں  اپنے سیاسی نظریاتی رہنماوں کی کمزوریوں کی نشاندئی کرتا ہوں کیونکہ میں بچپن سے اسی کاز سے منسلک ہوں اور اس عوامی بالادستی اور حقوق کی فکری جدوجہد سے میری روحانی وابستگی ہے۔ جب بھی اس جدوجہد سے وابستہ رہنماوں پہ کوئی بات آجاتی ہے تو یوں میں محسوس ہوتا ہے کہ میں بھی اس میں برابر شریک ہوں۔ میرا یہ کہنا بجا ہے کہ آج کی سیاسی جماعتوں کی اپنی کمزرویوں کی وجہ سے انہیں کئی تلخ سوالات کا سامنا ہے۔ سوال ذاتی نوعیت کے نہیں بلکہ فکری و اصولی نوعیت کے ہیں۔ لوگ اپنا سمجھ کر سوال کیا کرتے ہیں کیونکہ ہم نے سماج کے جملہ مسائل کی نشاندئی کرتے ہوئے ان کا سیاسی حل نکالنے کی ٹھان لی ہوئی ہے اور ہم اس کے سیاسی حل کے لیے دہائیوں سے دعوی کرتے آرہے ہیں۔ یہی دعوں کی وجہ سے لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں اور انکا سوال بھی جائز ہے۔ ہمیں ان کے سوالات کا جواب دینا ہوگا جب تک ہم جوابدہ نہیں ہوں گے تو ہم اپنی اصلاح نہیں کر پائیں گے۔

 ایک دہائی سے ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ بلوچستان سیاسی و نظریاتی بحران کا شکار ہوتا جارہا ہے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے علمی و فکری سرکلوں کو ویران کیا ہوا ہے اور تعمیری تنقیدی روایتوں کی اس لیے  حوصلہ شکنی کرتے آرہے ہیں کہ شاید یہ تنقید عوام کے اندر ہماری پوزیشن کو کمزرو کرتی ہیں۔ جب تک ہم تنقیدی شعور اور خود نقیدی کا جائزہ نہں لیںگے تو آنے والے دنوں میں ہماری سیاسی طاقت اس قابل نہیں ہوگی کہ جس پہ ہم فخر کیا کریں کہ کہ ہم اس مںظم سیاسی اور عوامی طاقت سے اسلام آباد سے اپنی حقوق کی جنگ لڑ سکتے ہیں کیونکہ آج کل حقوق کی جنگ لڑنا اتنا آسان نہیں کہ ہم بغیر مضبوط و منظم سیاسی جماعت کے ایک منظم مائنڈ سِٹ کو شکست دیں جسکی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ صوبوں کو پسماندہ رکھ کر ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اپنی فیڈریشن اور سلطنت  کو معاشی طور پر مضبوط کروں۔ بلوچستان کی سیاسی قوتوں کو ہر لحاظ سے ہوشیار ہونا ہوگا۔ وہ وقتی طور پر چند نشست اور اسکیمات سے شاید انہیں نوازتے ہیں مگر اس کے پیچھے اپنے اصل مقصد کو یاد کرنا ہے۔

یہاں ہم سوال یہ ہے جو آج کل سیاسی کارکن شددت سے محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی مخلصی اور جدوجہد کا فائدہ کون اٹھاتا ہے۔ وہ کس کے لیے جدوجہد کرتے آرہے ہیں۔ ماضی میں تو کوئی بھی سیاسی کارکن فکری طور پر کسی سیاسی جماعت سے اس لیے وابستہ تھا کہ ان کا خیال تھا کی انکی جدوجہد ایک عظیم کاز کے لیے ہے اور وہ بلوچستان کی سیاسی و معاشی حقوق کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں مگر آج کے باشعور سیاسی کارکن کو اس بات کا ادراک اُس وقت ہونے لگا ہے جب بلوچستان کی ایک پارلیمانی جماعت کو تین سال کے اندر ذاتی و گروہی مفادت کی خاطر اب تک تین ٹکڑوں میں تقیسم ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ اس سے بھی بڑا المیہ بلوچستان کے سیاسی کارکن کا اور کیا ہوسکتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ ان کے اندر موجود سیاسی کیڈر اس بات کا ادراک نہیں رکھتے ہیں یہ ان کی بھی مجبور ہوسکتی ہیں مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اس پہ ہم نے سوچنا ہوگا۔ اگر سیاسی کارکن کو اس بات کا ادراک نہ ہو کہ اسکی جدوجہد کا محور کیا ہے اور اسکی اصولی و فکری جدوجہد کی سمت کو کس طرف لے جایا جا رہے تو آنے والے دنوں عوامی و سیاسی جماعتوں کے لیے مشکلات بہت زیادہ ہوں گے۔

اس وقت دوسرا اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ جو بلوچستان میں نظام کے اندر رہ کر قوم پرستی کی سیاست کررہے ہیں ان کو بھی کئی مشکلات کا یوں سامنا ہے کہ اس نطریے کے سیاسی جماعتوں کو انکے ناقدین جو کہ بلوچستان کی قوم پرستی کی سیاست کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے تقنیدی نگاہ سے دیکھتے آرہے ہیں ان کو تو تیسرے درجے کی قوم پرست جیسی القابات سے پکارتے ہیں اور دوسری جانب ریاست نے ایک  قوم پرستوں  کے بارے میں ایک نئی اصطلاعات (سب نیشنلزم) متعارف کیا ہے۔ اس ضمن میں میدان میں فیڈریشن کے اندر رہ کر قوم پرست جماعتیں بیچ میں سنڈوچ ہیں۔

نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی تنازعہ کی وجہ سے سیاسی عمل سے توجہ بلکل ہٹ چکی ہے اور وہ بھی اس نظام سے نالاں ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سب سے بڑی اور لائق نوجوانوں کا اس پوری سیا سی منظر نامے میں انکا کوئی کردار نہیں ہے اور نا ہی  یہ کوشش کی گئی ہے کہ اس عمل میں انکی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے اور انہیں اس عمل بھر پور موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنی علمی و سیاسی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں منوا سکے۔

اب بھی وقت ہے کہ ہماری سیاسی قیادت بلوچستان کی پڑھی لکھی نوجوان قیادت کو اپنی لیگیسی میں بھر پور موقع دے کیونکہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں نوجوانوں کے کردار کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ اُن ہی کی لیگیسی ہے۔ قیادت کا پہلا حق بھی ان کا بنتا ہے۔ اگر بلوچستان کے سیاسی منظر نامے پر نوجوانوں کے سیاسی عمل میں شراکت میں عدم دلچسپی کا ایک تنقیدی جائزہ لیکر کھوج لگائیں تو یہ کہنا درست اور کسی صورت واضح ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ماضی میں نطام کے اندر سیاسی عمل کا حامی تھا وہ اب کیوں نالاں ہیں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی عمل میں محرومی کے عنصر ملتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ اس دہائی کے نوجوانوں کے شئیر کو سیاسی عمل میں تسلیم کیا جائے اور کرنا بھی چائے کیونکہ ان میں اتنی فکر و دانش بھی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اکابرین کی سیاسی وراثت کو اپنے آنی والی نسل تک بہتر انداز میں منتقل کرسکتا ہے۔ بجائے اُن روایتی اور پیراشوٹس خود ساختہ ایلیکٹیبلز کے اس دہائی میں ہماری سیاسی منظر نامے پر یہی دیکھنے کو ملا ہے  اور سب سے بڑا المیہ بھی کہ ہم نے اپنے گراس روٹس فکری نظریاتی سیاسی کارکنوں پر موسمی قیادت کو ترجیح دے کر سیاسی عمل و نقصان پہنچایا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...