تقسیم ہند کے فسادات اور بھیشم ساہنی کا ناول تمس

208

بھیشم ساہنی کا تعلق چونکہ پوٹھوہار کے علاقے سے تھا اور یہیں سے ہجرت کرکے وہ انڈیا گئے، تو اس ناول کا لوکیل بھی بنیادی طورپر راولپنڈی اور اس کا گردونواح کا علاقہ ہے

تقسیم اور اس سے جڑے ہوئے ہجرت اور فسادات کے واقعات کی ہولناکی نے سرحد کے دونوں طرف لکھنے والوں کی ایک سے زائد نسلوں کو متاثر کیا اور اردو ہی میں نہیں بلکہ ہندی اور برصغیر کی دیگر زبانوں میں بھی اس موضوع پر شعر و نثر میں بہت لکھا گیا۔

منٹو کے گنجے فرشتے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ فوراً ہی اس موقع پر ذہن میں آتے ہیں۔ قرة العین حیدر ، انتظار حسین اور عبداللہ حسین، بالکل سامنے کے نام ہیں۔شاعری میں امرتا پریتم کی ‘اج آکھاں وارث شاہ نوں’کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔استاد دامن، ساحر، فیض،احمد ندیم قاسمی اور ناصر کاظمی، یہ چند نام ہیں جن کی شاعری میں ہجرت اور فسادات کے دکھ کا رنگ گہرا ہے۔

تاہم مذکورہ موضوع پر دستیاب ادب میں اگر تمس کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ فہرست مکمل نہیں ہوتی۔ تقسیم کے فسادات پر لکھے گئے ادب میں تمس کی انفرادیت سب سے نمایاں ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں تمس جیسے نہایت اثر انگیز اور کامیاب ناول کا تذکرہ زیادہ نہیں ہوتا۔یہ ناول اصلاً ہندی میں لکھا گیا، اس کا اردو ترجمہ بھی کراچی سے شائع ہوچکا ہے۔ تقسیم سے جڑے موضوعات پر اس سے زیادہ مؤثر تحریر ڈھونڈھے ہی سے کوئی ملے تو ملے۔

بھیشم ساہنی کا تعلق چونکہ پوٹھوہار کے علاقے سے تھا، اور یہیں سے ہجرت کرکے وہ انڈیا گئے، تو اس ناول کا لوکیل بھی بنیادی طورپر راولپنڈی اور اس کا گردونواح کا علاقہ ہے جہاں پنجہ صاحب کی قربت کی وجہ سے سکھوں کی بہت بڑی آبادی موجود تھی۔بھیشم نے راولپنڈی اور لاہور کی ادبی فضا ہی میں اپنے ادبی کیریئر کا آغاز کیا۔ابتدامیں کہانیاں لکھیں لیکن تقسیم کے تجربے پر مبنی تمس نے انھیں ملک گیر شہرت دی۔ یہ تجربہ ان کا ذاتی تھا۔ جو کچھ بھی انھوں نے دیکھا اور سہا، اسے فکشن کا روپ دے دیا۔ اس لیے ان کی تحریر میں غیر معمولی تاثیر پیدا ہوئی اور وہ منظر کو اس کی جزئیات کے ساتھ یوں بیان کرنے پر قادر ہوئے کہ وہ جی اٹھتا ہے، اور آپ خود کو اسی بے یقینی سے عبارت فساد ذدہ دور میں ان کرداروں کے ساتھ جیتے اور مرتے محسوس کرتے ہیں۔

تمس جیسی تحریریں فن پر اعلی درجہ کی گرفت کے بغیر وجود میں نہیں لائی جا سکتی ہیں۔ ایسی تحریروں کی تخلیق کے لیے اس فنی ضبط کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو بحرانی کیفیت سے نکل آنے کے بعد اسے غیر جانب داری کے ساتھ دیکھنے اور سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے اور تبھی ہم سمجھ پاتے ہیں کہ کسی بحران کی اصل ہیئت کیا تھی اور اس کے کیا اسباب و علل تھے۔ تب آپ کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے، سچ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

ہمیں اس ناول میں کیا دکھائی دیتا ہے، عام لوگ، خاص لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہوئے۔اپنے جیسے عام لوگوں کو بے دریغ قتل اور بے گھر کرتے ہوئے۔ یہ کہانی کیا ہم اس سے پہلے بھی بے شمار مرتبہ نہیں سن یا پڑھ چکے ہیں۔ ہمیشہ سے انسان دوسرے انسانوں کو اپنے اچھے برے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی احمقانہ اور سفاک خواہش کا اسیر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے کبھی قومیت کا سہارا لیا جاتا ہے، کبھی مذہب اور کبھی زبان کا۔تمس میں بھی ہمیں مختلف مذاہب کے لوگ دکھائی دیتے ہیں جو مخالف عقیدے کے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، جب کہ اس قتل و غارت کو جاری کرنے میں پیش پیش مذہبی پیشوا ہیں یا سیاسی رہنما۔

اس ناول پر بھارت میں طویل ڈرامہ بھی بنا جو اپنے دور میں بہت متنازعہ ثابت ہوا اور اس پر مقدمہ بھی چلا۔ الزام یہ تھا کہ مصنف نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں اور سکھوں کو بھی قتل عام میں شریک دکھایا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس کی بندش کی تجویز کو رد کردیا۔ بھیشم ساہنی کی اپنی زندگی بھی ایک فعال سیاسی کارکن کے طورپر گزری۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے کارکن تھے۔ فسادات میں امدادی مہموں میں پیش پیش رہے۔ انھوں نے انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور عمر کا بڑا حصہ تعلیم و تدریس میں گزارا۔ آخر آخر میں وہ فلم اور ڈرامہ کی دنیا سے وابستہ ہوئے اور متعدد ڈرامے بھی سٹیج کے لیے لکھے۔

تمس کی نثر اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ واقعات اور رویوں کی سفاکی اور بے حسی کے بیان کے لیے ایسی ٹھہری ہوئی نثر کی ضرورت تھی، جس میں جذباتی تحرک پیدا کرنے کی بے پناہ اہلیت موجود ہو مگر جو خود ایسی سادہ اور عمومی ہو کہ اس تحرک اور حدت کی زدسے خود کو محفوظ رکھ سکے۔ بھیشم ساہنی ایسی سادہ اور پرکار نثر تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

انھوں نے کسی بھی برادری کی حمایت یا مخالفت کا نعرہ نہیں لگایا، نہ کسی ایک گروہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، کچھ یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس ناول کواپنی تمام تر غیر معمولی خوبیوں کے باوصف سرحد کے دونوں طرف عمومی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود اس نے ساہتیہ اکادمی کا انعام جیتا۔

تمس ہمیں کیا پیغام دیتا ہے؟ وہ انسانوں کو خبردار کرتا ہے کہ ترغیب دینے والوں سے ہشیار رہیں۔ ان کے مذموم مقاصد پر نظر رکھیں۔ ان کی حیلہ بازیوں اور مکاریوں کو جانیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں ہونے والی قتل و غارت کا ایک بڑا حصہ قابل امتناع تھا۔ اسے روکا جا سکتا تھا، اگر ترغیب دینے والوں کے عزائم کو بروقت بے نقاب کرکے ان کی نشان دہی کردی جاتی۔ کسی بھی بحرانی کیفیت میں جب دیگر کئی حسیات کےساتھ سوچنے اور سمجھنے کی اہلیتوں پر بھی ضرب پڑتی ہے، اور وہ ضعف کا شکار ہوجاتی ہیں تو یہی وقت ہوتا ہے، ترغیب دینے والوں کی کارگزاری کا، جب ان کا حملہ سو فیصد کامیابی سے ہم کنار ہوسکتا ہے۔ اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ یہ ترغیب دینے والے بھلا تمس کو کیوں کر قابل قبول جانیں گے۔ جب کہ ان کی تعداد سرحد کے اس طرف کم ہے نہ اُس طرف۔ اس قتل و غارت گری کا ذمہ دار کوئی ایک فرد یا ادارہ نہیں تھا، بلکہ یہ کثیرالنوع عناصر کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ تھی۔ فسادات کی روک تھام کی شہری انتظامیہ ذمہ دار تھی جو ہم ناول میں دیکھتے ہیں کہ خاموش تماشائی بنی اس سانحات کو ہونے دیتی ہے۔ حکومت برطانیہ کا ایک اہل کار رچرڈ اپنی بیوی کے ایک معصومانہ سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے ”نہیں لیزا اگر رعایا آپس میں لڑے تو حاکم کو کس بات کا خطرہ ہے؟

ناول کے ایک یادگار منظرمیں سے ذیل میں ایک ٹکڑا نقل کیا جا رہا ہے جو بھیشم ساہنی کی بیان اور انسانی نفسیات پر غیر معمولی گرفت کا آئینہ دار ہے۔پس منظر یوں ہے کہ سکھوں کی برادری ایک مسلم اکثریتی علاقے میں خود کو گوردوارے میں محصور کیے ہوئے ہے اور اس کی چھت پر مورچہ بند ہے۔ اس کے بہت سے افراد مارے جا چکے ہیں۔اس دوران میں انگریز بہادر کی طرف سے علاقے کے معائنے کے لیے وہاں سے ایک جہاز گزرتا ہے۔

کاک پٹ میں بیٹھے گورے سپاہی نے اڑتے ہوئے اوپر سے ہاتھ ہلایا۔ نیچے چھت پر کھڑے کشن سنگھ کو لگا جیسے گورے ہوا باز نے بس اسی کو ہاتھ ہلایا ہے، گویا اس نے اپنے ساتھی کا خیر مقدم کیا ہے۔ کشن سنگھ جو ابھی تک پریشان اور بدحواس کھڑا تھا، اٹنشن ہوگیا اور اس نے ایڑیاں بجا کر سلیوٹ مارا۔ سپاہی آخر سپاہی ہی ہوتے ہیں۔ ایک سپاہی دوسرے سپاہی کو سلیوٹ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کشن سنگھ کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ برما کے محاذ پر وہ ہر شام اپنے کپتان جیکسن سے ملنے جایا کرتا تھا۔ جیکسن ہمیشہ بڑی توجہ سے اس کی بات سنتا تھا اور اس کے سلیوٹ کا جواب باقاعدہ سلیوٹ سے دیا کرتا تھا۔ کشن سنگھ نے جذباتی ہوکر زور زور سے ہاتھ ہلاتے ہوئے چلا کر کہا”گاڈ سیو دی کنگ، صاحب گاڈ سیو دی کنگ۔

یہ ناول ماضی کی تصویر کشی کرکے اصل میں ہمیں آئینہ بھی دکھاتا ہے۔ حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کی گئی ان تصویروں کی سنگینی انسان کی عاقبت نااندیشی اور بحرانی کیفیت میں اس کی سمجھ بوجھ کی بے اعتباری کا بھانڈا پھوڑتی ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرکے ہی ہمارے لیے ممکن ہوسکتا ہے کہ حال اور مستقبل پر زیادہ دانش مندی اور احتیاط پسندی کے ساتھ نگاہ کی جائے۔ اس اعتبار سے یہ ناول ہمارے لیے ایک یاد دھانی بھی ہے۔ جب کہ یہ حقیقت بہت واضح ہے کہ آج ہمیں ایسی کسی یاد دھانی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...