آزادیِ اظہار

586

جیکب مکین گاما

ترجمہ: عابد سیال

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آزادیِ اظہار پر قدغنوں کا مسئلہ دورِ حاضر میں آ کر بہت شدت اختیار کر گیا ہے اور فی زمانہ انسان کو اپنی بات، اپنا مؤقف بیان کرنے کی آزادی ویسی نہیں جیسی اس سے پہلے کے کسی زمانے میں موجود تھی۔ لیکن جیکب مکین گاما کا تصور اس سے مختلف ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ موجودہ دور آزادیِ اظہار کے ضمن میں سنہری دور ہے، تاہم محتاط رہنے کی ضرورت بہرحال ہے۔ اس سلسلے میں جیکب نے قرونِ اولیٰ سے آغاز کر کے اور قرونِ وسطیٰ سے ہوتے ہوئے آزادیِ اظہار کی روایت اور اس کا احوال بہت دلچسپ پیرائے میں بیان کیا ہے۔ یہ ترجمہ قارئین “تجزیات” کو اپنے زمانے میں اظہارِ رائے کی سہولتوں کا احساس دلانے میں معاون ہو گا۔ (مدیر)

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ہم آزادی اظہار کے سنہری دور میں رہتے ہیں۔ ‘یونائیٹڈ سٹیٹس بل آف رائٹس’ اور ‘اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا اعلامیہ’ جیسی دستاویزات دنیا کے بیشتر باشندوں کو آزادانہ تقریر کا قانونی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ اور، میڈیا اور انٹرنیٹ میں تکنیکی ترقی کی بدولت، اپنا موقف بیان کرنا اور اپنے خیالات کو پھیلانا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ہم آزادانہ بات کرنے کے اتنے عادی ہیں کہ ہم اسے معمولی سمجھتے ہیں، یہ بھول جاتے ہیں کہ انسانی تاریخ کے بیشتر حصوں میں ایسی آزادی کا رواج نہیں تھا۔

 ہمیں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا آزادی اظہار کا حق اس سے کہیں کم محفوظ ہے جتنا کہ بظاہر لگتا ہے۔ آج، پوری دنیا میں، سنسر شپ دراصل عروج پر ہے۔ جمہوریتوں کے باہر، آمریت، مذہبی بنیاد پرستی، اور ہائی ٹیک سنسر شپ کے مہلک مرکب سے آزادی اظہار کو ختم کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ روشن خیال مغربی جمہوریتوں کے اندر بھی آزادی اظہار پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ غلط معلومات سے لے کر نفرت انگیز تقریر تک اس آزادی کے منفی اثرات پہلے سے کہیں زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ آزادی اظہار کو منافرت کی طاقت اور خود جمہوریت کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اور اب بائیں اور دائیں دونوں طرف سے مسلسل صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ اسے لگام ڈالی جائے پیشتر اس سے کہ بہت دیر ہو جائے۔

قدیم آغاز

 انسانی تاریخ کے زیادہ تر دورانیے میں طاقت کے سامنے سچ بولنا مناسب نہیں تھا۔ قدیم قانون کے ضابطوں کے اس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے جو اَب تک باقی بچا ہے، زیادہ تر قدیم تہذیبوں نے حکمران اشرافیہ کو ان کے کمتر لوگوں کی بات سننے کی بجائے انھیں ان کی باتوں سے محفوظ رکھنے کے اسباب فراہم کر رکھے تھے۔

قدیم مصر سے لے کر قدیم چین تک، اب تک کے دستیاب اخلاقی ضابطے واضح طور پر کسی اعلیٰ مقام کی حامل شخصیت کے خلاف بولنے کی ممانعت کرتے ہیں۔ تقریر پر اس طرح کی ممانعتیں قدیم معاشروں میں موجود سخت سماجی درجہ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے وضع کی گئی تھیں، جہاں سب سے اوپر والے طبقے اکثر الوہی استحقاق سے حکمرانی کرتے ہوئے دیکھے جاتے تھے۔

 اس سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک معاشرہ ایسا تھا جس نے خود میں اس رجحان کو روکنے کی اہلیت پیدا کی، اور یہ قدیم یونان میں ایک چھوٹے سے شہر پر مشتمل ریاست تھی جسے ایتھنز کہا جاتا ہے۔ پانچویں صدی قبل مسیح تک، ایتھنز تاریخ کی ظلمت میں آزادی اظہار کی روشنی بن کر چمکا۔ آزادی اظہار کو اس ریاست کے طرز حکمرانی میں مرکزیت عطا کی گئی تھی۔ یہ ایک جمہوری نظام تھا جہاں شہریوں، یعنی بندگانِ آزاد سے، خود سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنے اوپر حکمرانی کرنے والے قوانین تجویزکریں، ان کو زیرِبحث لائیں اور ان کے بارے میں ووٹ دیں۔

 اگرچہ ایتھنز کا جمہوریت کا تصور عورتوں اور غلاموں کو رائے دہی سے بے دخل رکھنے کے سبب جدید معیارات کے اعتبار سے کئی بڑی خامیوں کا شکار تھا، اس کے باوجود بھی اپنے وقت کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر مساوات کا حامل تھا۔

ایتھنز کے باشندوں کو آزادیِ اظہار کے ضمن میں وسیع تحفظ حاصل تھا۔ یہاں کے شہری سیاسی مباحثوں میں ریاست اور خود جمہوریت پر بھی تنقید کرنے کے لیے آزاد تھے۔ اور، ایتھنز کے مشہور تھیٹر کلچر میں، کسی کو بھی، حتیٰ کہ دیوتاؤں کو بھی،طنز سے نہیں بچایا گیا، جیسا کہ ارسطوفینس کی مثال ہے جب اس نے اپنے مشہور ڈرامے ‘The Frogs’ میں ڈائیونائسس (Dionysus) کو بیوقوف دکھایا۔

اظہار کے بارے میں اہلِ ایتھنز کا نرم رویہ ان کی ثقافتی کامیابی کا موجب بنا۔ ایتھنز کے عوامی چوپال (اگورا ) میں خیالات کی آزادانہ بحث نے ایک متحرک فکری روح کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔ اس دور میں فلسفہ، سائنس اور طب میں بہت زیادہ ترقی ہوئی جو زیادہ جابرانہ نظام کے تحت ممکن نہیں ہوتی۔

  تاہم، ایتھنز میں بھی اس کی حدود تھیں۔ بے حرمتی کا الزام، یعنی ایلیوسینی اسرار (Eleusinian Mysteries) کی مقدس مذہبی رسومات کی بے حرمتی کرنا، ایک سنگین جرم تھا جس کی سزا موت تھی۔ یہ وہ چیز ہے جسے ایتھنز کا سب سے بہادر مفکر بھی ایک مشکل راستہ سمجھے گا۔

 اگر آپ پانچویں صدی قبل مسیح کے اواخر میں ایتھنز کے بازار میں گھوم رہے ہیں، تو امکان ہے کہ آپ کی مڈبھیڑ ایک عجیب سے لنگڑے، مینڈک جیسی باہر کو اُبلی ہوئی آنکھوں اور اوپر کو مُڑی ہوئی ناک والے آدمی سے ہو جائے۔ وہ ممکنہ طور پر ننگے پاؤں ہوگا، وہی لباس پہنے ہوئے جو وہ ہر روز پہنتا تھا اور اسی کو رات کو کمبل کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ یہ خستہ حال شخص سقراط ہے، اور اسی کو بڑے پیمانے پر مغربی فلسفے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔

 سقراط بدنامی کی حد تک ایک پریشان کن شخص تھا۔ وہ ہر دن کا زیادہ تر حصہ ایتھنز کے ممتاز افراد کو زبانی جھگڑے کے مقابلوں میں گھسیٹنے میں گزارتا تھا، جہاں وہ انہیں منطقی انجام تک پہنچاتا تھا اور ان کی لاعلمی کو عیاں کرتا تھا۔ بالآخر یہاں تک کہ ایتھنز کے لوگ جو طبعاً روادار تھے، اس فعل سے تنگ آ گئے۔

 70 سال کی عمر میں سقراط پر بے حرمتی کے جرم میں فرد جرم عائد کی گئی۔ اس نے مبینہ طور پر دیوتاؤں کی بے حرمتی کی اور ایتھنز کے نوجوانوں کو اپنے نظریات سے خراب کیا۔ اسے قصوروار ٹھہرایا گیا اور ایک زہریلے درخت کا رس پلا کر اسے موت سے ہمکنار کرنے کی سزا سنائی گئی۔

 مورخین نے اکثر اس بات پر بحث کی ہے کہ اہلِ ایتھنز نے سقراط کو زندگی میں اتنی دیر سے پھانسی دینے کا فیصلہ کیوں کیا، جب وہ کئی دہائیوں سے آزادانہ طور پر بات کر رہا تھا۔ ہم یقینی طور پر کبھی نہیں جان سکتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ بغاوت کی کچھ کوششیں جنہوں نے پچھلے سالوں میں ایتھنز کے جمہوری نظام کو عارضی طور پر الٹ دیا تھا، یہاں کے شہریوں کے ضبط کو متزلزل کرنے کا باعث بنیں۔

 یہ ممکن ہے کہ دوبارہ اٹھنے والی جمہوریت مخالف تحریک کے خوف نے ایتھنز کے شہریوں کو اختلاف رائے کے ضمن میں بہت کم روادار بنا دیا ہو اور انہیں آخر کار سقراط کو خاموش کرنے کی ترغیب دی جو کبھی کبھی جمہوریت پر بھی تنقید کر سکتا تھا۔

اگر یہ سچ ہے، تو سقراط کے مقدمے سے جمہوریت کے بارے میں ایک قیمتی سبق حاصل ہوتا ہے جسے ہم جدید دور کے لوگ یاد رکھیں گے: جمہوری اقدار کے تحفظ کے نام پر، سب سے اہم حق یعنی آزادی اظہار، اکثر سب سے پہلے قربان کیا جاتا ہے۔ .

باز پُرس(Inquisition)

 بدقسمتی سے، آزادی اظہار اور جمہوریت کے نظریات جو قدیم ایتھنز میں موجود تھے اگلی صدیوں میں مرجھا جائیں گے، اور مزید دو ہزار سال تک دوبارہ رائج نہیں ہو پائیں گے۔

  روم کے عروج اور اس کے نتیجے میں عیسائیت کے ساتھ، آزاد فکر کی روح جو قدیم دنیا کے کچھ حصوں میں پروان چڑھی تھی اس کی جگہ قرون وسطیٰ میں سخت مذہبی مُلائیت نے لے لی۔

 حیران کن طور پر، 90 فیصد قدیم ادبی کام درمیانی عرصے میں ضائع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو کلیسا کے زیرِاثر فعال طور پر سنسر کر دیا گیا اور جلا دیا گیا تھا۔ لیکن زیادہ تر لوگ حد سے زیادہ کٹر ماحول کی وجہ سے پیدا شدہ غفلت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ سو بے سبب نہیں اگر اس دور کو “تاریک دور” کہا جاتا ہے۔

 تاہم، قرون وسطی کا دور تاریخ میں بالکل خاموشی کا وقفہ نہیں تھا جیسا کہ بہت سے لوگ تصور کرتے ہیں۔ انحرافی نظریات کو وسیع پیمانے پر درپیش عدم برداشت کے باوجود، اہم فکری پیش رفت ہوئی جس نے آنے والی صدیوں کے لیے راہ ہموار کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جامعات کی شکل میں تحقیق و تعلم کے نئے مراکز اسلامی دنیا اور یورپ میں کھلنے لگے۔ قدیم مفکرین کے خیالات سے پرورش پائے ہوئے یہ استدلال کے نئے قائم شدہ مراکز ایسے خیالات کی آماج گاہ بن گئے جنھوں نے بالآخر مروجہ مذہبی راسخ العقیدگی کو چیلنج کیا۔

 کیتھولک چرچ حیرت انگیز طور پر ان پیش رفتوں کو برداشت کر رہا تھا۔ اگرچہ بدعتی قوانین رومی سلطنت کے دور تک موجود تھے، تاہم اس کا مقابلہ کرنے کے لیے چرچ کی بنیادی حکمت عملی قائل کرنا تھی، ظلم و ستم نہیں۔ لیکن یہ صورت حال گیارہویں صدی کے آخر تک بدل گئی تھی۔ جامعات کی طرف سے منحرفانہ خیالات کو پھر سے مقبولیت میں لانے کے ساتھ، کلیسا کی جانب سے ان نظریات کو ختم کرنے کی کوشش عسکری گرفت کی صورت اختیار کر گئی۔

 بارہویں صدی سے شروع ہو کر، کلیسا نے انحرافی نظریات سے نمٹنے کے لیے جو اہم آلہ استعمال کیا وہ ‘بازپُرس’ کاتھا۔ یہ آزاد عدالتوں کا ایک وسیع نظام تھا جسے جھوٹے عقائد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور سزا دینے کا کام سونپا گیا تھا۔ استغاثہ، جج اور جیوری کے طور پر خدمات انجام دینے والے ‘بازپرس’ کے مجسٹریٹس کے ساتھ، یہ عدالتیں بہت جدید قانونی معیارات کے مطابق نہیں تھے۔ جب کہ چرچ کو اس امر پر اصرار رہا کہ بازپرس کا یہ نظام غلطی کرنے والے بھائیوں کی “محبت” کے باعث قائم کیا گیا تھا اور صرف انھیں سزا دی گئی جو واقعاً قصوروار پائے گئے۔

 انحرافی نظریات کے تیزی سے خاتمے کے لیے ایک موثر طریقہ کار کی ضرورت تھی۔ اس لیے بازپرس کرنے والوں نے صرف افراد کی بجائے پورے کے پورے طبقات پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ نتیجہ خیز پایا۔ ایک بار جب یہ بازپرس کرنے والے شہر میں داخل ہوتے، تو وہ سب سے پہلے ایک رعایتی مدت کا اعلان کرتے جہاں نرمی برتتے ہوئے ہدفی طبقات کے لوگوں کو آگے آنے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے، یا اپنے جیسے دوسروں کی مذمت کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔

 بلاشبہ، اس پالیسی کا اصل نتیجہ خوف پھیلانا تھا، جس کی وجہ سے لوگ ان جرائم کا اعتراف کرتے تھے جو انہوں نے نہیں کیے تھے، یا ان پڑوسیوں کی مذمت کرتے تھے جن کے خلاف وہ رنجش رکھتے تھے۔

  اتنی بڑی تعداد میں لوگوں پر نظر رکھنے کا ایک اور دلچسپ ضمنی اثر یہ تھا کہ پوچھنے والوں کو ان معلومات کو ذخیرہ کرنے اور ان کی جانچ پرکھ کے نئے طریقے ایجاد کرنے پڑتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، قرون وسطی کی تحقیقات نے ریکارڈوں کی جانچ پرکھ کے لیے انڈیکس کے ساتھ آرکائیوز کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک تیار کیا۔ ‘بازپرس’ مؤثر طریقے سے کام کرنے والا نگرانی کا پہلا خالص یورپی نیٹ ورک تھا۔

 لہٰذا، وہ کھیل پرانا ہوا جب ابھی بازپرس کے نظام نے ظلم و ستم ایجاد نہیں کیا تھا۔ اس نے دراصل اسے ایک افسرشاہی ڈھانچے کے ذریعے منظم کر دیا تھا۔ یہ “ظلم کی مشینری” جانی پہچانی لگنی چاہیے، کیونکہ گزرتی ہوئی صدیوں کے دوران مذہبی اور سیاسی دونوں طرح کی حکومتوں نے اپنے مخصوص نقطہ نظر کو نافذ کرنے کے لیے اسے کئی بار نئے سرے سے بنایا اور استعمال کیا ہے۔

 یہ نوٹ کرنا دلچسپی کا باعث ہے کہ اسلامی دنیا میں اسی عرصے کے دوران، کبھی بھی ‘بازپرس’ جیسا کچھ نہیں ہوا۔ اور یہ اس لیے نہیں کہ اسلامی دنیا خاص طور پر روادار تھی۔ بلکہ، کیتھولک چرچ جیسی ایسی کوئی مرکزی مذہبی اتھارٹی نہیں تھی جو ملائیت کو نافذ کرنے کے قابل ہو۔

 سو یہاں سیکھنے کا سبق یہ ہے کہ آزادی اظہار اور فکر کے لیے اصل خطرہ راسخ العقیدگی نہیں ہے، بلکہ ایک واحد راسخ العقیدہ طبقے کا بہت زیادہ طاقت حاصل کر لینا ہے۔ جب طاقت کسی ایک اتھارٹی کے ہاتھ میں جمع ہو جاتی ہے، تو یہ اتھارٹی معلومات کو کنٹرول کرنے اور سچائی کے بارے میں اپنا نظریہ نافذ کرنے کے قابل ہوجاتی ہے۔

 عظیم خلل

 پندرہویں صدی کے وسط میں، کچھ ایسا ہوا جس نے بالآخر یورپ پر کیتھولک چرچ کی گرفت کو ختم کر دیا۔ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب جوہانس گٹن برگ کے نام سے ایک محنتی سنار نے پرنٹنگ پریس تیار کیا۔

کم لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی تاریخ پر گٹن برگ جیسا اثر ڈالا ہے۔ پرنٹنگ پریس مینز شہر میں اس کی ورکشاپ سے شروع ہو کر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ اُس صدی کے آخر تک، لزبن سے کراکو تک پورے یورپ کے شہروں میں 1,700 پرنٹنگ پریس کام کر رہے تھے۔ آئندہ صرف 50 برس میں، ان پرنٹرز نے اس سے زیادہ کتابیں تیار کرنا تھیں جو یورپ کے تمام کاتبوں نے ایک ہزار سال میں لکھی تھیں، اور وہ ابھی محض تیاری میں تھے۔

 جیسے جیسے کتاب کی پیداوار آسمان کو چھوتی گئی، کتابوں کی قیمتیں گر گئیں۔ ایک مخطوطہ جس کی قیمت کبھی انگور کے باغ کے برابر تھی ایک روٹی کی قیمت پر اٹھایا جا سکتا تھا۔ اس نئی استطاعت کا نتیجہ یہ تھا کہ اس نے آبادی کے بڑے حصے کے لیے تحریری لفظ تک فوری رسائی میں اضافہ کیا۔ اس کے نتیجے میں، شرح خواندگی میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا، اور جلد ہی اقتصادی ترقی اور جدت طرازی شروع ہو گئی۔

  لیکن نئی ٹیکنالوجی کے مظاہر نئے مسائل بھی لاتے ہیں۔ ابتدائی طور پر، ہیبسبرگ اور ٹیوڈرز جیسے مغربی حکمرانوں نے اس نئی ٹیکنالوجی کو قبول کیا۔ چرچ نے آغاز میں اسے “الوہی” آرٹ کے درجے پر فائز کیا لیکن جلد ہی انہوں نے اپنا رویہ بدل لیا جب تکلیف دہ طور پر یہ ظاہر ہو گیا کہ پرنٹنگ کا کام معاشرے میں قائم نظام میں سنجیدہ طور پر خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پریس کی انقلابی طاقت کو مکمل طور پر ظاہر ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور مارٹن لوتھر نامی ایک راہب عالمی منظرنامے پر ابھرا۔

 1517 عیسوی میں، لوتھر نے مینز کے آرچ بشپ کو ایک خط بھیجا؛ اس میں ان کے 95 مقالات کی فہرست تھی جو اب مشہور زمانہ ہے اور ان مقالات میں کیتھولک چرچ پر تنقید کی گئی تھی۔ خط میں بنیادی طور پر کلیسا کے اس عمل پر تنقید کی گئی تھی جس میں فیس کے بدلے لوگوں کا جہنم میں قیام مختصر کرنے کا وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جسے لوتھر نے معقولیت سے کام لیتے ہوئے دھوکا دہی گردانا۔ تاہم اس نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر کلیسا کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا دیا۔

لوتھر یقینی طور پر پہلا شخص نہیں تھا جس نے چرچ کی حیثیت کو نشانہ بنایا، لیکن چھاپہ خانے کے انقلاب کے دور میں سامنے آنا اس کے لیے موافق ثابت ہوا اور اس بنا پر اسے انقلابی خیالات رکھنے والے دیگر لوگوں پر فوقیت حاصل ہوئی۔ پریس نے لوتھر کے خیالات کو اٹھایا اور جلد ہی یہ خیالات سولہویں صدی کی ایک یادداشت کی طرح پوری مسیحیت میں پھیل گئے۔ اور اس طرح اصلاح کا آغاز ہوا۔

 لوتھر اور چھاپہ خانہ جنت میں بنائے گئے جوڑے تھے (یا، اگر آپ چرچ کے ساتھ ہیں تو، جنت کی جگہ جہنم کہہ لیں)۔ یہ حقیقت میں ثابت کیا جا سکتا ہے کہ کسی شہر میں جتنے زیادہ پرنٹنگ پریس تھے، اتنا ہی زیادہ امکان تھا کہ وہ کیتھولک چرچ سے ٹوٹ جائیں اور پروٹسٹنٹ بن جائیں۔

 چرچ اور ریاستی حکام دونوں طبقوں نے لوتھر کے کاموں پر پابندی لگاتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی، لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ خود لوتھر بھی اصلاح کے اس عمل کو نہیں روک سکتا تھا، جس کا اب اپنا ذہن تھا۔

 لیکن لوتھر شاید ہی اس کے مکمل نتائج کی پیشین گوئی کر سکتا تھا جو اس نے کیا تھا۔ عام لوگوں کو اپنے لیے سچائی تلاش کرنے کی ترغیب دے کر، اس نے بہت سے نئے مذہبی فرقوں کو متاثر کیا۔ اور بائبل پڑھنے والے لوگوں میں خواندگی کی شرح میں بہتری نے انہیں صحیفے سے ماورا دیگر متون پڑھنے کی صلاحیت بخشی، اور یوں مزید انحرافی سوچ کی بنیاد رکھی۔

 آخر میں، یہاں تک ہوا کہ خود لوتھر نے جو کچھ شروع کیا تھا اس پر روک لگانے کی کوشش کی۔ اُس نے زور دیا کہ اچھے مسیحیوں کو بائبل کے اُن حصوں پر دھیان دینا چاہیے جو اختیار کے احترام پر زور دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس نے ستم ظریفی سے مختلف پروٹسٹنٹ فرقوں کی سنسر شپ کی حمایت بھی کی۔

 بلاشبہ، ماضی میں، یہ توقع کرنا لوتھر کی سادگی تھی کہ شہریوں کو بائبل پڑھنے اور جمہوری بنانے کے لیے بااختیار بنانے کے بعد، ہر کوئی ایک راستے پر آ جائے گا۔ آخر کار اگر پوپ کے پاس سچائی کا تعین کرنے کا واحد اختیار نہیں ہے، تو ایک انقباض زدہ جرمن راہب ایسا کیونکر کر سکتا ہے؟

 لوتھر یقینی طور پر تاریخ میں وہ واحد شخص نہیں تھا جس نے آزادی اظہار کا چیمپئن بن کر اس وقت اپنی راہ بدلی جب اس کے اپنے نظریات خطرےکی زد میں تھے۔ اس نے ایک بار جب طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا تو مذہبی اختلاف کرنے والوں کا مخالف بن گیا۔ لوتھر کی صورت حال اس عالمگیر فتنے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آزادیِ اظہار کو اپنے لیے ایک حق کے طور پر دیکھا جائے لیکن دوسروں کے لیے نہیں۔ یہ ایک ایسا فتنہ ہے جو شاید انسانی نفسیات میں سرایت کر گیا ہے، اور یہی ایک ایسی چیز ہے جس کا مقابلہ ہمیں اچھی طرح سے کرنا ہو گا۔

روشن خیالی کے بیج

 اصلاح کی تحریک کے بعد پرتشدد بغاوت آئی؛ مذہبی اور سیاسی قوتیں جو کبھی مستحکم تھیں، اچانک ہنگامہ آرائی کا شکار ہو گئیں۔ ان متحارب دھڑوں کی طرف سے پھیلائی گئی افراتفری نے رواداری اور آزادی اظہار کے لیے بالکل زرخیز ماحول پیدا نہیں کیا۔ اس کے باوجود، سترہویں صدی عیسوی تک، ایک ابھرتے ہوئے روشن خیال معاشرے کی پہلی علامتیں شمالی یورپ میں ڈچ ریپبلک کہلانے والے ایک چھوٹے سے خطے میں جڑ پکڑ چکی تھیں۔

 ڈچ جمہوریہ 1581 میں اس وقت وجود میں آئی جب ہالینڈ کے پروٹسٹنٹ اکثریتی علاقے نے کیتھولک ہیبسبرگ سلطنت کے خلاف بغاوت کی اور آزادی کا اعلان کیا۔ آنے والی صدیوں کے دوران، اس جمہوریہ نے آزاد خیالی اور پریس کی آزادی کی ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر اپنے لیے ایک نام پیدا کیا، اور خود کو یورپ کے پرنٹنگ ہاؤس کے طور پر مستحکم کیا۔

 یہاں رواداری کے اس قدر رواج پانے کی وجہ جمہوریہ کی غیرمرکزی نوعیت اور اس کی سرحدوں کے اندر رہنے والے مذہبی فرقوں کے بڑے تنوع سے متعلق تھی۔ کئی دہائیوں تک کیتھولک کی زیرقیادت ‘بازپرس’ کے ذریعہ کتابوں کو جلانے اور انسانوں کو جلانے کے بعد، ڈچ باشندوں کو قدرتی طور پر مرکزی اختیار پر تحفظات تھے، اور ہر ڈچ صوبے کو خود مختاری سے کام کرنے کی اجازت تھی۔ نتیجے کے طور پر، سنسر شپ کو نافذ کرنے کی کوئی بھی مربوط کوشش ناقابل عمل ہوتی۔ مزید یہ کہ سمندر پر اس کا محل وقوع اور تجارت کے ذریعے غیر ملکی مقامات سے رابطے نے ایک متحرک کاسموپولیٹن ثقافت میں حصہ ڈالا جہاں انحرافی خیالات ساتھ ساتھ پروان چڑھے۔

جمہوریہ ڈچ میں ظلم و ستم سے پناہ مانگنے والوں میں بہت سے آزاد خیال مفکر، سائنس دان اور فلسفی شامل تھے۔ ان میں رینے ڈیکارٹ، جو جدید فلسفیانہ روایت کے بانی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، کے ساتھ ساتھ جان لاک بھی شامل تھے، جن کے کام کے زیرِاثر امریکی آزادی کا اعلامیہ تحریر ہوا۔

ڈیکارٹ اور لاک دونوں مسلمہ عیسائی تھے۔ اس کے باوجود، ان دونوں نے، اپنے فلسفوں میں، دنیا کی خالص میکانکی تصور کو آگے بڑھانے کے لیے بہت کچھ کیا، جو آگے چل کر سائنسی نقطہ نظر کو واضح کرنے والا تھا۔

 1660 کی دہائی میں، باروچ اسپینوزا جو ریڈیکل آزاد خیال افراد کے ایک گروہ کا رہنما تھا، اس خیال کو مزید اگلی سطح تک لے جانے کے لیے تیار تھا۔ اسپینوزا کو پہلے ہی ایمسٹرڈیم کی یہودی برادری سے اس کی “گھناؤنی” اور “بدمعاش” انحرافی سوچ کی وجہ سے خارج کر دیا گیا تھا۔ اس کے شائع شدہ کام سے اندازہ لگاتے ہوئے، یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ کیسے ایک تحقیق میں اس نے مذہبی جنونیت کی شدید سرزنش کی۔ دوسری میں اس نے روح کے لافانی ہونے سے انکار کیا اور صحائف کے محض انسانوں کی تخلیق ہونے کا دعویٰ کیا۔

 اپنے واضح الحاد کے علاوہ، اسپینوزا نے بہت سے دیگر خیالات پر مبنی تحریریں بھی لکھیں جو ہمارے جدید لوگوں کے لیے حیرت انگیز طور پر مانوس ہونے چاہئیں۔ اس نے استدلال کیا کہ آزادی اظہار امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرے کی بجائے ایک پیشگی شرط ہے۔ اس نے تقریر اور عمل کے درمیان فرق کیا، اور دلیل دی کہ صرف عمل کو ریاست کے ذریعہ منظم کیا جانا چاہیے۔ اور اس نے دعویٰ کیا کہ ریاست کا مقصد اپنی رعایا کی آزادی کا تحفظ ہونا چاہیے۔

 اسپینوزا کے خیالات، اور خاص طور پر اس کے مذہبی عقیدے کے غیر معذرت خواہانہ رد نے اسے ایک اشتعال انگیز اور خطرناک بنیاد پرست کے طور پر شہرت دی۔ اس کی کتابیں ڈچ جمہوریہ اور پورے یورپ میں اپنے وقت کی سب سے زیادہ نفرت انگیز اور ممنوعہ تحریریں بن گئیں۔

 لیکن ایسا ہونا اس کی مادیت پسندانہ سوچ کے پھیلاؤ کو نہیں روک سکا۔ سخت سنسر شپ کے باوجود، پرنٹنگ پریس کے زیر زمین نیٹ ورک نے اس کی کتابوں کو گردش میں رکھا – سترہویں صدی کے ڈارک ویب کی طرح، ممنوعہ تحریروں کی اس بلیک مارکیٹ نے یورپی آزاد خیال لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی پرورش میں مدد کی۔

 اسپینوزا اور دیگر مفکرین کے پیش کردہ سیکولر، مادیت پسند نظریات کے بتدریج عروج نے اٹھارویں صدی میں ایک زیادہ مذہبی رواداری والے معاشرے کی شروعات میں مدد کی۔ اس وقت تک روشن خیالی کا دور زوروں پر تھا۔ اور، زیادہ تر یورپی ممالک میں، انحرافی خیالات کے خاتمے کا منصوبہ اپنی حمایت کھو چکا تھا۔ روشن خیالی کے زمانے میں، اب سوال یہ نہیں تھا کہ کون سا راسخ عقیدہ صحیح ہے، بلکہ یہ تھا کہ کیا کسی راسخ عقیدے کو ماننے کی کوئی ضرورت بھی ہے۔

 روشن خیالی کے مورخین کبھی بھی اس بات پر قطعی متفق نہیں ہو سکے کہ اس کی تعریف کیا کی جائے۔ لیکن ایک چیز جس پر وہ متفق ہو سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ روشن خیالی کی تمام سوچ آزاد اور کھلے مباحثے کے جذبے سے متحرک تھی تاکہ اس سے پہلے کے راسخ عقائد پر شک کا اظہار کرتے ہوئے انھیں عقل کی روشنی میں پرکھا جا سکے۔

جمہوریہ ویمر

 روشن خیالی کی میراث آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ہمیں اس کا تجسس اور استدلال سائنسی طریقہ کار کی شکل میں وراثت میں ملا ہے۔ اور ہم نے اپنی روشن خیال جمہوریتوں کے آئینوں میں اس کی آزادی اور اختلافی نظریات کے لیے رواداری کے احساس کو ادارہ جاتی شکل دی ہے۔

 لیکن ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ترقی ہمیشہ سیدھی راہ نہیں لیتی۔ ہم جن آزادیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہ ہمیشہ ناطاقتی کے خطرے میں رہتی ہیں۔ یہ یقینی طور پر پہلی بار نہیں ہو گا کہ روشن خیال جمہوریت دوبارہ ظلم کی زد میں آئی ہو۔

 ایک صدی پہلے جرمنی نے بالکل اسی امر کا مشاہدہ کیا تھا۔ ایک طرف آمرانہ بادشاہت اور دوسری طرف مطلق العنان آمریت کے درمیان جڑا ہوا، جرمن تاریخ کا ویمر دور ایک مختصر مدت کا تھا، لیکن اس کے باوجود آزادی اور جمہوریت کا یہ وقفہ قابل ذکرقرار پاتا ہے۔

یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ ایک ایسی جمہوریت تھی جو ڈگمگاتی بنیادوں پر استوار تھی۔ پہلی جنگ عظیم میں شکست کی راکھ سے نکل کر یہ معاشی عدم استحکام اور سیاسی تشدد سے دوچار دور تھی۔ 1918 اور 1923 کے درمیان، اسے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی طرف سے کم سے کم پانچ بغاوت کی کوششیں اور 350 سے زیادہ افراد کے قتل کا سامنا کرنا پڑا۔

 لیکن اس کے باوجود، یہ آزادہ فکری اور آزادی کا مقابلتاً سنہری دور تھا اور یہ سائنس اور ثقافت میں عظیم ترقی کے لیے زرخیز زمین جیسا ثابت ہوا۔ ویمر دور نے نوبل انعام یافتہ یہودی البرٹ آئن سٹائن سمیت نوبل انعام یافتہ اکابرین پیدا کیے۔ یہ خواتین کے لیے بڑی کامیابیوں کا دور بھی تھا، جنہیں ووٹ اور مساوی حقوق دے دیے گئے۔

 لیکن ایسا زیادہ دیر تک نہ رہا۔ کچھ لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ جمہوریہ ویمر کی آزادی اظہار کی رواداری جزوی طور پر اس کے زوال کی بھی ذمہ دار تھی۔ دلیل کے مطابق، اگر جمہوریہ نے صرف دائیں بازو کی تقریر اور پروپیگنڈے کو خاموش کرنے کے لیے ہی کچھ زیادہ کام کیا ہوتا، تو نازیوں کے ذریعے اس کے قبضے اور ان کی طرف سے دی جانے والی تمام ہولناکیوں سے بچا جا سکتا تھا۔ بہت سے مبصرین آج بھی بنیاد پرست نظریات کی سنسرشپ کا جواز فراہم کرنے کی غرض سے اس منطق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

 لیکن، جیسا کہ ہم دیکھیں گے، یہ استدلال متعدد وجوہات کی بنا پر گمراہی کا شکار ہے۔ ایک چیز یہ کہ ویمر حکام نے دراصل ہٹلر اور اس کے حامیوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس پر تقاریر کرنے کی پابندی لگا دی، اور انہوں نے ان اخبارات کو سنسر کر دیا جن میں اس کے پیغامات تھے۔ لیکن اس سے انھیں محض یہی حاصل ہوتا کہ ہٹلر کے لیے دلچسپی اور ہمدردی بڑھ جاتی جس نے خود کو ریاستی جبر کے معصوم شکار کے طور پر پیش کیا۔ آخر میں، ہٹلر نے خود یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس پر پابندیوں نے مجموعی طور پر اس کی مقبولیت کو بڑھایا۔

 اگرچہ ویمر کے آئین میں آزادانہ اظہار رائے کو شامل کیا گیا تھا، لیکن جب یہ دیکھا گیا کہ اس میں ہٹلر اور دوسرے گروہوں کو سنسر کرنے کی صلاحیت بھی تھی تو اس ایک تباہ کن خامی کی بدولت اسے بہت بنیاد پرست سمجھا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 48 میں کہا گیا ہے کہ امن عامہ کو سنگین خطرہ ہونے کی صورت میں شہریوں کے بنیادی حقوق معطل کیے جا سکتے ہیں۔ اس ہنگامی قانون کا مقصد جمہوری حکومت کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ لیکن اس نے اصل میں کیا کیا، ایک بار جب اقتدار نازیوں کے ہاتھ آ گیا، انہیں تمام اختلاف رائے کو خاموش کرنے اور اسی نظام کا گلا گھونٹنے کے لیے قانونی سہارا بھی اسی قانون نے دیا جو نظام کی بقا کی خاطر تھا۔

خاموش کرا دی جانے والی پہلی آوازیں کمیونسٹ اور روشن خیال بائیں بازو کی تھیں، جن پر اپنے اخبارات کی اشاعت اور اسمبلیوں کے انعقاد پر پابندی عائد تھی۔ شروع میں، دائیں بازو کے سیاسی دھڑے اس پیش رفت میں شامل تھے، لیکن جلد ہی جب نازیوں نے ان پر بھی حملہ کیا تو انہیں اپنی حمایت پر افسوس ہوا۔ ایک ایک کرکے ہر دوسری سیاسی جماعت کو تحلیل کر دیے جانے پر مجبور کیا گیا۔ صرف چھ مہینوں میں ہٹلر نے جرمنی کو ایک متحرک جمہوریت سے یک جماعتی آمریت میں بدل دیا۔

 یہ کہنا معاملے کو بہت خفیف کرنے کے مترادف ہے کہ جرمنی کا مطلق العنانیت کی کھائی میں جا گرنا صرف جمہوریہ ویمر کی سنسرشپ کی پالیسی کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس کے باوجود اس بات پر غور کرنا معلومات افزا ہے کہ خطرناک خیالات کو سنسر کرنا کس طور نتیجہ خیز تھا اور اس نے فی الحقیقت کسی کی آمد اور آزادی اظہار کو مکمل طور پر ختم کرنے کی راہ ہموار کی۔

سنسر شپ کے ذریعے فاشزم کے عروج کو روکنے میں جمہوریہ ویمر کی ناکامی کو آج ہمیں توقف کر کے دیکھنا چاہیے۔ وہ آوازیں جو خطرناک خیالات اور منظم نفرت کو دبانے کے لیے آزادانہ تقریر پر حد لگانے کا مطالبہ کرتی ہیں، ہو سکتا ہے کہ یوں وہ دراصل ان آوازوں کی حمایت میں وہ کچھ کر رہی ہوں جو ان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ہو۔

موجودہ تنازعات

 ویمر کے دور میں، اپنی آواز کو دوسروں تک پہنچانے کا واحد ذریعہ ریڈیو پر بات کرنا یا اخبار شائع کرنا تھا، جو ظاہر ہے کہ ہر کسی کے لیے قابل رسائی نہیں تھا۔ آج کل، انٹرنیٹ کی بدولت، ہر کوئی یہاں تک کہ معاشرے کے پسماندہ ترین افراد بھی بولنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

 جس طرح پرنٹنگ پریس نے معاشرے کے نئے طبقات تک معلومات کو قابل رسائی بنایا، اسی طرح انٹرنیٹ نے بھی لوگوں اور خیالات کو جوڑا ہے جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اور، پرنٹنگ پریس کی طرح، انٹرنیٹ بھی اسی طرح خلل ڈالنے والا ذریعہ بن چکا ہے۔

 سنسرشپ کی روایتی شکلوں کو نظرانداز کرنے کی اپنی صلاحیت کی وجہ سے، انٹرنیٹ جابرانہ حکومتوں کے ایوانوں میں گھس کر ان لوگوں کو معلومات اور طاقت فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے جو پہلے اندھیرے میں رکھے گئے تھے۔ پوری دنیا میں، شہریوں کی خاموشی کو اچانک توڑ دیا گیا ہے، اب وہ محض پروپیگنڈے کے غیر فعال وصول کنندگان نہیں رہے۔ مختصراً، انٹرنیٹ نے آزادانہ تقریر کا ایک نیا سنہری دور لانے کا امید دلائی ہے۔ اس نے یونانی اگورا (چوپال) کے سائبرنیٹک ورژن کے طور پر کام کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 اس رجائیت کو عرب بہار سے بہتر کسی نے حاصل نہیں کیا۔ 2010 میں، جب محمد بوعزیزی نامی تیونس کے ایک خوانچہ فروش نے اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو آگ لگالی، تو یہ خوفناک تصویر کیمرے میں قید ہوگئی اور جلد ہی انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی۔ اس نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کو جنم دیا، اور ایک ماہ کے اندر، تیونس کا آمر ملک سے فرار ہوگیا۔ کچھ ہی دیر بعد، کئی دیگر شمالی افریقی اور مشرق وسطیٰ کی ریاستیں عوامی مظاہروں سے بھڑک اٹھیں، یہ سب سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا، جس نے خیالات کو پھیلانے اور منظم کرنے کے لیے ایک انتہائی موثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔

 اس کے باوجود عرب بہار کوئی واضح کامیابی نہیں تھی، کیونکہ اس نے آمروں کو واپس پلٹ کر لڑنے پر اکسایا۔ عرب بہار میں حصہ لینے والے تمام ممالک میں سے صرف تیونس کا انجام خوش آئند تھا۔ باقی یا تو خانہ جنگی کا شکار ہو گئے یا پہلے سے بھی زیادہ جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ عرب بہار نے دیگر آمرانہ حکومتوں جیسے چین اور روس کو انٹرنیٹ ویب کی سنسر شپ بڑھانے پر اکسایا۔

 یہ ناگزیر تھا کہ وہ حکومتیں جن کی طاقت کو انٹرنیٹ سے خطرہ تھا وہ اس پر قابو پانے کے طریقوں میں سرمایہ کاری کریں گی۔ لیکن اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ روشن خیال جمہوریتوں میں بھی سنسر شپ کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔

 اب جبکہ انٹرنیٹ کے ابتدائی شوق کی خوشی کا دور ختم ہو چکا ہے، اس کا تاریک پہلو کہیں زیادہ واضح ہو گیا ہے۔ نفرت انگیز تقریر، آن لائن بدسلوکی، اور سازشی نظریات بہت سی برائیوں میں صرف کچھ مثالیں ہیں جن کے بارے میں سیاست دان اور صحافی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو اسے سچائی کا بحران تک قرار دیا ہے۔

 فیس بک اور ٹویٹر جیسی سوشل میڈیا کمپنیاں پہلے ہی الگورتھم استعمال کرکے غلط معلومات کو حذف کر رہی ہیں جو خود بخود حساس الفاظ اور تصاویر کو ہدف بناتی ہیں۔ اگرچہ نقصان دہ تقریر کو ختم کرنے کے لیے یہ اقدامات نیک نیتی سے کیے جاتے ہوں گے، لیکن اس کے باوجود یہ ایک تشویشناک رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں۔

 ایک چیز یہ کہ انٹرنیٹ ریاستوں اور ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کو یہ تعین کرنے کی صلاحیت دیتا ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا نہیں۔ مزید یہ کہ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ سنسر شپ اس مسئلے کا ایک مؤثر علاج ہے۔ 2017 کی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ شدت پسندی شدید عوامی جبر سے بڑھ جاتی ہے، جو زیادہ دشمنی اور قطبیت کو اکساتی ہے۔ لوگوں کو آن لائن سنسر کرنا، معقول جوابی نکات اور بحث پیش کرنے کے امکان کو بھی روکتا ہے، جس کے بارے میں کچھ تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ امکان بنیاد پرست نقطہ نظر کو معتدل کرنے میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔

 اس سے صرف اور صرف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عدم برداشت پر مبنی آزادی اظہار کا حل یہی ہو سکتا ہے کہ اظہار کی اور زیادہ آزادی دے دی جائے۔ ہمیں آزادانہ اظہار کے تاریک پہلو کو ایسی اہمیت نہیں دینی چاہیے جس سے اس کے بہت سے مثبت پہلو چھپ جائیں۔

 پھر بھی، یہاں تک کہ ورلڈ وائڈ ویب کے موجد، ٹم برنرز لی نے اعتراف کیا ہے کہ جمود برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ وہ آج کل ویب کو دوبارہ جمہوری بنانے اور اسے ٹیکنالوجی کی ان کمپنیوں سے واپس لینے کا کوئی حل سوچ رہا ہے جنہوں نے اسے کمرشلائز کیا ہے۔

 اگر تاریخ کے پاس کہنے کو کچھ ہے تو یہی کہ برنرز لی صحیح راستے پر ہے۔

ایسا انٹرنیٹ جس پر مرکزی گرفت کم ہو، وہی ایسا ہو سکتا ہے جس پر سنسر کرنا بہت مشکل ہو اور جو آزادیِ اظہار کے لیے زیادہ دوستانہ ماحول رکھتا ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...