طالبان سے ایک سبق

466

‎دوحہ معاہدے کی تیسری سالگرہ سے صرف ایک ہفتہ قبل، وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے 22 فروری کو کابل کا دورہ کیا۔ یہ وفد طالبان قیادت کو امریکہ کو سفارتی محاذ پر ہرانے کی سالگرہ پر مبارکباد دینے کے لئے نہیں گیا تھا، بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بارے میں پاکستان کے شدید تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے گیا تھا۔ طالبان نے اپنی سفارتی صلاحیتوں کا مظاہرہ پاکستانی وفد کو بھی دیکھایا، وفد کا گرم جوشی استقبال ، گلے شکوے بھی ہوئے، دونوں طرف سے خدشات کا اظہار بھی ہوا، اور طالبان نے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر پاکستان کے تحفظات پر غور کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔ 29 فروری 2020 کو دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے وہ امریکہ اور دنیا کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کر رہے ہیں۔

‎افغانستان کے قائم مقام نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر جنہوں نے طالبان کی جانب سے دوحہ معاہدے پر دستخط کیے تھے، پاکستانی وفد کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی۔ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے افغان طالبان قیادت کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ اسے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے اندر دہشت گردی کو روکنا ہو گا۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے طالبان کو خبردار کیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو سرحد پار حملوں سے روکنے میں ان کی ناکامی سے پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

‎طالبان نے دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کے ساتھ امریکی ڈرون حملے کے بارے میں بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ، جس میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو گزشتہ سال کابل میں پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا تھا، اور سرحدی سلامتی سے متعلق دیگر امور۔ جیسا کہ توقع تھی، طالبان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی سے انکار کیا۔ پاکستان نے طالبان کے دعوے کی تردید کے لیے ٹھوس ثبوتوں پر مشتمل ایک فائل بھی پیش کی ہے۔ تاہم ملا برادر کی جانب سے ایک دلچسپ دلیل یہ آئی کہ پاکستان کو سیاسی اور سیکیورٹی خدشات کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔

‎کیا یہ دلیل جانی پہچانی نہیں لگتی ہے ؟ ایک دور میں بھارت کا بھی یہی موقف تھا، جبکہ اسلام آباد نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو پہلے حل کرنے کا اپنا موقف برقرار رکھا۔

‎بلاشبہ، افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کے بارے میں پاکستان کے خدشات درست ہیں، اور طالبان حکومت کے ساتھ اس معاملے پر براہ راست اور باضابطہ بات چیت ایک درست حکمت عملی ہے، لیکن اقتصادی تعلقات کے ساتھ سلامتی کے مسائل کو جوڑ کر ایک سخت نقطہ نظر اپنانا محدود فہم کی عکاسی کرتا ہے۔.

‎طالبان ایک طویل عرصے سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کےلاڈلے تھے۔ انہیں دوحہ میں مذاکرات کی میز پر بیٹھانے کاکریڈٹ بھی پاکستان لیتا ہے۔ اب ظاہر ہوگیا ہے کہ پاکستان نے اپنی توقعات بہت زیادہ رکھی تھیں اور اب طالبان کی پالیسیوں نے اس فریب کو فاش کر دیا ہے جس کے باعث پاکستان میں افغان پالیسی کے معماروں میں مایوسی ہے۔ یہاں، ریاستی اداروں نے ایک اور غلطی کی ہے، بجائے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے طریقوں پر توجہ دینے انہوں نے انتہائی سخت موقف اپنا لیا ہے۔ سلامتی اور خارجہ پالیسی اب بھی خصوصی دائرہ کار میں ہے، اور نہ تو پارلیمنٹ اور نہ ہی سیاسی جماعتیں اس عمل میں شامل ہوتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ طالبان کا امیج ایک زیادہ عملییت پسند نظر آرہے ہیں۔ پاکستان کی اجتماعی دانش کا اظہار اس کی خارجہ پالیسوں میں بھی نہیں ہو پارکس ہے۔

‎پاکستان افغانستان پر اپنے اثرونفوذ کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے، بلکہ یہ اثرونفوذ کم ہورہا ہے۔ کئی اقدامات جیسا کہ بار بار سرحد کی بندش، اور افغانوں کے لیے ویزا پر پابندیاں، جو علاج کے لیے پاکستان جانا چاہتے ہیں، اور تجارت اور ٹرانزٹ نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ افغانستان بیک وقت پاکستان کے لیے ایک چیلنج اور ایک موقع ہے اور اس کا انحصار ریاستی اداروں پر ہے کہ وہ چیلنجز کو موقع میں تبدیل کریں۔ مکمل تعاون یا کوئی تعاون نہ کرنے کا ایک بے لچک رویہ دونوں ریاستوں کے درمیان معاملات کو پیچیدہ بنا دے گا۔

‎پاکستان کو طالبان حکومت کو متعدد سطحوں پر انگیج کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکورٹی تعاون سرفہرست ہونا چاہیے، لیکن بین الاقوامی ترقیاتی تعاون اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات پر پیش رفت ایک ساتھ ہونی چاہیے کیونکہ بیک وقت کثیر سطحی تعاون سے مشکل کاموں کو حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، طالبان کی حکومت نے غیر ملکی کرنسی اور تجارت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک مانیٹری پالیسی متعارف کرائی ہے، جس سے پاکستان کی معیشت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ افغانستان اور پاکستان بارٹر ٹریڈ سے متعلق بات چیت کرتے رہے ہیں، اور اس دائرہ کار کو مقامی کرنسیوں میں تجارت تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ تجارت اور ٹرانزٹ سے متعلقہ مسائل کو حل کرنے کے لیے درجنوں تجاویز موجود ہیں، تاہم، ریاستی ادارے انہیں اپنی وسیع پالیسی کے دائرہ کار میں شامل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اگر ریاست نئے آئیڈیاز کو کچھ جگہ دیتی ہے تو ان کو ناکارہ بیوروکریسی اور غیر رسمی اور غیر قانونی معاشی ڈھانچوں پر پروان چڑھنے والے مافیاز نے خراب کر دیا ہے۔

‎کچھ میڈیا رپورٹس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ طالبان حکومت نے پاکستان سے ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کرنے اور سرحدی علاقوں سے منتقل کرنے کے لیے مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ طالبان نے اگرچہ ایسی خبروں کی تردید کی تھی لیکن اگر ان رپورٹس میں کوئی حقیقت ہے تو ریاستی اداروں کو ایسے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ ایک اور اشارہ ہے کہ طالبان اپنی سرزمین پر موجود نان سٹیٹ ایکٹرز کی اہمیت جانتے ہیں اور وہ ان کے بدلے کسی بھی بین الاقوامی یا علاقائی طاقت سے سودے بازی کر سکتے ہیں۔

‎افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے درمیان نظریاتی رشتے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ طالبان اپنے نظریے پر سمجھوتہ کیے بغیر پاکستان اور دوسروں کے تحفظات کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کی صفوں میں سخت گیر لوگ ایسے اقدامات کی مخالفت کر سکتے ہیں، لیکن اگر ان کی حکومت کچھ معاشی اور سیاسی مفادات کو محفوظ بناتی ہے تو ان کی طاقت کم ہو سکتی ہے۔ تبدیلی کا عمل سست ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان طالبان کے ساتھ ایک مضبوط کثیر الجہتی انگیجمنٹ کا منصوبہ بنا سکتا ہے، اور علاقائی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں، بعض اقدامات میں شامل ہو سکتی ہیں۔ تمام پڑوسی ممالک طالبان کے نظریاتی بوجھ کو اتارنے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

‎پاکستان طالبان سے یہ سیکھ سکتا ہے کہ نظریاتی شراکت داری اسی وقت کام کرتی ہے جب دونوں اسٹیک ہولڈرز کے مفادات مشترک ہوں۔ باقی محض ایک فریب ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...