پاکستان میں تعلیم کے 75 سال

1,089

پاکستان میں تعلیم کی زبوں حالی ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور اس کی حالت دن بدن ابتر ہوتی نظر آتی ہے۔ تعلیمی پالیسیوں میں بھی اس کا اظہار ہوتا رہا اور اس پر نظرثانی کی باتیں بھی چلتی رہتی ہیں۔ اِن پالیسیوں میں سے بعض پر عمل ہوا اور اکثر تجاویز کاغذات تک ہی محدود ہو کر رہ گئیں، اور تعلیم کی حالت بگڑتی ہی رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب شاید یہ جاننا ممکن ہو چکا ہے کہ کون کون سے پالیسی اقدام تعلیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئے اور کن اقدامات نے مزید مسائل جنم دیے۔ ان کی نشاندہی کرنا بہت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں انہیں دہرانے کی غلطی سے بچا جا سکے۔ زیرنظر مضمون میں ڈاکٹر اے ایچ نیر نے تعلمی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر اے ایچ نیّر سائنسدان اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی اور لمز یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ تعلیمی اصلاحات پر ان کا کام بہت وقیع گردانا جاتا ہے۔ (مدیر)

پاکستان جب وجود میں آیا تو مغربی حصے میں،جو کہ آج کا پاکستان ہے، ساڑھے تین کروڑ کی آبادی کے لیے کم و بیش 4 ہزار پرائمری سکول، ایک ہزار سیکنڈری سکول، تقریباً 30 کالج اور ایک یونیورسٹی تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 250 دینی مدارس تھے۔ پچھلے پچھتر سالوں کے دوران ان اداروں کی تعدادبڑھتے بڑھتے بالترتیب تقریباً ڈیڑھ لاکھ، پچاس ہزار، ساڑھے چھ ہزار اور سوا دو سو ہو چکی ہے۔ جبکہ دینی مدارس کی موجودہ تعداد کا تخمینہ 35 ہزار لگایاجاتا ہے۔

پچھترسال پہلے کے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا یہ عالم تھا کہ بی اے میں کامیابی بھی باعث افتخار تھی۔ گھرکے دروازوں اور دفتروں میں نام کی تختی پر بی اے علیگ یا بی اے پنجاب نمایاں کر کے لکھا جاتا تھا۔ اس زمانے کے طلباء بتاتے ہیں کہ انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں داخلے کی شرائط نرم کرنے کے باوجود امیدوار کم پڑ جاتے تھے۔ ان پچھتر سالوں میں صورت حال بہت بدل چکی ہے۔ اب صرف بی اے ڈگری یافتہ کو ملازمت بھی بمشکل ملتی ہے۔

زبوں حالی کی کیفیت

آئین ِپاکستان میں سنہ 2010 کی اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم کو ہر شہری کا ایک بنیادی حق قرار دیا جا چکا ہے، اور 5 سال سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو تعلیم دلانالازمی، اورتعلیم مفت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری بن چکی ہے۔مگرریاست اپنی اس ذمہ داری کونباہنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار 1 کے مطابق،ملک کی 23کروڑ کی آبادی میں تقریباً 8کروڑ افراد 5 سے 16 سال کی عمر کے وہ بچےہیں جنہیں سکول میں ہونا چاہیےلیکن ان میں سے تقریباً ڈھائی کروڑ بچےتعلیم حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ ان محروم بچوں میں سے اکثر کو کبھی سکول جانا ہی نصیب نہ ہوا، اور باقی وہ ہیں جنہوں نے بوجوہ درمیان میں تعلیم ترک کر دی۔

جن خوش قسمت بچوں کو تعلیم مل رہی ہے، ان میں سب کو سرکاری سکولوں کی مفت تعلیم میسر نہیں ہے۔ صرف 60 سے 70 فیصد سرکاری سکولوں میں پڑھتےہیں اور 30 سے 40 فیصد نجی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں جہاں فیسیں وصول کی جاتی ہیں2۔

پاکستانی سرکار کی تعلیم سے بے رخی ان پچھتر برسوں میں اب راسخ ہو چکی ہے۔ ملک کے قیام سے اب تک سرکاری خزانے سے تعلیم پر کبھی بھی کل قومی پیداوار کا تین فیصد سے زیادہ نہیں خرچ کیا گیا اور نہ ہی مختص کیا گیا۔ اس خرچ کی سطح عمومی طور پر دو فیصد کے قریب رہی۔ حکومتوں نے بڑھ چڑھ کے وعدے تو ضرور کیے کہ تعلیم پہ قومی اخراجات کُل قومی پیداوار کا 4 فیصدکر دیں گے، بلکہ ایک حکومت نے 7 فیصد تک کا وعدہ کیا، لیکن نہ صرف یہ کہ وعدہ نبھایا نہیں گیابلکہ جب بھی ہنگامی حالات کا سامنا ہوا تو سب سے پہلے تعلیم کے لیے مختص رقم میں سے کٹوتی کر دی گئی۔ اس وجہ سے تعلیم کے افلاس کا یہ عالم ہے کہ ملک گیر پیمانے پر ایک چوتھائی سے زیادہ پرائمری سکول ایک کمرہ اور ایک ٹیچر پہ مشتمل ہیں۔ ایسے ہی اور حالات بھی ہیں: ایک تہائی سکول بجلی، پینے کے صاف پانی، اجابت خانے اور چار دیواری سے محروم ہیں۔ ایسے میں کس طرح قوم کے لیے عمدہ اذہان کی تشکیل ہو سکتی ہے؟یہ تو سرکاری غفلت کا شکوہ ہے۔ لوگوں کے معاشرتی رویّے بھی شرمناک ہیں۔ دیہات میں عوام کے پیسوں سے بننے والے سکولوں کی سرکاری عمارتوں پر علاقے کے زورآور قبضہ جما کے انہیں مویشیوں کا باڑہ بنا دیتے ہیں۔

تعلیمی پالیسیاں

پاکستان میں اب تک 8 تعلیمی پالیسیاں وجود میں آ چکی ہیں گو کہ ان میں سے مندرجہ ذیل دو کے ٹائٹل میں لفظ پالیسی استعمال نہیں ہوا۔ ایک نومبر سنہ 1947 کی تعلیمی کانفرنس، جس کی روداد کو پہلی تعلیمی پالیسی کا درجہ حاصل ہے، اور دوسری سنہ 1959 میں قائم ہونے والے قومی تعلیمی کمیشن کی رپورٹ۔ ان دونوں کا کم از کم ایک ایک فیصلہ ملک میں تعلیم کے لیےکئی لحاظ سے شدید نقصان دہ ثابت ہوا۔ ان دو پالیسیوں کے بعد چھ پالیسیاں سنہ 1969، 1972، 1979، 1992، 1998 اور سنہ 2010 میں آئیں۔ ان میں سے 1969 کی پالیسی ملک کے سب سے بڑے سیاسی خلفشار کے باعث رو بہ عمل نہ آ سکی۔ اس کے بعد کی 1972 اور 1979 کی دو پالیسیوں کی پشت پر گہری سیاسی سوچ تھی، اس لیے ان دونوں کے اثرات بھی گہرے تھے جن کا آگے تفصیلی ذکر ہوگا۔ باقی پالیسیاں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔

پاکستان کی تعلیمی پالیسیوں کا جائزہ لینے اور ان کے اثرات دیکھنے کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ پالیسیاں کبھی بھی سنجیدہ فکر کا نچوڑ نہیں ہوتیں۔ اور ایسا اسی وقت ہوتاہے جب حکومتیں اور ریاست دونوں ہی تعلیم کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں۔ چنانچہ بیشتر تعلیمی پالیسیاں خواہشات کے اظہار سے زیادہ ثابت نہیں ہوئیں۔ اونچے اونچے وعدے وعید ہوئے جن میں سے صرف انہی کو پورا کرنے کی کوشش ہوئی جن پر سرکار ی خزانے سے دمڑی بھی خرچ نہ ہو۔ بیشتر پالیسیاں ایسی تھیں جن میں اہداف اتنی طویل مدت کے تھے کہ پالیسی بنانے والی حکومت باز پرس سے بچ گئی۔ طویل مدت کے اہداف پر ہمیشہ شک رہتا ہے کہ ان کے پیچھے سنجیدہ حکمت عملی نہیں ہے۔ اکثر پالیسیوں میں اہداف کی درمیانی منزلوں تک پہنچنے کی مدتیں نہیں دی ہوئی ہوتیں کہ ہر منزل تک کا محاسبہ ہو سکے،یا بجٹ کا ایسا تخمینہ دیا ہوکہ درمیانی منزلوں پہ بھی معلوم ہو سکے کہ آخری ہدف حاصل ہوپائےگا یا نہیں۔ایسا نہیں ہوتا۔

قومی تعلیم کئی پہلوئوں پر مشتمل ایک وسیع موضوع ہے، جس کا مفصل جائزہ اس ایک مضمون میں ممکن نہیں۔ یہاں صرف ان چندپالیسی فیصلوں کا جائزہ لیا جائے گا جن کے منفی نتائج کا پہلے سے اندازہ نہ لگا یا جا سکا اور جن سے قومی تعلیم کو نقصان پہنچا۔

دینی تعلیم

آزادی کے وقت پاکستان میں دینی مدارس کے علاوہ تمام سکولوں کا نصاب انگریزوں کا متعین کردہ نو آبادیاتی دور کانصاب تھا، جوآزادی کے بعد دس پندرہ سال تک معمولی ردوبدل کے ساتھ نافذ رہا۔ اس نصاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا، جیسا کہ ابھی تک مغربی ممالک میں ہے، کہ کسی مذہب کی تعلیم سکولوں کے نصاب میں شامل نہیں تھی، کیونکہ اس سے دینی اختلافات کےنا پختہ ذہنوں میں داخل ہونے اور راسخ ہوجانے کا اور اس سے معاشرے میں مذہبی تنگ نظری اور انتہا پسند رویّوں کے پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ پاکستانیوں کی وہ نسل جس نے ملک کے ابتدائی سالوں میں اپنی تعلیم شروع کی اس کے گواہ ہیں کہ دینیات ان کے نصاب میں نہیں ہوتی تھی اور وہ دین کی تعلیم علحٰدہ سے گھروں میں یا مسجدوں میں حاصل کرتے تھے۔

نومبر 1947 میں پاکستان کی پہلی تعلیمی کانفرنس میں قرارداد پیش کی گئی کہ چونکہ پاکستان کا وجود اسلامی تشخص کی بنیاد پرہے، اس لیےقوم کو اس تشخص میں ڈھالنےکے لیے سکولوں میں اسلامیات کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔ کانفرنس میں کئی جیّد تعلیمی ماہرین کی شدید مخالفت کے باوجود یہ قرارداد منظور کر لی گئی۔ آج ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی بتاتی ہے کہ اُس وقت اس اقدام کی مخالفت کرنے والے ماہرین کس قدر درست اور دور رس سوچ کے مالک تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ بھی ہواہے کہ ملک میں اسلامیات کی درسی کتب پر فرقہ واریت کا الزام لگا اور اس بنیاد پر فسادات تک ہوئے۔

نصابی کتب

نصابی کتب کی پالیسی بھی دور انگلشیہ ہی کی تھی، یعنی پبلشرز اور ماہرینِ مضامین کو سرکاری نصاب کے مطابق درجہ وار کتابیں تیار کرنے کی دعوت دی جاتی اورمسودات کو تسلی بخش پانے کے بعد انہیں چھاپنے کی اجازت دے دی جاتی۔ اس طرح ایک ہی درجے کے ایک ہی مضمون کی کئی منظور شدہ کتب بازار میں آ جاتیں۔ سکولوں کو اجازت ہوتی کہ جس کتاب کو چاہیں اپنے طلباء کو پڑھانےکے لیے چن لیں کیونکہ ہر کتاب نصاب کے معیار پر پوری اترتی تھی۔ اس پالیسی کا فائدہ یہ تھا کہ بورڈ کے امتحانی سوالات کسی ایک درسی کتاب کے مواد کے نہیں بلکہ نصاب میں درکار علمی مہارتوں سےمتعلق ہوتےتھے۔

سنہ 1959 کے تعلیمی کمیشن نے اس پالیسی میں نقص پایا اور تجویز کیا کہ درسی کتب تیار کرنے کے لیے ایک علحٰدہ بورڈ ہونا چاہیےجو ماہرین سے کتابوں کے مسوّدے تیار کروانے سے لے کر کتابوں کی تدوین اور دلکش چھپائی کا ذمہ دار ہو، اور کسی اور فرد اور ناشر کی کتب کی سکولوں میں اجازت نہ ہو۔ چنانچہ ٹیکسٹ بک بورڈ وجود میں آئے، ایک مشرقی پاکستان کے لیے اور ایک مغربی پاکستان کے لیے۔ انہی بورڈز کی شائع کردہ درسی کتب ملک کے تمام سرکاری سکولوں میں رائج ہو گئیں۔ گو کہ پرائیویٹ سکولوں پر لازم نہیں تھا کہ وہ ٹیکسٹ بک بورڈ ہی کی سرکاری کتابیں پڑھائیں، لیکن چونکہ امتحانی سوالات بھی سرکاری کتب سے آنے لگے تھے، اس لیے وہ بھی مجبور ہوئے کہ اپنے طلباء کوسرکاری کتابوں ہی سے پڑھائیں۔

ایک ہی کتاب نافذ کرنے سے کئی نقصانات ہوئے۔

٭۔۔۔طالب علموں کے لیے علم صرف وہیں تک محدود ہو کر رہ گیا جو اس کتاب میں تھا۔ وہ فائدہ جو کئی کتب کو پڑھ کر حاصل ہوتا ہے وہ ناپید ہو گیا۔

٭۔۔۔اساتذہ کے لیے بھی کتاب کے مندرجات سے باہر جانے کی کوئی وجہ نہ رہی۔ نتیجتاً اساتذہ کا معیا رگرا۔

٭۔۔۔ امتحانات کا سکوپ بھی درسی کتب تک محدود ہو گیا، جس سے رٹنے کا رجحان بڑھا۔

٭۔۔۔کتاب سے دیئے جانے والے سوالات لامحدود نہ ہونے کی وجہ سے دہرائے جانے لگے، چنانچہ ٹیوشن سینٹر اور گیس پیپر کی معیشت وجود میں آئی۔ امتحانات پر جو تحقیق ہوئی ہے وہ معیار کی گراوٹ کی واضح طور پہ نشاندہی کرتی ہیں3۔

٭۔۔۔صرف ایک درسی کتاب کا فائدہ اٹھانے کا موقع خاص طور پر انہیں ملتا ہے جو تعلیم کونئی نسلوں میں اپنے مخصوص نظریات پھیلانے کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ خاص طور پر سنہ 1979 کی تعلیمی پالیسی کے بعد ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب جنرل ضیاءالحق کی آمریت میں تعلیم کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کے کام کا بیڑا اٹھایا گیا۔ جماعت اول سے لے کر یونیورسٹی کے اعلیٰ درجات تک کی درسی کتب ان کےزیرِمشق آئیں۔ اس سلسلے میں ہر مضمون کی الگ الگ کہانی ہے، جس پر متعدد افراد نے تحقیق کی ہے4۔ دینی اسباق کو بڑی تعداد میں اردو، انگریزی اور معاشرتی علوم کی درسی کتب میں شامل کیا گیا تاکہ طالب علم ہر بات کو دین کے تناظر میں دیکھنے اور سوچنے کا عادی ہو جائے۔ معاشرتی علوم میں جہاں جہاں ضرورت پڑی تاریخ کو مسخ کیا گیا۔ جنگوں اور افواج کو نمایاں کر کے پیش کیا گیا۔ خاص طور پر جہاد کی ترغیب دی گئی۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ کام نہیں ہو سکتا تھا اگر مختلف افراد کی لکھی ہوئی متعدددرسی کتب کی اجازت ہوتی۔

ان تمام خرابیوں کے باعث، خاص طور پر امتحانی سوالات کا درسی کتب تک محدود ہو جانے سے، سکولوں کی تعلیم کا معیار واضح طور پہ متاثّر ہوا۔ اسوقت اگر مقامی تعلیم اور او اور اے لیول کی تعلیم کے درمیان معیار کا فرق ہے تو وہ صرف اسی وجہ سے ہے۔

ایک کتاب اور اعلیٰ تعلیم

ایک کتاب کی پالیسی کا اطلاق سکولوں سے آگے کالجوں پر جہا ں بی اے، بی ایس سی کی تعلیم ہوتی تھی اور یونیورسٹیوں پر بھی ہوا، جہاں اس سے پہلے کوئی ایک کتاب متعین نہیں تھی۔ معیاری اداروں میں شہرت یافتہ غیر ملکی کتابیں رائج تھیں۔ اورنتیجتاًامتحانات کسی ایک کتاب کے متن تک محدود نہیں رہتے تھے۔ اس لیے رٹنے کا عمل کام نہیں آتا تھا۔ درسی کتب کی نئی پالیسی کے اطلاق کے بعد پاکستانی پروفیسروں نے اپنےمضامین پرکالج کی کتابیں تحریر کرنی شروع کیں جن میں سے کئی اچھی شہرت کی غیر ملکی کتابوں کی تلخیص تھیں۔ سکولوں کی درسی کتب کی پالیسی کی طرح بی اے، بی ایس سی کے لیے بھی ہر مضمون کےلیےایک ہی کتاب مخصوص ہوئی جس کی وجہ سے امتحانی سوالات انہی کتابوں کے مندرجات میں سے آنے لگے،۔ ایسے امتحانات کے لیے یہ خلاصے کارآمد ثابت ہوئے۔ سوالات ایسے کہ ان کے جواب کتاب کے متن میں موجود، رٹنے کی دعوت دیتے ہوئے۔چنانچہ معیار گرتا چلا گیا۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کتابوں اور امتحانات کا یہ طریقہ سنہ 1960 کی دہائی کے آخر سے شروع ہوا اور سنہ 2000 کی دہائی کے وسط تک تقریباً 35 سال تک جاری رہا۔ اس دوران بی اے بی ایس سی کے طلباءکو اس گرے ہوئے معیار کی تعلیم ملتی رہی۔ قوم کو اس سے کتنا نقصان ہوا اس کا اندازہ ابھی کسی نے نہیں لگایا ہے۔ شاید لگانا ممکن بھی نہ ہو۔ اس پالیسی نے ایسے معمول کی شکل اختیار کر لی ہے کہ جب بھی بہتری کی کوشش کی گئی کہ ایک کتاب کی بجائے واپس متعدّد کتب کی پالیسی اختیار کی جائے تو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سنہ 2007 میں جنرل مشرف کے دور میں نیشنل ٹیکسٹ بک اینڈ لرننگ مٹیریل پالیسی بنائی گئی جس میں تعدّدِ کتب تجویز کیا گیا، مگر گھومتے گھماتے بالآخر جس شکل میں یہ پالیسی منظرِعام پرآئی، جو کہ آج کل رائج ہے، اس میں متعددمنظور شدہ کتب کی تو گنجائش ہے، لیکن ان میں سے ایک ہی کتاب تمام سرکاری سکولوں میں رائج ہوتی ہے اور اسی میں سے امتحان ہوتے ہیں۔ اس سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ ایک خاص طرزِ امتحان رکھنے کے پیچھے مضبوط مفادات ہیں جو کسی صورت میں اس پالیسی کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ جب تک اس طرزِامتحان کی جگہ ایسا امتحان نہیں رائج کیا جاتا جس میں طلباء کی صرف یاد داشت کی بجائے اعلیٰ درجے کی مہارتوں کو بھی جانچا جائے، تعلیم کا معیاربہتر نہیں ہو سکتا۔ اور اس کے لیے تعدّد کتب کی پالیسی اشد ضروری ہے۔

نجی تعلیمی اداروں کا قومیانہ

1960 اور1970 کی دہائیاں دنیا کے بیشتر ممالک میں سرکاری اداروں کو قومی تجویل میں لیے جانے کا دور تھا۔ اسی لہر میں 1972 کی نو منتخب سوشلسٹ حکومت نے صنعتوں اور بینکوں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کو قومیانے کا اعلان کیا جس کے چند فوری فائدے ہوئے کہ تعلیم میں بڑھتے ہوئے تجارتی رجحانات کو روکا گیا، اور اس سمت میں قدم اٹھانے کا ارادہ کیاکہ امیر غریب سب بچوں کو یکساں معیار کی تعلیم ملے۔ حالانکہ سب نے یہ بھی دیکھا کہ اس ارادے میں مکمل ایمانداری نہیں تھی؛ ایچیسن اور گرائمر جیسےکئی شاہانہ سکولوں کو ہاتھ نہیں لگایا گیا۔ جن نجی اداروں کو قومی تحویل میں لیا گیا ان میں مخیر ادارے بھی تھے اور ایسے ماہرین کے ادارے بھی تھے جو بچوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دلانے کی کوشش میں مصروف رہتے تھے، لیکن بیشتر ادارے محض تجارتی بنیادوں پر چلائے جاتے تھے، جہاں اساتذہ اور والدین دونوں کا معاشی استحصال ہوتا تھا، اور تعلیم بھی برائے نام ہوتی تھی۔لہٰذہ قومیانے کے اقدام کو اکثر پسند کیا گیا۔ اساتذہ کا استحصال ختم ہوا کہ اب سرکاری ملازم ہونے کے ناتے انہیں سرکاری گریڈ مل گیا اور پوری تنخواہ وقت پر ملنے لگی۔ والدین کو سکون ملا کہ بڑھتی فیسوں اور دیگر اخراجات کا بوجھ ختم ہوا۔

دوسری طرف نقصان یہ ہوا کہ قومیائے گئے اداروں کو سرکاری خطوط پر چلانے سے افسر شاہی کا رجحان بڑھا، اور متعدد اداروں میں تعلیم کا معیار گرتا چلا گیا اس لیے کہ پاکستان میں سرکاری بندوبست عموماً موثّر اور بد عنوانیوں سے پاک نہیں ہوتا۔ اور بندوبست جتنا بڑا ہو خرابیاں اتنی ہی زیادہ ہوتی ہیں۔

تاہم، نجی تعلیمی ادارے جلد ہی دوبارہ شروع ہو گئے۔ یہ ان کا دورِ ثانی تھا۔ اس دور کی شروعات با اثرمہنگے انگلش میڈیم سکولوں سے ہوئی جو بہت جلد صاحبانِ ثروت میں مقبول ہو گئے اور ان کا کاروبار چل نکلا۔ بیکن ہائوس، سٹی سکول، گرامر سکول وغیرہ کے کامیاب ہونے میں ایک بڑا ہاتھ سرکاری سکولوں کا بتدریج بگڑتا جانا بھی تھا۔

سرکاری سکولوں کے معیار کے بگڑنے کی وجوہات بھی کچھ کم دلچسپ نہیں ہیں۔ جہاں کہیں سرکاری سکول اچھے معیار کی تعلیم فراہم کر رہے تھی وہاں کئی سال تک ان کے معیار پر انگلش میڈیم سکولوں کے وجود کا منفی اثر نہیں پڑا تھا۔ لیکن پھر ایک دور آیا جب مرکز اور صوبوں میں سیاسی پارٹیوں کی حکومتوں نے سکولوں میں اساتذہ کی خالی اسامیوں پر اپنے سیاسی حلقے کے افراد کوبغیر صلاحیتیں جانچے بڑی تعداد میں مستقل ملازم رکھ لیا۔ یوں سرکاری سکول غیر معیاری اساتذہ سے بھر گئے۔

جب اس طرح سرکاری سکولوں کا معیار گرا، تو سرکاری افسروں نے اپنے بچّے سرکاری سکولوں سے نکال کر پرائیویٹ سکولوں میں داخل کردیے، جس کے بعد سرکاری سکول محکمہ ء تعلیم کی کڑی نگرانی سے محروم ہو گئے، جس سے معیار اور بھی گر گیا۔

ان ایلیٹ سکولوں کے ساتھ کم تر درجے کے سکول بھی کھلنے لگے اور تعلیم کے اُسی کاروبار کا تقریباً احیاء ہو گیا جو سنہ 1972 سے پہلے تھا۔ اب دیہاتوں میں بھی پرائیویٹ سکول کھلے ہوئے ہیں اور خوب کاروبار کر رہے ہیں حالانکہ ان میں سے بیشترہر لحاظ سے سرکاری سکولوں سے کم تر ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں کے احیاء سے اور بہت خراب معیار کے نجی سکولوں سے سرکار ناخوش نہیں ہے۔ بلکہ وہ خوش ہے کہ نجی سکولوں نےاب 40 فیصد تعلیم کا بوجھ سنبھال لیا ہے۔ پاکستان کی سرکار نے تعلیم کے فروغ کے بارے میں جتنے بین الاقوامی معاہدے ہوئےسب پر دستخط کیے ہوئے ہیں، لیکن ان میں سے شاید ہی کسی پر پوری طرح عمل پیرا ہو۔ نجی اداروں کی کارگذاری دکھا کر وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی پیٹھ تھپک لیتی ہے۔

تعلیم کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کی تحریک

پاکستان میں درسی کتب کے حوالے سے تعلیم کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کی کوشش کے بارے میں اوپر بتایا جا چکا ہے۔ سنہ 1979 کی تعلیمی پالیسی کا مطمع نظر جنرل ضیاءالحق کی پاکستانی معاشرے کو مشرف بہ اسلام کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد تھا۔ اس مقصد کے لیے جماعتِ اسلامی نے بڑی تن دہی سے کام کیا۔ درسی نصاب کی تشکیلِ نو کی جس میں اصرار کیا جاتا تھا کہ دنیوی اور دینی تعلیم میں کسی قسم کی تفریق نہ رہے اور ہر مضمون کی تعلیم دین کے تناظر میں ہو۔ اردو اور انگریزی کی کتب کے پچاس سے پچہتر فیصد اسباق دینی موضوعات پر رکھے جانے لگے۔ جہاد کی ترغیب اورفضیلت پر اسباق درسی کتب کا حصہ بن گئے۔ لازمی مضامین کی درسی کتب میں اسلامیات کےغیر معمولی تناسب سےغیر مسلم بچوں کو بھی اسلامیات پڑھنی پڑ جاتی تھی۔مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ اتنی زیادہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے باجود تعلیم حاصل کرنے والے اپنے اخلاق و کردار میں بہتر انسان بنتے دکھائی نہ دیے۔ سنہ 1980 سے شروع ہونے والا یہ نصاب اور اس کے تحت دی جانے والی تعلیم سنہ 2012 تک یعنی 32 سال تک جاری رہی۔ جنرل مشرف کی آمریت کے دوران نیا نصاب سنہ 2006 میں تشکیل دیا گیا جوکئی لحاظ سے بہت عمدہ تھا۔ اگر فوراً ہی اس پر عملدرآمد شروع ہو جاتا تو بھی سالوں کے مزید نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ لیکن پہلے ٹیکسٹ بک پالیسی کا انتظار ہوتا رہا، پھر ایک سیاسی تلاطم سنہ 2007 میں جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف تحریک سے شروع ہو ا۔ جمہوری انتخابات اور نئی حکومت کے انتظام سنبھالنے تک توقف رہا، پھراس دوران سنہ 2010 میں آئین کی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے نصاب سازی کا اختیار صوبوں کو منتقل ہو گیا، اور چند صوبوں کو پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ وہ نصاب سازی کے فن سے نابلد ہیں، چنانچہ انہوں نے 2006 کے نصاب کے تحت ہی درسی کتب تیار کر لیں۔ یہ سلسلہ 2018 تک چلتا رہا، جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے دو سال لگا کر ‘واحد قومی نصاب ‘تیار کیا، جس کی پیدائش ان تمام خرابیوں کے ساتھ ہوئی جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ اردو، انگریزی اور دیگرمضامین کے نصاب میں دینی تعلیم کو درسی کتب میں جگہ بجگہ شامل کرنے کی ہدایت ہے۔ ان کے خلاف بہت شدید احتجاج ہوا، لیکن سرکار نے کان نہیں دھرے۔ اسی نصاب کے مطابق تیار کی ہوئی پرائمری کی پانچ جماعتوں کے لیے درسی کتب ان دنوں سکولوں میں رائج ہیں۔ اس نصاب اور ان درسی کتب کے نقصانات یقیناً مستقبل قریب میں نظر آئیں گے۔

اعلیٰ تعلیم

آزادی کے وقت آج کے پاکستان میں پنجاب یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کا واحد ادارہ تھی۔ انجینئرنگ، میڈیکل، کامرس وغیرہ کے کالج اسی کی ڈگریوں کے لیے تعلیم دیتے تھے۔ آزادی کے بعد ضرورت کے مطابق پبلک سیکٹر میں نئی یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔ پہلے صرف امتحان لینے کے لیے، اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے۔ وقفوں وقفوں سے مختلف سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو چارٹر دیا جاتا رہا۔ ان کے معاملات پر کنٹرول کے لیے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن بھی تشکیل دیا گیا۔ ساتھ ہی ایسے بڑے کالج جہاں پوسٹ گریجویٹ ڈگریوں کی تعلیم دی جاتی تھی، انہیں چارٹر دے کر یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔ اس طرح سنہ 2000 کے لگ بھگ ملک میں تقریباً 50یونیورسٹیاں کام کر رہی تھیں۔

جنرل مشرف کی آمریت کے تحت یونیورسٹیوں کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا گیا، اور ایک نئی سوچ کو جگہ دی گئی۔ اس سوچ کا محور یہ تھا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کےمعیار کا پیمانہ تعداد سے لگانا چاہیے: یونیورسٹیوں کی تعداد سے، ان میں کام کرنے والے اساتذہ اور سائنسدانوں کی تعداد سے، اور ان اساتذہ اور سائنسدانوں کی مطبوعات کی تعدادسے، اور مطبوعات کے سائنسی حوالوں کی تعداد سے۔ چنانچہ یونیورسٹیو ں کی تعداد بڑھائی گئی جو اب تک سوا دو سو ہو چکی ہے، اساتذہ کی مطبوعات کی تعداد بڑھانے کی حوصلہ افزائی کے انتظامات کیے گئے۔ مستقبل کی سائنسی افرادی قوت تیار کرنے کے لیےطلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوںمیں حکومت پاکستان کے خرچ پہ بھیجا گیا، وغیرہ۔ ایک گرینڈ پلان تھا اور اس کے لیے مشرف حکومت نے وسائل کے خزانے کھول دیے۔

اس منصوبےسے سائنسی افرادی قوت تو تیار ہوئی، یونیورسٹیاں بھی متعدد بن گئیں اور تحقیقی پرچے بھی بہت چھپنے لگے، لیکن اس کے باوجود سائنس کی دنیا میں نہ پاکستانی سائنس کی نہ پاکستانی سائنسدانوں کی وقعت میں قابلِ ذکر اضافہ ہو پایا، اور نہ ہی پاکستانی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبا کا معیارچینی، ہندوستانی، ایرانی یا ترک طلباکے معیارکےقریب پہنچ سکا۔

کہنے کو تو یہ منصوبہ پاکستان کو علم کی دنیا میں ایک بڑی جست لگانے کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن اس پر عمل کرنے میں ضرورت سے زیادہ جوش و جذبے کا مظاہرہ کرنے سے تمام پروگرام قوم کے لیے بھاری پڑ گئے۔

1. جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، سنہ 2000 تک ملک میں چالیس پچاس کے لگ بھگ یونیورسٹیا ں تھیں، جن کی تعداد اب بڑھتے بڑھتے سوا دو سو سے اوپر ہو چکی ہے۔ان میں سرکاری بھی ہیں اور نجی بھی۔ ایسی بھی ہیں جو مشکوک طریقوں سے چارٹر لینے میں کامیا ب ہو گئیں، جن میں تعلیم برائے نام ہوتی ہے اور جن کا مقصد ڈگریوں کا کاروبار کرنا ہوتا ہے۔کئی اور یونیورسٹیاں ہیں جو اس طرح دھوکاباز تو نہیں ہیں لیکن انہیں اعلیٰ معیار کی نہ سمجھ ہے نہ اس کی پرواہ۔ کئی میں اساتذہ کوہدایت ہوتی ہے کہ کمزورطلبا کو فیل نہ کیا جائے کہ کہیں وہ چھوڑ کر نہ چلےجائیں۔ کہیں شعبہ جات میں ایک یا دو اعلیٰ ڈگری یافتہ ہیں اور باقی سب تازہ ایم اے، ایم فل کیے ہوئے کم تنخواہوں پر ملازم لیکچرر۔ اگر گہری نظر سے ان کا جائزہ لیا جائے تو ایک اندازہ بتاتا ہے کہ ان سوا دو سو یونیورسٹیوں میں بمشکل چالیس پچاس یونیورسٹیاں ہی اس چارٹر کی حقدار ہوں گی۔

2۔ سکالرشپ: پروگرام یہ تھا کہ سینکڑوں طالب علموں کو دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سےسائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ ڈگریوں کے حصول کے لیے سکالرشپ دیں گے۔ توقع تھی کہ اس طرح چند ہی سالوں میں پاکستان میں سینکڑوں، بلکہ ہزاروں بہترین تعلیم و تربیت یافتہ سائنسدان اور انجینئر مل جائیں گے اور ملک تیز رفتار ترقی کرنے کے قابل ہو جائیگا۔ ابتدا میں سکالر شپ کی شرط تھی کہ امریکی داخلے کے امتحان جی آر ای کو ایک خاص پرسنٹائل تک پاس کرنے والے ہر امیدوار کو سکالرشپ دے دیا جائیگا جس میں فیسوں اور رہنے سہنے کے اخراجات کے علاوہ باہر کی اس یونیورسٹی کو ریسرچ پر اٹھنے والے اخراجات بھی ادا کیے جائیں گے تاکہ وہ داخلے سے انکار نہ کریں۔ پھر کیا ہوا، وہ ایک دلچسپ داستان ہے۔

اگر ایک سو سکالرشپ دینے تھے، اور ایک سو امیدواروں نے دلچسپی ظاہر کی تو ان میں سے جی آر ای کا امتحان صرف دس ہی پاس کر سکے اور دس ہی کو سکالرشپ ملے۔ لیکن ارادہ تو سینکڑوں کو بھیجنے کا تھا۔ اس لیے پرسنٹائل کی شرط تھوڑی نرم کر دی گئی۔ اس مرتبہ دس اور پاس کر پائے۔ انہیں سکالرشپ مل گیا مگر انہیں بہترین یونیورسٹیاں داخلہ دینے کو تیار نہیں ہوئیں، اس لیے بہترین کی شرط بھی نرم کر دی گئی۔اگلی مرتبہ شرط اور نرم کی گئی، اور دس اور پاس ہوئے انہیں بھی سکالرشپ دے دیا گیا اور انہیں تیسرے درجے کی یونیورسٹیوں میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔ یوں شرط نیچی کرتے چلے گئے اور کمزور سے کمزور کو بھی سکالرشپ سے فیضیاب کر دیا گیا۔ ادھر جو کم معیار کی یونیورسٹیاں تھیں، انہوں نے آنے والے پیسوں کو غنیمت جانا اور کمزور طلبا کے لیے ایک نئی سکیم شروع کی جس کا نام ایکسپورٹ پی ایچ ڈی رکھا، کہ یہ ان غیر ملکی طلبا کے لیے ہے جو پی ایچ ڈی کے سخت معیار پہ تو نہ اترتے ہوں، لیکن چونکہ ہمارے اخراجات اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں اس لیے ہمیں انہیں کم معیار کی ڈگری دینے میں کوئی تامّل نہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کم معیار کی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی ڈگریاں حاصل کرکے آنے والے جب یونیورسٹیوں میں ملازمت حاصل کرکے پڑھانے لگیں گے، تو ان کے شاگردوں کے معیار کا کیا عالم ہوگا۔ اور وقت کے ساتھ یہ اپنے اداروں میں ترقی پاتے رہیں گے، اور جب یہ انتظامی عہدوں پر پہنچیں گے تو تدریس اور ریسرچ کے بارے میں ان کا رویہ کیسا ہوگا، اور اپنے سے قابل جونیئرٹیچروں سے رویہ کیسا ہوگا۔

الغرض، پالیسی اقدامات کے بارے میں جو کچھ صورتحال اوپر بیان ہوئی ہے، اسے عام طور پر دو مختلف انداز سے دیکھا جا تا ہے۔ ایک یہ کہ یہ معاشرہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ اصلاح کی اچھی سے اچھی کوشش کو وہ شکست دے دیتا ہے، اور اس طرح اصلاح کی ہر کوشش نقصان دہ نظر آنے لگتی ہے۔ ایک دوسرا نظر یہ کہتا ہے کہ ہمارے ہاں طویل المیعاد منصوبہ بندی بنانے کی صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ ان منصوبوں میں بہت جلد نقص نظر آنے لگ جاتے ہیں۔

بہر صورت اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ملک کی اشرافیہ، حکومتیں، سیاسی جماعتیں وغیرہ قوم کو اچھی تعلیم سے آراستہ کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو تعلیم میں قوم کی سرمایہ کاری میں بخل سے کام نہ لیتے۔

NEMIS data, Govt of Pakistan, 2017

  1. ibid
  2. Irfan Ahmed Rind and Awais Malik, The Examination Trends at the Secondary and Higher Secondary Level in Pakistan, Social Sciences and Humanities Open, Vol 1, Issue 1, 2019, 100002, https://doi.org/10.1016/j.ssaho.2019.100002

  A. H. Nayyar and Ahmed Salim, The Subtle Subversion, The State of Curriculum and Textbooks, SDPI, 2003

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...