نوجوانوں میں تنوع، اجتماعیت اور امن کے بیانیے کا فروغ

مشاورتی مباحثے کی رُوداد

348

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے نومبر 2022 میں لاہور میں “نوجوانوں میں تنوع، شمولیت اور امن کے بیانیے کے فروغ” پر مبنی  مشاورت کا  انعقاد کیا۔ یہ مشاورتی اجلاس دو نشستوں پر مبنی تھا۔ “تعلیم کے ذریعے  تنوع اور شمولیت کا فروغ” پر نشست کا مقصد نصاب اور نصابی کتابوں میں ان مسائل کی نشاندہی کرنا تھا جو پاکستان میں مذہبی بنیادوں پر مبنی سماجی بے دخلی اور مذہبی شدت پسندی کے رویے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس مباحثے کا  ایک مقصد اس بات کا کھوج لگانا بھی تھا کہ “یکساں نصابِ تعلیم” کس طرح نصابی کُتب، تدریسی طریقوں اور پورے نظامِ تعلیم میں موجود سُقم دور کرے گا اور کس طرح  ان کے معیار میں بہتری لائے گا۔ اس نشست میں نظامِ تعلیم اور نصاب کو اجتماعیت پر مبنی  بنانے کے لیے  مندرجہ بالا مسائل کو حل کرنے کے عملی حل اور پالیسی  کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔ دوسری نشست “نوجوانوں کی ترقی میں پالیسی سازوں اور قانون سازوں کا تنقیدی کردار” میں اس نکتے پر بات چیت کی  گئی کہ کس طرح قانون اور پالیسی بنانے والے نوجوانوں کی ترقی اور اجتماعیت میں زیادہ کردار ادا کرسکتے ہیں اور سماجی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں کون سے مخصوص اقدامات رو بہ عمل لائے جا سکتے ہیں۔

                اس تقریب میں قانون ساز، ماہرینِ تعلیم، دینی علماء، صحافی، سرکاری افسران اور نوجوانوں اور سِول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

“پہلی نشست: “تعلیم کے ذریعے تنوع اور شمولیت کا فروغ

اس نشست میں گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے پراجیکٹ منیجر احمد علی نے کہا کہ ادارے کے “پاکستان کے نوجوانوں کا نقطہ نظر اور بین المذاہب تعلقات” کے عنوان پر مبنی صوبائی اور ملکی تحقیقی رپورٹس کے نتائج  یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تشخص کا بحران اور عدم اعتماد کا احساس موجود ہے۔ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ جامعات کے طلبہ میں مختلف مسالک، مذاہب اور قومیتوں کے خلاف مخصوص تعصبات موجود ہیں۔ اُن میں آئینی اور جمہوری اقدار کے حوالے سے بھی ابہام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نشست کا مقصد نظامِ تعلیم موجود اُن خامیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے ماہرین سے اُن کی رائے لینا ہے۔

                سینٹر فار سوشل جسٹس اِن لاہور کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے شرکا کو بتایا کہ سِول سوسائٹی کی بعض تنظیموں نے سُپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے   جس میں بتایا گیا ہے کہ نصاب میں منافرت پر مبنی مواد موجود ہے اور اسکولوں میں صرف ایک ہی مذہب یعنی اسلام کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے۔  انھوں نے یہ بھی کہا کہ بعض مضامین میں 40 فیصد مواد مذہب سے متعلق ہے اس حقیقت  کے باوجود کہ ان مضامین کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

                جیکب پیٹر کا کہنا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ نے اس کیس کی  سماعت کی  جس کی وجہ سے نصاب سے کافی حد تک منافرت پر مبنی مواد ہٹایا گیا اور ایک پالیسی اختیار کی گئی جس کی رو سے اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے   طالب علموں کے لیے  نصاب میں سات دوسرے مذاہب  کے مضامین  بھی متعارف  کرنے چاہئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سات مذاہب کے نصابی کُتب حالیہ تعلیمی سال کے دوران تیار نہیں کیے جاسکے مگر ان کی تیاری کے لیے باضابطہ منظوری دی گئی ہے  اور یہ  کتابیں اشاعت کے مرحلے میں ہیں۔

                سیشن کے میزبان احمد علی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے  جیکب پیٹر نے کہا  کہ بہت سارے ماہرین کو خدشہ ہے کہ “یکساں نصابِ تعلیم”   معاشرے میں اسلامائزیشن  میں اضافہ کرسکتا ہے۔ “نصاب میں مخصوص قومیتوں  کی عمومی نمائندگی ،تعریف  کرنے اور تعصب برتنے  کے مسائل موجود ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ ان کتابوں  میں موجود زندگی کے تصورات متشدد رجحانات کی حوصلہ افزائی کرتے  ہیں اور تعلیمی ضروریات کو پورا نہیں کرتے ۔  اُن کا موقف تھا کہ موجودہ تعلیمی نظام  کے اندر تدریسی طریقوں میں نقائص موجود ہیں۔

                مذہبی اسکالر  اور استاد ضیا الحق نقشبندی نے اعتراف کیا کہ تعلیمی نصاب میں  مذہبی مواد کی غیرضروری بہتات  ہے جو  طالب علموں کی بنیادی  تعلیمی ضروریات  پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ طالب علموں کو سِول سروس کے لیے  مقابلے کے امتحان میں اسلامیات  لازمی کا پرچہ دینا پڑتا ہے۔ اُنہوں نے نصاب میں تصوف کی ترویج پر زور دیا۔ اُنہوں نے موقف اختیار کیا کہ ریاست معاشرے میں مذہبی اختلافات کو اپنے مفاد میں استعمال کرتی ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کی  ان پالیسیوں کی وجہ سے اسلام کے مختلف مسالک کے اندر بھی مختلف گروہ بن رہے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے  مدارس کے لیے نئے وفاق  یا تعلیمی  بورڈوں کے قیام  کی طرف  بھی اشارہ کیا۔

                یوتھ ایڈووکیسی نیٹ ورک لاہور کے دانش طارق نے کہا کہ تعلیم کو طالب علموں میں جبراً سرائیت کروایا جارہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ  نصاب نوجوانوں میں زندگی گزارنے کی مہارتوں کے بجائے  مذہبی تعلیم پر زیادہ  توجہ دے رہا ہے۔ لوگ مذہب پر بات کرنے سے خوف زدہ ہیں جو   طالب علموں کو سوال اٹھانے اور تنقیدی شعور رکھنے سے باز رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی  روشنی ڈالی کہ سوشل میڈیا پر منافرت پر مبنی مواد  کی بہتات ہے  جس کے بہاؤ پر قابو پانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

                معروف لکھاری اور کالم نگار گل نوخیز اختر کی رائے تھی کہ شدت پسندی کے فروغ میں میڈیا کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان اپنے پلیٹ فارم پر  مذہب سے متعلق بات چیت کی اجازت نہیں دیتے کیوں کہ انہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ اُنہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ  معاشرے میں مذہبی عدم برداشت بڑھ چکا ہے۔ ” معاشرے اور تعلیمی سیکٹر میں (اسلام کے علاوہ) دوسرے مذاہب کے لیے جگہ کم ہے۔ ” انہوں نے یہ بھی کہا، “ہمیں اپنےرویوں میں سیکولرزم لانا چاہیئے۔

                ڈائرکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور سجیلہ نوید نے کہا کہ اقدار خاندان سے شروع ہوتی ہیں مگر بدقسمتی سے خاندانی نظام کو کُچل دیا گیا ہے۔ “ہم دوسرے لوگوں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔”انہوں نے نصاب میں کردار سازی کا مضمون شامل کرنے اور باہمی میل جول پر مبنی نشستوں کے انعقاد پر زور دیا۔انہوں نے ووکیشنل تربیت  کو لازمی کرنے  کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں گفتگو  اور  مکالموں کی حوصلہ  افزائی ہونی چاہیئے۔

                سینٹر فار پیس اینڈ سیکولر اسٹڈیز لاہور کی ڈائرکٹر سعیدہ دیپ  نے پہلی نشست کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے  میں طبقاتی اختلاف موجود ہے اور مہنگے پرائیوٹ اسکول طالب علموں کے درمیان اشرافیہ کو پیدا کررہے ہیں اور فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے “قوم کی تقدیر بدلنے کے لیے” نصاب کو تبدیل کرنے اور ازسرِ نو لکھنے کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ زندگی کے تمام  شعبوں کی بنیاد موجودہ نظامِ تعلیم  ہے جو موجود مسائل کی جڑ ہے۔ اُن کا کہنا تھا، “نوجوانوں کو سیاسی تفریق سے زیادہ خطرہ ہے” اور اس بات پر بھی زور دیا  کہ پورے نظام کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔

“دوسری نشست: ” نوجوانوں کی ترقی میں  پالیسی سازوں اور قانون سازوں کا تنقیدی کردار

نشست کی میزبانی کرتے ہوئے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز   کے جوائنٹ ڈائریکٹر  صفدر سیال  نے  اپنے تعارفی کلمات  میں کہا کہ اس مباحثے کا مقصد نوجوانوں میں سماجی ربط  اور مذہبی ہم آہنگی  کے فروغ  کے  لیے پالیسی تجاویز  ترتیب دینا ہے۔   “ہمیں معلوم ہے کہ نوجوانوں کو باصلاحیت بنانا اور ان  کی ترقی ایک وسیع تصور ہے  جس کے ذریعے ہم بین المذاہبی مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ “اُنہوں نے کہا کہ اس مکالمے کو ریاست اور سماجی گروہوں ، خصوصاً نوجوانوں کے سماجی گروہ کے درمیان  عمرانی معاہدہ کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس سے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کس طرح فیصلہ سازی کے عمل میں نوجوانوں کی شمولیت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

                پنجاب اسمبلی کی ممبر کنول پرویز چوہدری صاحبہ نے معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر تفرقہ نوجوانوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ  نوجوانوں کو قومی پالیسیوں کے مرکز میں ہونا چاہیے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اُن کا موقف تھا کہ نوجوانوں کی ترقی کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔ ” جہاں زیادہ قوانین موجود ہیں ان پر عمل بھی ایک مسئلہ ہے۔” انہوں نے کہا کہ  نوجوانوں کو سیاسی طور بااختیار بنانا اور ان کی کیرئیر کونسلنگ  ریاست کا بنیادی کام ہونا چاہیے۔

                پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز  سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر  راحیلہ راحت نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی اور سماجی  اتحاد کے الفاظ فیشن بن چکے ہیں۔ “ہمیں طے کرنا چاہیے کہ اتحاد سے ہماری  کیا مراد ہے؟ “انہوں نے اس پر مزید یہ بھی کہا کہ حتمی تجاویز طے کرنے سے قبل  مقاصد کا واضح ہونا ضروری ہے۔ “اتحاد ایک بہت ہی مبہم اصطلاح ہے۔”جو ریاستی امور کے فیصلے کرتے ہیں انہیں  دیکھنا چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو کیا دینا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف وجوہات  اوربنیادوں پر نوجوانوں میں تنوع  موجود ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اکیڈیمیا کی نوجوانوں کی ترقی کے سلسلے میں کی جانے والی  تحقیقات کی سمت متعین کی  جائے۔ ان کا کہنا تھا ،” تعلیمی نظام میں تنقیدی سوچ نہیں ہے کیوں کہ سوال اٹھانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔”

                ٹیکنکل اور پروفیشنل تعلیم کے کنسلٹنٹ محمد عبداللہ نے  سیکنڈری اسکول ، ہائر سیکنڈری اسکول اور بیچلر  کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ثانوی اسکولوں اور کالجز میں ٹیکنکل ایجوکیشن کو لازمی قرار دینے  کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مختصر کورسز اور تربیت ملازمتوں کے حصول کے لیے قانونی شرط قرار دی جائیں۔”ہمیں متعدد صلاحیتوں کے حامل لوگ چاہئیں۔” ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی پالیسی بنانے سے پہلے تعلیمی سیکٹر میں مناسب قوانین بنائے جائیں جن پر  بعد میں پورے جوش و جذبے کے ساتھ عمل در آمد ہونا چاہیے۔

                لوک سجاگ سے منسلک محقق اور صحافی فاطمہ رزاق نے گفتگو کی کہ کس طرح نوجوانوں کو  سیاسی عمل  میں شامل کرنے کے پلیٹ فارمز کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ تنظیموں پر پابندی کی وجہ سے نوجوان غیر سیاسی ہوچکے ہیں۔ ” طلبہ تنظیموں کی بحالی کے بغیر (نوجوانوں کی) سیاست میں شرکت ناممکن ہے۔ ” انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جامعات  کی سطح  تک پہنچ کر تعلیم ترک کرنے والوں میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ انہوں نے  زور دیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

                ماہرِ تعلیم امجد طفیل  کا کہنا تھا کہ بنیادی توجہ اساتذہ کی تربیت پر ہونی چاہیے۔  انہوں نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ ایک استاد اپنے پیشے میں ” کم قابلیت، عزم اور معاشی    مفادات  اور زیادہ محرومیوں کے ساتھ” قدم  رکھتا ہے، اور کمرہ جماعت میں ان سب کی عکاسی کر رہا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے روزگار اور  بغیر تربیت کے نوجوان ملک کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں اور ریاست کو سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کیا وہ ان کا بوجھ اٹھاسکتی ہے۔

                صفدر سیال نے نشست کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں ان کی نسلی، علاقائی ، ثقافتی اور جغرافیائی مسائل کی وجہ سے احساس محرومی موجود ہے اور ان  ناہمواریوں کو حل کیے بغیر باہمی اتصال اور اتحاد ناممکن ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...