سماجی بے دخلی کی زندگی: سماجی بے دخلی سے متعلق ہزارہ نوجوانوں کے تجربات

722
تعارف

پچھلی دو دہائیوں کے عرصے کا ایک بڑا حصہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گرد گروہوں کی طرف سے شیعہ ہزارہ اقلیتی برادری کے بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری اور ظلم و ستم میں گزرا جو بعض اوقات نسل کشی تک پہنچتا نظر آتا ہے۔ حکومت نہ تو اس برادری کو تحفظ دے سکی اور نہ ہی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا سکی۔ اس برادری پر دو بدترین حملے جنوری اور فروری 2013 میں ہوئے جب کوئٹہ کے دو ہزارہ محلوں میں دو بڑے کار بم دھماکے ہوئے، جن میں بچوں سمیت 230 سے ​​زائد افراد ہلاک ہوئے۔ یہ پاکستان کی ہنگامہ خیز تاریخ کے مہلک ترین فرقہ وارانہ قتل تھے۔ اس پر ردِعمل میں، وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو برطرف کر دیا اور حفاظتی اقدام کے طور پر پوری ہزارہ برادری کو اقلیتی بستی بنا دیا۔ دو ہزارہ محلوں کو مخصوص داخلی اور خارجی راستے چھوڑ کر محصور کر دیا گیا تھا۔ آج، تقریباً ایک دہائی گزرنے کے بعد،یہ جبری علیحدگی اب بھی برقرار ہے۔

قتل و غارت گری اور جبر و ستم کے باعث ہزارہ برادری کو پچھلے بیس برسوں میں نیوز چینلز اور اخبارات میں بہت زیادہ جگہ ملی ہے۔ تاہم، ہزارہ کے مسئلے کی خبررسانی اور تجزیے میں، ہزارہ پر تشدد کے سماجی اور نفسیاتی اثرات پر بہت کم توجہ دی گئی ہے، خاص طور پر 2013 سے ان پر نافذ کردہ مقامی علیحدگی کے تناظر میں، جس نے انھیں سماجی طور پر دوسرے نسلی گروہوں سے الگ کر دیا ہے۔ کوئٹہ میں اس برادری کے اندر، نوجوان افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس جسمانی نقل و حرکت کے لیے بہت کم جگہ ہوتی ہے اور عدم تحفظ کے احساس اور اقلیتی بستیوں کی وجہ سے ان کے تعلیمی اور روزگار کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اپنے تعلیمی ریکارڈ اور کھیلوں کے رجحانات کی وجہ سے ایک وقت میں شہرت پانے والی ہزارہ برادری کی موجودہ نوجوان نسل بظاہر اپنی مثبت صلاحیتوں سے محروم ہو رہی ہے۔ دوسری طرف ان میں سماج دشمن رویے تیزی سے دیکھے جا رہے ہیں۔ اسی طرح، منشیات کی لت، جوا اور دیگر سماجی برائیاں ہزارہ کے الگ کر دیے گئے علاقوں میں اپنا راستہ بنا رہی ہیں۔

لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہزارہ نوجوانوں کی اس جبری فرقہ وارانہ علیحدگی اور سماجی تنہائی میں ان کی زندگیوں سے متعلق تجربات کی چھان بین کی جائے۔ مسئلہ مقامی اور وسیع تر ہر دو حوالوں سے اہم ہے۔ دنیا بھر میں اقلیتوں کو مختلف قسم کی قید کا نشانہ بنانے کی صورتیں موجود ہیں۔ ہزارہ نوجوانوں کو درپیش سماجی مسائل کی بڑی وجہ ان کی سماجی مقامی تنہائی کا طویل عرصہ تک باقی رہنا ہے۔ ایک عام نوجوان کی زندگی پر علیحدگی کے منفی اثرات جامع ہوتے ہیں، جو اس کی زندگی کے تقریباً تمام پہلوؤں کو متاثر کرتے ہیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ اور دیگر برادریوں کے درمیان سماجی اور ثقافتی انقطاع نے، جو اس علیحدگی کی وجہ سے ہوا، ہزارہ نوجوانوں کے ذہنوں میں دوسری نسلی برادریوں کے بارے میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کیں، اور غالبادوسری طرف بھی ایسا ہی ہوا۔

مسئلہ اس لیے اہم ہے کہ غلط فہمیوں کے ذریعے وضع کیے گئے رویے اور اعمال نہ صرف برادری بلکہ بڑی سطح پر معاشرے پر بھی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ لہٰذا، اس مطالعے کا مقصد ہزارہ نوجوانوں کی اپنی ذاتی اور سماجی زندگیوں کے بارے میں علیحدہ ہونے کے احساس کو سمجھنا تھا۔ وہ اپنے الگ تھلگ پڑوس اور سماجی طور پر الگ تھلگ زندگیوں کا احساس کیسے کرتے ہیں، اور وہ ماحول ان کی زندگیوں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہزارہ نوجوان جو اس برادری کا سب سے اہم حصہ ہیں ان کی طرف سے علیحدگی کی اس پالیسی کو کیسے دیکھا جاتا ہے؟ ہزارہ نوجوانوں کے زندہ تجربات کے بارے میں اس سے پہلے کوئی باقاعدہ تحقیقی مطالعہ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ ماضی قریب میں ان کی مجموعی حالت زار پر کئی معتبر رپورٹیں لکھی گئی ہیں، تاہم ان لوگوں کے ذاتی تجربات کی چھان بین کے لیے کوئی رسمی اور گہرائی سے کیا گیا مطالعہ نہیں ہے جو خوف، بے یقینی اور علیحدگی کے لمحات بسراتے اور جیتے رہتے ہیں۔ ہزارہ برادری پر مسلسل علیحدگی کے سماجی اور نفسیاتی اثرات کو سمجھنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ یہ مطالعہ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ کے لیے، دسمبر 2021 میں کوئٹہ میں شرکاء کے ساتھ نیم رسمی اور انفرادی طور پر تفصیلی انٹرویوز کے ذریعے اعدادوشمار کی جمع آوری کی گئی تھی۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے ایک تفصیلی جواب کا متقاضی بنیادی سوال سامنا رکھا گیا تھا: کیا علیحدگی کی زندگی کے اپنے تجربات بیان کر سکتے ہیں؟ انٹرویوز سے پہلے ہزارہ نوجوانوں کی ایک مرکوز گروہی بحث ہوئی جس نے بعد کے سوال کو بہتر سمجھنے میں مدد کی۔ IPA کے طریقہ تحقیق میں مطالعہ کے نمونے عام طور پر چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن تجزیہ بہت گہرائی اور وقت طلب کرتا ہے۔ انٹرویوز سے حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے سافٹ ویئر Dedooseکا استعمال کیا گیا۔

 نتائج کی تشریح

آئی پی اے (Interpretative Phenomenological Analysis) کو تحقیقی طریقہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، اس تحقیقی مطالعے نے جبری مقامی علیحدگی کے ماحول میں ہزارہ نوجوانوں کے زندگی گزارنے کے تجربات کے گہرائی سے بیانات حاصل کرنے کی کوشش کی اور یہ کہ کس طرح ان تجربات نے نوجوانوں کے احساس کو متاثر کیا، یعنی نوجوان اپنے تجربات کی روشنی میں اس فرقہ وارانہ علیحدگی کو کیا معنی دیتے ہیں۔ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ نوجوانوں کے اپنے روزمرہ کے تجربات اور اپنے گردونواح کی خصوصیات کو سمجھنا، زندگی کے بارے میں ان کے نقطہ نظر اور طرزِ عمل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

 گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہزارہ کو فرقہ وارانہ دہشت گردی کے حملوں سے بچانے میں حکومت کی ناکامی اور ایک دہائی قبل اس کی رہائش الگ کرنے کی پالیسی نے اس برادری بالخصوص اس کے نوجوانوں کے لیے سنگین سماجی، اقتصادی اور نفسیاتی مسائل پیدا کیے ہیں۔ یہ صورت حال بہت توجہ طلب ہے کیونکہ کوئٹہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کا باعث ہونے کی وجہ سے اس کے مضمرات معاشرے پر بڑے پیمانے پر ہیں۔ یہ شہر گزشتہ برسوں میں فرقہ وارانہ اور علیحدگی پسند عسکریت پسندی سے متاثر ہوا ہے۔ ایک حفاظتی اقدام کے طور پر فرقہ وارانہ علیحدگی کو نافذ کرنا حکومت کا ایک ایسا اقدام ہے جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی کیونکہ پاکستان میں پالیسی کے تحت کبھی کسی اور اقلیتی گروہ کو سماجی طور پر الگ تھلگ نہیں کیا گیا۔ تاہم، جب علاقائی اور بین الاقوامی سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو یہ رجحان ایسا منفرد نہیں ہے۔ ثقافتی طور پر متنوع لیکن فرقوں میں بٹے جنوبی ایشیائی معاشروں میں، اس صدی کے آغاز سے مذہبی اقلیتوں کو تیزی سے بے دخل کیا گیا ہے۔ ہندوستان سے لے کر بنگلہ دیش اور پھر پاکستان تک، اقلیتی عقیدے کے گروہوں کی سماجی بے دخلی کی ابھرتی ہوئی صورتیں موجود ہیں۔

ہندوستان میں، احمد آباد، گجرات (2003) میں فرقہ وارانہ تشدد نے اقلیتی مسلمانوں کو ہندو ہجوم کے حملوں کے خوف سے شہر کے متنوع محلوں میں رہائش ترک کرنے اور مضافاتی علاقوں میں اکٹھے رہنے پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح، فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے مسلمانوں کی خود اختیار کردہ علیحدگی ہوئی، رائٹرز (Reuters) نے دہلی کے فسادات کے تناظر میں ہندوستان میں “نسل پرست شہروں” کی شکل اختیار کرنے کی رپورٹنگ کی۔ اسی طرح، بنگلہ دیش میں، اقلیتی ہندوؤں اور عیسائیوں کو حالیہ برسوں میں ظلم و ستم اور سماجی بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے ان کے معاشی حالات خراب ہوئے ہیں۔ کسارا (Kasara)کا استدلال ہے کہ عدم تحفظ لوگوں کو اپنا سکیورٹی نیٹ ورک بنانے کے لیے ملتے جلتے افراد کی تلاش پر مجبور کرتا ہے۔ لہٰذا، ہزارہ برادری کی فرقہ وارانہ علیحدگی جہاں قومی تناظر میں منفرد ہے، بڑے تناظر میں اقلیتوں کی سماجی بے دخلی کی وسیع تر علاقائی صورت میں اضافہ کرتی ہے۔

تاہم، فرقہ وارانہ علیحدگی کے معاملات میں جو چیز عام ہے وہ تشدد کا عنصر ہے جو رضاکارانہ یا جبری علیحدگی کے عمل کو انگیخت کرتا ہے۔ اکثر، مذہبی یا نسلی خطوط پر علیحدگی سے پہلے پرتشدد تنازعات ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہندوستان اور نائیجیریا میں مذہبی فسادات، عراق میں فرقہ وارانہ جنگیں، اور بلوچستان میں ہزارہ پر دہشت گردی کے حملے کمزور سماجی گروہوں کی علیحدگی اور اقلیتی بستیوں کا باعث بنے۔ ہزارہ کے معاملے میں، انٹرویوز کے تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہزارہ نوجوانوں میں عدم تحفظ کا ایک گہرا احساس ان کے سماجی، نفسیاتی اور معاشی مسائل کے مرکز میں جاگزیں ہے۔ عدم تحفظ کے احساس نے ان کے اجتماعی نقطہ نظر اور رویے کے ساتھ ساتھ گزشتہ برسوں کے دوران ان کے افعال کی تشکیل بھی کی ہے۔ ان کے الگ الگ علاقوں کے ارد گرد مستقل حفاظتی گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کے عدم تحفظ کے احساس کو کم کرنے میں ناکامی نے اجتماعی قید کے تصورات کو جنم دیا ہے کیونکہ ہزارہ نوجوان خود کو اپنے محلوں میں بند دیکھ رہے ہیں۔ ولیم اور کولنز جنہوں نے امریکہ میں ذہنی صحت پر رہائشی علیحدگی کے اثرات کا مطالعہ کیا، دلیل دیتے ہیں کہ لوگوں کو کسی خاص علاقے تک محدود رکھنا یا انھیں ذات، نسل یا مذہبی عقیدے کی بنیاد پر الگ تھلگ کرنا سماجی و اقتصادی تفاوت کو تقویت دیتا ہے اور الگ تھلگ آبادی کی طبعی خوشحالی کو متاثر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کا آئین عقیدے یا نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے، پھر بھی حکومت نے ہزارہ برادری کی رہائشی علیحدگی کا اقدام کیا جس نے سماجی و اقتصادی منظر نامے کی مؤثر طریقے سے اس انداز میں تنظیم نو کی ہے جس نے نسلی فرقہ وارانہ سماجی نظام قائم کیا ہے۔ اس اسکیم میں، سماجی و اقتصادی شعبوں میں ہزارہ شیعہ برادری کی عدم مساوات کو تقویت ملی ہے۔ کالم اور چارلس ورتھ کا استدلال ہے کہ پالیسی ساز ممکنہ طور پر نسلی علیحدگی کی وکالت کریں گے یا خاموشی سے حمایت کریں گے جہاں پر امن قائم رکھنے کے لیے تنازعہ ہوا ہو، خواہ اس کی افرادی یا معاشی قیمت ادا کرنی پڑے۔ تحقیق میں شامل کیے گئے مصروف ہزارہ نوجوانوں نے حکومت کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ انھیں حکومت کے کسی بیان یا پالیسی پر اعتماد نہیں تھا۔ ان میں سے ایک حصے نے حکومت پر انھیں فرقہ وارانہ علیحدگی میں ڈالنے کا خفیہ ایجنڈا رکھنے کا شبہ ظاہر کیا اور محلوں کے داخلی مقامات پر نگرانی کے گیٹ لگانے کو ذلت آمیز سمجھا۔

طویل رہائشی علیحدگی نے ہزارہ برادری کو بتدریج سماجی اور ثقافتی طور پر کوئٹہ میں دیگر قریبی نسلی برادریوں سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔ ہزارہ نوعمروں کی ایک پوری نسل ایک اقلیتی بستی کے ماحول میں پروان چڑھی ہے جس میں ان کا دوسرے نسلی گروہوں جیسے کہ بلوچ، پشتون، پنجابی وغیرہ کے ساتھ بہت کم یا کوئی رابطہ نہیں رہا ہے۔ تاہم، اس سماجی فرقہ وارانہ انقطاع کا سب سے زیادہ پریشان کن اثر ہزارہ نوجوانوں کے ذہنوں میں دیگر نسلی گروہوں کے بارے میں تعصبات اور غلط فہمیوں کا فروغ ہے۔ اس کے برعکس، یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ دیگر نسلی برادریوں کے نوجوان جن کا ہزارہ نوجوانوں کے ساتھ میل جول کا یکساں فقدان ہے، ان کے ذہن میں بھی ہزارہ برادری کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوئی ہو گی۔ تحقیق میں شامل ہزارہ نوجوانوں کے ایک قابل ذکر حصے نے دوسرے نسلی گروہوں کو “دشمن” کے طور پر سمجھا اور کہا کہ وہ ان برادریوں کے ارکان کے ساتھ بات چیت سے گریز کرتے ہیں۔ یہ رجحان اس سے پہلے کے تحقیقی مطالعات کو اعتبار دیتا ہے کہ فرقہ وارانہ انتشار سے باہر کے گروہوں کے اراکین کے لیے عدم برداشت کو تقویت ملتی ہے۔ اسی طرح، ہورووِٹز (2001) دلیل دیتا ہے کہ بین الاجتماعی اعتماد اور رواداری کی عدم موجودگی نسلی تشدد کو ہوا دیتی ہے۔

اسی طرح، ریاست ہائے متحدہ امریکا میں جبری علیحدگی کے نفسیاتی اثرات پر کی گئی ایک تحقیق میں علیحدگی کو نقصان دہ پایا گیا کیونکہ اس سے لوگوں کے ایک دوسرے سے آگاہ ہونے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو جاننا، چاہے ہر امر پر اتفاق نہ بھی ہو، ایک دوسرے کو سمجھنے کا ایک اہم عنصر ہے۔ تعصب، شک، خوف اور نفرت جہالت سے پروان چڑھتی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں علیحدگی اور نوجوانوں کے مجرمانہ تشدد کے درمیان تعلق پر ایک اور تحقیق کی گئی کہ نسل کی بنیاد پر رہائشی علیحدگی برادریوں کے درمیان مشترکہ مقامی مفادات کے احساس کو کمزور کرتی ہے اور مختلف برادریوں کے باہمی مسائل کو حل کرنے کے لیے اکٹھے ہونے کے امکانات کو کم کر دیتی ہے جن میں جرائم کو فروغ دینے والے عناصر بھی شامل ہیں۔

لیوی ٹاس کے مطابق، سماجی بے دخلی افراد کے معیار زندگی اور مجموعی طور پر معاشرے کی مساوات اور ہم آہنگی دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ دوسری طرف، حالیہ تحقیقی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کسی نہ کسی قسم کے برائے نام تناؤ والے گروہوں کے درمیان مثبت رابطے تعصب اور فرقہ واریت کو کم کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہزارہ نوجوانوں کی ایک نسل جو سماجی اور ثقافتی تنہائی میں پروان چڑھی ہے، اور جو دوسرے نسلی گروہوں کو دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں، کوئٹہ کے سماجی طور پر ٹوٹے ہوئے ماحول میں فرقہ وارانہ تعلقات کے بارے میں پُرامید نہیں ہے۔ تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مروجہ غلط فہمیاں تشدد کی کارروائی میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور پھر مستقبل میں بین الاجتماعی تنازعات کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

یہاں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہزارہ اور کسی دوسرے نسلی گروہ کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کا خدشہ اوپر بیان کیے گئے عوامل کی وجہ سے مبالغہ آرائی ہو سکتا ہے اس حقیقت کے پیش نظر کہ ہزارہ ایک چھوٹی اقلیت ہیں جو اپنے محلوں تک محدود ہیں (حالانکہ ہزارہ ایک غیر معمولی اقلیت ہیں، پھر بھی وہ پاکستان کے ایک بڑے شہری مرکز میں ایک جگہ پر شیعوں کی سب سے بڑی تعداد کی نمائندگی کرتا ہے)۔ یہ معاملہ ہوسکتا تھا اگر اس کے برعکس کوئی پیشگی ثبوت نہ ہوتا۔

اسے پورے سیاق و سباق میں دیکھنے کے لیے ان حقائق پر غور کیا جاسکتا ہے: 30 مئی 2020 کو تین پشتون نوجوان کسی کاروباری مصروفیت کی بنا پر ہزارہ ٹاؤن گئے۔ محلے کے اندر، انھیں کچھ ہزارہ نوجوانوں نے روکا، ان کے موبائل فون چیک کیے گئے جہاں ایک مختصر ویڈیو کلپ ملا جس میں کچھ ہزارہ خواتین کو سڑک پر چلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس کلپ کی موجودگی فون کے نوجوان مالک کے لیے موت کی سزا  کا باعث ثابت ہوئی۔ تینوں پشتون نوجوانوں پر ہزارہ خواتین کی فلم بندی کرنے کا الزام تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا، ایک ہجوم نے ان تین نوجوانوں کا بے دردی سے مار مار کر کچومر نکال دیا۔ تین پشتون نوجوانوں میں سے ایک موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہو گئے۔

قتل کی خبر پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس سے ایک احتجاجی ریلی شروع ہوئی اور ہزارہ برادری سے بدلہ لینے کی کھلی کالیں شروع ہوئیں۔ سنی فرقہ وارانہ انتہا پسند گروپوں کے اراکین بھی ہزارہ برادری کے خلاف اپنے ارتداد کے نعرے دہراتے ہوئے میدان میں کود پڑے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کا الزام پوری برادری پر لگایا گیا۔ ایک شخص نے ہزارہ ٹاؤن پر طالبان کے خودکش بم حملے کا مطالبہ کیا، جب کہ دوسرے نے اصرار کیا کہ یہ پوری برادری کی طرف سے کی گئی کارروائی ہے نہ کہ افرادکی طرف سے۔ صورتحال تیزی سے بھڑک اٹھی، جس نے کوئٹہ کو نسلی فرقہ وارانہ تصادم کے دہانے پر پہنچا دیا۔ تاہم، دونوں برادریوں کے رہنماؤں کی فوری مداخلت نے اسے روکنے میں مدد کی جو ایک بھیانک فرقہ وارانہ تنازعہ بن سکتا تھا۔ ایمل ولی خان اور محسن داوڑ جیسے پشتون رہنماؤں نے پشتونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جرم کی ذمہ دار پوری برادری پر نہ ڈالیں۔ اس پورے واقعہ میں، انتہا پسند عناصر کی فرقہ وارانہ تشدد کو بھڑکانے کی بے تابی ہورووِٹز (Horowitz) کے نظریہ کی تائید کرتی ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد کو ہوا دینے میں دلچسپی رکھنے والے عناصر الگ الگ برادریوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے لیے حمایت پیدا کرنا آسان سمجھتے ہیں۔

اس لیے یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ ہزارہ نوجوانوں کا ایک حصہ دیگر نسلی گروہوں کے بارے میں سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہے۔ وہ پشتون اور بلوچ جیسی ساتھی برادریوں کو دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں، اور ان میں سے کچھ نے اپنے ذہنوں میں دوسروں کے بارے میں ظالمانہ تصوربنا رکھے ہیں۔ اور ان کے تاثرات کو بڑھاوا دینے کی اہم وجہ ساتھی برادریوں کے افراد کے ساتھ ان کی بات چیت اور رابطے کی عدم موجودگی ہے۔ جیسا کہ پہلے حوالہ دیا گیا ہے، مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ گروہی نفرت، شک اور خوف جہالت میں پروان چڑھتے ہیں، اور مقامی علیحدگی اس جہالت کو تقویت دے رہی ہے۔

دوسری طرف، ہزارہ نوجوانوں کے ایک حصے کی طرف سے ظاہر کیے جانے والے مشکوک خیالات ان کی خراب ذہنی صحت کا اشارہ بھی ہو سکتے ہیں۔ جولائی 2017 سے جولائی 2018 تک کی گئی اور کیمبرج میڈیسن جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کوئٹہ میں 68.2 فیصد ہزارہ PTSD کا شکار تھے، جبکہ 51.7 فیصد میں ڈپریشن کی علامات تھیں۔ مطالعہ کے شرکاء کا تعلق ماری آباد اور ہزارہ ٹاؤن کے محلوں سے تھا۔ اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہزارہ آبادی کی اکثریت کو شہر میں نفسیاتی کلینک تک محدود رسائی حاصل تھی۔ عدم تحفظ کا خوف انھیں شہر جانے سے روکتا ہے۔ نتائج پریشان کن تھے کیونکہ معاشرے میں ذہنی بیماریوں کا اتنا زیادہ پھیلاؤ صرف آگ میں ایندھن کا اضافہ کرے گا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ عوام پر بیماریوں کے مجموعی بوجھ میں بھی اضافہ کریں گے۔

مذکورہ بالا مسائل اور چیلنجوں کے علاوہ، علیحدگی نے ہزارہ نوجوانوں کو تعلیمی اور معاشی طور پر بھی معذور کر دیا ہے۔ ان کی سماجی نقل و حرکت میں کمی آئی ہے، اور عدم تحفظ کے خوف نے شہر میں اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کے حصول کے معاملے میں ان کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ اس لحاظ سے ہزارہ کی حالت ممبئی میں اقلیتی بستیوں کے مسلمانوں سے ملتی جلتی ہے۔ چندرن (2018) کے مطابق، ممبئی میں اقلیتی بستیوں نے مسلم برادری میں غربت کو مزید بڑھا دیا ہے کیونکہ لوگ اپنے رہائشی مقام کی وجہ سے بینک کے قرضوں اور روزگار کے مواقع سے محروم ہو گئے تھے۔ باشندے اپنے آپ کو اقلیتی بستی میں پھنسے ہوئے پاتے ہیں کیونکہ اقلیتی بستی سے باہر کی نقل و حرکت نے بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہارورڈ کے ماہر معاشیات ڈینیئل شوگ کے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ جاپانی کمیونٹی پر نظربندی کے معاشی اثرات پچاس سال تک باقی رہے۔ علیحدگی کے خاتمے کے بعد، بہت سے جاپانیوں نے خود کو امریکی معاشرے میں پھر سے شامل کرنے کی کوشش کی اور بہت سے معاشرے سے بے دخلی کے درد اور ذلت کا ازالہ کرنے کی تگ و دَو میں رہے۔ نیورو سائنس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ جسمانی درد میں مبتلا ہوں یا بے دخلی جیسے سماجی درد کے تجربے سے گزریں، دماغ کے خلیوں پر اس کے اثرات ایک جیسے ہوتے ہیں۔

ہزارہ نوجوان اپنے رہائشی کوارٹرز کے ارد گرد چیک پوسٹوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی کے تجربے میں پریشانی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے گردونواح کی عسکریت پسندی باہر کے خوف کو تقویت دیتی ہے۔ خراب تعلیمی نتائج، بے روزگاری اور طبعی پابندیوں نے بہت سے نوجوانوں کو جرائم اور منشیات کی لت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ 2018 میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) کے ایک پہلے کے مطالعے کی تصدیق کرتا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ سماجی بے دخلی ہزارہ افراد میں ڈپریشن اور اضطراب اور دماغی صحت کے دیگر مسائل کا سبب بنتی ہے۔ اس میں مزید بتایا گیا کہ نفسیاتی مسائل نے بہت سے نوجوان افراد کو منشیات کے استعمال پر مجبور کر دیا ہے۔ (NCHR، 2018)

نتیجہ اور سفارش

اس مطالعے کا مقصد ہزارہ نوجوانوں کے کوئٹہ میں ان پر نافذ کردہ سماجی علیحدگی سے متعلق زندگی کے تجربات کی کھوج لگانا تھا۔ نتائج بتاتے ہیں کہ بظاہر غیر معینہ مدت تک کی مقامی قید نے ہزارہ نوجوانوں کی سماجی، معاشی، ذہنی اور نفسیاتی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، اور انھیں سماجی طور پر ساتھی برادریوں سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔ نوجوانوں میں متزلزل تصورِ حیات اور غیرصحت مند ذہنیت کی نشوونما کا ذمہ دار بھی اسی سماجی تنہائی کو پایا گیا۔ جملہ منفی اثرات میں سے، مقامی سطح پر ہزارہ برادری اور بڑی سطح پر پورے معاشرے میں بڑھتی ہوئی غلط فہمیوں اور مشکوک سوچ جیسے منفی نتائج کا امکان سب سے زیادہ پایا گیا۔ لہٰذا، یہ سفارش کی جاتی ہے کہ حکومت علیحدگی کی پالیسی پر نظرثانی کرے کیونکہ اس کی بہت بڑی سماجی اور اقتصادی قیمت چکانی ہو گی۔ علیحدگی کی پالیسی کا تسلسل کوئٹہ میں ہزارہ اور دیگر برادریوں کے مابین ممکنہ طور پر بداعتمادی اور دشمنی کو جنم دے گا۔ خطرے کے منبع سے نمٹنے کے لیے دہشت گرد تنظیموں جیسے LeJ اور مقامی ISIS کو بے اثر کیا جا سکتا ہے۔ ایسے وقت تک جب تک ہزارہ برادری کی علیحدگی کو ختم نہیں کیا جاتا، حکومت اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں نوجوانوں میں فرقہ وارانہ غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو دور کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور میل جول کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر کے تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی طرح کے فرقہ وارانہ تشدد کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...