عفرا بخاری: ایک باکمال تخلیق کار

1,037

(یہ مضمون عفرا بخاری کی یاد میں منعقدہ حلقہ اربابِ ذوق لاہور کے اجلاس میں پڑھا گیا)

میں عفرا بخاری کے متعلق بات کرتے ہوئے ” تھیں” کا صیغہء ماضی ہرگز استعمال نہیں کروں گا۔ میرے دانست میں، وہ عمدہ افسانوی مواد کی روح، زرخیز تخیل کے گوشت پوست اور فن کارانہ ہنر مندی کی تجسیم کے ساتھ یہیں کہیں ہمارے ساتھ ہی موجود ہیں۔ اپنی کہانیوں میں سانس لیتیں، اپنے مکالموں کے زریعے باتیں کرتیں، اپنے تخلیقی تخیل سے دیکھتیں، اپنی فنی پہلو داری میں مسکراتیں اور اپنے جزرس مشاہدے سے متوجہ کرتیں ہمارے آس پاس ہی کہیں فن کارانہ وقار سے بیٹھیں، ممنون نگاہوں سے اپنے مداحوں کا یہ اجتماع دیکھ رہی ہیں۔

میں نے عفرا بخاری کے افسانوں کو کسی ادبی نظریے یا تھیوری کے چشمے لگا کر نہیں دیکھا۔ ان کے افسانوں کا تنقیدی نظام ان کے افسانوں ہی میں موجود ہے۔ یہ افسانوی مواد نہ تو آپ کو کہانیوں پر جدیدیت کی تہیں چڑھانے کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی رخِ افسانہ پر مابعد جدیدیت، پسِ ساختیات یا نوآبادیات کا غازہ ملنے کی دعوت۔ یہ افسانوی مواد ایک عمدہ تخلیق کار کے زرخیز ذہن کی پیداوار ہے جو زندگی کو اپنے سماجی یا زاتی آدرشوں کے فلٹر لگا کر پیش نہیں کرتا بل کہ زندگی جیسی ہے ویسی ہی دکھاتا ہے۔

انسان دوستی، انقلاب پسندی اور زیر دست طبقے کے لیے ہم دردی شخصی قدروں کا تعین تو کرتی ہیں لیکن آرٹ کے قدری پیمانے کچھ اور ہیں۔ انسانی تماشے کا نظارہ فن کار کی پتھریلی آنکھ ہی کر سکتی ہے۔ انسان دوستی اور غریبوں کی محبت میں بھیگی ہوئی آنکھ منظر کو دھندلا دیتی ہے۔ عفرا بخاری یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ حقیقت نگار کا اصل کمال ہی یہ ہے کہ اس کا نقطہء نظر غیر شخصی ہو اور وہ زندگی کے حقائق کی بہ طور ناظر نقاشی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے افسانے ” ہدف” میں سویپر جیسا پیچیدہ کردار تخلیق کیا ہے۔ سویپر جیسا کردار اسی وقت تخلیق ہوتا ہے جب فن کار کا تخیل اس کے سیاسی، سماجی اور زاتی سروکاروں سے آزاد ہو کر کردار میں صرف اور صرف بہ طور انسان دل چسپی لے۔

عفرا بخاری کے زیادہ تر سروکار زندگی کی حقیقت پسندانہ تصویر کشی کے ہیں۔ وہ مسائل سے زیادہ کرداروں میں دل دلچسپی لیتی ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ کردار کا ادب پلاٹ اور کہانی کے ادب سے گہرا، دیرپا، موثر اور انسانی تماشے کی بوالعجبیوں کی تھاہ پانے میں زیادہ معاون ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی فکشن کے فن میں موضوع کی نیرنگی ہو یا زبان کا سحرِ ظفرمند، مکاں کا تصورِ وسعت خیز ہو یا زماں کا نظریہ رستاخیز، پلاٹ کا در و بست ہو یا کہانی کی گتھیاں بیشتر اوقات یہ سارے قفل ہائے ابجد کرداروں کے مرتب حروف ہی سے کھلتے ہیں۔ سروانٹس کے ڈان کیحوتے سے فلابئیر کے مادام بوواری تک اور دوستوفسکی کے کرائم اینڈ پنشمنٹ سے لے کر فٹز جیرالڈ کے دی گریٹ گیٹس بی تک کیریکٹر ڈریون ناولوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو اصل میں کرداروں کے زریعے انسانی نفسیات کے کشفِ راز کا بیان ہیں۔

“آنکھ اور اندھیرا” کے زیادہ تر افسانے بھی کرداروں کے افسانے ہیں۔ “چھینٹ کا لحاف” کی ریشمی رضائی کی خواہش کے جواب میں چار موم کا دوپٹہ وصولتی نا رسا ماں، ” اپنا سا منہ” کی خاندانی منصوبہ بندی کا پرچار کرتے کرتے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جانے والی نفیسہ، ” پناہ گاہ” کی خوش فہم پھوپھو زینب اور ” ہدف ” کا سویپر؛ یہ سبھی کردار فی نفسہٖ آدمی کی تفہیم اور انسانی حقیقت کے انکشاف کا زریعہ ہیں:

” پناہ گاہ ” کی پھوپھو زینب اپنے خاوند یوسف کے لیے اپنی محبت کو اپنی آخری پناہ گاہ بنا بیٹھی ہے۔ وہ اپنے بے وفا خاوند کا قصہ بڑے جذباتی انداز میں سناتی ہے۔ اور قصہ کا وہ حصہ جہاں یوسف اس کے گھٹنوں پر جھک کر اور اس کے پیروں کو آنسوؤں سے بھگوتے ہوئے طلاق کا کاغذ اسے تھماتا ہے سناتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگتے ہیں:

” ہاں بھئی اس گناہ کا بوجھ بھی مجھے ہی سمیٹنا پڑا۔ اب تک توبہ استغفار پڑھتی ہوں، خدا معاف کرے مجھے۔ مگر وہ ایسے ہی تھے تمہارے پھوپھا۔

مجھ پر جان سے فدا تھے۔ جب انہوں نے بریف کیس سے وہ منحوس کاغذ نکال کر میری طرف بڑھایا تو ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ انھوں نے میرے سر کی قسم کھا کر صاف کہہ دیا تھا کہ یہ محض دکھاوا ہے، دوسروں کا منہ بند کرنے کے لیے، ورنہ تو ہمارا رشتہ اٹوٹ ہے، وہ اب اور ہمیشہ قائم رہے گا۔ اسے کوئی نہیں توڑ سکتا۔

پھر تم جانو وہ یہ کام بے دھڑک اور بلا تردد بھی تو کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے رو رو کر بڑی التجاؤں سے میری اجازت مانگی تھی۔ میری آنکھوں سے بھی اس وقت آنسوؤں کی جگہ خون نکلا۔”

یوسف پھوپھو زینب کو طلاق دے کر دوسری شادی کرکے اپنے تمام وعدے ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ زینب دو ایک مرتبہ اس سے ملتی بھی ہے لیکن ہر مرتبہ وہ اپنی مجبوریوں کا ایسا نقشہ کھینچتا ہے کہ وہ بے چاری احساس گناہ لیے واپس لوٹتی ہے۔ یوسف اب چار بچوں کا باپ ہے اور اپنی فیملی کے ساتھ ایک خوش گوار زندگی گزار رہا ہے لیکن زینب، یوسف سے متعلق ابھی بھی خوش فہمی کا شکار ہے:

” اور میں دل پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہوں۔ وہ اس نئی زندگی سے جن میں ان کے لیے پابندیاں ہی پابندیاں ہیں ایک لمحے کے لیے خوش نہ رہے ہوں گے۔ ان کے دکھ کو میں سالوں سے اپنے دل میں محسوس کرتی ہوں۔ میں نے بارہا انھیں تصور میں شکستہ حالت میں دیکھا ہے۔”

اسی طرح یہ بھی دیکھیے:

” مرد کا دل ایسی مطلبی عورت سے کہاں مطمئن ہو سکتا ہےجو اپنے آپ میں کھوئی ہو۔ وہ انہیں کہاں پہچان سکی ہوگی۔ وہ کیسے نازک مزاج اور محبت کے بھوکے تھے۔ میرا دل کہتا ہے یوں الگ کر دئیے جانے کے باوجود ہمارے دل کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوئے۔ وہ ان سے کچھ نہ پا سکی ہوگی۔ کم ازکم وہ نہیں جو میں نے ان سے حاصل کر لیا تھا۔ “

اس خیالی مقابلے میں اس دوسری عورت کو شکست دے کر ان کے چہرے کی طمانیت اور آنکھوں کی کندنی چمک لوٹ آتی۔”

افسانے کا اختتام ان سطور سے ہوتا ہے:

” اور پھوپھو زینب قصہ دہرا کر نہایت سکون کے ساتھ بازوؤں کو یوں نرمی سے گھٹنوں کے گرد لپیٹ لیتی ہیں جیسے اب بھی کسی کا سر ان کے گھٹنوں پر ٹکا ہوا ہو۔”

افسانے کے انجام میں کوئی استعجابیت اور عروجی نکتہ نہیں لیکن یہ اس قدر فطری ہے کہ افسانہ کے مرکزی تاثر، زینب کی یوسف کے لیے بے لوث محبت اور اسے اپنی آخری پناہ گاہ سمجھنا، کو ثانوی نہیں بننے دیتا۔ اس افسانہ کا پورا آرٹ اس بے لوث محبت کے احساس پر مرکوز ہے اور اسی کی روشنی میں واقعات کی تہیں کھولتا ہے۔ یہاں عفرا بخاری اس فکر کہ یہ واقعہ کہانی بنتا بھی ہے یا نہیں سے آزاد دکھائی دیتی ہیں کیوں کہ وہ جانتی ہیں کہ اس افسانہ کا تاثر اس کی واقعیت ہی میں پنہاں ہے۔ فن کی صنعت گری کو زندگی کی منظر کشی میں جذب کرنے کا ہنر جاننے والا فن کار، اسی طرح افسانے کے وضعی رشتوں کی جامد اصول پرستی سے بلند ہو کر اپنے تخلیقی جوہر دکھاتا ہے۔ عفرا بخاری کی کردار نگاری کی بابت صرف اتنا ہی کہوں گا کہ زینب کا کردار گو اتنا تہ دار اور ہفت پہلو نہیں لیکن قاری کی ایسی گہری ہم دردی سمیٹنے میں کامیاب رہا ہے جس کے زریعے وہ زینب کا دکھ اپنی روح کی گہرائیوں میں اترتا محسوس کرتا ہے۔

” اندھیرے کا سفر” ایک جنین کی رحمِ مادر میں سرگرمیوں اور ازاں بعد اسقاط کی کہانی ہے۔ اس بے کیف موضوع کو عفرا بخاری نے کمال مہارت سے ٹریٹ کیا ہے۔ رحمِ مادر میں جنین کی سرگرمیوں کے مناظر قاری اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے لیکن یہ محض التباس ہے۔ نہ یہ آنکھ قاری کی ہے اور نہ عفرا بخآری کی۔ یہ آنکھ اس جنین کی ہے جو ایک ایسے جہان کو دیکھ رہا ہے جہاں آگہی کا واحد واسطہ لمس ہی ہے۔ عفرا بخاری کے بیانیہ آرٹ کی کرشمہ آرائی نے اسے ایک پُر تاثیر افسانہ بنا دیا ہے۔

یہ جنین حیاتیاتی اعتبار سے یقیناً چوبیس ہفتوں سے زائد کا ہے کیوں کہ افسانہ میں اس کا لمس محسوس کرنا مذکور ہے۔ اس عمر کے جنین کا اسقاط طبی اعتبار سے خاصا پیچیدہ عمل ہے جس میں زچہ کی جان بھی جا سکتی ہے۔ افسانہ میں اس عمل کی پیچیدگی اور اس کے نتیجہ میں زچہ کی نازک حالت کا بیان بھی بڑی فن کارانہ دروبست لیے ہوئے ہے۔ جنین کی کچھ سرگرمیاں ملاحظہ ہوں:

” اس لمس میں ایک آواز تھی۔۔۔۔ مدھر رسیلی آواز۔۔۔ رگ رگ میں اتر جانے والی آواز۔۔۔۔ محبت کی سرگوشی، جذبات سے بھرپور، سرشار کر دینے والی۔۔۔ ایک خوشبو، محبت اور شوق کی مہک۔ ایک آہٹ، ایک دھڑکن جو کسی کے بہت قریب ہونے کا، کسی کے بہت اپنا ہونے کا لطیف احساس دلاتی اور زندگی اس کے اندر لہریں لینے لگتی۔ ایک ہل چل مچ آتی اور وہ جوش و خروش سے لبریز محبت کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جاتا اور اپنے محب کو دیکھنے محسوس کرنے کی کوشش میں تیزی سے متحرک ہو جاتا۔ مسرت سے کلکاریاں مارتا، رکتا، چلتا اور جذبوں کی انتہائی شدت میں بے دم ہو جاتا۔ کوئی تھا۔۔۔ بہت قریب، بہت ہی اپنا سا، یوں جیسے وہ خود اس کے وجود میں سمویا ہو، اسی کا ایک حصہ ہو۔۔۔ اس کی سانس میں اس کی سانس چلتی ہو اور اس کی دھڑکن میں ہے اس کا دل دھڑکتا ہو۔ وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا مگر دونوں کے بیچ میں ایک غیر مرئی پردہ حائل تھا۔ شاید اسی لیے اس کی تمام حسیات لمس کی سرگوشی میں سمٹ گئی تھیں۔ وہ اس لمس کی آواز کے لیے بے چین رہتا جو اتنی نرم اور ملائم تھی جیسے فاختہ کے نرم پر سے چھو دیا جائے اس کا رُواں رُواں مسرت و انبساط سے کانپنے لگتا۔۔ وہ بڑی وارفتگی سے اس کی طرف کھنچتا بڑھتا۔ “

کم ازکم اردو زبان میں اس موضوع پر لکھا گیا کوئی افسانہ میری نگاہ سے نہیں گزرا۔

” ہدف” المیہ ہونے کے باوجود بڑی خوش طبعی سے لکھا گیا ہے۔ اگر اس المیہ کہانی کو المیہ انداز سے لکھا جاتا تو افسانہ نگار اخلاقی نقطہء نظر ہی سے بلند نہ ہو پاتیں۔ لیکن عفرا بخاری ایک کہنہ مشق فن کار کی طرح خوب جانتی ہیں کہ سویپر جیسے نچلے طبقے کے کردار کی ارضیت کو اخلاقی نقطہء نظر سے بلند ہو کر ہی کامیابی سے ابھارا جا سکتا ہے۔

یہ ایک سویپر کی کہانی ہے جسے زندگی نے حقارت، نفرت اور تذلیل کے سوا کچھ نہیں دیا۔ دفتر میں صفائی ستھرائی کے کام کے علاوہ آوارہ کتوں اور چوہوں کو مارنا بھی اس کی زمہ داری ہے اور دفتر کے ملازمین کی لعن طعن اور سرزنش و نفریں سہنا مقدر۔ لیکن دفتر میں چپ چاپ افسران کا زجر و عتاب سہنے والا مسکین سا سویپر، کتوں اور چوہوں کو مارتے وقت ایک سفاک اور سنگ دل انسان بن جاتا ہے۔ اپنی نوکیلی سلاخ چبھو چبھو کر چوہوں کو زخمی کرتا، انھیں گندی گندی گالیاں بکتا اور انھیں اذیتیں دے دے کر مارنے والا یہ سویپر ہرگز وہ سویپر نہیں جو اپنی عزتِ نفس کو تیاگ پتر دے کر بڑے اطمینان سے دفتر کے ملازمین کی طعن و تشنیع سہتا ہے۔ کتوں کے ساتھ بھی موصوف کا سلوک چوہوں سے چنداں مختلف نہیں۔ وہاں بھی ہمارا سامنا ایک خوں ریز انسان سے ہوتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اسے اپنے گھر میں بھی کم و بیش اسی توہین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو دفتر میں اس کا معمول تھا۔ یہاں دفتر کے ملازمین کی جگہ اس کی موٹی بھدی بہو یہ فریضہ سر انجام دیتی ہے۔ اس کا بیٹا اور بہو اسے یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسے کوڑے کرکٹ اور گندگی کے ڈھیروں سے ایسی چیزیں تلاش کرنی پڑتی جنھیں بیچ کر وہ اپنے پیٹ کا دوزخ بھر سکے۔ وہیں اسے ایک کتیا، جس کا نام وہ چٹی رکھتا ہے، ملتی ہے۔ چٹی اپنے بچوں کے ساتھ قریب کی جھاڑی میں مقیم ہے۔ جلد ہی چٹی اور اس کے بچے سویپر سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ وہ روزانہ ان کے لیے چھچھڑے لاتا اور چٹی کے بچوں کو گود میں لے کر جی بہلاتا ہے۔ چٹی بھی دم ہلا ہلا کر اس کا شکریہ ادا کرتی۔ ایک دن وہ، کام لینے کی غرض سے، اپنے پرانے دفتر جاتا ہے جہاں اسے کتا مار مہم میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ لیکن وہ یہ پیش کش مسترد کر دیتا ہے حالاں کہ اس مرتبہ اسے دس روپے کی جگہ سو روپے فی کتا اجرت دی جا رہی ہے۔ وہ دفتر سے مایوس ہو کر اپنا غم بانٹنے کی نیت سے واپس چٹی کے پاس لوٹتا ہے۔ لیکن چٹی کے سوئے ہوئے بچوں کی طرف ہاتھ بڑھانے پر وہ اس پر غراتی ہے اور سویپر اسے بھی مطلبی سمجھ کر بجھے دل کے ساتھ گھر لوٹ آتا ہے۔ اور اگلے ہی دن چٹی کو مار دیتا ہے۔

زندگی کی حقیقی مسرت کے سوتے عزت ،احترام اور محبت ہی سے پھوٹتے ہیں۔ شرفِ انسانیت سے محروم انسان جسے مسرت کے یہ لمحات میسر نہ آئے ہوں؛ لوٹ کھسوٹ، مطلب پرستی اور خود غرضی پر مبنی اس دنیا میں اپنی انسانیت بھی برقرار نہیں رکھ سکتا۔ عفرا بخاری نے اسں واقعہ کو خالص انسانی سطح پر دیکھا ہے اور اس سے کوئی اخلاقی مقصد برآمد کرکے مصلح بننے کی بجائے فن کار رہنے کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے وقوعہ کو کہانی اور کہانی کو اخلاقی موڑ دینے کی کوشش نہیں کی اور ایک مشاق ادیب کی طرح ان گھپلوں سے صاف بچ نکلی ہیں جن کا شکار اکثر نواموز لکھاری، اپنے بے قابو جذبات کی بدولت، بڑی رغبت سے ہوتے ہیں۔ عفرا بخاری کی افسانے کے فن پر دسترس دیکھیے کہ انھوں نے درجہ دوئم کے لکھنے والوں کی طرح سویپر کے تلخ تجربات اور ردعمل کو کردار کی بجائے پلاٹ میں نہیں رکھا ورنہ جذباتی اور نفسیاتی کش مکش کی جگہ سنسنی اور ہیجان خیزی لے لیتی۔ اگر حالات کے صیدِ زبوں کے اندر نہ جھانکا جائے، اس کے جذباتی اور نفسیاتی انتشار پر نگاہ نہ کی جائے اور یہ نہ پتہ لگایا جائے کہ وہ کون سی ترغیبات ہیں جو اس کی اخلاقی حسیات کے قلعہ کو منہدم کر دیتی ہیں تو اس کے طور طریقے جو ظالمانہ ہیں سے محض ہیجان خیز کہانیاں ہی برآمد ہوسکتی ہیں۔

عفرا بخاری نے اس افسانہ میں انسانی نفسیات کے کیسے کیسے پہلو عیاں کیے ہیں۔ وہ عزت، احترام اور اپنائیت جو سویپر کو سماج اور اپنے گھر سے نہیں مل سکی، وہ چٹی سے وصولنا چاہتا ہے۔ چاہے وہ احترام، تشکر سے ہلتی ہوئی دم کے زریعہ ہی کیوں نہ ملے۔ البرٹ کامیو کے مطابق ” انسان کتا اس لیے بھی پالتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کوئی تو ہو جو حکم دینے پر مڑ کر اسے جواب نہ دے۔ لیکن چٹی یہ بات نہ سمجھ سکی۔ اس کی تشکر سے ہلتی دم سے جاگنے والی انسانیت، چٹی کی ہلکی سی غراہٹ سے حیوانیت میں بدل گئی۔ اور سویپر نے کم زور چٹی کے ساتھ وہی سلوک کیا جو طاقت ور سماج ایک عرصہ سے اس کے ساتھ روا رکھے ہوئے تھا۔ چٹی کو دردناک طریقے سے مار کر بالآخر سویپر کا جذبہء انتقام مطمئن ہو جاتا ہے۔
” ہدف” کا بیانیہ بڑا کفایت شعار اور سنبھلا ہوا ہے۔ مصنفہ کی زبان نے افسانے کا پورا ساتھ دیا ہے۔ قاری کو کہیں بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی دوسری تکنیک کہانی کو زیادہ پُر اثر بنا سکتی تھی۔ یہ کامیاب افسانے کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

عفرا بخآری اپنے افسانوں میں ماحول، افراد اور واقعات کی تصویر کشی ایسے گہرے رنگوں سے کرتی ہیں کہ پوری کی پوری فضائے افسانہ اپنی تہذیبی فضا میں ڈوبی نظر آتی ہے۔ وہ جو بات کہنا چاہتی ہیں وہ اسی تہذیبی فضا اور اخلاقیات ہی میں اپنے معنی وا کر سکتی ہے۔ عفرا بخاری ایک ذہین فن کار کی طرح افسانوی پس منظر اور مرکزی تجربے کے گہرے رشتے کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔

ان کا زور خارجی تفصیلات سے زیادہ باطنی کیفیات ہر ہے جو ایک مخصوص وقت میں کردار کے ذہن پر مرتب ہونے والے احساس اور تاثر کو قاری کے ذہن میں منتقل کرتی ہیں۔ اندروں کی یہ ترسیل کردار کے ذہن و شعور کو مرکز بنائے بغیر ممکن ہی نہیں۔ عفرا بخاری کے افسانوں میں زیادہ زور اسی مخصوص صورتِ حال کی ترسیل پر ہے۔ وہ قاری کو کردار کے ذہنی تجربے میں شریک کرتی ہیں، اسے کردار کی ذہنی فضا محسوس کرانے کا اہتمام کرتی ہیں۔ ” چھینٹ کا لحاف”، گھر کا مالک”، ” پتھر کے چہرے” اور ” بے قابو” کو بہ طور مثال پیش کیا جا سکتا ہے جہاں عفرا بخاری نے سچائی کی ظاہری شکل کو ہی گرفت میں نہیں لیا بل کہ اس کی اصل تک رسائی کا وہ مشکل راستہ بھی اختیار کیا ہے جو جان کاہ فنی ریاضت کا متقاضی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ عفرا بخاری کے کردار یک رنگے نہیں کہ ہمیں ہر افسانہ میں یہ لگے کہ شاید ایک ہی کردار بھیس بدل بدل کر ہمارے سامنے آ رہا ہے۔ یہ کردار مختلف انسانی حالات اور کیفیتوں کی وجودی علامتیں ہیں۔

نہ دامنِ وقت میں مزید گنجائش ہے اور نہ ہی عفرا بخآری جیسی عمدہ تخلیق کار کے فن کی شعریات کو ایک مضمون میں بیان کرنا منصفی۔ مزید برآں، عشاقِ ادب کی ایک کثیر تعداد ہے جو عفرا بخآری کے فن اور شخصیت پر گفت گو کرنے کی منتظر ہے۔ سو فی الوقت یہ چند سطور اس عقدہ کشائے ہست و بود کے فن کی نذر جس کی اردو ادب کے ساتھ کمٹمنٹ اور وارفتگی و شیفتگی، فکشن کے روئے زیبا کی تجلی بڑھاتی رہے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...