سر سیّد احمد خان کی تاریخ نگاری

181

انسانی تاریخ میں ایسی شخصیتیں شاذ ہی گزری ہیں جو بیک وقت علمی و ادبی، تخلیقی و تحقیقی اور سماجی و انتظامی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں۔ایسی شاذو نادر شخصیات میں سے ایک برِّ صغیر پاک و ہند کے مشہور و معروف شخص سر سیّد احمد خان (1817-1898)      کی ذات  والا صفات بھی ہے۔ بلاشبہ سرسیّد ایک جامع الصفات انسان تھے اور یقیناً  وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔قدرت نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ بجا طور پر ایک صاحبِ طرز ادیب، نامور محقّق، مشہور مؤرّخ بلکہ اردو میں تاریخ نویسی کے بانی، عقائد و کلام اور دینیات کے متبحّر عالم اور صحافت و سیاست کے مردِ میدان بھی تھے۔ نیز وہ سماجی، فلاحی اور تعلیمی و طباعتی اداروں کے کامیاب منتظم بھی تھے اور مسلمانانِ برِّ صغیر کی درست سمت میں رہنمائی کرنے والے عظیم قائد اور کاروانِ علم و ادب کے بجا طور پرمیرِ کارواں بھی تھے۔

سرسیّد نے، اگرچہ، ابتدائی تعلیم روایتی طرز پر حاصل کی اور قرآن و حدیث، فقہ و کلام اور فارسی و عربی زبانیں سیکھ لیں اور پھر ذاتی مطالعے سے اپنے علم میں بے پناہ اضافہ کیا۔لیکن بعد میں انہوں نے جدیدمغربی علوم سے بھی بخوبی واقفیت پیدا کی ۔ ان علوم کے حصول کے نتیجے میں ان کے انداز فکر اور نقطۂ نظرمیں بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔اس تبدیلی کی ایک صورت جدید تاریخ نویسی(Historiography)کی جانب ان کی رغبت  اور اس سے  لگاؤبھی ہے۔ جیساکہ پروفیسر عزیز احمد اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ: ’’ سیّد احمد خان کی مغربی روشن خیالی تک رسائی نے ان میں تاریخ کے اصولِ تغیّر، نفاذ اور حرکت کا پوری طرح سے احساس پیدا کردیا۔‘‘   ۱؎

سرسیّد کے متعدّد علمی و ادبی کارناموںمیں سے ایک ان کی تاریخ نگاری بھی ہے جو اس تحریر کا مرکز و محوّر ہے۔اگرچہ تاریخ نگاری کے میدان میں سرسیّد احمد خان  الطبری، المسعودی اور ابن خلدون جیسے مایۂ ناز مسلمان مؤرّخین اور گبّن، ہیگل، اسپینگلر اور ٹوائن۔ بی جیسے  ناموریورپی مؤرّخین و محقّقین جیسی شہرت و ناموری حاصل نہ کر سکے ،لیکن انیسویں صدی عیسوی کے نصفِ آخر میں برِّ صغیر ہند و پاک میں اردو میں تاریخ نویسی کو جدید علمی و تحقیقی صورت دینے میں انہوں نے مربّیانہ کردار ادا کیا۔انہوں نے جہاں  اردو میں تاریخ نویسی کے جدید اصولوں کو متعارف کرایا اور کتابیں، رسالے اور مقالے لکھے وہاں قدیم اور کلاسیکی تاریخی کتب کی تدوین و طباعت کا بھی قابل لحاظ انتظام کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے شاگردوں اور رفقائے کار کو تاریخ نویسی کے جدید اصولوں کے مطابق اسلام اور ہندوستان کی تاریخ لکھنے کی ترغیب و تشویق دلائی۔چنانچہ ان رفقائے کار میں سے خواجہ الطاف حسین حالیؔ،علّامہ شبلی نعمانی اور مولوی ذکاء اللہ دہلوی نے سرسیّد کی اس علمی روایت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسلام اور ہندوستان کی تاریخ پر اردو میں مستند اور کارآمدکتابیں لکھیں۔

گوکہ سرسیّد کی تاریخ نویسی سے دلچسپی شروع سے تھی، تاہم ان کا طریقۂ کار روایتی تھا۔ چنانچہ ۱۸۴۰ء میں جب سرسیّد نے تاریخ کے موضوع پر لکھنے کے لئے قلم اٹھایا تو اپنی تصنیف فارسی نثر میں مکمل کی  جو ’ جامِ جم ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مختصر سی کتاب روایتی تاریخ نویسی کے اصول پر مرتّب کی گئی ۔ اسی طرح ۱۸۴۲ء میں انہوں نے سیرتِ رسولﷺ پر اپنی کتاب ’ جلاء القلوب بذکر المحجوب ‘ شائع کی۔ حسبِ سابق یہ کتاب بھی روایتی انداز میں لکھی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ سرسیّد کے ان روایتی طریقوں کے خوگر ہونے اور دینی و اعتقادی معاملات میں زیادہ راسخ ہونے  یا حُسنِ اعتقادی کی ایک وجہ تو غالباً ان کو دی گئی ابتدائی روایتی دینی تعلیم و تربیت تھی جبکہ دوسری وجہ  شاہ ولی اللہ خانوادے سے ان کی والہانہ دینی وابستگی تھی۔ لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ سرسیّد نے شاہ عبد العزیز سے متاثر ہو کر فارسی کے بجائے اردو میں لکھنا شروع کیا اور آگے چل کر اردو ادب اور تاریخ نویسی کے سرخیل بن گئے۔

لیکن کچھ عرصہ بعد سرسیّد کے فکر میں تنقیدی اور تحقیقی شعور بیدار ہوا۔خاص طور پر ان کے سفر انگلستان کے بعد ان کے فکر و عمل میں بنیادی تبدیلیاں رُونما ہوئیں اور یوں وہ   جدید یورپی مؤرّخین کی تاریخ نویسی کے علم و فن سے بڑی حد تک  روشناس ہوئے۔ہندوستان واپس آکر سرسیّد نے ان مغربی اصول تاریخ نویسی کو بروئے کار لانے کا تہیّہ کر لیا۔ انہوں نے قدیم  اور روایتی تاریخ نویسی پر کڑی تنقید کی ہے اور اس کی کمزوریوں کو منظرِ عام پر لایا۔وہ شبلی نعمانی کی کتاب ’ المامون ‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ: ’’ ہماری تاریخیں اُس زمانے کی لکھی ہوئی ہیں جس میں زمانے نے تاریخ نویسی کے فن کو پوری طرح  ترقی نہیں دی تھی۔‘‘  ۲؎

نیز انہوں نے۹ ؍ جنوری ۱۸۶۲ء میں غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کی میٹنگ میں قدرے تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ’’بے شک ایشیاء میں بڑے بڑے مصنّف گزرے اور انہوں نے تاریخ کی کتابیں بھی تصنیف کیں لیکن جن لوگوں نے ان تاریخوں کو دیکھا ہے،  ان میں کچھ نہیں ہے بجز فقرہ بندی اور عبارت آرائی کے۔ ان میں کچھ نہیں ہے بجز تعریف اور خوشامد ان بادشاہوں کی جن کے سبب حکومت شخصیہ کے ہر مصنّف کو اپنی جان و مال کا اندیشہ تھا۔ تمام خرابیاں جو کسی بادشاہ کی سلطنت میں تھیں اس وقت کے مصنّف اپنی جان و مال کے اندیشے سے اس کونہیں لکھ سکتے تھے ۔۔ان کی تصنیفوں  میں اس بات کا کافی ذکر نہیں پایا جاتا کہ کس زمانہ میں کس کس علم اور فن  نے اور کس کس طرح  ترقی پائی ۔ کس کس طرح چھوٹی  چھوٹی قوموں نے علم و ہنر میں ترقی اور نام آوری حاصل کی۔ قومیں گھٹتی گئیں یہاں تک کہ برباد ہوگئیں۔‘‘  ۳؎

سرسیّد کی تقریر کے اس اقتباس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ موصوف کے پیشِ نظرزیادہ تر فارسی نویسی ہے جس میں لفّاظی، فقرہ بندی، تمثیلی پیرائے میں واقعات بیان کیے جاتے تھے۔ورنہ عربی تاریخ نگاری بہت حد تک ان نقائص و عیوب سے مبرّا ہے۔نیز یہ کہ سرسیّد محض سیاسی تاریخ کو تاریخ نہیں سمجھتے بلکہ ان کے نزدیک علوم و فنون ، تہذیب و تمدّن اور معاشرے کے دیگر جزیات کو بھی احاطہ تحریر میں لانے کا پورا عمل تاریخ نویسی ہے۔ان سے اغماض برتنے سے قومیں شکست و زوال سے دوچار ہوجاتی ہیں۔

سرسیّد کے عمومی فکر و فلسفے کی اہم خصوصیت  یہ بھی رہی ہے کہ وہ علمِ تاریخ اور علم کلام دونوں میں عقل کے استعمال کے قائل تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ کلام اور تاریخ  دونوںمیں مذکور معجزات اور ما فوق الفطرت روایات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں اور عقل کی بنیاد پر انہیں ردّبھی کرتے ہیں۔جیساکہ ڈاکٹر فضل الرّحمان اس بابت لکھتے ہیں کہ:

۴”Sayyid Ahmad Khan rationally rejects the possibility of miracles on principle.”     ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سرسیّد نے جہاں جدید مغربی مؤرّخین سے خوشہ چینی کی ہے وہاں ازمنہ وسطیٰ کے مسلم مؤرّخین، خاص طور پر ابن مسکویہ اور ابن خلدون سے بھی اثر قبول کیا ہے  اور ان کی تاریخ نویسی کو اپنایا ہے۔ اس کا بالواسطہ ثبوت  اس صورت میں ملتا ہے کہ جب سرسیّد نے اپنے رسالے ’ تہذیب الاخلاق ‘ کی اشاعت کا آغاز کیا تو  بقول عزیز احمد، یہ نام ابن مسکویہ کے مشہور مقالے کے نام پر رکھا گیا تھا۔  ۵؎

ابن مسکویہ -متوفّی۔۹ صفر ۴۲۱ھ (بمطابق ۱۶فروری ۱۰۳۰ء)نے اپنی تاریخ ’ تجارب الامم ‘ میں  بھی بے مقصد قصّوں اور کہانیوں کو الگ کرنے کے سلسلے میں انبیاء علیہم السّلام کے معجزات تک کو بھی حذف کیا، کیونکہ ان سے کوئی فائدہ  یا تجربہ حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔جیساکہ وہ خود لکھتے ہیں کہ: ’’ اسی وجہ سے انبیاء علیھم السّلام کے معجزات کا ذکرنہیں کیا، کیونکہ ہمارے زمانے کے لوگ ان سے آئندہ واقعات کے متعلّق کوئی تجربہ نہیں حاصل کر سکتے۔ ‘‘   ۶؎

یہ حقیقت بھی مسلّم  ہے کہ معروضی حقائق کو بلا کم کاست  بیان کرنے اور  تاریخ سمیت سماجی اور دینی علوم میں عقل و خرد  کے مستقل کردار  اور سیکولر خیالات و رجحانات کی پذیرائی کے باعث سرسیّد  بہت سارے حلقوں ، خاص طور پر دینی حلقوں کی جانب سے عرصہ تک ہدفِ تنقید بنے رہے  بلکہ انہیں بے دین، دھری اور نیچری  کے القاب سے بھی نوازا گیا۔ لیکن سرسیّد بھی دھن کے پکّے، قوی اعصاب اور مصمم ارادوں کے مالک تھے،نیز انہیں اپنے نظریات پر پر کامل بھروسہ تھا۔ اس لئے وہ بد دل نہ ہوئے اور اپنے مشن کو مستقل مزاجی سے جاری رکھا۔اس کارِ عظیم باعث ملّتِ اسلامیّہ کے لئے کارہائے نمایاں انجام پا گئے۔چنانچہ تاریخ نویسی کے جدیدو قدیم اصولوں اور طریقوں سے کماحقّہ آگاہی حاصل کرنے کے بعد سرسیّد جہاں اس سے پہلے لکھی ہوئی کتابوںپر نظر ثانی کرنے لگے وہاںاپنی نئی تصانیف کو نئے اور جدید طریقوں کے مطابق مرتّب کرنا شروع کیا۔

سیرتِ رسولؐ پر سرسیّد کی لکھی ہوئی کتاب ’ خطباتِ احمدیہ ‘، جو ۱۸۷۰ء میں شائع ہوئی تھی اور جس میں انہوں نے سر ولیم میور کی کتاب ’لائف آف محمّد‘  کا جواب بڑی محنت اور جانفشانی سے لکھا ہے ، میں ان کا اپروچ اور طریقہ کار جدیدعلمی اور سائنسی ہے۔ کیونکہ وہ کوئی بھی روایت بغیر نقد و جرح کے تسلیم نہیں کرتے ہیں۔  اگرچہ سرسیّد نے’خطباتِ احمدیہ ‘ کی ترتیب و تدوین میں سائنفک طریقہ اختیار کیا ہے ،تاہم اس میں مدافعانہ اور معذرت خواہانہ(Apologetic) طریقے کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ اس کی نشاندہی عزیز احمد نے بھی کی ہے۔  ۷؎    اس میں سر سیّد ہی اکیلے نہ تھے بلکہ ہندوستان کے دوسرے بہت سے دانشور اور مصنّفین ، جیسے چراغ علی، امیر علی ، شبلی اور حتی کہ اقبال اور خلیفہ عبد الحکیم تک،اس خصوصیت یا کمزوری کے حامل رہے ہیں۔یہ در اصل نوآبادیاتی دور کی مغلوب و محکوم قوموں اور افراد کا مشترکہ مسئلہ تھا۔

سرسیّد کی دوسری اہم کتاب جو تاریخ پر لکھی گئی ’ آثار الصّنادید ‘ ہے ، اس کتاب میں  دہلی اور اس کے ارد گرد عمارتوں کا تفصیلی  تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سرسیّد تاریخ کے لٹریری مآخذ سے بخوبی آگاہ  توتھے ہی لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سرسیّد علمِ آثارِ قدیمہ (Archiology) سے بھی آگاہ تھے۔سرسیّد نے ایک اور کتاب ’  سلسلۃ الملوک ‘کو بھی مرتّب کیا جس میں زمانۂ  قدیم سے دہلی کے فرمانرواؤں سے لے کر اپنے دَور تک کے دہلی کے حکمرانوں کے احوال درج کیے ہیں۔ یہ کتاب بھی سرسیّد نے جدید اصولِ تاریخ نویسی کے مطابق مرتّب کی ہے۔

سرسیّد احمد خان نے، جیساکہ شروع میں ذکر ہوا، طبع زاد کتابیں لکھنے کے ساتھ ساتھ تاریخ سے متعلّق قدیم اور کلاسیکی کتابوں کے متون کی تصحیح وطباعت کا بیڑا بھی اٹھایا،  اس لئے کہ تاریخ کے صحیح مآخذدستیاب ہو سکیں۔دَورِ جدید اور مابعد دَور کے مؤرّخین ہندوستان کے عہدِ وسطیٰ کی تاریخ، تہذیب و تمدّن کی تصویر پیش کر سکیں۔انہوں نے اس ضمن میں عہدِ وسطیٰ کی ایسی اہم کتابوں کا انتخاب کیا جو ہندوستان کی تاریخ پر بنیادی مآخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً ابو الفضل کی ’ آئینِ اکبری ‘، ضیاء الدّین برنی کی ’ تاریخِ فیروز شاہی ‘ اور مغل شہنشاہ جہان گیر کی ’ تزکِ جہانگیری ‘۔ خاص طور پر ’ تاریخ ِ فیروز شاہی ‘ کے متن کی تصحیح و تدوین میں سرسیّدنے بہت محنت اور عرق ریزی سے کام لیا اور بجا طور پر انہوں نے اسے جدید طریقے پر مرتّب کیا۔

الغرض،سرسیّد احمد خان برّصغیرہند و پاک میں اردو میں جدید تاریخ نویسی کے بانی ہیں۔ انہوں نے تاریخ نویسی کے مغربی منہاجیات کو اردو میں برتنے اور ان کے مطابق تاریخ کی ترتیب و تدوین اور تشکیلِ نوع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے جہاں اردو میں تاریخ  پر مختصر مضامین، طویل تحقیقی مقالے، رسالے اور کتابیں لکھیں وہیں قدیم تاریخی کتابوں کے متون کی تصحیح و طباعت کا بھی اہتمام کیا اور اس ضمن میں انہوں نے محنتِ شاقہ سے کام لیا۔نیز اہم بات یہ بھی ہے کہ ان تحقیقی و تالیفی کاموں کے انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنے رفقائے کار ، جن میں حالی، شبلی اور ذکاء اللہ قابلِ ذکر ہیں،کو بھی اس طریقے پر چلنے کی ترغیب دی۔یوں جدید تاریخ نویسی برِّ صغیر میں فروغ پانے لگی اور برگ و بار  لانے لگی۔

حوالہ جات

۱۔   عزیز احمد۔ ’  برِّ صغیر میں اسلامی جدیدیت ‘ مترجم: ؟ڈاکٹر جمیل جالبی، ادارۂ ثقافتِ اسلامیّہ، لاہور، ۱۹۹۷ء، ص ۶۸

۲۔  شبلی نعمانی۔ ’ المامون ‘، مکتبۂ جدید، لاہور، ۱۹۶۰ء، ص ۸

۳۔  اقتدار حسین صدیقی۔ ’ اردو میں تاریخ نگاری کی ابتداء ‘، رام پور رضا لائبریری، رامپور، انڈیا،۲۰۰۸ء،ص ص ۱۹۷۔۱۹۸

۴۔  Fazlur Rahman. Islam, London, 1966, p.218

۵۔   عزیز احمد۔ برِّ صغیر میں اسلامی جدیدیت، ص ۶۸

۶۔   عبد السّلام ندوی۔ ’ حکمائے اسلام ‘، حصّۂ اوّل، نیشنل بک فاؤنڈیشن، کراچی، ۱۹۸۹ء، ص ۲۵۸

۷۔   عزیز احمد۔   برِّ صغیر میں اسلامی جدیدیت ‘ ،ص ۶۹

 

(مضمون نگار پاکستان اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی ہیں اور  بطور اسسٹنٹ پروفیسر، اسماعیلی طریقت اور مذہبی تعلیمی بورڈ برائے پاکستان، کراچی  کام کر رہے ہیں)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...