سوات میں عسکریت پسندوں کی واپسی : عوام کا سخت ردعمل

119

تجربہ بتاتا ہے کہ جلد اس سوال کا جواب یوں ہوگا، ”سوات میں کچھ شر پسند عناصراپنے علاقے میںتالبان کی موجودگی کا بہانہ بنا کر ملکی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں ففتھ جنریشن وارفیئر میں استعمال ہورہے ہیں۔ ان لوگوں میں کچھ سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں“۔
اگست کے اواخر میں مٹہ،سوات کی ایک خوب صورت وادی میں تالبان نکل آتے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق وہ شام ہوتے ہی سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور گاہے بگاہے پولیس تھانوں پر حملے کرتے ہیں۔ پھر ایک ویڈیو سامنے آجاتی ہے جس میں ایک پولیس ڈی ایس پی اور فوجی افسر دکھائی دیتا ہے جو تالبان کے قبضے میں ہوتے ہیں۔ تالبان ان کو اغوا کرکے کچھ عجیب و غریب مطالبات کرتے ہیں اور جرگے کے لئے مخصوص مقامی رہنماؤں کا نام لیتے ہیں۔ پھر ایک اور واقعہ میں یہ تالبان ایک ہردلعزیز مقامی سیاسی رہنماء کی گاڑی کو بم سے اڑا کر انہیں شہید کردیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پورے سوات میں کئی لوگوں کو بھتہ دینے کے لئے رقعے بھیجے جاتے ہیں۔ پوری وادی میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ سواتی لوگ احتجاج پر اتر آتے ہیں۔ ان کے احتجاج کو مرکزی میڈیا پر دکھایا نہیں جاتا بلکہ بعض مقررین کے خلاف پرچے کاٹے جاتے ہیں۔ بات جب وزیر داخلہ تک رینگتے رینگتے پہنچتی ہے تو موصوف ایسی کسی موجودگی سےصاف انکاری ہوجاتے ہیں۔ ادھر سے افواج پاکستان کے تعلقات عامہ کی طرف سے بیان جاری ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ”سوا ت کی چند پہاڑیوں پر مسلح افراد کو دیکھا گیا ہے“ تاہم ”سوات میں تالبان کی موجودگی کے بارے میں خبریں واضح طور پر مبالغہ آمیز اور گمراہ کن ہیں“۔
مرکز کی طرف سے عسکریت پسندوں کی موجودگی سےانکار اور صوبائی و مرکزی سیاسی قیادت کی طرف سے تادیر مکمل خاموشی مسئلے کو مزید گھمبیر بناتی ہے ۔ اس کی مثال 2005 اور 2006 والی پراسرار خاموشی سے دی جاتی ہے جب سوات میں دہشت کی کاروائیاں بڑھ رہی تھیں مگر ریاست اور حکومت کی طرف سے مکمل خاموشی تھی۔ اسی خاموشی میں، جب عوام خوف اور ابہام کی کیفیت میں تھے،فروری 2009ء کو ایک نام نہاد امن معاہدے کے ذریعے سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے کئی دوسرے علاقوں کو تالبان کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ امن کی بجائے مالاکنڈ اور پورے سوات پر تالبان کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ریاستی ادارے اس وقت دباؤ میں آتے ہیں جب سوات سے پندرہ لاکھ سے زیادہ کی آبادی کو بے گھر کردیا جاتا ہے، اس وقت وہ کچھ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
ماضی کی طرح اس بار بھی سوات میں دہشت گرد کاروائیوں پر ریاستی ادارے ، وفاقی اور صوبائی حکومتیں خاموش ہیں۔ ان کی جانب سے خاموشی سے وہی ابہام والی پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔ شاید مدعا اس بار بھی وہی ہو کہ سواتیوں میں خوف پیدا کردیا جائے، تاہم اس بار سواتی عوام کی طرف سے ردعمل مختلف ہے۔ وہ ہر چھوٹے بڑے قصبے میں سراپا احتجاج ہیں۔ سوشل میڈیا پر سوات فرسٹ ٹرینڈ بنتا جا رہا ہے۔ مقامی عوام، سول سوسائٹی اور دیگر حلقے بھرپور انداز میں احتجاج کر کے یہ باور کروا رہے ہیں کہ وہ سب سوات میں امن چاہتے ہیں اور ریاستی اداروں اور حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چپ کا روزہ توڑ دیا جائے اور واضح طور پر بتایا جائے کہ اس بار مقاصد کیا ہیں۔
سواتی عوام اب سوات میں صرف امن چاہتے ہیں اور ماضی کے تجربے کی بنیاد پر اس بار بروقت احتجاج کر کے سخت ردعمل دے رہے ہیں ۔ ماضی کو یاد کرکے اگر تجزیہ کیا جائے تو سواتیوں میں غم و غصّہ بالکل جائز اور مناسب ہے اور ان کا ردعمل ان کے تحفظ اور سوات کے امن بلکہ پوری ریاست پاکستان کی امن کے لئے اہم ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...