کس طرح 1930ء کے بحران نے کیتھولک چرچ کو جدید بنا دیا

جیمز چپل

208

20ویں صدی کی تاریخ ناکام عالمی تجربات سے بھری پڑی ہے۔ برطانوی سلطنت اپنی سطوت و شوکت کے بل بوتے اس صدی میں گرجتی رہی لیکن اختتام ٹوٹ پھوٹ پر ہوا۔ روسی انقلاب اور کمیونسٹ شورش نے نعرے لگائے کہ نئی صدی اب اُس کی ہے، لیکن وہ خواب بھی بکھرتے دیکھا گیا۔ 1900 میں شروع ہونے والے تمام عالمی منصوبوں میں سے، صدی کے اختتام تک صرف دو ہی عناصر تھے جو زندہ رہے۔ ایک تو عالمی سرمایہ دارنہ نظام، اور دوسرا کیتھولک چرچ۔ سرمایہ دارانہ نظم کی بقا سے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے، شاید کارل مارکس بھی اس نظام کی دھماکہ خیز حرکیات سے بخوبی واقف تھا۔ لیکن کیتھولک چرچ نے خود کو کیسے زندہ رکھا؟ ایک ایسا ادارہ جو 1900 میں افق پر سب سے زیادہ کمزور اور جدیدیت مخالف لگ رہا تھا، اور جو جدیدیت کے منصوبے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم تھا۔

زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ چرچ کے حوالے سے بڑی تبدیلی 1960 کی دہائی میں ہوئی، اور خاص طور پر ’ویٹیکن کونسل دوم‘ (1962-65) کے انعقاد کے وقت، جب چرچ نے سرکاری طور پر سیکولر ریاست، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے لیے کھلے پن کو جگہ دینے کا عندیہ دیا۔ (ویٹیکن II، یا ویٹیکن کونسل دوم 1962 سے 1965 کے دوران ہونے والی مشاورتی نشستوں کو کہا جاتا ہے جن میں مسیحی ممالک کے مابین قربت، مسیحیت کے جدیدیت کے ساتھ روابط اور دیگر مذاہب کے ساتھ تعلقات  بارے خوروخوض کیا گیا اور ایک دستاویز تیار کی گئی جو مسیحی دنیا میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ مترجم) لیکن یہ ایک غلطی ہے۔ بڑے سماجی یا مذہبی ادارے خود کو کبھی بھی ایسے اوقات میں کسی تبدیلی کے سپرد نہیں کرتے جب حالات میں کوئی بڑی اور واضح ہلچل نہ ہو۔ یعنی کہ نارمل اوقات میں وہ کسی تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس عمل کے لیے بہت زیادہ گہماگہمی اور اتھل پتھل اور اشرافیہ کے عمل دخل کا کردار ہوتا ہے۔ ایسے ادارے بحرانوں، تباہی اور خوف کے اوقات میں تبدیلی کو قبول کرتے ہیں۔ 1960ء کی دہائی چرچ کے لیے کوئی ایسا لمحہ نہیں تھا، 1930ء کی دہائی میں البتہ ایسا ماحول برپا تھا۔

1929 میں عظیم کساد بازاری کے آغاز نے یورپی سیاست میں ایک نئے دور کا اشارہ دیا۔ پورے یورپ میں، لبرل مرکزیت ایک جھونکے میں ہی دولخت ہو کر رہ گئی، کیونکہ عام ووٹرز فاشزم اور کمیونزم کے دو انتہائی سخت گیر دھڑوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ تب کیتھولک عناصر خوفزدہ تھے۔ سخت گیر لبرلز کیتھولک اسکولوں کو دھمکا رہے تھے، اور یہ کہا کہ ان اسکولوں میں بشپس کی تقرری کا کنٹرول وہ حاصل کرلیں گے۔ جوزف اسٹالن اور ایڈولف ہٹلر نے ایک نئی فضا کو پروان چڑھایا۔ کیتھولک نقطہ نظر سے، وہ دونوں ’مطلق العنان‘ تھے۔ انہوں نے اپنی رعای اور ان کے جسم و روح پر مکمل استحقاق کا دعوی کیا۔ وہ دونوں گرجا گھروں پر تنقید کرتے تھے، جس سے آخر کار ریاستوں میں قانون اور اخلاقیات کے متبادل اصولوں کو متعارف کرایا گیا، اس کا مقصدِ واحد ایک متنوع آبادی پر یکسانیت کا خول چڑھانے کی جارحانہ کوشش تھی۔

مطلق العنانیت کی اس لہر کے دوران، کیتھولک عناصر نے حقیقی خدشات کو محسوس کیا، اور وہ یہ کہ ان کی مقدس رسومات ادا کرنے کی آزادی، بلکہ کیتھولک اسکولوں میں جانے کی اجازت بھی جلد ہی ختم ہو سکتی ہے۔ جب یورپی ممالک ہٹلر اور سٹالن کے درمیان پھنس گئے تھے، ایسے میں کسی قسم کے کیتھولک سیاسی احیاء تصور بھی مضحکہ خیز تھا اور اس پہ سوچنا خطرناک بھی۔ (ہٹلر کے پاس ایسی چیزوں کی بُو سونگھنے کی خاص صلاحیت اور نظام تھے)۔ اُس وقت کیتھولک عنصر کو صرف اپنی بقا کی فکر تھی۔ اس کا نتیجہ تھا کہ  اس کی وجہ سے کیتھولک اپنے چرچ کی نوعیت و نظام پر نظرثانی پہ مجبور ہوئے۔

چرچ کے پیش نظر قطعا جدیدیت کا متبادل پیش کرنا نہیں تھا، اور نہ ہی یہ تصور کرنا کہ مستقبل کے منظرنامے میں چرچ کی مرکزیت کا کیا نقشہ ہوگا۔ بلکہ مقصد صرف سیکولر ریاستوں میں مذہبی استعارات کے تحفظ کے لیے جدید زبان کا استعمال کرنا تھا تاکہ کیتھولک چرچ کی بقا کو ممکن بنایا جاسکے، اور کم از کم کچھ کیتھولک دینی اصولوں کو قانونی فریم ورک کا حصہ بنوایا جاسکے۔ یہ سب انہی سالوں میں ہوا تھا، اور ان وجوہات کی بنا پر، کیتھولک عنصر نے انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور سیکولر جدیدیت کو قبول کیا۔

1930 کی دہائی میں کیتھولک عنصر کے سامنے فیصلوں کے لیے مشکل ترین وقت تھا۔ اب جبکہ کیتھولک احیاء کا دیرینہ خواب ہوا ہوچکا تھا، تو کلیسا کا مقام کیا رہ گیا ہے اور وہ اپنی اقدار کو کیسے زندہ رکھے؟ زیادہ تر کیتھولک رہنماؤں اور مفکرین نے خیال پیش کیا کہ اسے خاندانی نظام کے تحت اپنے آپ کو ظاہر کرنا ہے۔ اور اسی کا انتخاب کیا گیا۔ پہلی بار کیتھولک عنصر نے جنسی اور تولیدی اخلاقیات کو اپنے سماجی اور سیاسی مشن میں مرکزی حیثیت دی۔ انہوں نے دو وجوہات کی بنا پر ایسا کیا۔ ایک تو، کیتھولک عنصر کا استدلال تھا کہ بطورر اخلاقی تعلیم کے خاندانی نظام پر کنٹرول اور اس کا تحفظ، ایک ایسی دنیا میں ادارہ جاتی بقا کو یقینی بنائے گا جو بظاہر اب ٹوٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔ دوم، اس لیے کہ کیتھولک خاندانی اخلاقیات سیکولر سیاست دانوں کے لیے قابل قبول ہوں گی، چاہے وہ ہٹلر ہو یا فرینکلن روزویلٹ۔ لہذا مانع حمل داوا، طلاق اور ہم جنس پرستی کی مخالفت کرنے کے ککچھ اسباب دستیاب نظر آئے۔

چرچ ایک ایسے عہد میں جدیدیت پسند نظر آنے کی کسی کوشش میں تبدیل نہیں ہوا جہاں جان لینن، یسوع سے بڑا ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہو

1930 کی دہائی میں کیتھولکس نے جو فیصلے کیے وہ آج تک متعلقہ ہیں۔ انہوں نے ہم جنس شادی، اسقاط حمل اور دیگر تولیدی مسائل کے بارے میں بہت کامیابی کے ساتھ  خود کو منظم کیا اور سیکولر ریاستوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ کیتھولک تعلیمات کو قانون میں شامل کریں۔ تاہم، کیتھولک جدیدیت کو نظریہ بنانے کا یہ واحد طریقہ کبھی نہیں رہا۔ 1930 کی دہائی کے بعد سے، چرچ کے ایک دھڑے کو ان کیتھولکس پر اعتراضات بھی رہے، کہ خاندانی نظام پر اس حد تک ارتکاز ٹھیک نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے چرچ ان قوتوں کے ساتھ اتحاد کرتا ہے جو دیگر کئی حوالوں سے کیتھولک اقدار کے مخالف ہیں۔ انہوں نے ان معاملات میں کیتھولک تعلیمات کو مسترد تو نہیں کیا، لیکن انہوں نے صرف خاندانی اقدار پر بہت زیادہ زور دینے پر اختلاف کیا۔ اختلافی دھڑے نے کیتھولک روایات کے دیگر عناصر کی بازیافت کی کوشش کی جو معاشی، نسلی یا ماحولیاتی ناانصافی سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔

یہ کوئی راز نہیں ہے کہ چرچ کے یہ دونوں بازو آج بھی موجود ہیں۔ پوپ فرانسس نے واضح طور پہ جنسی معاملات میں زیادہ زور دینے پر کئی مرتبہ سوال اٹھایا، اور اس بات کے وسیع تر تصور کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک کیتھولک جدیدیت حقیقت میں کیا ہو سکتی ہے۔ ان کے بہت سے ناقدین کو شکایت ہے کہ وہ کچھ زیادہ ہی آگے چلے جاتے ہیں، اور ایک ایسی دنیا جو ویسے ہی بے مہار ہوچلی ہے اس میں خاندانی نظام و اقدار کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔

یہ تنازعہ اور چرچ کی جدیدیت کے آثار 1960 کی دہائی سے شروع نہیں ہوئے۔ چرچ ایک ایسے عہد میں جدیدیت پسند نظر آنے کی کسی کوشش میں تبدیل نہیں ہوا جہاں جان لینن، یسوع سے بڑا ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہو۔ موجودہ دور میں چرچ کی طرف سے جنسی انقلاب کے دو مختلف نظریات 1960 کی  دہائی کے عوامی رجحانات کے زیراثر نہیں نہ ان کا نتیجہ ہیں، بلکہ یہ اس پہلے کے حالات میں چرچ کو درپیش ہونے والے ایک سوال کا نتیجہ ہیں کہ چرچ کو جدید فاشزم کے سیاسی منظرنامے کے ساتھ کس طرح تعامل کرنا چاہیے اور خود کو کیسے متعلق رکھنا ہے۔

آج یہ سوال ایک مرتبہ پھر سامنے ہے کہ کیا چرچ پہلے کی طرح، ایک بار پھر اپنی حیثیت اور دنیا کے ساتھ تعلق کے حوالے سے کوئی نئے تصورات پیش کرسکتا ہے؟ اس بارے کچھ واضح کہا قبل ازوقت ہے۔ حالانکہ یہ بھی سامنے ہے کہ پوپ فرانسس کے بارے پائی جانے والی ناراضی اور غصے کے بعد جدید چرچ پوپ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ 20 ویں صدی میں چرچ میں تب بدلاؤ آیا تھا جب بشپس، پادری اور طاقتور عام آوازوں کو یہ خدشہ محسوس ہوا کہ اب ادارہ شدید خطرے میں ہے۔ جبکہ فی الحال افق پر مطلق العنانیت کے کوئی آثار نہیں، اگرچہ یہ یقینی طور پر قابل تصور ہے کہ کسی دن یہ خطرات دوبارہ ابھر سکتے ہیں۔

20 ویں صدی میں چرچ کی کامیابی اس کے 21 ویں صدی کے جانشین کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ ان کی ابدی روحوں کی قسمت کچھ بھی ہو، البتہ زندہ کیتھولک ہم میں سے باقی لوگوں کی طرح ہی ہیں: ہمیشہ کے لیے آخری جنگ لڑ رہے ہیں۔ آمریت کے خلاف جدوجہد اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ کیتھولک جیت گئے، اور موجودہ چرچ کو اس جنگ نے ایک خاص شکل دی۔ کیا اس چرچ کی ایک نئی دنیا کے لیے دوبارہ تشکیل کی جاسکتی ہے – ایک بعد از مطلق العنان دنیا کے لیے؟ یہ ہمارے دور کے اہم سوالات میں سے ایک ہے، اگرچہ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا، مگر اس پہ یقین کرنا ضروری بھی نہیں۔ چرچ نے پہلے بھی ہمیں حیران کیا ہے۔

بشکریہ: ایون، مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...