فضیلہ عالیانی، سیاست میں بلوچوں کے حقوق کی علمبردار

عروج جعفری

224

بلوچستان کئی حوالوں سے ایک پسماندہ صوبہ ہے اور یہاں کے لوگوں کی حقوق کے لیے جنگ کی ایک طویل تاریخ ہے۔ عام طور پہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صوبے کی موجودہ ابتری میں اس کے سرداروں نوابوں کا حصہ بھی شامل ہے۔ لیکن بلوچستان کے سرداری ڈھانچے میں سارے گھرانے ہی ایک جیسے نہیں ہیں، بلکہ کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے خود کو بلوچ عوام کی تعلیم، صحت، خودمختاری اور بہبود کے لیے وقف کیا، انہی میں سے ایک نام نوراللہ خان کے گھرانے کا بھی ہے جن کی بیٹی فضیلہ عالیانی نے سیاست کو ہمیشہ اصولوں پر استوار کیے رکھا۔ عروج جعفری نے زیرِنظر مضمون میں فضیلہ عالیانی کی سیاسی زندگی کو موضوع بنایا ہے۔ مضمون نگار کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ گزشتہ کئی برس سے صحافت اور براڈکاسٹنگ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔

یوں تو بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن اس کی پسماندگی آج بھی اداس کردینے والی ہے۔ یہاں حقوق کی جدوجہد نئی بات نہیں ہے، بلکہ یہ ماضی کا تسلسل ہے۔ اس صوبے نے اپنی پسماندگی اور بے تحاشا مسائل کے باوجود کئی گوہرِنایاب پیدا کیے جو بلوچوں کے دلوں میں آج بھی زندہ اور محترم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صوبائی خود مختاری اور علاقائی وسائل پر پہلا حق اس کے عوام کا مانتے رہے اور اس مقصد کے لیے تحریک بنے رہے۔ سرداری نظام اور پدرشاہی ماحول میں تعلیم، صحت اور عورت کے حقوق کا سوال اٹھانا کبھی آسان نہیں رہا۔ اس کے باوجود یہ روشن خیال اور بہادر گھرانے ایسے تھے جو مخصوص سماجی ڈھانچے اور ذہنیت کے خلاف ڈٹ کے کھڑے ہوئے۔ ایسا ہی ایک نایاب گھرانہ لسبیلہ کے جام نور اللہ خان عالیانی کا تھا۔ نوراللہ خان ان چند سردار گھرانوں میں سے ایک تھے جو انگریز کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے اور 1930ء کی دہائی میں انگریزوں کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں سرکار کی ناراضی مول لی۔

نوراللہ خان جب 1932ء میں ممبئی سے تعلیم مکمل کرکے کوئٹہ واپس لوٹے تو انگریز سرکار کی ہاں میں ہاں ملانے کی بجائے ہم خیال ساتھیوں، جن میں عبدالصمد اچکزئی اور غوث بخش بزنجو بھی شامل تھے، کے ساتھ مل کر نہ صرف بلوچستان کا پہلا اخبار ’استقلال‘ نکالا بلکہ ’انجمن وطن بلوچستان‘ کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی جو بلوچ نوجوانوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرتی تھی۔ نوراللہ خان دفتر سے فارغ ہو کر نوجوانوں کو شام کے وقت ٹیوشن پڑھاتے اور رات کو سیاسی مصروفیات نمٹاتے۔ انہی کی کاوشوں کی وجہ سے بہت سے شاگرد جن میں فقیر بلوچ جیسے لوگ بھی شامل تھے، کامیاب ہو کر بڑے عہدوں تک پہنچے۔ بلوچوں کی ترقی و بہبود اور ان کے وسائل پر ان کے حق کی بات کرنا ان کے مشن تھا۔

وقت کے ساتھ اسی سوچ کو ان کی بیگم، پانچوں بیٹیوں اور اکلوتے صاحبزادے بھی آگے لے کر بڑھے۔ والد بزرگوار کے جذبے کا نقش ان کی بیٹی فضیلہ عالیانی کے دل پر بہت گہرا نظر آتا ہے۔ وہ سیاست کے عملی میدان میں سرشاری کے ساتھ نکلیں اور صوبہ بلوچستان کی پہلی خاتون ایم پی اے منتخب ہوئیں۔ فضیلہ جی سے ملاقات پر یہ بھی پتہ چلا کہ جب ان کے والد نے اس دنیا کو خیرباد کہا اس وقت ان کی عمر صرف چھ ماہ تھی۔ فضیلہ عالیانی میں آج بھی وہی ولولہ اور عوام دوست لڑکی نظر آتی ہے جو آج سے پچاس سال قبل 1972ء میں نظر آتے تھے جب وہ صوبے کی پہلی خاتون ممبر اسمبلی بنی تھیں۔ ان کی طاقتور سوچ، عوام دوستی، عورتوں اور بچوں کے لیے صحت و تعلیم کی ترجیحات اور سیاسی شعور کے دھارے اسی سرچشمے سے پھوٹتے ہیں جس کی آبیاری نور اللہ خان نے کی تھی۔

کوئٹہ کے معتبر صحافی شہزادہ ذوالفقار سے جب محترمہ عالیانی کے بارے میں جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم سکول کے دنوں سے ان کا نام سنتے آئے تھے اور ہمارے اپنے گھرانے میں بھی سیاسی تحرک موجود تھا، سو یہ نام اور ان کا کام کبھی بھی اجنبی نہ تھے‘‘۔ شہزادہ ذوالفقار کے بقول، ’’فضیلہ جی نے اس وقت سیاست میں قدم رکھا جب لڑکیوں کے گھر سے باہر نکلنے کا کوئی تصور نہ تھا۔ پڑھی لکھی نوجوان خاتون اور وہ بھی غیر شادی شدہ، فضیلہ جی نے مردوں کے اس معاشرے میں سیاسی طور پر کام کرنے اور تعلیم و صحت کے میدان میں نوجوانوں اور خواتین کے لیے فلاحی کام کرنے کی ٹھانی اور مقامی سیاست میں نیشنل عوامی پارٹی کی رکنییت اختیار کی۔ لیکن وہ صرف مقامی سیاست تک ہی محدود نہیں رہیں، ملک گیر سیاست میں بھی ان کا نام اور کام شروع ہی سے منفرد و نمایاں رہا، بالخصوص تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی کاشوں کا چرچا ملک بھر میں رہا‘‘۔ جب وہ الیکشن جیت کرصوبہ کی پہلی خاتون ایم پی اے بنیں تو انہوں نے مختص کردہ فنڈ سے صوبے کے دور افتادہ علاقوں میں بچوں کی تعلیم کے لیے بہت سے سکول قائم کیے۔ شہزادہ ذوالفقار کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بنیادی طور پہ ایک باغی خاتون ہیں جن کا ایک قبائلی معاشرے سے سامنا تھا۔ گو کہ وہ خود بھی اسی سماج سے جڑی ہیں لیکن انہوں نے تعلیم اور سیاست کے میدان میں نام کمایا اور قبائلی روایت کو بدل دیا۔

فضیلہ عالیانی کی زندگی کو قریب سے جاننے والی شخصیات کی رائے ہے کہ انہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے مخالفین میں سے بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے اپنے عہدے سے بددیانتی کی ہو یا کبھی کوئی مالی مفاد حاصل کیا ہو، اسی لیے سیاسی حلقوں میں ان کا نام بڑی عزت سے لیا جاتا ہے۔ جس وقت بلوچستان اسمبلی کی کل اکیس نشستیں ہوتی تھیں اور مسابقت کا شدید ماحول تھا تب بھی فضیلہ عالیانی کی طرف کبھی انگلی نہیں اٹھائی گئی۔ جب تک وہ نیشنل عوامی پارٹی میں رہیں جماعت کے اہم اراکین میں شمار ہوتی تھیں، بعدازاں پیپلزپارٹی میں شمولیت ان کا اپنا سیاسی فیصلہ تھا۔

وہ کچھ وقت سے سیاسی گہماگہمی سے خود کو الگ کیے ہوئے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اصولوں کی سیاست کی، اور جب سیاسی فضا مکدر ہوگئی تو انہوں نے کنارہ کشی کو بہتر سمجھا۔ بدقسمتی سے ملک کا سیاسی ماحول وقت کے ساتھ ہموار ہونے کی بجائے ابتری کا شکار ہوا ہے۔ بالخصوص بلوچستان میں سیاسی آزادی نام کی رہ گئی ہے اور حقوق کی جدوجہد پر قدغن ہے۔ صوبے میں اب سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے مقتدر حلقوں کی پشت پناہی کی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ یہی ساری وہ کرکراہٹ ہے جو فضیلہ عالیانی جیسی شخصیت کو سیاسی میدان سے دور رکھے ہوئے ہے۔ گو کہ فضیلہ عالیانی نے اپنے والد کی سیاسی جدوجہد خود اپنی آنکھوں سے تو نہ دیکھی لیکن اپنی والدہ سے اور والد کے دوستوں سے جو کچھ سنا اسے اپنے اندر جذب کرلیا۔ وہ بڑے جوش اور محبت کے ساتھ اپنے والد کی جدوجہد کا نہ صرف ذکر کرتی ہیں، بلکہ ان سے ملاقات کے دوران مستقل لگا کہ جیسے نور اللہ خان کہیں دور بیٹھے مسکرا رہے ہوں اور انہیں حوصلہ دے رہے ہوں۔

جب سمجھا کہ وہ کچھ کرسکتی ہیں تو عملی میدان میں ہر مخالفت کا مقابلہ کرتے ہوئے ڈٹ کر کھڑی ہوئیں، لیکن جب محسوس ہوا کہ اب ایسا ماحول بن چکا ہے جس میں وہ اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرسکتیں تو سیاست کو خیرباد کہہ دیا

فضیلہ جی کے بقول ’’ہماری والدہ خاران کی سرد راتوں میں چولہے کے گرد بیٹھے ہم بچوں سے والد صاحب کی جدوجہد اور سرداری نظام سے جڑی فرسودہ روایتوں اور قوانین کے خلاف باغیانہ سوچ کے قصے سناتیں‘‘۔ ان کی والدہ ہمیشہ نوراللہ خان کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ بقول محترمہ عالیانی، 1974ء میں جب ان کی والدہ کی وفات ہوئی تو انہوں نے والدہ کے نام پر کوئٹہ میں ایک سکول ’ناز درس جہ‘ قائم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل تک اس میں آٹھ سو کے قریب بچے زیر تعلیم تھے۔ لیکن فی الحال کووڈ کی وجہ سے اس میں چار سو بچے زیر تعلیم ہیں۔ یہ سکول فنڈز کے ذریعے چلتا ہے اور ان کی بھانجی اس کا انتظام سنبھالتی ہیں۔ نوراللہ خان کی وفات کے بعد ان کی شریک حیات نے پانچ بیٹیوں اور اکلوتے بیٹے چنگیز عالیانی کی بھی اسی طریقے سے پرورش کی جیسے ان کے شوہر چاہتے تھے۔ یہ شعور ان کی گھٹی میں شامل کیا گیا کہ بلوچ عوام کی صحت و تعلیم کے حقوق تک رسائی کو ممکن بنانے کی سعی کرنی ہے۔

فضیلہ عالیانی کی پرورش کے ماحول کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے بقول والد، بیٹیوں کی تعلیم کے حامی تھے، بیٹیوں کے برقع پہننے اور گھر پر بیٹھے رہنے کے سخت مخالف تھے، اور کبھی کسی سردار یا نواب سے اپنی بیٹیوں کی شادی کے خواہاں نہیں تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ بیٹی چاہے کلرک سے بیاہ دی جائے مگر وہ ایسا انسان ہو جو عورت کی قدر و منزلت جانتا ہو اور اس کی ترقی کی راہ میں سرداری نظام کو آڑے نہ آنے دے۔ فضیلہ عالیانی اپنی والدہ کی بات نقل کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ والد نوراللہ خان رات کو اُٹھ کر بچوں کی دودھ کی بوتل بھی بنا کر دیا کرتے تھے۔ جب بھی وقت ملتا وہ انہیں سنبھالتے اور اکلوتے بیٹے سے زیادہ بیٹیوں سے پیار کرتے، جو کسی سردار گھرانے کے مرد کے لیے نا ممکن تصور کیا جاتا ہے۔ اپنے والد کی روشن خیالی کا مزید تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپنی بھتیجیوں کو سکول داخل کرانے کے لیے انہوں نے اپنے بھائی سے لڑائی کی۔ وہ جس علاقے میں بھی ملازمت کے لیے تعینات کیے جاتے وہاں کے مولوی ان کی مخالفت شروع کر دیتے کیونکہ نوراللہ خان، لڑکیوں کے لیے سکول کھولنے کی بات کرتے تھے، اور بڑی تگ و دو سے اس میں کامیاب بھی ہوتے۔ فضیلہ عالیانی کے بقول والد بلوچ سماج کو تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتے تھے، ان کا یہ مشن ان کی وفات کے باعث ادھورا رہ گیا تھا۔ اور یہی مشن ان کی بیٹی کے سیاسی نظریات کی بنیاد بنا۔

والد کی وفات کے بعد گھر کے حالات اتنے اچھے نہ تھے کہ والدہ سب بچوں کو ’کانونٹ‘ میں پڑھا سکتیں لہذا فضیلہ عالیانی کی بڑی بہنوں نے سرکاری سکول سے تعلیم حاصل کی، لیکن انہیں اور ان کے بھائی کو والدہ نے ’کانونٹ‘ میں داخلہ دلایا جہاں انہیں بعد میں سکالرشپ بھی ملی۔ ایف ایس سی میں ان کا داخلہ مخصوص نشست پر فاطمہ جناح کالج میں ہوا۔ وہاں سے ابھی تعلیم مکمل کی ہی تھی کہ پینسٹھ کی جنگ چھڑ گئی، اس کے بعد جب امن ہوا تو انہوں نے ڈاکٹری کا شعبہ نہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور میڈیکل کی تیاری نہیں کی۔ اس کا سبب یہ احساس تھا کہ انہیں ایسے کام کرنے ہیں جن کے ذریعے وہ بلوچ عوام سے جڑ سکیں اور ان کی سماجی بہبود کے لیے کچھ کرسکیں۔ لہذا بی اے کرکے بوٹنی میں ایم ایس سی کرنے کی غرض سے لاہور جانے کا فیصلہ کیا، لیکن وہاں تھوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ واپس بلوچستان آگئیں۔ 1972ء میں جب واپس لوٹیں توکوئٹہ میں انتخابات کا ماحول تھا اور بلوچستان کو صوبے کا درجہ بھی مل چکا تھا۔ اس دوران انہوں نے ہم خیال خواتین کے ساتھ مل کر ’’انجمن خواتین بلوچستان‘‘ کی بنیاد رکھی اور اپنے والد کی طرح سیاسی و تعلیمی شعور کے فروغ کی جدو جہد کا باقاعدہ آغاز کردیا۔

گھر میں اکلوتا بھائی بھی سیاست سے جڑا تھا، وہ ’بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن‘ (بی ایس او) سے منسلک تھا، جبکہ دو بہنوئی نیشنل عوامی پارٹی کے رکن تھے۔ اُس وقت کوئٹہ سے خیربخش مری انتخاب لڑ رہے تھے۔ ایسے میں فضیلہ عالیانی نے اپنے رشتہ داروں اور محلے کی خواتین کو جمع کیا اور الیکشن میں حصہ لینے والوں کی فہرست حاصل کی۔ ان کے بقول ’مجھے کسی جماعت یا سیاسی شخصیت نے اپنے ساتھ کام کرنے کے لیے نہیں کہا تھا لیکن میرے اندر سے آواز آتی تھی کہ اس عمل میں حصہ لینا ہے‘۔ جب کونٹہ میں خواتین کی مخصوص نشست پر انتخاب کے لیے امیدوار کی بات چلی تو نیشنل عوامی پارٹی اور بی ایس او کے ورکرز میں سے بعض نے فضیلہ عالیانی کو لانے کا مشورہ دیا کہ یہ چنگیزعالیانی کی بہن اور نور اللہ خان کی بیٹی ہے، جماعت کے رہنما ان کے پاس چلے آئے اور الیکشن لڑنے پر آمادہ کیا۔ بھائی نے تو اعتراض نہ کیا لیکن والدہ کو فکر ہوئی کہ تم مردوں کے ساتھ ڈھاکہ جاؤ گی، الیکشن لڑو گی۔ لیکن نیشنل عوامی پارٹی اور بی ایس او کے اراکین، جن میں خیر بخش مری اور رسول بخش بزنجو بھی شامل تھے، ان سبھی کے اصرار پر فضیلہ جی نے سیاسی مشاورت کے بعد الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ وہ دور تھا کہ جب نور اللہ خان خان کو گزرے پچیس برس ہو چکے تھے لیکن ان کی اولاد پر بلوچ سیاست دانوں اور عوام کا بھروسہ قائم تھا۔ کاغذاتِ نامزدگی جمع ہوگئے، الیکشن سے صرف آٹھ دس دن باقی تھے۔ اس نشست پر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا۔ بہت فیصلہ کن نشست تھی۔ اس لیے حزب مخالف کے مقامی رہنماؤں اور وفاقی وزراء کا تانتا بندھ گیا جو چاہتے تھے کہ فضیلہ عالیانی اس نشست سے دستبردار ہو جائیں۔ بھاری مالی مفادات کی پیش کش ہوئی لیکن سیاسی لگن ان کو پیچھے نہ ہٹا سکی۔ وہ 1972ء میں خواتین کی نشست سے کامیاب ہونے والی پہلی بلوچ ممبر صوبائی اسمبلی بنیں اور اپنے عہدے کا حلف انگریزی میں لینے والی واحد ممبر بھی تھیں۔ یہ جیت کوئی علامتی جیت نہ تھی بلکہ اس جدو جہد اور لگن کی جیت تھی جو محترمہ فضیلہ کی رگوں میں خون بن کے دوڑتی تھی۔

انتخابات کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے نہ صرف بلوچستان میں حکومت بنائی بلکہ اس وقت کے صوبہ سرحد میں بھی یہی جماعت اکثریت حاصل کرکے حکومت میں آئی، لیکن کچھ خارجی و داخلی عوامل کے باعث ریاستی مقتدرہ نے یہ حکومت زیادہ عرصہ چلنے نہ دی۔ بقول صحافی انور ساجدی کے، ’شاہ ایران سے لے کر ریاستِ پاکستان میں موجود مقتدر قوتیں اِس قوم پرست حکومت سے خائف نظر آئیں اور پیپلز پارٹی کو استعمال کرکے عوامی نیشنل پارٹی کی بنیادیں ہلادیں‘۔

انور ساجدی نے فضیلہ عالیانی کی عوامی نیشنل پارٹی سے علیحدگی کی بڑی وجہ نواب خیربخش مری کا وہ بیان قرار دیا جس میں انہوں نے اپنی گرفتاری سے قبل ایوب پارک میں منعقدہ جلسے کے دوران فضیلہ عالیانی کو نہ صرف دھمکی دی بلکہ ان کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا تھا۔ دوسری جانب قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سابق چیئرپرسن اور عوامی نیشنل پارٹی کے رکن افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ اُس وقت عوامی نیشنل پارٹی سے جینیفر جہانزیب موسی بھی قومی اسمبلی میں رکن کی حیثیت سے موجود تھیں لیکن انہوں نے ریاستی دباؤ کا مقابلہ کیا، جبکہ فضیلہ، مری صاحب کے درشت لہجے سے رنجیدہ ہو کر اور سیاسی دباؤ کی بنا پر اپنی رکنیت سے دستبردار ہوگئیں، اور پی پی پی کے ٹکٹ سے دوبارہ سیاسی سفر شروع کرتے ہوئے 1976ء کے قومی اسمبلی کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔ تب وہ وفاقی وزیر برائے تعلیم مقرر ہوئی تھیں۔ افراسیاب خٹک کے مطابق، صرف فضیلہ عالیانی ہی نہیں بلکہ صوبہ سرحد سے ممبر قومی اسمبلی بیگم کلثوم سیف اللہ بھی عوامی نیشنل پارٹی کی رکنییت چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہوئی تھیں۔

1978ء کے اواخر میں جب مارشل لاء نے ملکی سیاست کو اپنے غیر آئینی اور غیر جمہوری دوشالے میں لپیٹا تو ملکی سیاسی جماعتوں کی نہ صرف بنیادیں ہلیں بلکہ مفاد پرستوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع میسر آگیا۔ یہی وہ دور تھا جب فضیلہ عالیانی جیسی کہنہ مشق اور دیانت دار سیاست دان نے اپنی جدو جہد کو منجمد ہوتا دیکھا۔ اسی عرصے میں وہ رشتہ ازدواج میں بھی منسلک ہوئیں اور دو دختران کی والدہ بنیں۔ انہیں سیاسی منظرنامے سے رخصت لینے کا یہی وقت مناسب لگا اور وہ اس کے بعد بچیوں کی پرورش اور گھرداری میں مشغول ہوگئیں۔ پہلے کراچی منتقل ہوئیں اور بعدازاں اسلام آباد آبسیں اور یہیں مستقل سکونت اختیار کی۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں فضیلہ عالیانی مختصر مدت کے لیے ایک بار اس وقت منظرعام پر آئی تھیں جب وہ قومی کیشن برائے انسانی حقوق کے لیے بلوچستان سے رکن منتخب ہوئیں اور صوبے کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کیا۔ لیکن افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ اس دوران ان کا کوئی نمایاں کام سامنے نہیں آسکا۔

فضیلہ عالیانی جیسے لوگ جنہوں نے سیاست کو مفادات کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا، نہ اسے کاروبار کی طرح اپنایا، یہ ملک کا حقیقی اثاثہ ہوتے ہیں۔ جب سمجھا کہ وہ کچھ کرسکتی ہیں تو عملی میدان میں ہر مخالفت کا مقابلہ کرتے ہوئے ڈٹ کر کھڑی ہوئیں، لیکن جب محسوس ہوا کہ اب ایسا ماحول بن چکا ہے جس میں وہ اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرسکتیں تو سیاست کو خیرباد کہہ دیا۔ لیکن ان کا کردار صرف سیاسی ہی نہیں ہے بلکہ وہ انسانی حقوق کی فعال کارکن بھی ہیں اور یہ خدمت وہ اب تک انجام دے رہی ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...