ڈاکٹر یوسف قرضاوی ایک عظیم عالم و فقیہ جنہیں سیاسی اسلام کی جماعتوں کا روحانی رہنما بھی کہا جاتا ہے

221

گزشنہ روز مسلم دنیا کی عظیم مذہبی شخصیت ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ اگرچہ مصری تھے اور عمر کا ابتدائی حصہ وہیں گزارا لیکن ساٹھ کی دہائی سے قطر میں مقیم تھے، انہیں قطری شہریت حاصل تھی۔ ان کے بیٹے عبدالرحمان قرضاوی کے مطابق ان کے والد کی وصیت تھی کہ وہ جہاں فوت ہوں انہیں اسی شہر میں دفن کیا جائے۔

بلاشبہ ڈاکٹر یوسف قرضاوی کو پوری دنیا کے مسلم طبقات کی جانب سے جو مقام اور احترام حاصل ہوا وہ عصر حاضر میں کس اور دینی شخصیت کو حاصل نہیں تھا۔ فقہی دائرہ کار ہو یا سیاسی لحاظ سے ان کی آراء، ان کے موقف کو وزنی اور کافی مؤثر سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ شخصیت بھی تھے جن کا مسلم دنیا کی بڑی جہادی اور تحریکی جماعتوں پر بھی خاصا اثرورسوخ تھا۔

اگر مسلم دنیا میں ان کی مقبولیت اور وسیع اثرورسوخ کو دیکھا جائے تو اس کی چند وجوہات ہیں:

۱۔ انہیں فقہ، تفسیر، حدیث، علم الکلم، اور دیگر دینی علوم پر جو دسترس تھی اس کے مسلم دنیا کے تمام علما مداح تھے اور اسے تسلیم کرتے تھے۔ صرف کتب میں ہی نہیں ان کے بیانات میں بھی یہ علمی جھلک واضح نظر آتی ہے۔

۲۔ انہوں نے ان موضوعات پر بھی مسلم دنیا کی علمی رہنمائی کی جو نئے، پیچیدہ اور اہم تھے اور انہیں عمدہ انداز میں بیان کیا۔

۳۔ انہوں نے خود کو علمی و تحقیقی حلقے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ تحریکی جماعتوں کے ساتھ بھی ایک ربط قائم رکھا۔ ابتدا میں اخوان المسلمون کے ساتھ باقاعدہ وابستہ رہے۔ عملا اس تنظیم سے نکلنے کے بعد بھی فکری طور پہ وہ اس کے قریب رہے۔ انہیں متعدد بار اخوان المسلمون کی سربراہی کا عہدہ پیش کیا گیا مگر انہوں نے انکار کیا۔ اخوان کے علاوہ دیگر بھی کئی جماعتوں کے ساتھ ربط رکھا اور ان کے امور پر بات کرتے رہے۔ اس لیے یہ جماعتیں اختلاف بھی ہو تو ان کا احترام کرتی ہیں۔

۴۔ انہیں بہت سے ایسے وسائل و امکانات اور پلیٹ فارمز میسر آئے جن کی وجہ سے ان کی آواز پوری دنیا میں پہنچی۔ اس میں قطری حکومت کا کردار بہت اہم رہا۔

۴۔ سیاسی، جہادی اور تحریکی امور پہ مسلسل بات چیت اور ان پہ رائے دینا، جسے الجزیرہ اور دیگر چینلز کے ذریعے نشر کیا جاتا۔

۶۔ عرب ممالک کی سیاست سے خود کو قریب رکھا اور جماعتوں کی سطح پر ایک کردار بھی ادا کیا۔

ڈاکٹر یوسف قرضاوی نے مختلف موضوعات پہ 170 سے زائد کتب تصنیف کیں جن میں ان کی فقہی اور علمی شان واضح نظر آتی ہے۔ ان سے بہت سے علما نے بعض امور پہ اختلاف رکھا لیکن ان کی علمی قدر کو بھی تسلیم کیا۔

وہ مسلم دنیا میں جمہوریت کے حق میں تھے۔ انہووں نے کئی ایسی کتب تصنیف کیں جن سے ان کی ایک معتدل عالم کی شبیہ ابھرتی ہے اور ان کی بہت پذیرائی ہوئی۔ ان میں ’الحلال والحرام فی الاسلام‘، ’الحرکۃ الاسلامیہ بین الجمود والتطرف‘، ’فی فقہ الاقلیات الاسلامیہ‘ نمایاں ہیں۔ ان کتب میں انہوں نے اقلیتوں کے لیے نرمی برتنے اور انہیں شہری حقوق دینے کی بات کی۔ جہاد کی مشروعیت کے لیے آج کی قومی ریاستوں کے حساب سے قواعد و ضابط وضع کیے۔ غیرمسلم معاشروں میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے کافی سہولتیں اور رعایتیں متعارف کرائیں۔

انہوں نے نائن الیون اور بالی کے دھماکوں کی مذمت کی تھی۔ طالبان کے پچھلے دور حکومت میں طالبان کی طرف سے بدھ مت کے مجسموں کو توڑنے کی مخالفت کی تھی۔ داعش کی خلافت کو سب سے پہلے شرعی طور پہ باطل قرار دیا تھا۔

ڈاکٹر یوسف قرضاوی نے اپنی زندگی میں کئی ایسے فتوے بھی جاری کیے جن کی وجہ سے کافی لے دے ہوئی

لیکن وہ چونکہ خلیجی سیاست اور جہادی و تحریکی معاملات میں کثرت کے ساتھ رائے دیتے تھے اس لیے بعض اوقات ایسی آراء بھی دیں جن کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ خلیج میں ان کے حوالے سے سیاسی سطح پر کافی تقسیم ہے۔ قطر بائیکاٹ کے دیگر اسباب میں ایک ان کی وہاں پہ موجودگی بھی تھی۔

ڈاکٹر یوسف قرضاوی ایک بے پایاں علامہ اور فقیہ تھے۔ جبکہ بعض حلقوں میں انہیں سیاسی اسلام کی تحریکوں اور جہادی جماعتوں کا روحانی رہنما کہا جاتا ہے۔ ان پر 1999ء سے امریکا میں اور 2008ء سے برطانیا میں داخلے پر پابندی عائد تھی۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے 2008ء ہی میں کہا تھا کہ ’یہ امن عام کے لیے خطرہ ہیں‘ اور انہیں ویزہ جاری نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ 2012ء میں فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا تھا کہ انہوں نے خود قطری امیر سے بات کی ہے کہ ڈاکٹر یوسف قرضاوی کا یہاں آنا انہیں برداشت نہیں۔ اسی برس انہیں فرانس نے ویزہ دینے سے انکار کیا تھا۔

امریکا نے اسامہ بن لادن کی جو یادداشتیں ضبط کیں ان میں لکھا گیا تھا کہ ڈاکٹر یوسف قرضاوی کے فتوے اور الجزیرہ پر ان کی موجودگی سے جہادی جماعتوں کو فائدہ پہنچا۔

ڈاکٹر یوسف قرضاوی نے اپنی زندگی میں کئی ایسے فتوے بھی جاری کیے اور ایسی آراء دیں جن کی وجہ سے کافی لے دے ہوئی۔ ان میں بعض یہ ہیں:

2001ء میں انہوں نے فلسطین میں اسرائیلیوں کے خلاف خودکش حملوں کی اجازت کا فتوی دیا تھا جس پر علماء کے ایک بڑے طبقے نے حیرانی کا اظہار کیا کیونکہ یہ مسلم تاریخ میں روایتی تعامل کے برعکس بھی تھا۔ اس فتوے سے انہوں نے 2015ء میں رجوع کرلیا تھا۔ لیکن اس پر اب تک تنقید ہوتی ہے کہ معاصر جہادی جماعتوں کو اس سے شہہ اور راہ ملی۔ 2018ء میں عرب امارات کے وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید نے اپنی دو ٹویٹس میں اسی بات کا اعادہ کیا تھا اور خلیجی امن کو تباہ کرنے والا بھی کہا۔

انہوں نے 2011 میں عرب بہار کے وقت لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کو قتل کرنے کا فتوی دیا تھا۔ انہووں نے لیبی فوج کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ اس پاگل ملعون کے احکامات نہ مانیں۔

انہوں نے بشار الاسد کے خلاف جہاد کا فتوی بھی دیا تھا کہ مسلمان شام کا رخ کریں اور اس کے خلاف قتال کریں۔ (تاہم داعش کے خلاف تھے۔) اس سے قبل وہ کثرت کے ساتھ بشار اسد کے شام میں مہمان بنتے تھے اور ایک دوسرے کے قریب تھے۔

ڈاکٹر یوسف قرضاوی نے 2012ء میں فتوی دیا تھا کہ فلسطین سے باہر کے مسلمان قدس زیارت کے لیے سفر نہ کریں۔ اگرچہ اس سے اگلے برس وہ خود فلسطین گئے تھے اور فتوے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقصد یہ تھا کہ اگر اسرائیلی قابضوں کے ماتحت مقام پہ مسلمان کثرت کے ساتھ جائیں گے تو اس سے ان کے قبضے کو جواز ملے گا۔

انہوں نے 2018ء میں ایک ٹویٹ میں لکھا کہ اگر مسلمان دیگر خیر و فلاح کے کاموں میں پیسے اور وقت خرچ کریں اور حج نہ کریں اور اس سے انہیں سکون ملے تو یہ عمل حج و عمرہ سے افضل ہے۔ یہ بھی لکھا کہ ’’حج کی اللہ تعالی کو ضرورت نہیں اورر اللہ بندوں سے بے نیاز ہے۔‘‘ بعض لوگوں نے اسے اُس وقت کی خلیجی سیاسی تنازعے کی روشنی میں دیکھا۔

2008ء میں انہوں نے فتوی دیا تھا کہ اگر اسلام سے مرتد ہونے والا داعی بھی  ہو تو اسے قتل کیا جائے گا۔

ڈاکٹر یوسف قرضاوی کو دنیا ایک معتدل دینی شخصیت کے طور پہ جانتی ہے اور یہی ان کا تعارف ہے۔ انہوں نے مسلم دنیا کی علمی و فقہی اعتبار سے بہت رہنمائی کی۔ ڈاکٹر یوسف قرضاوی کی علمی خدمات ہمیشہ اہم مصادر کے طور پہ باقی رہیں گی۔ البتہ خلیجی سیاست کے تناظر میں اور جہادی و تحریکی قضایا میں ان کی کثرت کے ساتھ آنے والی کچھ آراء پر بعض لوگوں کو تحفظات رہے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...