امن میلہ: پاکستان کا پہلا ’امن انعام‘ انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کے نام

290

گزشتہ روز جمعہ 23 ستمبر کو اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک ’پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز‘ کے زیراہتمام ’پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس‘ میں امن میلے کے عنوان کے تحت کچھ تقریبات منعقد کی گئیں جن میں سب سے نمایاں تقریب ’امن انعام‘ کی تھی۔ یہ انعام پاکستان کے اندر سول سائٹی کی قیامِ امن کے لیے کوششوں کو سراہنے اور ان کی مساعی کو سامنے لانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ چونکہ پاکستان میں کئی شخصیات اور ادارے ایسے ہیں جو اپنی سطح پہ ملک کے تأثر کو خوشگوار بنانے اور اس کے مستقبل کو انتہاپسندی، تشدد، تنزلی اور جبر کے ماحول سے آزاد کرنے کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں لیکن عام طور پہ ان کی قابل قدر حوصلہ افزائی نہیں ہوپاتی اور ان کی خدمات اجاگر بھی نہیں ہوپاتیں۔ ’امن انعام‘ کا سلسلہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی انہی شخصیات اور ان کے کام کو سراہنے کی جانب ایک قدم ہے۔

میلے کی دیگر تقریبات میں ’آرٹ نمائش، لائیو تھیٹر، میوزک کنسرٹ، پوسٹر مقابلہ اور ثقافتی رقص‘ بھی شامل تھے۔

گزشتہ روز کا انعام اس سلسے کی پہلی تقریب تھی۔ اس انعام کے لیے ملک بھر سے لگ بھگ ایک سو شخصیات کی نامزدگیاں آئی تھیں جن میں سے ججز کی کمیٹی نے دس کا انتخاب کیا۔ وہ دس شخصیات یہ تھیں: امر سندھو، ظفراللہ خان، خورشید ندیم، پیٹر جیکب، ڈاکٹر امجد ثاقب، پرویز ہودبائے، جلیلہ حیدر، شہزاد رائے، مسرت قدیم اور شہزادی رائے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ

ججز کی کمیٹی میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن حنا جیلانی اور وسعت اللہ خان سمیت کئی اہم نام شامل تھے۔ ایوارڈ وصول کرتے وقت جلیلہ حیدر نے کہا کہ وہ اس انعام کی رقم سیلاب متأثرین کے لیے عطیہ کرتی ہیں۔ جلیلہ حیدر ہزارہ برادری کی پہلی خاتون وکیل ہیں اور اقلیتی برادریوں اور خواتین کے لیے ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ وہ انہیں مفت قانونی مشاورت بھی فراہم کرتی ہیں۔ اس وقت بلوچستان میں سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ ’پاکستان امن انعام‘ اور ’چارٹر آف پیس‘ کے اجراء کی دونوں تقریبات کے مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں قانون ساز، ماہرین تعلیم، سابق سفارت کار، ریٹائرڈ فوجی افسران، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

آرٹ گیلری میں پیش کیے گئے فن پارے

وزیراعظم کے مشیر قمر زمان کائرہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں ’ماں جیسی ریاست‘ کے خواب کو تعبیر دینے کا سفر ابھی باقی ہے۔ انہوں نے معاشرے میں امن اور رواداری کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ’’معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو امن اور رواداری کی اقدار کے حامی ہیں لیکن ان کی آواز مرکزی دھارے میں سنائی نہیں دیتی۔‘‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ صرف انتخاباتی جمہوریت لانا مسئلے کا حل نہیں ہے، ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا اور اپنے طرز عمل کو بھی جمہوری بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معاشرے میں امن اور رواداری لانے کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کی عمر جیسے جیسے بڑھ رہی ہے مکالمے اور بات چیت کی جگہ بھی کم ہو رہی ہے۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

رقص

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے ’امن کا منشور‘ (charter of peace)  کی اجرائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منشور اس لحاظ سے زیادہ اہمیت کا حامل بن گیا ہے کہ اس میں ملک کے نوجوانوں کو نمائندگی دینے اور ان کی صلاحیتوں کو بہتر کرنے کے لیے ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ تبدیلی تبھی ممکن ہوسکتی ہے جب نوجوانوں کو اہمیت دی جائے گی۔

’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کی چیئرپرسن حنا جیلانی نے امن انعام کی اہمیت و ضرورت پر بات کی۔ ان کے مطابق پاکستان میں سول سائٹی کا جتنا کام اور خدمات ہیں ان کا ذکر ہونا چاہیے، اور اس کا بہترین طریقہ وہ قدم ہے جو اس ایوراڈ کی صورت اٹھایا گیا ہے۔

محفل مشاعرہ

’پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز‘ کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ آج پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج جو درپیش ہے وہ انتہاپسندی اور تشدد کا ہے اور ’’چارٹر آف پیس‘‘ جیسے منشور کے اجراء کا مقصد معاشرے میں رائج پرتشدد رویوں کے سدباب کے لیے کوششیں کرنا ہے۔ انہوں نے امن ایوارڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس انعام کو ایک سالانہ سرگرمی کے طور پہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں جس کا اعلان ہر سال عالمی یوم امن (21 ستمبر) کے موقع پر کیا جائے گا۔‘‘

ڈرامے کی ایک جھلک

تقریب میں ٹرانسجینڈر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی حقوق کی نامور کارکن شہزادی رائے نے خواجہ سرا طبقے سے متعلق کئی امور پہ بات کی، بالخصوص انہوں نے حالیہ ٹرانسجینڈر بل پر ہونے والے شورشرابے اور اعتراضات پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کسی بھی مؤثر ادارے میں نمائندگی موجود نہیں ہے۔ ہمارے متعلق جنس کی تبدیلی کے حوالے سے جو اعدادوشمار بیان کیے جارہے ہیں وہ حقائق کے مطابق نہیں اور نادرا کا ریکارڈ اس کی نفی کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذہبی خطبات میں کبھی بھی ہمارے حقوق اور ہماری بہتری کے لیے بات نہیں کی گئی لیکن حالیہ بل کے بعد جمعہ خطبوں میں ہمارے خلاف بیانات ہوئے اور کہا گیا کہ ’انہیں روکو‘۔

’چارٹر آف پیس‘ اور ’امن انعام‘ کی تقریبات کے بعد آرٹ گیلری میں فن پاروں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں کئی بڑے فنکاروں کی پینٹنگز کی نمائش کی گئی تھی۔

مفکورہ کی مصوری کا ایک فن پارہ

اس کے بعد ایک براہ راست ڈرامہ پیش کیا گیا جسے نوجوانوں نے پیش کیا۔ ڈرامہ میں ملک کے اندر تشدد کی فضا کو موضوع بنایا گیا اور اسے پیش کرنے کا انداز دلچسپ تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ تشدد اور قتل و غارت کا ماحول کیوں جنم لیتا ہے اور یہ کہ مکالمے اور بات چیت کی ثقافت کیوں مر رہی ہے۔ ڈرامے کے دوران حاضرین نے بھی اس موضوع پر اپنی آراء دیں۔

بعدازاں مشاعرے کی محفل سجائی گئی جس کی صدارت نامور شاعر افتخار عارف نے کی۔ مشاعرے میں اور بھی متعدد قدآور شعرا شریک تھے جن میں جلیل عالی، محبوب ظفر، انجم سلیمی،  سجاد اظہر، عمران عامی اور فاخرہ نورین نمایاں نام ہیں۔ نوجوانوں نے شعرا کو خوب داد دی اور محظوظ ہوئے۔ مشاعرے کی میزبانی کے فرائض شاعر اور ادیب عابد سیال نے ادا کیے۔

ثقافتی رنگ

اس تقریب کے بعد ایک پوسٹر مقابلہ منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں بچوں نے امن کے موضوع پر پینٹنگز بنائیں اور سماج میں اعتدال و برداشت کی ثقافت کو پروان چڑھانے کا خوبصورت خاکہ پیش کیا۔ اس میں بچوں کے درمیان انعامات بھی تقسیم کیے گیے۔

پوسٹر مقابلہ میں تقسیمِ انعامات

آخر میں ثقافتی رقص اور کنسرٹ کی تقاریب تھیں۔ پہلے تمام صوبوں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے ثقافتی گانوں پر اپنا اپنا رقص پیش کیا جسے بہت سراہا گیا۔ بعد ازاں براہ راست موسیقی کی محفل سجائی گئی۔

گزشتہ روز کے امن میلے میں نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی اور اس سے محظوظ ہوئے۔ اس امن میلے کا مقصد ان ثقافتی روایات کو بھی زندہ کرنا تھا جو آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہیں۔ ان تقریبات سے نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول اور جگہ پیدا کرنا مقصود ہے جہاں وہ ثقافتی رنگوں سے آشنا ہوں، تعصبات سے نکلیں اور سماجی ہم آہنگی کی طرف مائل ہوں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...