کرن کوئی آرزو کی لاؤ: آزادیِ اظہار کے ہم عصر چیلنچ

134

حال ہی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ’احفاظ الرحمن ایوارڈ برائے جرأتِ اظہار اور آزادیِ صحافت‘ کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے تناظر میں آزادیِ اظہار اور صحافت کو درپیش چیلنجز اور ان کے اسباب ومحرکات پر گفتگو کی گئی۔ اس تقریب میں ڈاکٹر سید جعفر احمد نے ’آزادیِ اظہار کے ہم عصر چیلنج‘ کے موضوع پر کلیدی مقالہ پیش کیا جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ سماجی علوم کے ممتاز اسکالر ڈاکٹر سید جعفر احمد ’انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ‘ کے ڈائریکٹر اور سہیل یونیورسٹی کراچی کے ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز ہیں۔ وہ اس سے قبل جامعہ کراچی کے ’پاکستان اسٹڈی سینٹر‘ کے ساتھ بطور سربراہ وابستہ رہے۔ ادب، تاریخ اور سیاسیات پرڈاکٹر صاحب کی گہری نظر ہے اور یہی ان کی بیشتر تحریروں کے بنیادی موضوعات بھی ہیں۔(مدیر)

خواتین و حضرات، سب سے پہلے میں آج کی تقریب کے منتظمین کا مشکور ہوں جنہوں نے احفاظ الرحمٰن صاحب کی علمی، ادبی اور صحافتی خدمات کے اعتراف اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے نقطہ نظر سے ’احفاظ الرحمن ایوارڈبرائے جرأت اظہار اور آزادیِ صحافت‘ قائم کیا اور آج ابتدائی دو ایوارڈز ذرائع ابلاغ سے وابستہ دو اہم شخصیات کو دینے کی یہ تقریب منعقد کی۔اس تقریب میں مجھے یہ خدمت تفویض کی گئی ہے کہ میں ایک مضمون کی صورت میں اظہار رائے اور صحافتی آزادی کی ہم عصر صورت حال کے بارے میں اپنے خیالات آپ کی خدمت میں پیش کروں۔احفاظ الرحمن صاحب کے موضوع پر میں اس سے قبل دو تین مفصّل مضامین لکھ چکا ہوں۔موجودہ مضمون میں ان کی خدمات کا ایک تعارف کی حیثیت سے کچھ ذکر کرنے کے بعد میں اصل موضوع پر آؤں گا۔

احفاظ الرحمن صاحب نے جس زمانے میں ایک قلم کار اور صحافیوں کی تحریکوں کے ایک سرکردہ رہنما کی حیثیت سے ایک فعال کردار ادا کیاتھا، آج پیچھے مڑکر دیکھیں تووہ زمانہ موجودہ زمانے سے بہت مختلف نظر آتا ہے۔1960ء کے عشرے کے اواخرسے 1980ء کے عشرے کے اواخر تک پاکستان کی سیاست اور صحافت دونوں ہی بڑے منہ زور رجحانات کی علمبردار تھیں۔وہ سیاسی حرکت پذیری کا زمانہ تھا۔سب ہی شعبہ ہائے زندگی میں حالاتِ کار کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد آزما افراد اور تنظیمیں فعال تھیں۔محنت کش،طلبہ، صحافی، ڈاکٹر، وکلا، انجینئر یہ سب اور پھر سیاسی جماعتیں، ان سب کے اندر فعالیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔یہ نظریاتی سیاست کا زمانہ تھا۔جدوجہد کے ان سب مرحلوں میں ناکامیوں کا بھی تجربہ ہوا لیکن ایک سیلِ بے کراں تھا جو تمام رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھتا رہتا تھا۔احفاظ الرحمن اس دور کی ایک بہت عمدہ تجسیم تھے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مزاحمت کا لفظ ان کے لیے اسم اعظم کی حیثیت رکھتا تھا۔

ضیاء الحق کی فوجی آمریت کے زمانے میں چلنے والی صحافیوں کی دو تحریکوں میں وہ پیش پیش رہے اور برسوں بعد انہوں نے اس تحریک کے شب و روز کو ’سب سے بڑی جنگ‘ نامی کتاب میں محفوظ کردیا۔ان تحریکوں میں صحافیوں نے جرأت مندی کی ناقابل فراموش مثالیں قائم کیں۔جوق در جوق صحافی گرفتار کیے جا رہے تھے، وہ خود بھی گرفتاریاں پیش کررہے تھے،سزائیں ہورہی تھیں، سرکاری اہلکاروں اور فوجی عدالتوں میں بیٹھے ہوئے افسروں کے تحقیر آمیز فقرے بھی سن رہے تھے۔صحافیوں کو کوڑوں کی سزائیں بھی ہوئیں، صحافیوں کی تنظیموں کا کردار مثالی تحرک کا مظہر تھا۔منہاج برنا، نثار عثمانی اور احفاظ الرحمن جیسے لوگ اپنے پیشے کی آبرو کی علامت بن کر سامنے آئے۔احفاظ الرحمن صاحب نے اپنی کتاب کا نام ’سب سے بڑی جنگ‘ رکھا تھا۔یہ جنگ 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں لڑی گئی۔اس دور کو گزرے اب پینتیس، چالیس سال ہورہے ہیں۔گذشتہ تقریباً چار عشروں میں دنیا کا منظر نامہ بڑی حد تک بدل چکاہے۔اس دوران سرد جنگ کا خاتمہ ہوا۔دو بڑے بلاکوں میں دنیا کی تقسیم ختم ہوئی۔اشتراکی بلاک کی تحلیل کے نتیجے میں مغربی جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کی فتح کا اعلان کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی سرمایے کی وسعت نے پچھلی تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے گلوبلائزیشن کو ایک کامیاب و کامران عالمی قوت کے طور پر راہ فراہم کی۔قومی ریاستوں کی سرحدیں کمزور ہونا شروع ہوئیں، کارپوریٹ معیشتوں کو بالادستی ملی، مارکیٹ کی حرکیات،ہر چیز پر غالب آنا شروع ہوئیں۔سرمایے کی عالمگیریت کے پہلوبہ پہلو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی نت نئی دریافتوں اور ایجادات نے دنیا کا رنگ ڈھنگ بدل ڈالا، معلومات کے ذرائع بڑھے، معلومات کی ترسیل چند ثانیوں کا کھیل بن کر رہ گئی۔انسان نے صنعتی دور سے مابعد صنعتی اور ڈیجیٹل دور میں قدم رکھا۔ذرائع ابلاغ کی تیز رفتار ترقی نے بجائے خود اس سے وابستہ شعبوں کو صدیوں کی مسافت چنددنوں میں طے کرادی۔لاکھوں چینل منظر عام پر آگئے۔کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر صدیوں کا علمی اور خبری خزینہ انگلیوں کی چند جنبشوں کا اسیر بن کر رہ گیا۔موبائل نے اپنے اندر ساری دنیا کی، ماضی اور حال کی جملہ اطلاعات سمولیں اور یہ انسان کی خدمت کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہوگئیں۔

یہ گذشتہ پینتیس، چالیس سال کی ذرائع مواصلات اور ذرائع ابلاغ کی ترقی اور وسعت کی ہوش ربا تفصیلات کی طرف محض ایک اشارہ ہے۔ان تفصیلات کی طرف ذہنوں کو متوجہ کرنے کا مقصد ایک بڑے تناقض(paradox)کو ذہنوں میں اجاگر کرنا ہے۔اور وہ تناقض یہ ہے کہ جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی نے اظہار کی آزادیوں کے اتنے سامان پیدا کردیے ہیں وہیں دوسری طرف ہم عصر دنیا کے چند اہم رجحانات یہ باور کراتے ہیں کہ اس نئی دنیا اور نئے ماحول سے آزادی اظہار اور صحافت کی آزادی کی دنیا جتنی وسیع ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوسکی اور یہ اس لیے نہیں ہوسکا کہ اسی زمانے میں خیالات کی نشونما کو روکنے، حقیقی اور فطری، تخلیقی اظہار کو مختلف غیر فطری طریقوں سے منضبط کرنے اور پھر آزادیِ اظہار سے مستفید ہونے والوں کی آزادی طلبی اور حقائق سے واقف ہونے کی خواہشات کو بھی اصل ڈگر سے ہٹانے کے ذرائع اور وسائل پیدا کرلیے گئے۔چنانچہ آج دنیا میں بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ نظریاتی کشمکش کا زمانہ گزر چکاہے، معیشت پسندی اور صارفیت ہر چیز پر غالب آچکی ہے،انیسویں اور بیسویں صدی کے آزاد خیالی، لبرل ازم اورجمہوری اتفاق رائے (Democratic consensus)کے تصورات، سب غیر متعلق ہوچکے ہیں۔ان دو صدیوں میں سرمایہ دارانہ مغرب کا جمہوری ماڈل خواہ وہ امریکہ کا صدارتی نظام ہو یا برطانیہ کا پارلیمانی یا ان سے ملتے جلتے دوسرے جمہوری دروبست، ان سب کی اساس تین قوتوں کے باہمی توازن پراستوار ہوئی تھی۔یہ تین قوتیں ریاست یاحکومت، مارکیٹ اور سول سوسائٹی تھیں۔ان تینوں کے اشتراک نے شہریوں کو دستیاب وہ گنجائش (public space) پیدا کردی تھی جس میں سول سوسائٹی کے ایما پر انسانی حقوق کے مطالبے ہوتے تھے، شہری آزادیوں کو رُوبہ کار لانے کے خواب دیکھے جاتے تھے، آزاد صحافت کے پھریرے لہرائے جاتے تھے، اسٹریٹ فائٹنگ ہوتی تھی۔ان سرگرمیوں کا حاصل کامیابیوں کی شکل میں بھی نکلتا تھا اور ناکامیاں مزید حرکت پذیری کا موجب بن جاتی تھیں۔سرد جنگ کے خاتمے اور نئے عالمی نظام کے تناظر میں سرمایہ دارانہ نظام نے کروٹ لی اور ان تینوں قوتوں کے باہمی توازن کو تہ و بالا کرکے رکھ دیا اور اب صرف سرمایہ اور اس کی عالمگیریت تھی جو ریاستوں کو تہِ دام لا رہی تھی،آمرانہ حکومتیں تو ایک طرف، روایتی جمہوری حکومتیں بھی آمرانہ خصائل کو اختیار کرتے ہوئے مارکیٹ اکانومی کی خدمت بجا لانے پر مامور ہوچکی تھیں، سول سوسائٹی کو بری طرح سے کچل دیا گیاتھا۔

جبر کے اس نظام کو بہت طاقت فراہم کی ہے مالکانِ اخبارات نے۔ انہوں نے خود پر آنے والے پریشر کو ادارے سے وابستہ صحافیوں اور رپورٹروں کی طرف منتقل کرنا شروع کردیا

اس تمام صورت حال کابڑا منفی نتیجہ نکلا ہے آزادی اظہار اور دوسرے بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے۔اب بنیادی حقوق اور آزادی رائے کا ایک ایسا دائرہ کار طے ہوا ہے جو شہریوں کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ کارپوریٹ سیکٹر اور اس کی ہمنوا ریاست کے باہمی مفادکو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔چنانچہ بہت سے ملکوں میں بظاہر جمہوری حکومتیں قائم ہیں لیکن یہاں کے حکمران، خاص طور سے وہ جو دائیں بازو کی پاپولر سیاست کے دوش پر ابھرے ہیں، تنقیدی اور اختلافی نقطہ نظر کو سختی سے کچلنے کی روش کے حامل بن چکے ہیں۔گذشتہ ایک عشرے میں دنیا کے مختلف ملکوں میں آزادی اظہار اور صحافت کی آزادی پر کیا گزری ہے اس کا اندازہ فریڈ م ہاؤس (Freedom House)کی رپورٹ’فریڈم ان دی ورلڈ‘(Freedom in the World)کے اعدادو شمار سے لگایا جاسکتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ماضی کے آزاد اور لبرل معاشروں کی حکومتیں بھی اب تحکم مزاج حکومتوں کی طرح میڈیا سے معاملہ کررہی ہیں۔یورپ اور ایشیا کے ترانوے(93)ملک کم و بیش یہی رجحان ظاہر کررہے ہیں کہ ان میں جمہوری آزادیوں پر قدغن لگائی جارہی ہے اور میڈیا کی آزادی کو مختلف شکلوں میں محدود کیا جارہا ہے۔رپورٹ کے پیش نظر ملکوں میں سے 19 فیصدملک ایسے ہیں جہاں پچھلے پانچ برسوں میں میڈیا کی آزادی ماضی کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہوئی ہے۔

حکومتوں اور کارپوریٹ میڈیا کے درمیان سمبندھ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ حکومتیں ایسے اداروں کو میڈیا کے لائسنس دیتی ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملائیں اور بدلے میں ان سے ان کی سرپرستی حاصل کریں۔ہنگری میں 80 فیصد میڈیا ان اداروں کی ملکیت ہے جو حکومت کے حلیف ہیں۔حکومتی سرپرستی ہی میں میڈیا گروپوں کی اجارہ داریاں بھی فروغ پارہی ہیں۔معروف امریکی سیاستدان برنی سینڈرس نے اپنی کتاب میں امریکہ کی صورت حال پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 1983ء میں امریکی میڈیا کا 90فیصد،ملک کی 50 بڑی کارپوریشنوں کے کنٹرول میں تھا۔آج صورت حال یہ ہے کہ چھ بڑی کارپوریشنیں ہیں جو امریکہ کی 90فیصد ابلاغ عامہ کی صنعت کو کنٹرول کررہی ہیں۔ان کارپوریشنوں میں کومکاسٹ(Comcast)، نیوز کارپ(News Corp)، ڈزنی(Disney)، وائے کوم(Viacom)، ٹائم وارنر(Time Warner)اورسی بی ایس(CBS)کے نام شامل ہیں۔پندرہ ایسے ارب پتی افراد ہیں جو امریکہ کی میڈیا کمپنیوں کے مالک ہیں۔

کارپوریٹ میڈیا کے ذریعے جو مواد دکھایا یا شایع کیا جاتا ہے اس کا انتخاب عوام کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ مختلف گروہی اور کاروباری مفادات کو سامنے رکھ کر یا ریاست کے اوپر تصرف رکھنے والے افراد اور اداروں کے مفادات کے پیش نظر طے کیا جاتا ہے۔آج جو کچھ اخبارات اور چینلوں کے ذریعے سامنے آتا ہے وہ اس کے مقابلے میں بہت غیر حقیقی اور غیر واقعی محسوس ہوتا ہے جو دراصل بتائے جانے اور دکھائے جانے کے لائق ہے۔آج میڈیا ان سینکڑوں موضوعات کی طرف توجہ نہیں دیتا جو عوام کے لیے زیادہ معنی رکھتے ہیں۔ان میں غربت اور بے روزگاری کا موضوع ہے، سیاست میں دولت کی عملداری کا موضوع ہے، محنت کشوں کی تنظیم کاری ہے، خواتین، ٹرانس جینڈرزاور معاشرے کے دوسرے پسے ہوئے حلقے ہیں، ماحولیاتی تنزلی ہے، یہ سب وہ موضوعات ہیں جو عوام کی حقیقی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اور جن پر آزاد صحافت تحقیق کرسکتی ہے،تنقیدی خیالات پڑھنے والوں تک پہنچائے جاسکتے ہیں،اور پھر ان موضوعات کے حوالے سے احتجاج پیدا ہونے پر ان احتجاجی آوازوں کو پرنٹ اورا لیکٹرانک میڈیا میں جگہ دی جاسکتی ہے لیکن کیونکہ ایسا نہیں ہورہا لہٰذا یہی ثابت بھی ہورہا ہے کہ آزادی اظہار کے اتنے وسیع میدان کھل جانے کے باوجود اظہار کو آزادی میسر نہیں ہے۔

آج آزادی اظہار کی راہ میں جو دوسری سب سے بڑی رکاوٹ حائل ہے وہ مختلف ملکوں کے عسکری ادارے ہیں جو سیاسی اداروں پر یا تو مکمل غلبہ رکھتے ہیں یا ان پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں ہیں۔جن ملکوں میں جمہوریت کا پودا پروان ہی نہیں چڑھ سکا وہاں کا کیا ذکر کیا جائے، گذشتہ تین چار عشروں میں دنیا کی بڑ ی اور معروف جمہوریتوں میں بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور وار انڈسٹری کا عمل دخل ماضی سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔یہ ادارے ریاست کے انتظامی، معاشی اور سماجی کاموں میں عمل دخل کے حامل بن چکے ہیں بلکہ اب جبکہ اطراف و اکناف میں گلوبلائزیشن کا دور دور ہ ہے، یہ ادارے اقتصادی پالیسیوں کے بنانے اور ان کو اپنی منشا کے مطابق ڈھالنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔یہ حکومتی اداروں کے ذریعے یا براہ راست طور پر بھی میڈیا اور میڈیا کے مالکان تک رسائی حاصل کرتے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ قارئین اور ناظرین تک جو چیز پہنچے وہ ان کے طرز فکر اور تصورات کی آئینہ دار ہو۔یہی نہیں بلکہ انہوں نے قومی وحدت کا بیانیہ بھی تشکیل دینے کا کام اپنے ذمے لے لیا ہے۔چنانچہ اگر یہ تعلیمی نظام اور نصاب سازی میں ایک کردار کے جویا ہوتے ہیں تو دوسری طرف ان کی کوشش میڈیا کو اپنے ارادوں اور تصورات کا مظہر بنانا بھی ہوتا ہے۔

اسی سلسلے میں ایک اور قابل ذکررجحان بہت تیزی سے مختلف ایسے ملکوں میں پروان چڑھ رہا ہے جہاں ذرائع ابلاغ کو کارپوریٹ سیکٹر اور حکومتی اداروں کے توسط سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ہم نے اپنے بچپن میں بہت سی ایسی فلمیں دیکھیں جن کو ہم نے برطانیہ کی فلم ساز کمپنیوں اور ہالی وڈ کا شاہکار تصور کیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں بنائی گئی ان فلموں میں امریکہ اور اس کے حلیف ملکوں کی جرمنی اور جاپان پر بالادستی دکھانے کے لیےجدید ٹیکنالوجی اور جنگ عظیم کے زمانے کے بہتر ین جنگی سازو سامان کا سہارا لیا جاتا تھا۔بعد میں پتہ چلا کہ ہالی وڈ اور پینٹاگون کے درمیان ایک بڑا گہرا رشتہ بہت پہلے سے چلا آرہا ہے۔برطانوی کمپنیوں اور وہاں کی وزارت دفاع بے حساب سرمایہ اورجنگی سازو سامان کے اشتراک سے، اور دوسری طرف ہالی وڈ کی بہترین ٹیکنالوجی، پینٹاگون کی جدید جنگی مشینری کے ساتھ مل کر مغرب کی بالادستی کا وہ بیانیہ ساری دنیا کو دکھا سکتی تھی جو Where Eagles Dare، The Bridge on River Kwai، The Great Escape، The Guns of Navarone جیسی فلموں کا موضوع بنا۔یہ تو اب سے کوئی پچاس ساٹھ سال پہلے کی بات ہے،اب اکثر ملکوں کے ہالی وڈ اور پینٹاگون باہمی اشتراک سے وہ فلمیں اور نغمے مشتہر کررہے ہیں جو ان کے لیے مفیدِ مطلب ہیں۔یہ قوموں کو ایک خاص ڈھب پر ڈھالنے کے ذرائع ہیں۔ان کا مقصد لوگوں کو آزادانہ طور پر سوچنے اور اپنی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کو تخلیقی تجربات سے ثروت مند کرنے سے باز رکھنا ہے۔یہ معاشروں کی تکثیریت اور تنوعات(Diversities)کے انکار کی کوشش ہے۔اس کا ہدف شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق سے لطف اندوز ہونے سے روکناہے۔یہ وہ ہتھیار ہیں جو آج دنیا کے بیشتر ملکوں میں آزادی اظہار کے تصور کو داغ دار کیے ہوئے ہیں۔

پھرانفرادی مزاحمت کی بڑی روشن اور جرأت مندانہ مثالیں تو موجود ہیں۔ البتہ مزاحمت کا اجتماعی ماحول کہ جس کو ایک تحریک کہیں، وہ وجود میں نہیں آرہا

غرض نیو لبرل معیشت نے سیاسی حقوق کے تصور کو پس پشت ڈال کر اقتصادی ترقی کے پراجیکٹ کو انسان کا مقصد اولین بنادیا ہے۔ یہ بھی نظرآتا ہے کہ دنیا بھر میں دائیں بازو کی سیاسی جمعیتیں ریاستوں میں سیاسی اقتدار پر فائز ہیں۔انہی جمعیتوں میں سے بہت سی دائیں بازو کے پاپولزم کی نمائندگی کرتی ہیں۔ قومی ریاستیں جو بحیثیت مجموعی اس نیو لبرل اکانومی کے دائرے میں رہ کر ہی کام کررہی ہیں اپنی آپس کی مقابلہ آرائی (competition)کے لیے دو چیزوں پر انحصار کررہی ہیں، معاشی دوڑ میں آگے رہنے کی کوشش اور عسکری اور فوجی طاقت پر ماضی کے مقابلے میں زیادہ توجہ اور انحصار۔ یہاں تک کہ عالمی طاقتیں ہی نہیں بلکہ ترقی پذیر ملک خواہ وہ ہندوستان یا پاکستان ہوں، مشرق وسطیٰ کی حکومتیں ہوں، ترکی ہو، یورپی ممالک ہوں، غرض ہر جگہ قومی بیانیے، عسکریت پسندی کی اتنی بڑی خوراک کو اپنے اندر سمو کر لوگوں کے ذہنوں پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کی نظیر ماضی میں نظر نہیں آتی۔یہی دو بڑے عوامل ہیں جن سے آج کا ہمارا اپنا قومی منظر نامہ بھی مرتب ہوا ہے۔آج آزادیِ اظہار اورصحافت کی آزادی کو جو سب سےبڑے چیلنج درپیش ہیں وہ کارپوریٹ سیکٹر اور عسکریت سے پُر قومی ریاستی بیانیے ہیں جو شہریوں کے حقِ اظہار اور اطلاعات تک رسائی کے ان کے بنیادی حق کی راہ میں مزاحم ہیں۔ماضی سے موازنہ کرکے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ اب سے چالیس سال پہلے جو جنگ لڑی گئی تھی آج اس سے بڑی جنگ کی صورت حال درپیش ہے۔منیر نیازی کا شعر ذہن میں آتا ہے ؎

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

میں ایک دریا کے پاراترا تو میں نے دیکھا

انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور خاص طور سے صحافت اور دیگر ذرائع ابلاغ کو دنیا بھر میں جس معاندانہ صورت حال کا سامنا ہے، اُس کی ایک بڑی مکمل تفیسر پاکستان میں دیکھی جاسکتی ہے۔گذشتہ تیس چالیس برسوں میں ہمارے ذرائع ابلاغ کے منظرنامے میں نت نئے تادیبی اور تعزیری عناصر نے جگہ پائی ہے۔کئی قوانین اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے ذریعے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی۔ریگولیٹری اتھارٹیز سے متعلق قوانین کے مقاصد بظاہر بڑے ارفع رکھے گئے،مثلاً اطلاعات کی آزادانہ ترسیل، احتساب، شفافیت اور اچھے طرزِ حکمرانی کو یقینی بنانا،اوراخبارات و جرائد اورنیوز ایجنسیوں کے ڈکلیریشن کے حصول کو آسان بنانا، وغیرہ وغیرہ۔مگر عملاً ان اتھارٹیز نے ذرائع ابلاغ پر ریاستی گرفت کو مضوبط بنانے کا کام کیا۔ذرائع ابلاغ کو ریگولیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو subjugateکرنے کے طریقے بھی ایجاد ہوئے۔ایوب خان اور یحییٰ خان کے ادوار میں اخبارات و جرائد کے ڈکلیریشن منسوخ کیے جاتے تھے اور صحافی پس دیوارِ زنداں دھکیل دیے جاتے تھے۔ضیاء الحق کے زمانے میں ان ہتھکنڈوں کے علاوہ سنسر شپ کا سخت ترین نظام وضع ہوا۔اب سنسر کے لیے آنے والی کاپیوں سے ناقابل قبول خبروں کو اکھاڑ ا جانے لگا۔گویا دستیاب خبریں غائب کردی جاتی تھیں۔زمانہ آگے بڑھا ہے اوراب خبریں ہی نہیں صحافی اور رپورٹر بھی غائب ہونے لگے ہیں۔

جبر کے اس نظام کو بہت طاقت فراہم کی ہے مالکانِ اخبارات نے۔انہوں نے خود پر آنے والے پریشر کو ادارے سے وابستہ صحافیوں اور رپورٹروں کی طرف منتقل کرنا شروع کردیا۔حال ہی میں پروفیسر توصیف احمد خان اور ڈاکٹر عرفان عزیز نے ’پاکستان میں میڈیا کا بحران‘ نامی اپنی کتاب میں گذشتہ دس پندرہ برسوں میں اخباری اداروں کے اندر جو کچھ ہوا ہے، اُس کی بہت سی تفصیلات درج کی ہیں۔کس طرح ملازمین کو مہینوں تنخواہوں سے محروم رکھا گیا۔کس طرح بغیر کسی نوٹس کے ملازمین کو برطرفی کے پروانے تھمائے گئے۔کس طرح بعض اخباروں نے بعض شہروں کے اپنے ایڈیشن اچانک بند کرکے سارے عملے کو سڑک پر لاکھڑا کیا۔آج ریاست کا جبر، اداروں کی قوتِ قاہرہ اور کارپوریٹ سیکٹر کی ریشہ دوانیاں آزاد صحافت کے سروں پر لٹکی ہوئی وہ تلواریں ہیں جن کی دھار تیز سے تیز تر ہورہی ہے۔ماضی میں آزادی صحافت کے لیے آواز اٹھانے والے باشعور اور باہمت صحافی، ان چیلنجوں کا سامنا کرتے اورمزاحمت کا راستہ اختیار کرتے تھے۔ماضی میں جو کامیابیاں حاصل ہوئیں وہ انہی کاوشوں کا نتیجہ تھیں۔مگر آج کچھ یوں نظر آتا ہے کہ ایک فریق پوری تیاری کے ساتھ، مکمل صف بندی کے ساتھ میدان میں کھڑا ہے۔اس کے ہتھیار نئے ہیں اور تسلط کے اُس کے عزائم بھی قوی تر ہیں۔دوسرا فریق ابھی میدان میں نہیں اترا۔کبھی کچھ یوں نظر آتا ہے کہ فیض صاحب کے بقول ؎؎

وہ تیرگی ہے رہِ بتاں میں چراغ رخ ہے، نہ شمع وعدہ

کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب دروبام بجھ گئے ہیں

لیکن پھرانفرادی مزاحمت کی بڑی روشن اور جرأت مندانہ مثالیں بھی سامنے آنے لگتی ہیں۔البتہ مزاحمت کا اجتماعی ماحول کہ جس کو ایک تحریک کہیں، وہ وجود میں نہیں آرہا۔ہیروز کا انتظار تو عبث ہے، لیکن مثالیوں سے تو روشنی حاصل کی جاسکتی ہے،اور مثالیے کم نہیں ہیں۔ منہاج برنا، نثارعثمانی اوراحفاظ الرحمن کے علاوہ مارشل لاء کے دور میں ملٹری کو رٹ سے کوڑوں کی سزا پانے والے صحافی ہوں یا PFUJاورAPNECکے پلیٹ فارموں سے آزادیِ صحافت کے پرچم کو بلند رکھنے والے سینکڑوں صحافی اور اخباری کارکن، یہ سب مثالیے ہی تھے۔ اوران کی دی ہوئی روشنی میں راستے آج بھی ڈھونڈے جاسکتے ہیں۔یہ ضرور ہے کہ اب جبکہ الیکٹرانک میڈیا، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی نے آزادی اظہار کی خواہش کوبے کنا ر بنا دیا ہے اور ساتھ ہی اس کی آزمائش کو بھی دو چند کر دیا ہے تو جدوجہد کے ایک نئے عہد نامے کی بھی ضرورت پیدا ہوگئی ہے۔یہ عہد نامہ کیا ہو،اس کو ترتیب کیوں کر دیا جائے،اس پر عمل کی راہیں کیسے متعین ہوں، ایک پر ہیبت ریاستی اور کاروباری جارحیت کے آگے بند کس طرح باندھے جائیں،یہ آج آزادیِ صحافت اور شہری آزادیوں کے مقاصد کو لاحق سب سے بڑے سوال ہیں۔ان سوالوں کے جواب ہی پر ہمارے تہذیبی و تخلیقی سفر کے تسلسل اور ہمارے تمدن کے ارتقا کا دارومدار ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...