موسمیاتی تبدیلیاں غربت کے ساتھ تنازعات اور انتہاپسندی میں بھی اضافہ کریں گی

125

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کس قدر وسیع اور بھیانک ہوسکتے ہیں اس بارے شعبے کے محققین و ماہرین ماضی قریب سے اندازے لگا رہے ہیں اور عالمی قیادت کو جھنجھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر مشاہدہ یہ کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر اس مسئلے کی حساسیت کے حوالے سے عوامی آگہی میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک کی سیاسی قیادت کی جانب سے اسے ایک گونہ سردمہری موجود ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اور اس کی زد پر کھڑے کمزور ممالک کی مدد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ پاکستان کی حالیہ سیلابی صورتحال اس کی تازہ مثال ہے۔ اس سے قبل افریقا اور مشرق وسطی کے بعض کمزور متأثرہ خطے بھی کئی سالوں سے اسی طرح کے رویے کا سامنا کر رہے ہیں جہاں موسمیاتی تبدیلیوں نے انتہاپسندی اور مسلح جرائم کے رجحانات کو بڑھاوا دیا ہے اور وہ علاقے تشدد کے گڑھ بن چکے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات معمولی اور محدود نہیں ہیں بلکہ انتہائی غیرمتوقع حد تک تباہ کن ہوسکتے ہیں، جن میں سے ایک سماجی ادھیڑپن بھی ہے۔ قحط، سیلاب، جنگلات کو آگ لگنا، غذائی قلت اور رہائشی علاقوں کا سکڑنا موسمیاتی تبدیلیوں  کے ایسے اثرات ہیں جو لوگوں کے مابین شدید تنازعات کو جنم دیں گے، شہروں کی طرف آبادی کا ارتکاز بڑھے گا، وسائل کی کمی اور غربت جرائم کی مختلف شکلوں کو مجاز بنائے گی اور سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور کمزور ممالک میں پرتشدد انتہاپسندی کی اٹھان کے مابین گہرا تعلق ہے۔ اس پر موقر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس موجود ہیں کہ کس  طرح افریقا اور مشرق وسطی کے بعض خطوں میں ایسا ہی ہوا ہے۔ ’نیشنل اکیڈمی آف سانسز‘ کی 2015ء کی رپورٹ کے مطابق شام میں 2011ء میں شروع ہونے والے مسلح تنازعات اور سیاسی اُدھیڑپن کے پیچھے اولین اسباب 2007ء سے 2010ء کے دوران ملک کے دیہی علاقوں میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کی تاریخی پیش رفت تھی جس نے ان تین سالوں میں مسلسل فصلوں کو تباہ کیا، بری گورننس اور غیرمستحکم زرعی نظام لوگوں کو سہارا نہیں دے سکے، تو ہزاروں کسان خاندانوں نے غذا اور روزگار کے حصول کے لیے شہروں کا رُخ کیا جو پہلے ہی ضرورت سے زیادہ گنجان تھے۔ اس سے تنازعات نے سر اٹھایا اور بعد میں دیگر عوامل شامل ہوتے گئے اور بدترین خانہ جنگی کی صورتحال بن گئی۔ اقوام متحدہ کی 2018ء کی رپورٹ کے مطابق افریقا میں چاڈ جھیل کے آس پاس واقع بعض ممالک میں داعش، بوکوحرام اور القاعدہ جیسی تنظیموں میں نوجوانوں کی شمولیت کی ایک وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جن کے باعث جھیل کا پانی 90 فیصد تک خشک ہوگیا ہے اور غذا اور روزگار کے شدید مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ یہ جھیل افریقا میں اقتصادی طور پہ بہت اہمیت کی حامل ہے اور چار ممالک کے دو کروڑ افراد کے لیے پانی کا ذریعہ ہے۔ 1960ء میں اس کا رقبہ 26 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ تھا جو اب سکڑ کر صرف 15سو مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ غذائی قلت اور بے روزگاری کے مسائل سے مجبور نوجوان ان شدت پسند تنظیموں کا حصہ بنتے ہیں جو بدلے میں انہیں کچھ پیسے اور کھانا پینا فراہم کرتی ہیں۔

غیرمستحکم اور کمزور ممالک جہاں حکومتیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہتی ہیں وہاں مختلف انتہاپسند گروہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ عمومی سطح پر بھی سماج میں غذا، رہائشی علاقوں اور وسائل پر مسابقت کے لیے بھی تنازعات جنم لیتے ہیں۔

غیرمستحکم اور کمزور ممالک جہاں حکومتیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہتی ہیں وہاں مختلف انتہاپسند گروہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرکے نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ عراق اور شام میں جب داعش عروج پہ تھی تو اس نے کئی ڈیمز پر قبضہ جما لیا تھا اور پورے کے پورے صوبوں اور شہروں میں پانی اور بجلی کی فراہمی بند کردی تھی۔ کئی مرتبہ زرعی زمینوں پر سیلاب چھوڑے، فصلوں کو تباہ کیا اور لوگوں کو ہجرت پر مجبور کیا۔ صومالیہ اور نائجیریا میں بوکوحرام اور الشباب قدرتی آفات کا اپنے حق میں بطور ہتھیار کے استعمال کرتی ہیں اور حکومتوں کو نیچا دکھاتی ہیں۔ کورونا وبا کے دوران انہوں نے قرنطینہ وارڈ کھولے تھے اور لوگوں کو کئی طرح کی خدمات فراہم کی تھیں۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بعض علاقوں میں غلط معلومات بھی پھیلاتی رہیں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ متأثر ہوں اور حکومت پر ان کا اعتماد کم ہو۔

اگر حکومتیں قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل سے نمٹنے میں ناکام رہیں گی تو انتہاپسند اور پرتشدد عناصر اس خلا کو پُر کرنے کے لیے آگے آئیں گے اور ان مسائل کو اپنے فائدے میں استعمال کریں گے۔ لہذا ماحولیاتی تبدیلیاں اور ان کے اثرات غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اِس جہت میں بھی ایک چیلنج ہیں۔

پاکستان کو پہلے ہی انتہاپسندی کا چیلنچ درپیش ہے اور یہاں درجنوں ایسی تنظیمیں وجود رکھتی ہیں جو سماجی ہم آہنگی اور امن وامان کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔ ایسے میں اگر حکومتیں قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں خاطرخواہ اور سنجیدہ اقدامات کا مظاہرہ نہیں کریں گی تو اس خلا کو وہ عناصر پُر کریں گے جو انتہاپسندی اور سیاسی عدم استحکام کو بڑھاوا دیتے ہیں، اور ایسے نازک حالات میں اور بری گورننس میں ان عناصر پر کنٹرول رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ لہذا قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ یہ ملک کے لیے بدترین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کوئی بھی ملک اکیلا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ بالخصوص پاکستان جیسے ممالک جو معاشی طور پہ ویسے ہی قرضوں تلے دبے ہیں اور عوام پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار ہیں، انہیں بین الاقوامی تعاون کی اشد اور فوری ضرورت ہے۔ اس کے لیے پاکستان کو سفارتی سطح پہ ہنگامی، مؤثر اور منصوبہ بند اقدامات کرنے ہوں گے جو اس کے لیے مدد کی راہیں کھول سکیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ریاست منظم انداز سے عوامی بہبود میں وسائل کا صحیح اور یقینی استعمال کرے جو عام حالات میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ورنہ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیاں کئی جہات سے ملک کے مستقبل کو گھیرے میں لیے کھڑی ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...