کوئلے کی دُھول میں پرورش پاتے کان کنوں کے بچے

رفیع اللہ مندوخیل

121

جنوب مغربی بلوچستان میں معدنیات سے مالا مال ضلع دوکی میں بچے کچی اینٹوں سے بنے اپنے گھروں کے باہر ننگے پاؤں کھیل رہے ہیں جہاں صبح کی خشک ہوا میں سیاہ سرمئی دھول اُڑ رہی ہے۔ دوکی کوئٹہ سے 230 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کوئلے کی کانوں سے نکلنے والی دھول کے اخراج سے صحتِ عامہ کے سنگین خطرات کے باوجود، خیبر پختونخواہ اور پڑوسی ملک افغانستان سے تعلق رکھنے والے کئی خاندان انہی کوئلے کے میدانوں کو ہی ’گھر‘ کہتے ہیں۔

’’میرا خاندان کوئلے کی دھول اور کالے دھوئیں میں سانس لے رہا ہے، لیکن میرے پاس کوئلے کے میدان میں رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ مقامی بچوں کی ایک بڑی تعداد کو ہسپتال جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو کہ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں‘‘، یہ کہنا ہے عطا محمد کا، جو کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے ان سینکڑوں افراد میں سے ایک ہیں جو دوکی کے مضافات میں اپنے خاندانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ عطا محمد سات بچوں کا باپ ہے۔ اس کے چار بچے سینے کے انفیکشن میں مبتلا ہیں اور وہ اکثر ان کا علاج کروانے کے لیے مقامی ہسپتال کا رخ کرتا ہے۔

بچوں کی صحت کا مسئلہ کوئلے کی صنعت کے لیے ایک ضمنی نقصان ہے

مقامی لوگ اسے ’کالا سونا‘ کہتے ہیں، یہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی فیکٹریوں، اینٹوں کے بھٹوں اور توانائی کے شعبوں میں استعمال ہوتا ہے۔ کمائی کے اس طریقے کا نقصان یہ ہے کہ کان کنوں کے بچے بدحال ہیں، اور جس ہوا میں وہ سانس لیتے ہیں وہ زہریلی ہے۔ کان کنی کی جگہوں کے قریب رہنے والے بچوں میں دمہ اور سانس کی دیگر علامات کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔ مقامی ہیلتھ ورکرز کے مطابق کوئلے کی دھول کے باعث بچے سانس لینے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، اور سینے میں انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے کوئلے کا تقریباً 50 فیصد بلوچستان میں پیدا ہوتا ہے اور کوئلے کی کان کنی صوبے کی آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔ ’نیشنل لیبر فیڈریشن ٹریڈ یونین‘ کے صوبائی نائب صدر امبر خان یوسفزئی کا کہنا ہے کہ دوکی اور چمالنگ کی کوئلے کی کانوں میں 15 سے 20 ہزار مزدور کام کرتے ہیں، ان کانوں میں سے اکثر کسی باضابطہ قانونی قاعدے کے تحت نہیں ہیں۔ تقریباً 5 سے 6 ہزار خاندان ان سینکڑوں کانوں کے آس پاس رہائش پذیر ہیں۔ چمالنگ کی کانیں خطے کی سب سے بڑی کانیں ہیں۔

ضلع دوکی، چمالنگ کے علاقے میں کانوں کے درمیان ایک کچا گھر

ساٹھ سالہ عبدالرحمان نے 26 سال تک کوئلے کی صنعت میں کام کیا ہے، لیکن دمے کی بیماری کے بعد وہ گہری کانوں میں کھدائی کرنے سے قاصر ہو گئے۔ انہوں نے اب ایک متبادل ذریعہ معاش تلاش کیا ہے، وہ دوکی کے بازار میں جوتے اور چپل بیچ رہے ہیں۔ ’’میں آٹھ بچوں کا باپ ہوں۔ میرے پانچ اور نو سال کے بچوں کو سانس کی بیماریاں لاحق ہیں۔ مجھے ان کا مقامی ڈاکٹروں سے ہی علاج کروانا پڑتا ہے جو بہت ابتدائی نوعیت کا ہوتا ہے۔ میرے بچوں میں سے صرف ایک ہی اسکول جاتا ہے‘‘، وہ نیلے رنگ کے انہیلر (inhaler) سے سانس کھینچتے ہوئے کہتے ہیں۔

کان کنی کی کمپنیاں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتیں

دوکی ضلع سے تعلق رکھنے والی تین بچوں کی ماں نور بی بی بھی ایسے ہی تجربے سے گزری ہیں۔ ان کے شوہر تقریباً 13 سال تک کان کنی کی صنعت سے وابستہ رہے، لیکن اب وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ان کے دو بچے جن کی عمریں سات سے نو سال کے درمیان ہیں، پچھلے دو برس سے پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ اسکول جانے کے بجائے، وہ سارا دن کانوں کے قریب باقیات کے ڈھیروں میں کوئلے کے ٹکڑوں کی تلاش میں گزارتے ہیں، تاکہ جلانے کے لیے گھر میں کام آسکیں۔ ’’پورا علاقہ دھویں اور دھول سے بھرا ہوا ہے۔ بارش بھی نہیں ہوتی۔ کان کے مالکان غریب مزدوروں کی مدد نہیں کرتے۔ میں صرف اپنے بچوں کی صحت اور ان کے تاریک مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں‘‘، بی بی اپنے گالوں سے آنسو پونچھتے ہوئے بتاتی ہیں۔

ٹریڈ یونین کے نائب صدر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ صحت کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے مزدوروں کے بچے بیمار ہوجاتے ہیں۔ ’’حکومت صحت کے مراکز کو مکمل طور پر فعال بنائے۔ کان کنوں کے بچوں کے لیے ایک ماہرِ اطفال بھی مقرر کیا جانا چاہیے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کان کن معمولی رقم ہی کماتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کا مناسب علاج نہیں کروا سکتے‘‘۔

’مائنز اینڈ منرلز ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ بلوچستان‘ کے زیراہتمام تنظیم ’مائنز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن‘ مائنز ایکٹ 1923 کے تحت کان کے مزدوروں کی بہبود کے لیے ذمہ دار ہوتی ہے، جس میں ان کے بچوں کی تعلیم وصحت بھی شامل ہیں۔ تاہم، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے نشاندہی کی ہے کہ ’’ان مقامات پر صحت کی سہولیات کی فراہمی ایک شاذ امر ہے۔‘‘

بچے کوئلہ چن رہے ہیں

’دی تھرڈ پول‘ سے بات کرتے ہوئے ’دوکی کول فیلڈ‘ کے انسپکٹر معدنیات صابر شاہ کا کہنا ہے کہ کول مائنز ریگولیشنز 1926 اور مائنز ایکٹ 1923 کے تحت 18 سال سے کم عمر کا بچہ کان کنی کے علاقے میں مزدور کے طور پر کام نہیں کر سکتا، چاہے وہ کام زیر زمین ہو، باہر ہو، یا کوئلہ برداری کا عمل ہو۔ شاہ کہتے ہیں کہ ’’اگر کوئی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جائے، تو تفتیش کے بعد انسپکٹر معدنیات مقدمہ درج کرتا ہے اور چیف مائنز انسپکٹر کے ذریعے جوڈیشل مجسٹریٹ کے دفتر میں درخواست جمع کراتا ہے، جہاں قانون کے مطابق جرمانہ عائد کیا جاتا ہے‘‘۔ شاہ کا کہنا ہے کہ شعبہ معدنیات کے مزدور حلقے نے تمام کان کنی والے علاقوں میں صحت کی سہولیات کا بیمہ کرایا ہوا ہے، جہاں کان کے مزدور اور ان کے خاندان کے افراد، بشمول ان بچوں کے جو سینے کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، ان کا علاج کیا جاتا ہے۔

تاہم مقامی لوگ ایک مختلف کہانی سناتے ہیں. ’’ہم ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جو کوئلے کی کانوں سے گھرا ہوا ہے۔ ہر طرف کالا دھواں ہے کیونکہ لوگ اپنے گھروں میں کھانا پکانے اور گرم کرنے کے لیے بھی کوئلہ جلاتے ہیں۔ دوکی میں ٹائروں کی مرمت کی دکان چلانے والے محمد عارف کہتے ہیں کہ میرے بیٹے کی طرح ہمارے گاؤں کے زیادہ تر بچے متاثر ہوئے ہیں۔ زیادہ بیمار بچے کوئٹہ کے بڑے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

مقامی لوگوں میں تپ دق اور دمہ کا مرض زیادہ ہے

محمد عظیم ڈاکٹر ہیں اور دوکی میں تپ دق (ٹی بی) کنٹرول پروگرام کے لیے سہولت کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کان کنوں میں سے زیادہ تر افراد ٹی بی کا شکار ہیں، اور یہ مرض خاندان کے دیگر افراد تک پھیلتا ہے کیونکہ یہ ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے۔ کوئلے کی دھول میں پرورش پانے والے بچے آلودگی کا شکار ہوتے ہیں اور ضلع کے دیگر علاقوں کے بچوں کے مقابلے ان میں سانس کے مرض کی علامات زیادہ ہوتی ہیں۔ ’’زیادہ تر متأثرین نابالغ ہیں۔ غربت، صحت کی خراب صورتحال اور صحت کی سہولیات تک عدم رسائی علاقے میں ٹی بی کے پھیلاؤ کے بنیادی عوامل ہیں‘‘۔

کوئٹہ میں صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام کے ایک اور ذمہ دار ڈاکٹر احمد ولی کہتے ہیں، کہ ’’عالمی سطح پر، کوئلے کی کان کنوں میں ٹی بی کے واقعات عام آبادی کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔‘‘ ’’ماحولیاتی قوانین کے غیر مؤثر ہونے، ان کا اطلاق نہ کرنے اور حفاظتی اقدامات کی کمی کے نتیجے میں بلوچستان کے کوئلے کے میدانوں میں دھول کا ارتکاز مسئلے کو مزید بدتر بنا دیتا ہے۔‘‘ ولی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ٹی بی کنٹرول پروگرام کے پاس ڈی ایچ کیو ہسپتال دوکی میں دیکھ بھال کی سہولت دستیاب تو ہے، لیکن علاج کے ضرورتمند افراد کی تعداد دستیاب سہولیات سے کہیں زیادہ ہے۔

’’ہسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر 70 سے 80 مریضوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ان میں نصف تعداد بچوں کی ہے،‘‘ ڈاکٹر عظیم نے اضافہ کرتے ہوئے کہا ’’چالیس میں سے تیس بچے عام طور پر سینے کے انفیکشن، دمہ اور الرجی میں مبتلا ہوتے ہیں۔‘‘

’کول ورکرز نیوموکونیوسس‘ (CWP) جسے سیاہ پھیپھڑوں کی بیماری بھی کہا جاتا ہے، کان کنوں کے بچوں میں عام ہے۔

دوکی کی مختلف کانوں میں سینکڑوں کم عمر بچے مزدوری کرتے ہیں

کراچی یونیورسٹی کے ’انسٹی ٹیوٹ آف انوائرنمنٹل اسٹڈیز‘ میں اسسٹنٹ پروفیسر وقار احمد کا کہنا ہے کہ جب بچہ گردو غبار سے بھری ہوا میں سانس لیتا ہے تو اس سے اس کے نظامِ تنفس پر اثر پڑتا ہے اور وہ الرجی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ’’بچوں کو زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ہوا کے راستے دوسرے افراد کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے سوزش کے نتیجے میں دم بھی گھٹ سکتا ہے۔‘‘

ماحولیاتی اثرات کی تشخیص کا کوئی نظام نہیں

کوئٹہ میں صوبائی محکمہ ماحولیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیخ خالق داد مندوخیل کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے دوکی کے علاقے میں ماحولیاتی اثرات کی تشخیص کا کوئی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ ’’ماحولیاتی مسائل سے متعلق کسی بھی معاملے کی صورت میں، میں عام طور پر کان کے علاقے کا دورہ کرتا ہوں۔ دھول کو کنٹرول کرنے کے لیے کام کی جگہ پر پانی کے چھڑکاؤ کے نظام کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں، کان کے مالکان کو فراہم کردہ این او سی کو منسوخ کیا جا سکتا ہے‘‘۔

کراچی میں ’بین الاقوامی یونین برائے تحفظ فطرت‘ پروگرام کے سربراہ دانش راشدی کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان ’پیرس موسمیاتی معاہدہ‘ کے دستخط کنندگان میں سے ایک ہے، جس کا مقصد گلوبل وارمنگ کو محدود کرنا ہے، لیکن یہاں پھر بھی کوئلے کی کان کنی کا کام کچھ مزید عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

’’پاکستان میں توانائی کی وسیع ضروریات کے پیش نظر کول پاور پلانٹس کی طرف میلان موجود ہے۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ، ہمارا کول پاور پلانٹس پر انحصار اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ نجی شعبہ Low-carbon economy کی جانب جھکاؤ اختیار نہیں کرتا، کوئلے کے اثرات کی تلافی شروع نہیں کی جاتی، اور جب تک کہ طویل مدتی صاف توانائی کے استعمال کا رجحان غالب نہیں آتا۔‘‘

بشکریہ: روزنامہ ڈان، مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...