اٹھتا روسی بلاک ،نئی سرد جنگ پاکستان کے لیے مواقع اور چیلنجز

428

ہندوستانی میڈیا پچھلے کئی دنوں سے پاک روس جنگی مشقوں کے ملتوی ہونے کا پیغام دے رہا ہے تھا اور کئی ہندوستانی میڈیا اینکرز تو باقاعدہ جشن مناتے پائے گئے کہ دیکھو پاکستان تنہا ہو گیا اب کوئی یہاں نہیں آئے گا اب یہ دہشتگرد ی ثابت ہوگئی دنیا اس پر اعتبار نہیں کر رہی مگر دہائیوں سے ہندوستان کے دفاعی شراکت دار نے کمال کر دیا اور تمام تر ہندوستانی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے روسی فوج کا دستہ پاکستان پہنچ گیا

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پچھلے تین ماہ سے بہت خراب ہے۔ پوری وادی میں کرفیو نافذ ہے اور ایک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔چھرے والی بندوقوں نے انڈین جمہوریت کے چہرے کو بری طرح گھائل کر دیا ہے اتنی سفاک جمہوریت کہ ہزاروں لوگوں کے چہروں بگاڑنے اور سینکڑوں کے نابینا ہونے کے باجود ٹس سے مس نہیں ہوئیبلکہ یہ کہا جائے کہ ہندوستانی جمہوریت نے اپنے نابینا ہونے کا ثبوت دیا ہے جسے علاقہ چاہیے لوگ نہیں۔
ان حالات میں اوڑی میں ایک حملہ ہوتا ہے جیسے ہی یہ حملہ ہوتا ہے پورانڈین میڈیا اور عوام فقط جنگ کے طلب گار نظر آتے ہیں۔ایک عام انسان میڈیا کوریج نہیں دیکھ سکتا اور اگر دیکھ لیتو اس کا ٹمپریچر انتا بڑھ جائے گا کہ اگر کوئی اور نہ ملے تو خود کو مارنا شروع کر دیگا۔میڈیا کی مثال ایک تلوار کی سی ہے جو ہندوستانی میڈیا اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کر رہاہے جذبات سے کیے گئے فیصلے کبھی بھی قوموں کے لیے بہتریکا باعث نہیں بن سکتے۔ساری صورت حال میں مجھے پاکستانی عوام اور پاکستانی میڈیا پر فخر ہونے لگا ہے کہ کم از کم یہاں ملکوں کے درمیان جنگ کا پیغام نہیں دیا جارہا۔
ایک اور افسوسناک صورت حال ہندوستانی دانشوروں کی ہے جو یک زبان ہو کر جنگ کا راگ الاپ رہے ہیں۔جب دانشور جذبات کی رو مین بہہ جائیں جب شعور پر بدلہ غالب آ جائیتو غلط فیصلے کیے جاتے ہیں۔ تباہ کن مشورے دیے جاتے ہیں اور آگ لگانے والے تجزیئے کیے جاتے ہیں۔اہل علم ہمیشہ کھلی آنکھو ں کے ساتھ مسائل کا ادراککرتے ہیں اور ایسے فیصلے کرتے ہیں جو قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتے ہیں مگر یہاں تو گنگا الٹی بہہ رہی ہے انہیں معلوم نہیں کہ جنگ میں انسانوں کی فصل کاٹی جاتی ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے بعد جنگ کا آپشن ختم ہو گیا ہے اب ساتھ مل کر رہنا ہے اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔
ہندوستانی میڈیا پچھلے کئی دنوں سے پاک روس جنگی مشقوں کے ملتوی ہونے کا پیغام دے رہا ہے تھا اور کئی ہندوستانی میڈیا اینکرز تو باقاعدہ جشن مناتے پائے گئے کہ دیکھو پاکستان تنہا ہو گیا اب کوئی یہاں نہیں آئے گا اب یہ دہشتگرد ی ثابت ہوگئی دنیا اس پر اعتبار نہیں کر رہی مگر دہائیوں سے ہندوستان کے دفاعی شراکت دار نے کمال کر دیا اور تمام تر ہندوستانی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے روسی فوج کا دستہ پاکستان پہنچ گیا جس سے ہندوستانی میڈیا کو تو سانپ سونگھ گیا اور جنگی جنون میں مبتلا سیاستدانوں کو بھی دھچکالگا۔
روسی فوج انڈیا کی ناراضگی کے باوجود پاکستان کیوں آ گئی؟ اور اپنے دفاعی اتحادی کو کیوں ٹھکرا دیا ؟ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے شام میں روس اور امریکہ براہ راست آمنے سامنے ہیں کچھ قوتیں امریکہ کے ساتھ ہیں اور کچھ روس کے ساتھ ہیں اب یہ سلسلہ پھیلتا ہوا نظر آ رہا ہے بھارت امریکی گود میں بیٹھ چکا ہے۔اسکے خلاف خود انڈیا میں بھی آوازیں بلند ہوئی ہیں کہ ہم نے امریکہ کو خودمختاری بیچ دی ہے۔ جب انڈیا امریکی کیمپ میں چلا گیا اور امریکہ نے بھی پاکستان کو چھوڑ دیا اور ہر جگہ پاکستانی اور امریکن مفادات باہم ٹکرانے لگے جیسا کہ افغانستان میں ہوا ہے۔ افغانستان میں انڈیا اور امریکہ کے مفادات ایک جیسے ہو گئے تو اس طرح امریکہ پاکستان سے دور ہو گیا اور انڈیا کے قریب ہو گیا۔ روس نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو ساتھ ملانا چاہتا ہے تاکہ خطے میں ایک مضبوط ملک اس کا اتحادی بنے اور یوں پاکستان اورروس میں باہمی قربتیں بڑھ رہی ہیں اور روس نے انڈیا کا دباؤ مسترد کر کے اپنے دستے کوپاکستان بھیج دیتا ہے۔
ایک سرد جنگ جاری ہے جس میں نئے اتحادی بن رہے ہیں اور پرانے اتحاد ی ٹوٹ رہے ہیں پاکستان اور روس کا باہم قریب آنا پاکستان کے مفاد میں ہے کیونکہ دو ویٹو پاور ممالک پاکستان کے دوست ہو جائیں گے اور اس کا ایک بہت زیادہ فائدہ یہ بھی ہو گا کہ خطے کے ممالک میں پاکستان کے پاؤں مضبوط ہوں گے۔ روسی بلاک کی صورت حال اب کافی واضح ہو چکی ہے شام کی جنگ میں روس اور ایران ملکر لڑ رہے ہیں اور ان کے مقابل میں امریکی کیمپ موجود ہے میڈل ایسٹ میں سب سے بڑا امریکی اتحادی اسرائیل ہے اورجنوبی ایشیاء4 میں بھارت ہے سعودی عرب کا مودی کو سول ایوارڈ دینا اور اسرائیل سے فضائی رابطے بحال کرنااور وفد بھیجنا اسی سلسلے کی کڑی ہیں امریکی کیمپ اکٹھا ہو رہا ہے۔ اب اس کے مقابل میں روسی کوششیں تیز ہوچکی ہیں اور چائینہ بھی یہی چاہتا ہے کہ امریکہ اثر و رسوخ کو علاقے کے ممالک کے ساتھ ملکر کم کیا جائے ایسے میں ایک مضبوط بلاک کچھ اس طرح سے وجود میں آ سکتا ہے کہ چائنہ سے لیکر پاکستان اور روس تک ایک مضبوط پٹی معرض وجود میں آ جائے جو امریکیوں کا راستہ روکے۔
شام میں روس کا جانا بشار کو بچانے سے زیادہ ایک اور ملک کو امریکی قبضے سے بچانا تھا کیونکہ افغانستان اور عراق کے بعد شام امریکی قبضے میں چلا جاتا تو پورے مشرق وسطی کی صورت حال بدل جاتی۔ روس کی علاقے میں موجود بڑی فوجی بیس بھی ختم ہو جاتی۔ چائینہ اپنے پتے بڑی ہوشیاری سے کھیل رہا ہے اس نے شام میں خود مداخلت نہیں کی مگر بڑی چالاکی سے امریکی راستہ بھی روک لیا ہے۔
ترکی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ترکی بڑی تیزی سے روس مخالف کیمپ کا حصہ بنا تھا۔جب ترکی نیروس کے طیارے کو گرایا گیا تو اس وقت ایک جنگی صورت حال پیدا ہو گئی تھی مگر ترکی نے بہت جلد سے محسوس کر لیا کہ وہ ایک جوا کھیل رہا ہے جس میں شکست کی صورت میں پورے مغرب کا خسارہ ترکی کے گلے پڑے گا اور جیت کی صورت میں اسے کوئی خاص حصہ نہیں دیا جائے گا اس لیے اس نے اپنی پالیسیوں کو بڑی حد تک تبدیل کر لیا ہے ۔ترکی نے روس کے ساتھ تعلقات بحال کر لیا اسی طرح ایران کے ساتھ بھی اپنے معاملات کو درست کر لیا اور اس کہہ دیا کہ ہم شام میں کسی حد تک بشار کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہیں یہ پالیسی ترکی کے مفاد میں ہے۔
ترکی کے اس پالیسی شفٹ نے شام کے حوالے سے صورت حال کو تبدیل کر دیا ہے۔ ابھی ترکی اگرچہ مغربی کیمپ میں ہے مگر بڑی حکمت عملی سے اس نے روسی کیمپ سے بھی معاملات سیدھے کر لیے ہیں اور یہی ترکی کے بہترین مفاد میں ہے۔
یہ سرد جنگ کی سی صورت حال ہے بلکہ شام اور عراق میں توعالمی قوتیں باقاعدہ برسرپیکار بھی ہیں اس میں پاکستان کو اپنے پتے نہایت حکمت عملی سے کھیلنے چاہیں۔ پاکستان کا مفاد سب سےمقدم ہونا چاہیے خارجہ پالیسی ون مین شو نہیں ہونا چاہیے بلکہ پاکستان کے ذہین دماغوں کواکٹھا کر کے خارجہ پالیسی مرتب ہونی چاہیے اور پاکستان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ یہ خود کو عملی طور پر کہیں بھی جنگ میں شامل نہ کرے اور ان ممالک سے مضبوط تعلقات بنا کر انڈیا کی ان کوششوں کو بھی ناکام بنا دے جس میں وہ یہ کوششکر رہا ہے کہ پاکستان کو تنہاکر دیا جائے۔
پاکستان کو اپنے معاشی مفادات کا بھی تحفظ کرنا چاہیے۔ سی پیک جو کہ پاکستان کی معاشی شہ رگ بننے جا رہی ہے اسے مزید وسعت دے کر روس تک لے جانا چاہیے۔ اس سے جہاں معاشی فوائد ہوں گے وہاں باہمی تعلقات بھی بہت وسعت اختیار کرجائیں گے۔ جس طرح ایرانی صدر نے سی پیک میں شام ہونے کی خواہش کی ہے ان کو شامل کر کے انڈیا کا راستہ روکا جا سکتا ہے بلکہ اگر ہو سکے تو سی پیک میں ترکی کو بھی شامل کیا جائے اس طرح پاکستان کو یورپ تک ایک مضبوط روٹ مل جائیگا اور پاکستان جہاں تمام لینڈ لاک ممالک کے لیے دروازہ بن جائیگا وہیں چائینہ سے یورپ تک ایک مضبوط معاشی پٹی معرض وجود میں آ جائے گی جوپوری صورت حال  کو تبدیل کر دے گی اور پاکستان ترکی کو باہم ملانے کے لیے ٹرین کا منصوبہ تو کافی پرانا ہے اسی اب عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے اس نئی سرد جنگ سے ہم اقتصادی مفادات کا تحفظ بھی کر سکتے ہیں اوردفاعی لحاظ سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر اس سب کا دارو مدار ہماری حکمت عملی پر ہوگا قدرت نے ہمیں بہت اچھا موقع عطا کیا ہے اگر ہم نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی اور اگر فائدہ نہ اٹھا سکے تو قدرت بار بار اتنی مہربان نہیں ہوتی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...