ملک کی اشرافیہ نوجوانوں کا کب تک استحصال کرتی رہے گی؟

137

پاکستان میں نوجوان کل آبادی کا 63 فیصد ہیں۔ اتنی بڑی تعداد جو ملک اور اپنے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے اور جس میں ایک جوش بھرا ہوا ہوتا ہے، وہ بے سمت ہے اور ان کا بری طرح استحصال کیا جا رہا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جاتا، الٹا ایسا ماحول بنادیا گیا ہے کہ وہ عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہیں لاعلم رکھا گیا ہے یا ان میں غلط معلومات انڈیلی جارہی ہیں۔ اور پھر جب یہ کسی بھی مفادپرست سیاسی یا مذہبی گروہ کا حصہ بن کر عدم استحکام کا ذریعہ بنتے ہیں تو انہیں برا بھلا بھی کہا جاتا ہے اور سزاوار بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ نوجوان پاکستان سے محبت کرتے ہیں، وہ اس کی ترقی کے لیے حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ کیسے، ان کے پاس کھلی راہیں نہیں ہیں، کہ باقاعدہ سوچ سمجھ کر انہیں ملکی بہبود کے کسی بھی شعبے کا حصہ بننے سے دور رکھا گیا ہے۔ ان کا بس یہ مصرف ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے ووٹوں میں اضافہ کریں، یا کسی مذہبی جماعت کے نعروں کی گونج کو اور گرجدار بنائیں۔

پاکستان میں ہر مسئلے کے لیے قوانین اور پالیسیاں تو بنا دی جاتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ ایسے ہی نوجوانوں کے لیے بھی متعدد پالیسیاں متعارف کرائی گئیں اور ہر حکومت کی جانب سے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن ان معاملات کو آگے نہیں بڑھایا جاتا۔ ان کوششوں میں بھی زیادہ تر جس چیز پہ زور دیا جاتا ہے وہ روزگار کے وسائل پیدا کرنا اور نوجوانوں کی معاشی کھپت جیسے امور ہوتے ہیں، جو طویل المدتی اقتصادی منصوبوں پر استوار نہیں ہوتے، بلکہ وقتی اور سیاسی مفادات کے حصول کی غرض سے یہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں سے متعلقہ دیگر تمام مسائل نظرانداز کردیے جاتے ہیں۔ چونکہ روزگار اور معاشی کھپت کے ذرائع اس قدر محدود اور مسدود ہوچکے ہیں کہ اگر نوجوانوں کو قطرہ قطرہ بھی دستیاب ہوتا ہے تو وہ اسی کو غنیمت جانتے اور ریاست کے احسان مند ہوجاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ وہ ریاستی و انتظامی ڈھانچہ ہے جس کے تحت نوجوان نسل کی ذہنی تشکیل ہوئی ہے، جس میں شہریت اور حقوق بارے لاعلمی یا غلط معلومات کا فروغ ہوا ہے۔

نوجوانوں کی سیاسی بصیرت کس حد تک مسخ کی جاچکی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے سماجی مسائل سے سرے سے لاتعلق ہوگئے ہیں۔ وہ سیاسی جماعتوں کے لیے باہر نکلتے ہیں، دن رات اسی بارے بات کرتے ہیں، سوشل میڈیا پہ یہی گفتگو کرتے ہیں۔ ان کا سیاسی شعور سیاسی جماعتوں کے لیے عصبیت سے آگے نہیں بڑھتا۔ بدترین سیاسی دھینگامشتی، بے قاعدگیوں اور بے اصولیوں کے باوجود بھی نوجوانوں اکثریت اشرافیہ کی جنگ کا ایندھن بننے پر آمادہ ہے۔

یہ بھی کتنی عجیب بات ہے کہ اشرافیہ کا یہ طبقہ چاہے حکومت میں ہویا اپوزیشن میں، بھول کر بھی نوجوانوں کو شہریت، حقوق اور حقیقی سیاسی شعور کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتا۔ کیونکہ اس پر سیاسی و غیرسیاسی اشرافیہ سب کا اتفاق ہے کہ عوام کو ان کی طاقت اور ان کے حقوق کا اندازہ نہیں ہونے دینا، اگر کچھ بتانا ہو بھی تو خود کو محور بنا کر، اور بس اتنا کہ ان کی اپنی جنگ میں نوجوانوں کا جوش کام آسکے۔

پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش اور صاف نیت اس بات کی متقاضی ہے کہ نوجوانوں کو پالیسی و انتظامی سطح پر ان مسائل کے حل کا  حصہ بنایا جائے

اس ملک کے سماجی مسائل کتنے بڑے اور تباہ کن ہیں، جنہیں اسی نوجوان نسل نے بھگتنا ہے۔ مگر اس بابت کوئی آگہی نہیں اور کوئی اقدامات نہیں ہیں۔ ان مسائل کی ایک طویل فہرست ہے، مگر یہ کیسے حل ہوں گے، کہ ہم ابھی تو بس اس تگ دو میں ہیں کہ دیوالیہ ہونے سے بچ جائیں۔ صرف ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات ہی اتنے گہرے اور متنوع الجہات ہیں اثرات کے حامل ہیں کہ یہی ہماری تباہی کے لیے کافی ہیں۔ ابھی مون سون سے قبل ایک ماہ کے دوران ملک میں کتنے جنگلوں کو آگ لگی، لاکھوں درخت جل گئے، اور ریاست بے نظر آئی۔ اس کے باوجود مسئلے کی سنگینی اور منصوبہ بندی پر پر کوئی بحث ہی نہیں ہوئی۔ نظام اصاف کا کھوکھلاپن اور بے حسی مزید کتنی عیاں ہوگی۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کا عفریت ریاستی ڈھانچے کی بنیادوں میں بیٹھ چکا ہے۔

نوجوانوں کو ملک کے ہر سنگین مسئلے سے لاعلم رکھا جاتا ہے یا انہیں غلط معلومات پہنچائی جاتی ہیں۔ تاکہ ریاست پر کوئی دباؤ نہ آئے اور نوجوان اس کے غیرذمہ دارانہ رویے اور نااہلی سے واقف نہ ہو۔ ستم یہ ہے کہ ریاست کے تمام ادارے موجودہ صورتحال میں بھی اپنی توجہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے دیگر معاملات میں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش اور صاف نیت اس بات کی متقاضی ہے کہ نوجوانوں کو ان مسائل کے حل کا حصہ بنایا جائے۔ ان کی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کیا جائے۔ انیہں درست معلومات فراہم کی جائیں۔ اصولی طور پہ دیکھا جائے تو نوجوانوں کے حوالے سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ جس پہلو سے کام کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ان کا جدید ریاستی نظم پر اعتماد بحال کیا جائے، انہیں شہریت و حقوق کی بے غبار معلومات دی جائیں، تاکہ کنفیوژن ختم ہو اور ان کے لیے سیاسی وسماجی سمت واضح ہو۔ یہ چیز انہیں جذباتی مذہبی و سیاسی نعروں سے آزاد کرے گی۔ ورنہ  موجودہ صورتحال تو یہ ہے کہ عام نوجوان کا ریاستی ادارہ جاتی ڈھانچے کے اندر کسی بھی شعبے میں کوئی احترام نہیں ہے اور نہ اس کی بہبود کو محور بنا کر کوئی پالیسی مرتب کی جاتی ہے۔ جس مقام تک یہ ملک آن پہنچا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ رِیت کب تھمے گی اور کب تک ملک کی اشرافیہ نوجوانوں کا استحصال کرتی رہے گی؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...