سُود اور افسرشاہی

111

سود کے خاتمے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔ پاکستان کے حکومتی نظم کو کوئی سمجھنا چاہے تویہ اس کی ایک شاندار مثال ہے۔

ہماری افسر شاہی کی تربیت جس نہج پر ہوئی ہے‘ اس میں ریاست ایک سیکولر وجود ہے۔ وہ حکومتی معاملات کو اسی نظر سے دیکھتی ہے۔ اس لیے جب نظم ِاجتماعی کے باب میں کوئی مذہبی مسئلہ آ کھڑا ہو تا ہے تواس کی تفہیم کا زاویہ عوامی فہم سے بالکل مختلف ہو تا ہے۔اس کے اقدامات سے واضح ہے کہ وہ مذہبی معاملات کو اہلِ مذہب کا ایک مسئلہ سمجھتے ہوئے‘ اس طرح حل کرتی ہے کہ ایک طرف مذہبی گروہ مطمئن ہو جائیں اور دوسری طرف گورننس کی سیکولر ساخت بھی متاثر نہ ہو۔

افسر شاہی کا خیال یہ ہے اور اس میں اہلِ سیاست بھی اس کے ساتھ متفق ہیں کہ مذہبی گروہ ان مسائل کو اسی وقت اٹھاتے ہیں جب وہ اقتدارمیں اپنا حصہ چاہتے ہیں۔ یوں ان کا زاویہ نظر‘ یہ نہیں ہو تا کہ ریاستی نظم کی تشکیل میں اسلامی اصول کیسے بروئے کار ہیں۔ ان کے پیشِ نظر محض اہلِ مذہب کی خوشنودی ہوتی ہے۔ یہ تاثر کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ اہلِ مذہب بھی اس نوع کے حکومتی اقدامات کو مان لیتے ہیں۔ یوں بظاہر مسئلہ حل ہو جاتا ہے مگر حکومتی نظم جوں کا توں رہتا ہے۔ ویسا ہی سیکولر ‘ جیسا پہلے ہوتا ہے۔

اسلامی نظر یاتی کونسل کی تشکیل اس کی کلاسیکی مثال ہے۔ یہ ادارہ اس لیے بنا تھا کہ ملک کے قوانین کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ بنا دیا جائے۔ یوں لازم تھا کہ اس کی تشکیل میں دین کے علما کے ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین کو شریک کیا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل تمام قوانین کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر چکی ‘ افسر شاہی نے مگر کمال مہارت کے ساتھ ان سفارشات کو ریاستی نظم سے دور رکھا ہے۔ مذہبی طبقات کی طرف سے کسی احتجاج سے بچنے کے لیے‘ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل اس طرح کی جاتی ہے کہ سب مسالک کے ایک دو افراد کو اس میں شامل کر دیا جائے‘ قطع نظر اس کے کہ وہ اس کی اہلیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ اس کے رکن بنتے ہیں۔ افتتاحی اجلاس میں شریک ہوتے اور پھر دوبارہ نہیں آتے۔ تاہم اس دوران میں حکومت کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے۔

سود کے معاملے کو بھی اب اسی طرح حل کیا جا رہا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد‘ اگر ریاستی نظم سود کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہوتا تو اس کا ایک ہی آئینی اور قانونی طریقہ تھا۔ سود کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کو سامنے لایا جاتا۔اس کی گرد جھاڑی جاتی اور اس کے نفاذ کے لیے‘ اسے متعلقہ وزارتوں‘ برائے خزانہ اور قانون کے حوالے کر دیا جاتا۔ وہ اس کا جائزہ لیتیں۔ اگر اس کے قابلِ عمل ہونے کے بارے میں‘ ان کے ذہن میں کوئی سوال ہوتے تو انہیں مرتب کر کے موجودہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کر دیا جاتا۔

کونسل اگر مناسب سمجھتی تو اس پر مشاورت کا دائرہ بڑھا دیتی اور ماہرینِ معیشت‘ سرکاری حکام اور علمائے دین کے مابین مکالمے کا اہتمام کرتی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات‘ ممکن ہے کہ کفایت نہ کرتی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اس پر وزارتِ خزانہ کو سنجیدہ اعتراضات ہوں۔ یہ اعتراضات اس مکالمے میں سامنے آتے اور یوں سب مل کر ایک ممکنہ حل کی طرف بڑھتے۔ یہ آئین کے مطابق بھی ہوتا اور اس میں تمام سٹیک ہولڈرز شریکِ مشاورت بھی ہوتے۔

علمِ دین میں بھی اب تخصص ہوتا ہے۔ اسلامی معیشت کے ماہرین کا ایک الگ طبقہ ہے جو ایک طرف موجودہ ریاستی نظام کو سمجھتا ہے اور دوسری طرف دین کے احکام اور ان کی روح کو بھی جانتا ہے۔ وہ سود سے پاک معیشت کے تجربات سے بھی واقف ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل سے یہی توقع تھی کہ اسے موقع دیا جاتا تووہ یقیناً ان سے رجوع کرتی اورایک قابلِ عمل نظامِ معیشت کی تشکیل میں حکومت کی مدد کرتی۔

افسر شاہی کا خیال ‘ جو زبانِ حال سے بیان ہو رہا ہے‘ یہی ہے کہ عملاً یہ مذہبی طبقات کا اٹھایا ہوا مسئلہ ہے جس کی کوئی عملی افادیت نہیں

افسر شاہی نے مگر اس طرح کا کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اس نے ایک ٹاسک فورس بنا دی۔ اس میں ایک طرف سرکاری اداروں کو نمائندگی دی اور دوسری طرف علما کو۔ علما کی نمائندگی میں بھی وہی فرسودہ اور آزمودہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ ایک دیوبندی‘ ایک بریلوی اور ایک شیعہ۔ اگر اہلِ حدیث نے احتجاج کیا تو ان کو بھی نمائندگی دے دی جا ئے گی۔ اس ٹاسک فورس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ سود سے پاک معاشی نظام کے لیے حکومت کی راہنمائی کرے۔

اس کمیٹی میں اہلِ دیوبند کی نمائدگی مفتی تقی عثمانی صاحب کر رہے ہیں۔ ان کی شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے معیشت کی اسلامی تشکیل پر برسوں تحقیقی کام کیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان کے ہم مسلکوں میں بھی ان سے اختلاف رکھنے والے کم نہیں لیکن یہ اختلاف ان کی اہلیت کو کم نہیں کر تا۔ ان کے سوا کیا ہے؟ اس ملک میں‘ میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اسلامی معیشت اور سود کی موجودہ صورت کے بارے میں قابلِ قدر تحقیقی کام کیا ہے۔ ان کی کوئی نمائندگی ہے اور نہ وہ شریکِ مشاورت ہیں۔

اس لیے مجھے کچھ شبہ نہیں کہ یہ ٹاسک فورس بھی اسی ذہن(Mindset) کے ساتھ بنائی گئی ہے کہ جواس ملک پر حکمران ہے۔ اس کا مقصد مذہبی طبقات کو مطمئن کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ افسر شاہی کا خیال ‘ جو زبانِ حال سے بیان ہو رہا ہے‘ یہی ہے کہ عملاً یہ مذہبی طبقات کا اٹھایا ہوامسئلہ ہے جس کی کوئی عملی افادیت نہیں۔ اب ایک طرف سپریم کورٹ میں اپیل چل رہی ہے اور دوسری طرف ٹاسک فورس۔ علما کوچونکہ اس عمل کا حصہ بنا دیا گیا ہے‘ اس لیے انہیں بھی مطمئن کر دیا گیا ہے۔ رہا نظم حکومت تو وہ اسی طرح چلتا رہے گا‘ جس طرح چل رہا ہے۔

میں نے اس کالم میں اس سوال کو بحث کا موضوع نہیں بنایا کہ موجودہ معاشی نظام میں سود کا کیا مفہوم ہے اور اس کے خاتمے سے ہماری مراد کیا ہے؟ مجھے صرف یہ واضح کر نا ہے کہ ہماری بیوروکریسی کس طرح سوچتی ہے اور مذہبی معاملات کو حل کرنے کے لیے‘ اس کی حکمتِ عملی کیا ہو تی ہے۔ سیاسی قیادت کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ سب کے نزدیک مذہب اور سیاست کی یک جائی کا مطلب اہلِ مذہب کر شریکِ اقتدارکرنا ہے۔ سچ یہ ہے کہ اہلِ مذہب کے نزدیک بھی اس کا یہی مفہوم ہے۔

ریاست کی اسلامی تشکیل کا تعلق‘ کسی نظام سے کم اور اس بات سے زیادہ ہے کہ اہلِ اقتدار کو خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس کتنا ہے۔ مذہب کے نزدیک حکمت کی اساس خوفِ خدا ہے۔ یہ جذبہ اگر موجود ہے تو پھر نظام بنائے جا سکتے ہیں۔ جس طرح صرف عبداللہ نام رکھنے سے کوئی خدا کا بندہ نہیں بن جاتا‘ اسی طرح معاشی نظام پر غیر سودی کا لیبل لگا دینے سے اسے استحصال سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات کا ادراک‘ افسوس کہ کسی حلقے میں موجود نہیں۔

بیوروکریسی اس بات کو سمجھتی ہے۔ وہ جان گئی ہے کہ اہلِ مذہب کو کیسے مطمئن کیا جاتا ہے۔ اس لیے خاطر جمع رکھیے۔ یہاں عدالتیں فیصلہ دیں گی۔ ٹاسک فورس بنے گی۔ سب گروہ آن بورڈ ہوں گے مگر نظامِ حکومت یہی رہے گا۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر حکومت عدالتی فیصلے کو من و عن نافذ کر دے‘ تو بھی معاشی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی‘ جس طرح حدود قوانین کے نفاذ سے بھی جرائم میں کوئی کمی نہیں آسکی۔

بشکریہ: روزنامہ دنیا

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...