متبادل مسیحا کی تلاش

169

شیخ ابراہیم ذوق کا کہنا ہے:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نا پایا تو کدھر جائیں گے

یہ شعر انسان کی فطرت کا صحیح عکاس ہے۔ یہ درست ہے کہ موجودہ صورتِ حال سے انسان کبھی مطمئن نہیں ہو تا، بالخصوص ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں کچھ تبدیل ہی نہ ہوتا ہو تو وہاں متبادل مسیحا کی تلاش کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، طرفہ تماشا تب ہوتا ہے کہ جب عوام خود کو بااختیار بنانے کی بجائے یہ یقین بھی رکھتے ہوں کہ مسائل کا حل کوئی مسیحا ہی آکے نکالے گا۔ ایسے میں انسان اس حالت سے نکلنے کے لیے جلدبازی یا حدود سے تجاوز کا راستہ بھی اختیار کرلیتا ہے۔ جلد بازی اسے متبال کی طرف لے کر جاتی ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے ان حالات سے نکلنے کے لیے متبادل صورتیں اختیار کرنا واحد حل ہے۔ لیکن بعض اوقات اسی جلد بازی سے ’تجاوزات‘ کی صورت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔

پاکستان کے داخلی حالات سے مایوس لوگ متبادل صورتیں اختیار کر نے کا شدید جذبہ رکھتے ہیں۔ ممکنہ طور پہ وہ صورتیں غیرجمہوری اور غیرآئینی بھی ہو سکتی ہیں۔ ایک متبادل راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسے حکمران کو لایا جائے جو روزانہ دو چار سو لوگوں کا ناشتہ کرے۔ ناشتہ سے مراد یہ ہے کہ ان کا وجود ختم کردے، تاکہ معاشرہ درست راستے پہ آجائے اور ملک کے حالات سنور جائیں۔ یہ ’متبادل‘ کی ایسی خواہش ہے جس میں جلد بازی بھی ہے اور حدود سے تجاوز بھی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک فوجی حکمران آجائے اور وہ ڈنڈے اور بندوق کے زور پہ سب کچھ درست کر دے گا۔ یہ ’’متبادل‘‘ بھی اس جذبے اور محبت کا اظہار ہے جو فوج سے عوام کو ہے اور اس کا خیال ہے کہ اس طرح بھی سب کو درست کیا جا سکتا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ سیاستدان کرپٹ اور بد عنوان ہیں، بے شک نظام جمہوری اور پارلیمانی رہے لیکن ان سیاستدانوں میں سے ایمان دار حکمران لایا جائے خواہ اسے اکثریت نہ ملے، بہرحال اسے کسی نہ کسی طرح اقتدار میں ضرور لایا جائے۔ وہ اپنے کردار، جرأت اور بہادری سے سب کچھ بدل کر رکھ دے گا۔ یہ تیسری صورت قابلِ قبول ہے، اگر وہ مسیحا حقیقی جمہوریت اور اصل اکثریت کے ساتھ برسر اقتدار آئے۔ اگر وہ عوامی مقبولیت پانے والی خوبیاں رکھتا ہے اور اسے متبادل خیال کر لیا جا تا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کیا ایسا شخص جو ذاتی صفات کا مالک ہے، وہ ’’متبادل‘ بن سکتا ہے؟ اگر اس کے پاس تجر بہ کار ٹیم نہیں ہے۔ وہ ٹھہراؤ، سنجیدگی اور غور و فکر کا حامل نہیں ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمیں ٹھہرنا اور سوچنا ہے۔ میڈیا کے اس دور میں ’’بد سے بدنام بُرا‘‘ کا محاورہ بہت سے لوگوں پہ صادق آتا ہے۔ یہ امیج(Image) کا زمانہ ہے۔

امیج اور تأثر بنانے پہ کثیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔ کچھ اس کام پہ خود سرمایہ لگاتے ہیں اور کچھ پہ ان کے چاہنے والے خرچ کر تے ہیں۔ چاہنے والے دو طرح سے خرچ کر تے ہیں۔ ایک ان کے امیج کو بہترین دکھانے اور ان کی شخصیت کو منفرد مقام و مرتبہ رکھنے والی شخصیت کے طور پر لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لیے۔ دو سرا طریقہ یہ ہے کہ مخالفین کے کردار، شخصیت اور مقام کو مسخ کر دیا جا تا ہے تا کہ عوام سوائے اس ایک شخص کے علاوہ کسی کو اپنا رہبر و راہنما تسلیم نہ کرے۔ اسے صرف وہی “متبادل” دکھائی دے۔ اس پہ وقت اور سرمایہ خرچ کر نے والے کسی حد تک اپنے مقاصد کو حاصل کرلیتے ہیں۔ لوگ ویڈیوز، آڈیوز، تصاویر فیک عالمی لیڈرز کے کمنٹس، من گھڑت واقعات، مخالفین کی کر دار کشی اور ان کی انتہائی منظم بدنامی سے متاثر بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ معاملہ چل سو چل ہے۔ جہاں سادہ لوح متاثر ہوتے ہیں وہاں اس چال کا ادراک رکھنے والے خبردار کرنے اور آگاہ کرنے کے بدلے میں تنقید اور جانبداری کے زخم بھی بر داشت کر تے ہیں۔

ہمارے ہاں ’’متبادل‘‘ لانے کے لیے باقاعدہ تیاری کی جاتی ہے۔ اگر پاکستان کی 75سالہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ “متبادل” کی تلاش اور “متبادل” کو اقتدار میں لانے کی تاریخ ہے۔

متبادل کوئی بھی قرار پائے تو اہلیت و قابلیت کی بنیاد پر قرار پائے

اعتراض متبادل لانے پہ بھی نہیں ہے۔ اعتراض در حقیقت متبادل کی اہلیت، پالیسی اور طریقہ کار پہ ہے۔ آپ متبادل عوام کے ووٹ سے لائیں۔ عوام کی ذہنی آبیاری کر کے انہیں باور کرادیں کہ بس یہی متبادل ہے۔ عوام اسے منتخب کرے۔ انتخاب کروانے پہ اعتراض کم ہے اور زیادہ اعتراض کی بات یہ ہے کہ اگر وہ بر سر اقتدار آئے تو کیا اس میں اہلیت ہے کہ وہ ملک چلا سکے؟ اس وقت بہت سے متبادل سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ عوام کو اس کا ختیار دیا جائے اور پالیسیوں اور ماضی کی خدمات کی روشنی میں عوام فیصلہ کرے کہ کسے منتخب کر نا ہے۔ متبادل کوئی بھی قرار پائے تو اہلیت و قابلیت کی بنیاد پر قرار پائے۔

اگر پاکستان کی متبادل قیادت اہل اور قابل ہوتی تو جنہیں بددیانت اور بد عنوان کہہ کر نکالا گیا وہ کبھی واپس نہ آتے۔ عوام کبھی انہیں منتخب نہ کرتی اور ان کا وجود صفحہ سیاست سے مٹ جا تا۔ وہ ’’نسیا منسیا ‘‘ ہو جاتے لیکن وہ آج بھی سیاست کر رہے ہیں اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی ہیں جب کہ جس آندھی اور طوفان سے ان کی جڑوں کو اکھیڑنے کی کوشش کی گئی۔ وہ شاید پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔ انہیں ان کے ’’کارناموں‘‘نے نہیں بلکہ متبادل قیادت نے اپنی نا اہلی، بداندیشی اور احتساب برائے انتقام کی پا لیسیوں نے زندہ کردیا۔

اگر ملک، عوام اور اداروں کے استحکام کے لیے کچھ کیا جاتا تو چلے جانے والوں کی کبھی واپسی نہ ہوتی۔ سیاست میں مقابلہ کارکردگی سے ہوتا ہے۔

اگر آپ اپنے مخالف کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو بہترین پالیسیاں لائیں۔ نظم حکومت بہترین اور عوام دوست ہو، عوام آپ کے دور حکومت میں خوش اور مطمئن ہو۔ لوگ خود کو لاوارث اور بے سہارا خیال نہ کریں۔ کیونکہ عوام کی توقعات بھی ان سے زیادہ ہیں اور خیال کیا جا تا ہے یہ ان غلطیوں اور گناہوں سے خود کو بچا ئیں گے جن کا الزام پہلے حکمرانوں پہ تھا۔ لہٰذا متبادل قیادت خامیوں سے پاک اور خو بیوں کا گلدستہ ہوگی جو ملک کو ترقی کے اوج ثریاپہ پہنچا دے گی۔

اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ متبادل قیادت کو منتخب کرنا ہے یا کسی اور قیادت کا انتخاب کرنا ہے۔ اگر موقع دینا ہے تو اس کا کیا معیار، پیمانہ اورشرائط ہوں گی۔ یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔ فیصلے رد عمل، خوش فہمی اور خواب کی بنیاد پہ نہیں بلکہ حقیقت پسندی اور عملیت کی بنیاد پہ کیے جاتے ہیں جس کے لیے غیر جانبدارانہ سوچ اور غیر جذباتی وابستگی کی ضرورت ہے۔ بنیادی صلاحیت سے محروم قیادت ہر خوبی کی مالک بھی ہو تو وہ متبادل نہیں ہے۔ متبادل لانا ہے تو اسے لائیں جو مسائل کی دلدل سے نکالے نہ کہ قوم کو مزید دلدل میں پھنسا دے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...