ہندوتوا کے غیرروایتی حلیف

جواد نقوی (مضمون نگار دہلی میں روزنامہ ڈان کے نامہ نگار ہیں۔)

196

بھارت کی ہر جماعت میں مسلمان موجود ہیں، اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں بھی ہیں، ایسے مسلمان بھی ہیں جو ہندوتوا کے کھلم کھلا مخالف ہیں، لیکن ہندو جنونیت سے لڑنے کے لیے مقابلے میں وہ اپنی طرز کے جنونی ہتھکنڈوں کا استعمال کرکے جو پیغام دیتے ہیں اس سے ہندوتوا کے مفادات و مقاصد کو ہی طاقت ملتی ہے۔

مؤخرالذکر قسم کے لوگ اور ان کے اقدامات جس قسم کے رجحانات و ردعمل کو ہوا دیتے ہیں ان کے باعث بھارت میں ان تمام مشترکہ کوششوں پر پانی پھر جاتا ہے جو ملک میں ایک طاقت ور دشمن کے خلاف جمہوریت اور سماج کو مستکم کرنے کے لیے بروئے کار لائی جاتی ہیں۔

دو مسلمان جنہوں نے مبینہ طور پہ ایک نہتے ہندو درزی کو قتل کیا اور ویڈیو کے ذریعے اس خونی عمل کو پھیلایا، ان کا یہ اقدام اس مقصد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے جس کے لیے انہوں نے یہ کچھ کرنے کا دعوی کیا، یعنی توہین یا بری زبان کے استعمال کے خلاف اپنے مذہب کا دفاع۔

پروفیسر شمس الاسلام دہلی یونیورسٹی میں سیاسیات پڑھاتے رہے ہیں۔ بھارت میں ہندو فاشزم کی تاریخ کے حوالے سے ان کا کام بہت عمدہ ہے۔

منگل کے روز اُدے پور میں کنہیا لال کے قتل کے بعد آنے والے خوفناک رد عمل کے بعد انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں کے اندر موجود انتہا پسند عناصر ’’ہندوتوا کے جنونیوں کی طرف سے بھڑکائی گئی مذہبی منافرت کی آگ پر تیل ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے ہیں۔‘‘

’’ہندوتوا جتھہ، بشمول ہندوستان کے بی جے پی-آر ایس ایس حکمرانوں کے، ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کا خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ حکمران باقاعدہ ایک طریقے کے ساتھ بھارت کو ایسی دہشت ناک صورتحال کی جانب دھکیل رہے ہیں‘‘۔

پروفیسر اسلام نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران نہیں ہیں کہ انتہا پسند مجرم اس شیطانی سازش کا حصہ بنے، انہوں نے زور دیا کہ معاشرے کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔

درحقیقت، ملک پر ہندوتوا کے کنٹرول کو آگے بڑھانے کے ایک بڑے منظرنامے میں، مبینہ طور پر اسلام کے خود ساختہ نجات دہندگان کے ذریعے درزی کا بہیمانہ قتل، ہندوستانی جمہوریت کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔

ذرا بڑی تصویر پر نظر ڈالیں: راجستھان کی ریاست، جہاں یہ جرم ہوا ہے، اکلوتی ایسی ریاست ہے جہاں حزب مخالف کی اہم جماعت کانگریس اقتدار میں ہے۔ ابھی چند دن قبل ہی بی جے پی نے ریاست مہاراشٹر میں اپوزیشن اتحاد جس کا کانگرس حصہ تھی، کو گرا کر وہاں اپنی مضبوط پیش قدمی ظاہر کی ہے۔ درزی کے قتل نے راجستھان میں بھی بی جے پی کے ہاتھ مضبوط کر دیے ہیں، اگر یہ کمزور توازن بگڑتا ہے تو معاملہ سنگین رخ اختیار کرسکتا ہے۔

ہندوتوا کا ہجوم زور پکڑ چکا ہے اور جھڑپ میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شدید زخمی ہو چکا ہے۔ صورتحال اس حد تک معنی خیز اور گھمبیر ہوچکی ہے کہ وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کو وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کرنی پڑی کہ وہ عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کریں۔

اطلاعات ہیں کہ قتل میں ملوث افراد میں سے ایک نے کراچی کے ایک مذہبی گروہ سے تعلق کا اعتراف کیا ہے، اور کہا جارہا ہے کہ وہ 2014ء میں پاکستان بھی آچکا ہے۔ تاہم اسلام آباد نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے۔

لیکن جنونیت کے دائرے میں وقوع پذیر ہونے والی ہر چیز کا ایک رخ نہیں ہوتا، روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے اپنے حالیہ اداریے میں چند معقول نکات اٹھائے ہیں۔

اداریے کے مطابق اس بھیانک جرم کے خلاف راست طور پہ ملک میں سیاسی و نظریاتی خطوط پہ سخت ترین مذمت کی گئی ہے۔ ’’ہولناکی کی شدت کسی ابہام کی اجازت نہیں دیتی، خوف اور دہشت پھیلانے والے قتل کے مجرموں کو جلد از جلد اور سختی کے ساتھ انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔‘‘

اگرچہ جرم کا ارتکاب کیا جاچکا ہے، لیکن بھیانک ویڈیوز سب کچھ نہیں بتاتیں، اور کچھ سوالات باقی رہتےہیں۔

اداریہ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ’’جذبات کو مجروح کرنے کی صنعت نفرت اور تشدد کو بھڑکانے کی بھی کافی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘

بشکریہ: روزنامہ ڈان، مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...