اسلاموفوبیا: مسلمانوں کے باقی اقوام کے ساتھ تعلقات کی پیچیدگیاں

132

اسلاموفوبیا، بلاشبہ ایک حقیقی سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے اب باقاعدہ اقوام متحدہ کی جانب سے جرم تسلیم کرتے ہوئے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے سدباب کا عالمی دن مقرر کیا گیا۔ یہ ایک قابل ستائش پیش رفت ہے، اس سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منافرت کی فضا کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے منفی جذبات کی حدت کو کم کرنے کی مزید بھی کوششیں ہونی چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ جو چیز اہم ہے وہ یہ بھی ہے کہ اس کے اسباب کا غیرجانبدارانہ جائزہ بھی لیا جائے تاکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے ممکنہ اقدامات کی جہات واضح ہوں۔ لہذا سوال یہ ہے کہ اسلاموفوبیا کے محرکات و اسباب کیا ہیں، کیا اس مسئلے کی بنیادیں خالص دینی و علمی نوعیت کی ہیں یا کچھ اور بھی مسائل ہیں، کیا یہ استشراقی نقطہ نظر کا تسلسل ہے جو مشرق اور اسلام کے لیے جانبدارانہ رائے رکھتا ہے، یا لبرل نظم و اقدار کی تنزلی اس کا باعث ہے، یا پھر کوئی اور ایسا بحران ہے جس کا شکار خود مغرب بھی ہے؟

اسلاموفوبیا کی اصطلاح پہلی مرتبہ فرانسیسی زبان میں 1910ء میں سامنے اور اس کی تعریف یہ کی گئی: ’’مغربی تہذیب اور مسیحی حلقے میں اسلام کے خلاف پہلے سے بنی ذہنیت کے تحت حکم لگانا۔ بعض مسیحی اور یورپی لوگوں کا خیال ہے کہ مسلمان ایک فطری دشمن ہے، ایسا دشمن جس کے بارے کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔ مسلمان ہونے کام مطلب تہذیب کا مخالف، ظالم اور بری نیت کا حامل ہونا ہے۔‘‘ ایڈورڈ سعید نے بھی اپنی کتاب استشراق میں اسی چیز کو موضوع بناکر کہا کہ مغرب میں اسلام اور مشرق کے خلاف تحقیر پر مبنی اور خوف کے احساسات غالب ہیں۔ مغربی دنیا میں طویل عرصے سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے ایک مخصوص رائے رہی ہے، لیکن عصرحاضر میں یہ مسئلہ عوامی سطح کا اور مرکزی دھارے کا مسئلہ بن چکا ہے، حتی کہ بعض ممالک میں انتخابی سیاست کا محور بھی ہے۔

فکری حلقے میں ایک طبقہ ایسا ہے جو اسلاموفوبیا کو ’استشراق‘ کی مساعی کے ساتھ جوڑتا رہا ہے اور اب بھی اس کا یہی خیال ہے۔ گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلاموفوبیا کی بنیادیں اصل میں تاریخی ہیں، جو دینی و علمی نوعیت کی ہیں اور مسلمانوں کے خلاف منافرت بھی خالصتا دینی منافرت ہے۔ اس طبقے کے نزدیک مغرب کے اندر معاصر منفی رجحانات کا فروغ بھی استشراق ہی کا تسلسل ہے اور وہ اس لہر کو ’جدید استشراق‘ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں، جس میں علم کی حیثیت کم ہوگئی ہے، جبر کا استعمال بڑھا ہے اور انسانی و ثقافتی عنصر کمزور ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے منفی جذبات اور ان کے لیے دشواریاں کھڑی کرنا اسی استشراقی استعماری ذہنیت کے زیر اثر ہے جو پہلے کالونیوں میں نظر آتی تھی۔ استعمار کا قدیم طرز عمل تو ختم ہوگیا لیکن اسلام اور مسلمانوں کو اپنی تہذیب وثقافت اور نسل سے کمتر سمجھنے کی سوچ ختم نہیں ہوئی جس کا مظاہرہ اب اس طرح سے ہوتا ہے، جس کی شدت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ استشراق کا سفر اسلاموفوبیا تک آن پہنچا ہے۔

تاہم بعض دیگر مفکرین کی رائے ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مغربی دنیا کی رائے اور رویوں کو محض استشراقی اثرات کی صورت میں دیکھنا مسئلے کے جوہر کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہے اور یہ ان چیلنجز سے پیچھا چھڑانا ہے جو مسئلے کا وسیع تناظر میں اور حقیقت پسندانہ جائزہ لینے سے سامنے آتے ہیں۔ لبنانی مفکر رضوان السید کا تو کہنا ہے کہ “استشراق کا معروف مروجہ ڈھانچہ اسی دہائی میں مضمحل اور ختم ہورہا تھا جب ایڈورڈ سعید اس موضوع پہ اپنی کتاب لکھ رہے تھے”۔ لہذا ان کے مطابق یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے ہر تنقید پہلے سے طے شدہ ذہنیت کے ساتھ یا استشراقی استعماری سوچ کے زیراثر نہیں ہے جس میں محض تاریخی و ثقافتی تعصب اور احساس برتری کا مظاہرہ کارفرما ہو۔ بلکہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سٹیفانو ٹرٹالیا کے مطابق اسلام اور مسلمانوں سے متعلق بہت سی فکری تنقیدات “سیکولر تنقید” کے زمرے میں بھی ہوتی ہیں جسے استشراقی تناظر نہیں کہا جاسکتا نہ یہ اسلاموفوبیا کا اثر ہے۔ لہذا یہ مسئلہ جو موجود تو ہے اور بلاشبہ حساسیت کی حد تک پہنچا ہوا ہے، لیکن ساتھ ہی کئی الجھنوں میں لپٹا ہوا ہے جس کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

دوحہ سے شائع ہونے والی ایک کتاب “رھاب الاسلام، الاسلاموفوبیا” (اسلام کا خوف، اسلاموفوبیا) اس موضوع پر عمدہ کام ہے۔ کتاب کے مطابق مغرب میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق پائے جانے والے رویے کا ایک سبب تاریخی وروایتی بھی ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور حیران کن امر یہ ہے کہ یورپ کے تنویری مرحلے میں بھی اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی حتی کہ مارٹن لوتھر اور والٹیئر جیسے لوگوں نے بھی اسلام بارے اسی متعصب رائے کا اظہار کیا۔ تاہم کتاب کے مطابق یہ واحد سبب نہیں ہے کیونکہ اسلاموفوبیا کی لہر کو نائن الیون کے بعد، بالخصوص گزشتہ ایک دہائی سے ہی زیادہ اٹھان ملی ہے۔

یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ اسلاموفوبیا اب صرف یورپ و امریکا تک کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ دیگر کئی خطوں میں بھی یہی صورتحال ہے، اس کی ایک تباہ کن مثال بھارت اور میانمار بھی ہیں۔ اس سے اسلاموفوبیا کے محرکات کے دیگر پہلوؤں کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

کتاب میں دوسرا اہم سبب مہاجرت کو قرار دیا گیا ہے جس نے مغربی شہریوں میں عدم تحفظ کو جنم دیا اور اس بنیاد پہ وہاں دائیں بازو کی جماعتوں کو بھی پذیرائی ملی۔ فوکویاما کے مطابق اصل خطرہ مشرق وسطی اور باقی عالم اسلام میں موجود کروڑوں مسلمان مذہبی لوگوں سے نہیں ہے بلکہ ان ہزاروں عرب و مسلمان مہاجرین سے ہے جو اپنی جڑوں اور ماحول سے علیحدہ ہوئے اور شناخت کی پیچیدگیوں ک شکار ہوگئے۔

کتاب میں ایک تیسرا اہم سبب مذہبی دہشت گردی کو قرار دیا گیا ہے جس نے مغرب کو شدید خوف میں مبتلا کردیا۔

اسلاموفوبیا کا مسئلہ نائن الیون کے بعد زیادہ شدت سے سامنے آیا ہے، اس سے قبل بھی یہ زیربحث تھا لیکن مخصوص علمی فکری حلقوں میں۔

یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ اسلاموفوبیا اب صرف یورپ و امریکا تک کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ دیگر کئی خطوں میں بھی یہی صورتحال ہے، اس کی ایک تباہ کن مثال بھارت اور میانمار بھی ہیں۔ اس سے اسلاموفوبیا کے محرکات کے دیگر پہلوؤں کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

دیکھا جائے تو اسلاموفوبیا اسباب ومضمرات کے اعتبار سے بہت پھیلا ہوا مسئلہ ہے، جس میں کئی عوامل کارفرما ہیں، مغرب کا تاریخی و ثقافتی تعصب بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے لیکن یہ واحد سبب نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ہر جگہ کچھہ اسباب مشترکہ ہیں بعض خطوں میں کچھ الگ مقامی نوعیت کے بھی ہیں۔ لہذا اس کے حل کے اقدامات بھی کسی بھی جانب سے یکطرفہ حیثیت میں کارگر ثابت نہیں ہوں گے بلکہ مسلم دنیا اور باقی اقوام کو مل کر ان اسباب کا پتہ لگانا اور ان کا حل نکالنا ہوگا۔

مسلمان اسلاموفوبیا کے متأثرین ہیں انہیں زیادہ اقدامات اور کوششیں کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ایسا ہوا نہیں ہے۔ خلیجی ممالک میں مغرب کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے چند کوششیں ہوئیں لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر وہ زیادہ آگے نہیں چل سکیں یا ان اقدامات سے انفرادی حیثیت میں کچھ فایدہ اٹھایا گیا۔ حال ہی میں شیخ الازہر اور پوپ فرانسس نے مسلم مسیحی دنیا کو قریب لانے کے لیے ایک کوشش کی تھی اور ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس کی سفارشات پر عرب امارات کے علاؤہ کسی نے عمل نہیں کیا۔ حالانکہ ایسی کوششوں کو مسلم دنیا میں زیادہ سراہا جانا چاہیے اور انہیں اسلاموفوبیا کی حدت میں کمی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...