بلوچستان کا واحد رضاکارانہ ’ تھیلیسمیا کیئر سنٹر‘ جو مریض بچوں کے والدین کو در در ٹھوکریں کھانے سے بچاتا ہے

323

کسی بھی خاندان میں تھیلیسمیا کا بچہ پیدا ہو تو پورے خاندان میں نہ ختم ہونے والی تکلیفیوں کی ایک کہانی شروع ہوجاتی ہے۔ تھیلیسیمیا کا شکار بچوں کے والدین کی تکالیف کی کئی دُکھ بھری کہانیاں ہوتی ہیں۔ کسی نے اپنے پیاروں کو دفنایا ہوا ہوتا ہے تو کوئی اپنے معصوم بچے کو اپنی ہتھیلیوں پہ رکھ کر ایک ایک قطرہ خون کے عطیہ کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔

تھیلیسمیا ایک موروثی خون کی بیماری ہے جو والدین سے جینز کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوجاتی ہے۔ ’پاکستان تھیلیسمیا سنٹر‘ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب تھیلیسمیا کے مریض ہیں اور سالانہ پانچ ہزار بچوں میں اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے۔ اس وقت بلوچستان کے ضلع کیچ تربت میں کل پانچ سو کے قریب بچے بچیاں اس موذی مرض میں مبتلا ہیں جن میں ستر فیصد بچے ہیں، اور تیس فیصد بچیاں ہیں۔ مرض بارے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

اس سلسلے میں ہم نے تربت سے تعلق رکھنے والی تھیلیسیمیا کا شکار پندرہ سالہ بچی  ’لمحہ ظہور گورگیج‘ سے بات کی جو ایک سال کی عمر میں اس خون کی مرض میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ ان کے مطابق پہلے تربت میں تھیلیسمیا سنٹر نہ ہونے کی وجہ سے میرے والدین ہر دو ہفتے بعد مجھے کراچی لے جاتے تھے یا پھر یہاں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو مجبور کرکے خون عطیہ کراتے تھے۔ اب جب سے ’کیچ تھیلیسیمیا کیئر سنٹر، تربت‘ کا قیام عمل میں آگیا ہے تو مجھ سمیت صوبے میں دیگر تمام تھیلیسمیا کے مریض اس سے مستفید ہورہے ہیں۔ ہم ارشاد عارف اور ان کی ٹیم کے انتہائی مشکور ہیں کہ انہوں نے ہم جیسے خون کی کمی کی وجہ سے بیمار رہنے والوں کے لیے ایک سہولت گاہ قائم کردی ہے جہاں بچے کسی بھی وقت یہاں آکر مفت میں اپنا علاج کروا سکتے ہیں۔ 15 سالہ لمحہ کہتی ہیں، ’’حالانکہ ہمارے معاشی حالات قدرے بہتر تھے، اس کے باوجود میں نے محسوس کیا کہ میرے والدین کتنی تکلیف میں  ہیں، مگر ایسے بہت غریب بچے ہیں جن کے والدین  عمر بھر بچوں کا علاج نہیں کرواسکتے، یا انہیں خون نہیں ملتا، ان کے لیے بھی کیچ تھیلیسیمیا کیئر سنٹر بہت بڑی نعمت ہے۔‘‘

لمحہ  چھ جماعت تک ایک نجی سکول میں تعلیم حاصل کرچکی ہیں مگر صحت کے مسائل کی وجہ سے وہ مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے پیاروں کو نہیں بچا سکے، میری اپنی ایک سالہ بہن بھی ہم سے بچھڑ گئی ہے۔

اس مرض کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ شادی سے قبل متعلقہ ٹیسٹ کرالیے جائیں، اور بالخصوص کزن میرج کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔

اب لمحہ خود کو کافی بہتر محسوس کرتی ہیں۔ اپنے کزن کے ہوٹل میں کاونٹر کو سنبھالتی ہیں۔ ان کا یوٹیوب چینل بھی ہے۔ ان کے مطابق انہیں سیروسیاحت کا بہت شوق ہے۔ وہ ملک کے بیشتر سیاحتی مقامات کی سیر کرچکی ہیں۔

اس سلسلے میں متعلقہ امراض کی ماہر ڈاکٹر مصبح منیر صاحبہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ تھیلیسیا ایک موروثی بیماری ہے جو کہ والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں، تھیلیسیما مائنر اور تھیلیسمیا میجر، تھیلیسمیا مائنر میں بچہ یا بچی خون کی کمی کا شکار ہوتے ہیں مگر انہیں باہر سے خون لگوانا نہیں پڑتا ہے۔ جبکہ تھیلیسیمیا میجر خطرناک قسم ہے جس سے بچے یا بچی کو عمر بھر باہر سے خون لگوانا پڑتا ہے۔ اس کی علامات چھ ماہ کے اندر ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں جیسے کھانے پینے میں کمی، دبلاپن، قد میں نمایاں کمی اور رنگ کا پیلا ہوجانا، اس کی ظاہری علامات ہیں۔ اسکی تشخیص ’’ایچ پی ایلکٹروپروسائیز، کمپلیٹ بلڈ کاوؐئنٹ‘‘ ٹیست سے ہوتی ہے اور  کچھ دیگر جنیاتی ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کے مطابق جب والدین تھیلیسمیا مائنر کا شکار ہوں تو 25 فیصد امکان یہ ہوتا ہے کہ بچہ تھیلیسمیا میجر میں مبتلا ہوگا۔

اس مرض کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ شادی سے قبل متعلقہ ٹیسٹ کرالیے جائیں، بالخصوص کزن میرج کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔ بہت سے ممالک میں قانونی طور پہ شادی سے قبل ٹیٹ کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں ہم نے تربت میں رضاکارنہ طور پہ ’کیچ تھیلیسمیا کیئر سنٹر‘ چلانے والے ارشاد عارف سے بات کی جو کہ گزشتہ دو سال سے اس مرض میں مبتلا بچوں کے لیے مختلف طریقوں سے خون اکٹھا کرکے متاثرین کو عطیہ کرتے آرہے ہیں،  نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس 10 سے 15 سال کے 309 بچے ہیں جن کا تھیلیسیمیا میجر کے تحت اندراج ہے۔ انکے مطابق انہیں ہر پندرہ بیس دن بعد خون لگتا ہے۔ اگر مریض کو سلاتھ ہی کوئی اور انفکشن بھی ہو تو یہ دورانیہ کم ہوکر ایک ہفتہ بھی ہوسکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ سنٹر میں تربت کے دور دراز، نواحی علاقوں سمیت ضلع پنجگور اور گوادر سے بھی بچے داخل ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس سے پہلے متاثرہ بچوں کے والدین خون کے عطیہ کے لیے کبھی سکولوں اور کالجوں کا رخ کیا کرتے تھے تو کبھی رشتہ داروں سے منتیں کرتے، لیکن جب سے ہم نے یہ کام شروع کیا ہے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مریض بچوں کے والدین کو تکلیف نہ ہو اور انہیں بروقت خون دستیاب ہوجائے۔ ہم خون کے عطیہ کے لیے لیے مختلف مقامات پہ ’بلڈ ڈونیشن‘ کیمپ لگاتے ہیں اور لوگ تعاون کرتے ہیں۔

ارشاد عارف نے بتایا کہ ہم نے انسانیت کی خدمت کی خاطر 2019ء میں اس کی بنیاد رکھی تھی۔ ہم نے گزشتہ چند سالوں میں مریض بچوں کے والدین کی آنکھوں میں دکھ کی کہانیاں محسوس کیں جو خون کے لیے دردر کی ٹھوکریں کھا کے آئے ہوتے ہیں۔ لیکن اب ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ ہم لوگوں میں آگاہی پیدا کر رہے ہیں اور ہماری ٹیم اپنے ہدف کو محنت و لگن سے پورا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسا نظام بنایا ہے کہ بچوں کے والدین کو بھی سنٹر میں آنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں ایک دوستانہ ماحول ہے، ٹیسٹ کرادیے جاتے ہیں جس کو خون کی ضرورت ہو انہیں خون بھی لگا دیا جاتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...