’’میر جان‘‘ عامر رانا کا تاریخ ساز ناول

افتحارالدین بھٹہ

104

محمد عامر رانا کا شمار پاکستان کے معروف صحافیوں اور سٹریٹیجک تجزیہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے مضامین اور تجزیے ملکی اور بین الاقوامی اخبارات اور جریدوں میں اہتمام سے شائع ہوتے ہیں۔ تاہم ان کی زندگی کا ایک پہلو اور بھی ہے جو اردو ادب سے جڑا ہوا ہے۔ وہ ایک کامیاب افسانہ نگار اور ناول نگار کی حیثیت سے بھی الگ شناخت اور پہچان رکھتے ہیں۔ اردو ادب کے شائقین ان کی افسانہ نگاری اور ناول نگاری کو بھرپور انداز سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ عامر رانا سے میرا تعلق ترقی پسند تحریک کے حوالے سے قریبی بلکہ ذاتی سا ہے۔ وہ ایک نوجوان اور انتھک تخلیق کار ہے۔ ان کی ہر تحریر اپنے اندر معاشرے میں مثبت معاشی، سماجی اور اخلاقی تبدیلیوں کی فکر لیے ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ ترقی پسند حلقوں میں کافی مقبول بھی ہیں۔ اس ناول کی تقریب رونمائی گزشتہ دنوں پاک ٹی ہاؤس لاہور میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیر اہتمام ہوئی۔

یہاں میں یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اردو میں ادب کی آبیاری ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند مصنفین نے کی۔ انہوں نے گھٹن زدہ ماحول میں رجعت پسند روایت سے بغاوت کرتے ہوئے معاشرے میں انصاف، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور حقوق کے لیے اپنی تحریروں کے ذریعے جدوجہد کی۔ انہوں نے سرمایہ دار کے جبر، مزدور کے پریشان کن حالات، بھوک، افلاس، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اورمٹھی بھر افراد کی وسائل پر اجارہ دار کے خلاف اپنی شاعری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری کے ذریعے آواز اٹھائی۔ انہوں نے معاشرے کی حقیقی عکاسی کی۔ جس پر بعض مفاد پرست حلقوں کی طرف سے ناک بھوں بھی چڑھایا گیا۔ یہ ترقی پسند ہی تھے جنہوں نے اردو کا دامن بین الاقوامی معیار کے ادب سے مالا مال کر دیا۔ اس کی تازہ ترین مثال محمد عمر رانا کا ناول ’’میر جان‘‘ ہے۔

محمد عمر رانا کا پہلا ناول ’’سائے‘‘ چندسال پہلے شائع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’ادھوری محبتیں اور پوری کہانیاں“ بھی اردو ادب کے قارئین میں کافی مقبول ہوا۔  اب ان کا ناول ”میرجان“ منصہء شہود پر آیا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عمر رانا نے اپنی ادبی تخلیقی صلاحیتوں کو صحافتی سرگرمیوں کی نذر نہیں ہونے دیا۔ وہ صحافت میں بھی کامیاب  رہے اور اردو ادب کو بھی اپنی پُر اثر اور حقیقت پسند تحریروں سے مالا مال کر رہے ہیں۔

’’میر جان‘‘ پڑھتے ہوئے یہ شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے ملک کے معروضی حالات کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ یوں یہ ناول محض ناول نہیں بلکہ ہماری تاریخ ہے۔ اس کا ماحول، اس کے کردار وہی منظرنامہ پیش کر رہے ہیں جو اس وقت ہمیں چاروں طرف سے اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ناول میں رومان بھی ہے اور کچھ تلخ حالات و واقعات بھی ہیں۔ انہوں نے ان دونوں کو بڑی سادگی اور پُر کاری سے ایک دوسرے کے ساتھ نتھی کیا ہے۔ اس کے کردار حقیقی زندگی سے لیے گئے ہیں۔ ماحول میں ذرا بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ ناول کی زبان گنجلک نہیں اور اس کا طرز بیان بھی فلسفیانہ نہیں بلکہ دلنشین، عام فہم اور سادہ ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے قاری کہیں بھی سانس نہیں لیتا بلکہ چاہتا ہے کہ اس کو جلد سے جلد ختم کروں۔ یہ وہ خوبی ہے جو آج کل بہت کم ناولوں میں دیکھی جا رہی ہے۔

امید ہے کہ عامر رانا کا ناول ”میر جان“ اردو ادب میں دلچسپی رکھنے والوں باذوق قارئین کو پسند آئے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...