مثالیت پسندی کے نام پہ جمہوری عمل کے راستے میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں

160

جمہوریت اور سماج کا باہمی تعلق کیا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کر نے سے بہت سے فکری مغالطے دور ہوجاتے ہیں۔ ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے دیکھنے اور گفتگو کرنے سے کبھی بھی اشکالات دور نہیں ہوتے۔ جمہوریت پہ جتنے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ زمینی حقائق کی کم فہمی اور سماجی قدر و معیار سے لا علمی ہے۔ جمہوریت صرف ایک طرز حکومت ہے جس کو چلانے والا سماج ہے۔ اگر اُسے بہتر سے بہترین بنانا ہے تو اس کو وہ لوگ دیئے جائیں جو اس کی نوک پلک سنواریں جو اسے اس طرح لے کر چلیں کہ یہ وہ نتائج دینے لگے جو اس کا اصل مقصد ہے۔

جمہوریت کے حوالے سے دو مغالطے یہ ہیں کہ یہ موروثی نہیں ہوتی، اور دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو اعلیٰ معیار کا حامل ہونا چاہیے۔

پہلے مغالطہ کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اس کے پیچھے یہ سوچ کار فرما دکھائی دیتی ہے کہ باپ کے بعد بیٹا یا بیٹی ہی کیوں لیڈر بنتے ہیں۔ آخر کوئی اور سیاسی راہنما، قائد و بانی کی جگہ پہ کیوں نہیں بیٹھ سکتا یا ایک ہی شخص سال ہاسال سے پارٹی کی قیادت کیوں سنبھالے رکھتا ہے۔

اس کے پیچھے یہ رد عمل بھی موجود ہوتا ہے کہ یہ تو سیاسی غلامی ہے۔ اگر آپ برصغیر کا مزاج دیکھیں یا اسلامی تاریخ پڑھ کر دیکھیں، تو پتہ چلتا ہے کہ ہر معاشرے، سماج اور زمانے کے تقاضے اپنے ہوتے ہیں۔ اس کے بارے میں ایک ہی رائے اور سو چ رکھنا بھی جمہوری تقاضوں کے خلاف ہوتا ہے۔ معاشرے ارتقاء کرتے ہیں لیکن سفر وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں معاشرہ اپنی حقیقی حالت میں موجود ہوتا ہے۔ اُس وقت بنیادی مسئلہ معاشرے کی مختلف اکائیوں کو یکجا کرنا اور رکھنا ہے تاکہ ملک وعوام ترقی کریں اور ان میں ہم آہنگی برقرار رہے۔ یہ اُسی وقت برقرار رکھا جا سکتا ہے جب معاشرے کے مختلف افراد و طبقات مل جل کرکام کرتے ہیں۔

بنیادی مسئلہ ان سب کا ایک دوسرے کے ساتھ بندھا اور جڑا ہوا ہونا ہے۔ یہ عمل پارٹی کے اندر بھی اور پارٹی سے باہر بھی اہم ہو تا ہے۔ ورنہ شیرازہ بندی مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائے گی۔

یہاں تین مثالیں پاکستانی سیاست سے دیتا ہوں۔

میں نے مسلم لیگ (ن)کے ایک ذمہ دار راہنما سے پوچھا کہ آپ نے حمزہ شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ کیوں منتخب کیا؟

آپ کے پاس بہت سے راہنما موجود ہیں جنہوں نے پارٹی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ آپ انہیں منتخب کرتے۔ انہوں نے اس سوال کے دو جواب دیے۔ ایک جواب یہ تھا کہ حمزہ شہباز نے بھی پارٹی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں جیسے دیگر راہنماوں نے قربانیاں دیں۔ اسے نواز شریف کا بھتیجا اور شہباز شریف کا بیٹا ہونے کے ناطے بہت اذیتیں اور تکالیف جھیلنا پڑیں۔ پارٹی کے راہنما ہونے کی حیثیت سے بھی، انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بر داشت کیں۔ دوسرا جواب انہوں نے دیا کہ اگر کوئی اور راہنما بحیثیت وزیر اعلٰی پنجاب مقرر کیا جاتا تو پارٹی میں پھوٹ پڑجاتی۔ ہر راہنما ایک دوسرے کے برابر معیار رکھتا ہے۔ سوال اٹھتا کہ اُسے بنادیا تو اِسے کیوں نہ بنایا گیا۔ لہٰذا انتشار و اختلاف سے بچنے اور پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا گیا ہے۔ گویا شریف خاندان یا اس کے سربراہ نواز شریف کو یہ مرتبہ حاصل ہے کہ اگر اِن میں سے کوئی بھی عہدے پہ فائز ہو گا تو تمام لوگ اس پہ متفق ہوں گے۔ اس لیے کہتے ہیں کسی دور میں ووٹ بھٹو کے نام پر ملتا تھا۔ آج نواز شریف کے نام پہ لوگ ووٹ دیتے ہیں۔ اسی طرح دوسری مثال ہے کہ عمران خان صاحب نے عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب مقرر کیا۔ جب کہ پارٹی میں دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ عثمان بزدار نے پارٹی کے لیے قربانیاں بھی نہیں دیں اور ان کا شمار بھی پی ٹی آئی کی پہلی صف میں نہیں ہوتا۔ بھلا وہ کیسے ہو سکتا تھا۔ انہوں نے الیکشن 2018ء سے چند روز پہلے ہی پارٹی جوائن کی تھی۔ عمران خان صاحب نے انہیں اس وجہ سے مقرر کیا کہ باقی راہنماوں میں پھوٹ پڑنے اور گروپ بننے کا خطرہ تھا یا بنے ہوئے گروپوں میں مزید عدم تعاون و رابطہ کی صورت بن سکتی تھی۔ ان کے پاس عثمان بزدار کے علاوہ کوئی اور چوائس نہ تھی۔ آج پنجاب کی صورت حال پہ غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو صوبہ پنجاب کی جتنی ترقی شریف دور میں ہوئی وہ بزدار دور میں نہیں ہوئی۔ بزدار صاحب نے خود اپنی نا تجربہ کاری کو تسلیم کیا اور اپنے نو وارد ہونے کا اعتراف بھی کیا۔ ایک صورت یہ تھی کہ وہ عمران خان صاحب کی خدمت میں عرض کردیتے کہ میں اس عہدے کا اہل اخلاقی حوالے سے ہوں اور نہ ہی سنیارٹی کی بنیاد پہ اس  کا اہل ہوں۔ تب عمران خان صاحب ممکن ہے کسی اور شخص کو منتخب کرتے۔ خاندانی ہو یا راہنما کی صوابدید ہو دونوں صورتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ مقصد داخلی انتشار سے جماعت کو محفوظ رکھنا ہے۔۔

اگر حق انتخاب عوام سے لے لیا جائے، پھر چاہے باقی تمام حق دے دیے جائیں تو یہ عمل کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن جمہوری نظام نہیں ہو سکتا

عرض کر نے کا مقصد یہ ہے کہ جمہوریت میں موروثیت نہیں ہوتی۔ یہ حکم الٰہی یا Permanent Value نہیں ہے۔ جمہور کی آواز،جمہور کا مفاد اور جمہور کا فیصلہ اہم ہوتا ہے۔ اگر وہ خاندانی اور موروثی سیاست کو رد کرتا ہے تو جی بسم اللہ۔ اگر وہ قبول کرتا ہے تو اسے نظم حکومت کے استحکام کے لیے قبول کرنا پڑتا ہے خواہ اسے آپ کے نزدیک ہنگامی طور پر قبول کیوں نہ کیا جائے۔ اگر آپ موروثیت کے حق میں نہیں ہیں تو عوامی رائے عامہ اس کے خلاف ہموار کیجئیے۔ پی ٹی آئی میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے اور عمران خان ایک بار پھر پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے۔ کیا خیال ہے، اگر عمران خان کے علاوہ کوئی اور پارٹی کے سربراہ بن جائے تو پارٹی اپنا وجود برقرار رکھ سکے گی؟ کبھی نہیں رکھ سکے گی۔

دوسرا مغالطہ ہے کہ بس حکمرانوں کو ایمانداراور بہت اعلی کردار کا مالک ہونا چاہئیے۔

جب ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو جمہوریت میں حکمران اوپر سے نہیں ہمیشہ نیچے سے آتے ہیں یعنی وہ عوام سے ہی آتے ہیں۔ وہ عوام ہی کے کردار اور اخلاق کا پرتو ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یا دنیا میں آمر اسی جذبے اور نیت سے آئے کہ چونکہ سیاستدان ’’ڈاکو چور‘‘ ہیں لہٰذا ہم ایسی ٹیم لائیں گے جو “پاک صاف” ہوگی۔ لیکن انہوں نے سیاستدانوں میں سے ہی اپنی ٹیم کا انتخاب کیا یا ٹیکنو کریٹس کو چنا۔ جب انہوں نے اقتدار چھوڑا تو ملک کو انتشار کا شکار کر کے گئے بلکہ ملک کی مختلف اکائیاں ایک دوسرے سے ناراض اور مقابل چھوڑ کرگئے یعنی وفاق کو کمزور کردیا۔

اگر وہ الیکشن کی طرف گئے تو لوگوں کے ووٹ لے کر پھر وہی سیاستدان واپس آگئے جنہیں انہوں نے ’’چور ڈاکو‘‘ کہہ کر نکالا تھا۔ اس لیے اوپر سے “نیک پارسا” حکمرانوں کو مسلط کر نے سے نتائج ہمیشہ خراب نکلے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ عوام کا حق عوام کے سپرد کر دیا جائے۔ میں ہمیشہ یہ عرض کرتا ہوں عوام ماں کی طرح ہے حکمران اس کی گود میں پرورش پانے والے بچے کی طرح ہیں۔ ماں کے کردار واخلاق کی جھلک اولاد میں ہوتی ہے۔ 22 کروڑ “کرپٹ” عوام میں سے ہم ایک “صادق و امین” ڈھونڈلاتے ہیں۔ وہ پاکستانی قوم کو  شدید بحرانوں اور مسائل میں دھکا دے کر بری الذمہ بن جاتا ہے۔ یہ نتیجہ ہائبرڈ سسٹم کا ہے جس کا تجربہ گزشتہ سالوں میں کیا گیا۔ بہتر یہ ہے کہ جمہوریت کے اس بنیادی اصول پر عمل کیا جائے کہ عوام کا یہ حق ہے کہ وہ اپنا نمائندہ حکمران چنے۔ خواہ کسی خاندان کو چنے، کسی جماعت کو منتخب کرے یا کسی فرد کو۔ اگر حق انتخاب عوام سے لے لیا جائے اور باقی تمام حق دے دیئے جائیں تو وہ باقی سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن جمہوری نظام نہیں ہو سکتا۔

یہاں قطعاً جمہوریت میں موروثی عمل کی حمایت کرنا مقصود نہیں، نہ ہی یہ کہنا مطلوب ہے کہ حکمران اعلی اخلاقی اقدار کے مالک نہیں ہوتے یا اس طرف توجہ ہی نہیں دینی چاہیے، مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں حقیقیت میں ان چیزوں کو صحیح کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی اور نہ ہی ریاست کا یہ ہدف رہا، بس مثالیت پسندی کے نام پہ جمہوری عمل کو مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنا دیا جاتا ہے، اور ہمارا سفر کچھ وقت کے بعد پھر وہیں سے شروع ہوجاتا ہے جہاں سے خوش نما نعروں کے نام پہ ہٹائے گئے تھے۔ اس ساری کشمکش میں عوام کو ایک طرف کر دیا جاتا ہے کہ انہیں خبر نہیں کہ کیا کرنا ہے۔ مکرر عرض ہے کہ اگر حق انتخاب عوام سے لے لیا جائے، پھر چاہے باقی تمام حق دے دیے جائیں تو یہ عمل کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن جمہوری نظام نہیں ہو سکتا۔ نظام چلتا رہے، عوام میں آگہی اور شعور پیدا کیا جاتا رہے، تو وقت کے ساتھ جمہوری عمل اپنے اندر اصلاحات کی جگہ بھی پیدا کرتا جائے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...