خواتین کے حقوق اور جدوجہد کی کہانی

عروج جعفری

109

گزشتہ ایک صدی سے عورتوں کے حقوق کے لیے نہایت شدت سے ہر سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے اور وقت کے ساتھ اس کی شدت اور وسعت دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی طور پر اس کے لیے آٹھ مارچ کو مخصوص کیا گیا ہے۔ اس دن دنیا بھر میں خواتین کے حقوق سے متعلق سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ عروج جعفری کا تعلق کراچی سے ہے۔ وہ گزشتہ کئی برس سے صحافت اور براڈ کاسٹنگ کے شعبے سے منسلک ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں عروج جعفری نے اپنے حقوق سے متعلق عورتوں کی جدوجہد کو موضوع بنایا ہے۔

آٹھ مارچ کو ہم عالمی سطح پہ عورتوں کا دن مناتے ہیں۔ جس پر دنیا بھر میں عورت کے حقوق کے تحفظ کی تنظیمیں عورتوں کے مسائل سے جڑے معاملات پر آواز بلند کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں نہ عورتیں نئی ہیں نہ ان سے جڑے مسائل۔ تو پھر اس کی ابتدا کب اور کہاں سے ہوئی، یہ جاننا اہم ہے۔ اس تاریخ نے کہاں سے جنم لیا ور کس طرح اقوام متحدہ نے اسے عالمی طور پر منانے کی حامی بھری۔  تقریباً ایک صدی سے زائد عرصے سے دنیا بھر میں یہ دن آٹھ مارچ کو منایا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے آئی ڈبلیو ڈی یا انٹرنیشنل وومنز ڈے بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی ابتدا مزدوروں کی تحریک سے ہوئی جسے آگے چل کر اقوامِ متحدہ نے سالانہ طور پر منائے جانے کی پہچان دی۔  اس دن کے منانے کی بنیاد یوں پڑی کہ انیس سو آٹھ میں نیویارک میں پندرہ ہزار خواتین نے اوقاتِ کار کے تعین، بہتر اُجرت اور ووٹ کا حق مانگنے کے لیے ایک مارچ سے کی۔ اور پھر انیس سو نو میں امریکی سوشلسٹ پارٹی نے قومی سطح پر آٹھ مارچ کو باقاعدہ طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔

جہاں تک اس دن کو عالمی سطح پر پہچان دینے کی بات ہے تو اس کی تجویز انیس سو دس میں کلارا زیٹکن نے پیش کی جو کوپن ہیگن میں ورکنگ وومن انٹرنیشنل کانفرنس کے شرکا میں سے تھیں۔ یاد رہے کہ اس سترہ ملکی کانفرنس میں سو سے زائد خواتین نے شرکت کی تھی اور انھوں نے کلارا زیٹکن کی تجویز کو بلا جھجک تسلیم کیا تھا۔ لیکن کلارا نے اس کے لیے کوئی مخصوص تاریخ تجویز نہیں کی تھی۔

یہ تاریخ باقاعدہ طور پر انیس سو سترہ میں اس وقت طے ہوئی جب روسی خواتین نے دوسری جنگ عظیم میں زار اقتدار کے دوران لگا تار چار روز تک روٹی اور امن کا مطالبہ کیا اورعبوری حکومت سے خواتین کے لیے ووٹ دینے کا حق حاصل کر کے رہیں۔ جس کے بعد پہلی بار انیس سو گیارہ میں، آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اورچند ممالک میں یہ دن باقاعدہ طور پر منایا گیا جس کی ایک سو دس سالہ تقریبات 2011میں دنیا بھر میں منعقد کی گئیں۔ گو کہ اقوام متحدہ نے عورتوں کا عالمی دن منائے جانے کا باقاعدہ اعلان انیس سو پچھتر میں کیا۔ اور اسکی پہلی تھیم’سیلیبریٹنگ دا پاسٹ پلاننگ فار دی فیوچر’ انیس سو چھیانوے میں رکھی گئی تھی۔

دیکھا جائے تو عورتوں کا عالمی دن اتنے برسوں میں عورتوں کی اپنے حقوق کے لیے جدو جہد کا ایک پیمانہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ خواتین اتنے برسوں میں سیاسی اور معاشی طور پر کہاں کھڑی ہیں اور یہ ایک جہد مسلسل کا نام ہے۔اور اس دن کی سیاسی و سماجی اہمیت یہی سمجھی جاتی ہے کہ خواتین اکٹھے ہو کر دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو اپنی غیر مساوی حیثیت کے لیے احتجاجی مظاہروں کےذریعے آواز بلند کرتی رہیں۔

اس دن دنیا بھر میں خواتین جامنی، ہرا اور سرخ رنگ کا پرچم بلند کرتی نظر آتی ہیں۔ انٹر نیشنل وومنز ڈے کی ویب سائٹ کے مطابق اس پرچم میں جامنی رنگ، تدبر اور انصاف کو ظاہر کرتا ہے، جب کہ ہرا امید کا رنگ مانا جاتا ہے اور سفید پاکیزگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ رنگ انیس سو آٹھ میں انگلینڈ کی وومن سوشل اینڈ پولیٹکل یونین کے رنگ مانے جاتے ہیں۔

عالمی سطح پر آٹھ مارچ کو دنیا کے کئی ممالک میں اس دن عام تعطیل بھی ہوتی ہے۔ ان ممالک میں روس بھی شامل ہے جہاں آٹھ مارچ سے چند روز قبل ہی پھولوں کی قیمت دگنی ہو جاتی ہے۔ چین کی بات کریں تو سٹیٹ کونسل کے تحت وہاں ورکنگ خواتین کو ہاف ڈے دیا جاتا ہے۔ جبکہ بعض مالکان اس پر عمل نہیں کرتے۔  اٹلی کی بات کریں تو وہاں اس دن کو مقامی زبان میں، لا فیستا ڈیلا ڈونا کہا جاتا ہے اور میموسا بلوسم کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ میموسا بلوسم پھول کے دیے جانے کی ابتدا کب ہوئی یہ تو اندازہ نہیں لگایا جا سکا لیکن روم میں اس کی شروعات جنگ عظیم دوم کے بعد ہوئی۔  امریکہ میں مارچ کا مہینہ، امریکی صدر کے فرمان کے مطابق وومنز ہسٹری منتھ مانا جاتا ہے اور امریکی خواتین کی سال بھر میں کی جانے والی مختلف قابل ستائش کوششوں کو سراہا جاتا ہے۔  عالمی سطح پر اس دن کی مخالفت میں رجعت پسندانہ طبقے بھی اپنی ڈیڑھ اینٹ مسجد بنا کے بیٹھتے ہیں، لندن سے لاطینی امریکہ تک دلی، کابل اور کراچی تک ان کے نظریات اب تو سوشل میڈیا کے ذریعے بھی قدامت پسندانہ سوچ کی دلیلیں دیتے ملتے ہیں۔

عورت کا سوال، طبقاتی نظام سے ملا کر دیکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ قومی سیاست سے علیحدہ نہ مانا جائےاور شاید اسی لیے دنیا بھر کی سوشلسٹ جماعتیں اس کی آواز بنتی نظر آتی ہیں۔

پاکستان میں انیس سو اکیاسی کے مارشل لا اور ضیا الحق کے دور حکومت میں جب ریاست نے اسلامائیزیشن کا بیڑہ بڑھ چڑھ کے اٹھا رکھا تھا تو کراچی میں خواتین کی روشن خیال تنظیموں کا ایک گروپ خواتین کی تنظیم شرکت گاہ میں جمع ہوا اور انیس سو اناسی کے حدود ٓارڈیننس کو چیلنج کرنے اور اس پر احتجاج کے لیے وومن ایکشن فورم یا خواتین محاذ عمل کا قیام ہوا۔ یہ وہ دور تھا جسے زباں بندی سے تعبیر کرنا غلط نہ ہو گا جس میں عورتوں کے لباس، عورتوں کے گھروں سے باہر نکلنے، بیرون ملک سفیر کی حیثیت سے تعینات کیے جانے، تعلیمی اداروں میں طالبات پر ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے، گانا گانے اور تھیٹر کرنے پر پابندیاں لگیں۔

ہمارے خطے اور اس کے رواجوں میں جکڑی عورت اپنا مقام آج سے نہیں صدیوں سے پہچانتی ہے۔ چاہے اس کا تعلق سماج کے کسی بھی طبقے یا رواج سے ہو

ابلاغ کے ذرائع کو ایک مخصوص پیرائے میں کام کرنے کی اجازت ہونا، وہ اخبارات جو اس ماحول میں آزادی اظہار کے حوالے سے گھٹن محسوس کر رہے تھےانہوں نے سینسر شدہ مواد کی جگہوں کو اپنے اخبارات میں سفید چھوڑ دینا شروع کیا جو اس بات کی نشاندہی تھا کہ یہاں سے مواد پر سنسر شپ عائد کی گئی ہے۔ یہ سب عکاس تھا کہ عورتوں کو پیچھے دھکیلنے کی سماجی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور گھر سے باہر کام کرنے کے لیے گھر کے مرد کی اجازت ضروری ہے۔ یہ وہ قدغنیں تھیں جو قابل عمل نہیں تھیں، کیونکہ صرف پڑھی لکھی عورت ہی نہیں بلکہ ہر وہ عورت گھر سے نکل کر کام کررہی ہے جسے گھر چلانے کی ضرورت ہے اور جہاں مرد کفیل نہیں ہیں۔ اس میں ہر طبقے کی عورت شامل تھی۔ یہ وہی دور تھا جب سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی تھی تاکہ سماجی اور معاشی مسائل پر بات نہ کی جا سکے۔

اس قدامت پسند سوچ کا ایک بڑا عکاس حدود آرڈیننس کا لاگو کیا جانا بھی تھا جو خواتین محاذ عمل یا ویف کی بنیاد بنا تھا۔ زنا آرڈیننس جو فہمیدہ اور اللہ بخش کے کیس پر عائد کیا گیا تھا، یہ ایک الجھا ہوا زنا اور عصمت دری کا مقدمہ تھا۔ ویف کے کراچی میں قیام کے بعد جلد ہی اس کے دفاتر لاہور، اسلام آبادا ور پشاور میں کھل گئے تھے۔ ایک طویل عرصے تک اسکی ممبرشپ صرف ایلیٹ کلاس تک محدود تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب ملک کے ہر علاقے اور طبقے کی خواتین اسکی رکن ہیں۔ ترجیحاً اس میں مذہبی اقلیتوں کی نمائندہ اور معاشی طور پر پسماندہ طبقوں کی خواتین کو شامل کیا گیا۔ ویف کی بانی اراکین میں سےچند خواتین نےاس وقت انفرادی حیثیت سے بھی اس میں شمولیت اختیار کی تھی جو اس وقت کے حالات اور قدغنوں کو غیر آئینی اور سماج پر تھوپے جانے کے مترادف سمجھتی تھیں، موجودہ ویف کی اراکین خود کو بائیں بازو کا بھی تسلیم کرتی ہیں۔کراچی میں جب ویف کا قیام ہوا تو اس کی نمائندہ خواتین نے سیاسی جماعتوں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے ایک چارٹر تیار کیا تاکہ اس پر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کی جا سکے، اس مرحلے میں بھی خواتین کے سوال پر مذہبی رجحانات والی جماعتوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا رہا اور مفتی محمود جیسے رہنماؤں نےاس چارٹر پر دستخط سے انکار کیا۔ لیکن دیگر سیاسی جماعتوں جن میں پیپلز پارٹی شامل تھی، انہوں نے اپنے منشور میں عورتوں کو دی جانے والی مراعات کو شامل کیا۔

ابھی یہ سب عوامل ابتدائی مراحل میں تھے کہ انیس سو تراسی میں لاہور میں قانون شہادت لاگو کر دیا گیا تو بارہ فروری کو ویف اور پاکستان وکلا تنظیم کی نمائندہ خواتین اور حامی مرد ساتھیوں نے ایک احتجاجی جلوس نکالا، جس پر پولیس نے نہ صرف لاٹھی چارج کیا بلکہ کئی خواتین کو گرفتار بھی کیا گیا۔

ویف کے قیام کے ساتھ ہی یہ بھی طے ہوا کہ کسی سے فنڈنگ نہیں لی جائے گی، اور اس میں ممبران برابری کی بنیاد پر کام کریں گے اور ایک ورکنگ کمیٹی رائے دہی کی بنیادوں پر فیصلے کرے گی۔ جلد ہی لاہور اور اسلام آباد میں ویف کے دفاتر بن گئے جس میں طاہرہ مظہر علی اور زریں سرفراز جیسی روشن خیال خواتین بھی شامل ہوئیں۔  دیکھا جائے تو اسی کی دہائی میں ویف پاکستان میں فیمینزم کی نمائندگی کرتی رہی۔ چاہے وہ احتجاج کی صورت میں ہو،قرار داد ہویا جلوس و مظاہرے۔ چاہے وہ حقوق نسواں کے لیے تھیٹر کرنا ہو، یا کوئی سگنیچر مہم،ہر صورت میں ویف عورتوں کی آواز بنی۔

ویف ہی وہ پہلی پاکستانی تنظیم تھی جس نے بنگلہ دیشی خواتین سے اکہتر کی جنگ میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی معافی مانگی۔ ویف ایک سیکولر جمہوری مملکت کا دعویٰ کرنے والی تنظیم ہے۔ ویف کا منشور تسلیم کرنے والی عورتوں کی دیگر تنظیموں میں، ڈیموکریٹک وومنز ایسوسی ایشن، تحریکِ نسواں، شرکت گاہ، پاکستان خواتین وکلا تنظیم، اپوا اور سندھیانی تحریک شامل تھیں۔  ویف کے قیام کا مقصد حدود آرڈیننس کے عائد کیے جانے اور اس کے مضمرات کا جواب دینا تھا بلکہ یہ بھی کہنا غلط نہ ہو گا کہ ویف ملک میں عورتوں کی مجموعی صورتحال کی بہتری کی علمبردار بنی۔

پاکستان میں پہلی بارعورتوں کے حقوق سے متعلق اس نوعیت کے مظاہرے کی ابتدا ہوئی، انیس سو تراسی میں جب بارہ فروری کو لاہور میں تقریبا سو کے قریب خواتین نے لاہور ہائی کورٹ کے سامنے اس وقت کے آمر جنرل ضیا الحق کے جبری قانون برائے گواہی کے خلاف سڑک پہ نکل آئیں۔ اس قانون کے تحت عورت کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے مقابلے میں نصف تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس دوران مظاہرے میں شریک خواتین پر لاہور پولیس نے نہ صرف لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا بلکہ پولیس نے پچاس کے قریب خواتین کو گرفتار بھی کیا۔ جو کہ پبلک اسمبلی قانون کی خلاف ورزی تھا۔ پاکستان کی موجودہ تاریخ میں اس مظاہرے کی اہم حیثیت مانی جاتی ہے۔  اس عمل سے بین الاقوامی سطح پر ریاست کو کافی سبکی اٹھانا پڑی کیونکہ یہ تمام کارروائی قابل مذمت ٹھہری۔ لیکن یہ کوششیں اس معاشرے میں کی جا رہی تھیں جہاں مذہب کو بنیاد بنا کر ہر قسم کی آزادی لینے کی رسم چلی آ رہی تھی۔

پدر شاہی سوچ اور اس کی بنیادوں پر ترتیب دیے گئے سماجی رویے اور قوانین کسی بھی ملک میں عورتوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ مانے جاتے تھے اور رہیں گے۔ اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب ویف جیسی تنظیم بھی سرد سی پڑتی دکھائی دی۔ لیکن یہ کبھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے موقف سے غفلت برتتی نظر ٓائی۔ پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی جنگ اس وقت سرد پڑنے لگی جب ریاستی سطح پر مذہب کا سہارا لینا آئے دن کا کھیل بن گیا اور اس کے نام پر عورت کا سماجی استحصال طول پکڑتا چلا گیا۔

ایسے میں اسلام آباد میں سوشلسٹ فیمنسٹ تنظیم ڈبلو ڈی ایٖف کا جنم ہوا، جو عورتوں کے سوال کو قومی سیاست کے دھارے سے جوڑتی ہے اور طبقاتی نظام کی نفی کرتی ہے۔ اس تنظیم کی شاخیں پچھلے پانچ برسوں میں ملک کے تقریبا ہر خطے میں موجود ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں سوشلسٹ نعرہ اور وہ بھی عورت کے سوال پر ایک چنگاری بھڑکانے سے کم نہیں کیونکہ جب عورتیں متحد ہو کر اپنے حقوق اور سماج میں برابری کا نعرہ بلند کرتی ہیں تو بہت سے ایوانوں پر بجلی سی گرتی ہے۔ فہمیدہ اللہ بخش کیس سے قندیل بلوچ کے قتل تک ایک ہی ریت چلی آرہی ہے،سامعہ سرور سے کوہستانی خواتین کی رقص کی وڈیو تک مذہب اور سماج کے نام پر بہیمانہ قتل کی رواج۔ موجودہ حالات میں دیکھیں تو کووڈ نے بھی گھریلو تشدد کو جلا بخشی اور عورتوں نے آنلائن تو کبھی سڑکوں پر ٹھیلے لگا کے اپنے گھروں کا چولہا جلائے رکھا۔ لیکن برابری کی بنیادوں پر ان کا وجود تسلیم کیا جانا مذہبی رجحانات کو گرما دیتا ہے۔

آٹھ مارچ جیسے پدر شاہانہ پاکستانی ماحول پر بم کی طرح گرائی جانے والی ایک تاریخ بن کے رہ گئی ہے۔ لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ رجعت اور مزاحمت کا ٹانکہ اب سماج میں متوازی انداز میں لگایا جا سکتا ہے۔

روشن خیال خواتین کی عورت دوست انسان دوست تنظیمیں منظم انداز میں ہر سال اس دن کو جشن کی طرح منائے جانے میں جٹ جاتی ہیں۔ سندھ سے لے کر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک عورتوں کے نعروں کی گونج اور جلوسوں کا انعقاد دیکھنے کو ملتا ہے۔  اس سال بھی یہی تیاریاں بڑی دھوم سے اپنی شان کے ساتھ حیدرآباد سے ملتان اور پشاور تک دیکھنے کو ملیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد تو اس میں شامل ہی تھے لیکن اس شعور کا دامن وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ اور تمام تر خدشات اور خطرات کے باوجود خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے اپنی متعلقہ شہری انتظامیہ پر دباؤ رکھا کہ ان کو آٹھ مارچ پورے شہری تحفظ کے ساتھ منانے دیا جائے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ بر صغیر کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو انیس سو بیس سے باچا خانی کے دور میں عورتوں کو نہ صرف تعلیم یافتہ بنائے جانے کے رجحانات ملتے ہیں بلکہ سماج سدھار تحریک میں تو عورتوں کے ساتھ مل کر گلی محلوں کی صفائی کی ترغیب بھی نظر آتی ہے۔ خطے میں س ب ب اور الف جانہ خٹک جیسی دلیر خواتین کی شاعری بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے خطے کی روایتی تاریخ باقاعدہ رقم نہیں کی جا سکی جو ان رجحانات کی ترسیل کر سکتی۔  پاکستان کا قیام چونکہ نوآبادیاتی بنیادوں پر ہوا اور ریاست اسی پر قدم جمانے کی کوشش کرتی آئی ہے اسی لیے عورت پر سوال کرنا آسان ہے لیکن عورت کا سوال اٹھانا غیر مذہبی اور غیر روایتی تصور کیا جاتا ہے۔ جب تک زر زن زمین کی فرسودہ سوچ معاشرے میں سرائیت کرتی رہے گی آٹھ مارچ لوگوں کے سینوں میں عورت کی آزادی کی شمع روشن کرتی رہے گی۔

عورت کو محکوم رکھنے کا اور کم تر ماننے کی حاکمانہ روایت ملک کے ایک حصے سے دوسرے تک ایسے ہی جڑ پکڑ چکی ہے جیسے کووڈ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا، سو جس طرح کسی وبا کی ویکسین نکل آتی ہے اسی طرح اس دنیا بھر میں عورت کے مساوی حقوق اور نمائندگی کا مرہم ایجاد ہو ہی جائے گا۔

ہمارے خطے اور اس کے رواجوں میں جکڑی عورت اپنا مقام آج سے نہیں صدیوں سے پہچانتی ہے۔ چاہے اس کا تعلق سماج کے کسی بھی طبقے یا رواج سے ہو۔ اور اسکی بڑی عکاس ہے یہ نظم ہے جو عورتوں کے حقوق کے لیے مزاحمت کرتی اور اس کا اظہار کرنے والی پشتو زبان کی شاعرہ، الف جانہ خٹک نے جو کہ دور افتادہ پہاڑی علاقے کرک کی رہنے والی تھیں انہوں نے انیس سو چھیالیس میں لکھ ڈالی تھی۔ یہ نظم آج بھی دنیا بھر کی خواتین کی مزاحمت اتنی ہی عکاس ہے جو برسوں پہلے تھی۔

نظم:

عورتیں بھی دل رکھتی ہیں

دل میں خواہشات رکھتی ہیں

سر میں دماغ،

دماغ میں احساسات رکھتی ہیں

پتھر تو نہیں وہ

تم جیسے ہی جذبات رکھتی ہیں

اچھے خیالات رکھتی ہیں

بلکہ تم سے کچھ بسیار رکھتی ہیں

ان بے گناہ پرندوں کو پنجرے میں قید کر دیا کیوں؟

بتاؤ عورتوں کو زندہ درگور کر دیا کیوں؟

ایک تو انہیں تعلیم سے محروم کیا اندھوں کی مانند

دوئم انہیں گھروں تک محدود کیا چوروں کی مانند

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...