مغربی فکر وتہذیب اور حمایت دین کے امکانات

544

دعوت دین کی ذمہ داری اور دیارِ مغرب میں اس کے لیے موجود وسیع میدان ہمیں دور جدید کی بعض ایسی اہم خصوصیات کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو نہایت واضح اور بدیہی ہونے کے باوجود، غیر داعیانہ طرز فکر کی بدولت امت کی نگاہ سے اوجھل ہیں۔

امت مسلمہ میں مغرب کے سیاسی ومعاشی غلبے کا جو رد عمل پیدا ہوا، بڑی حد تک قابل فہم ہونے کے ساتھ ساتھ، اس لحاظ سے غیر متوازن ہے کہ اس ساری صورت حال میں امت مسلمہ کا داعیانہ کردار اور اس کے تقاضے ہماری نظروں سے بالکل اوجھل ہو گئے ہیں۔ ہمارے پاس خدا کی دی ہوئی ایک ہدایت ہے جو ساری انسانیت کے لیے ہے اور امت مسلمہ اس ہدایت کی امین ہونے کے ناتے سے اس بات کے لیے مسؤل ہے کہ وہ خود حاکمیت کی حالت میں ہو یا محکومیت کی، اس ہدایت کو کسی تعصب کے بغیر دنیا کے ہر اس گروہ تک پہنچائے جس تک دعوت حق کے پہنچائے جانے کا کسی بھی درجے میں کوئی امکان ہو۔ کسی قوم کے ساتھ سیاسی واقتصادی مفادات حتیٰ کہ مذہبی تصورات کا ٹکراؤ بھی اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ امت مسلمہ اس قوم تک دعوت حق پہنچانے کی ذمہ داری سے غافل ہو جائے۔

مغربی اقوام تک دعوت حق پہنچانے کی یہ ذمہ داری امت مسلمہ پر کامیابی اور قبولیت کے امکانات سے بالکل قطع نظر کر کے عائد ہوتی ہے۔ تاہم اگر دعوت دین کے لیے میسر مواقع اور امکانات کے زاویے سے غور کیا جائے تو مغربی معاشروں میں صورت حال کئی حوالوں سے امید افزا اور سازگار دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ مغربی تمدن میں مذہب اور روحانیت سے دوری اور محض مادی وجسمانی ضروریات کی تکمیل وتسکین پر توجہ کے ارتکاز کا مظہر ایک پہلو سے بڑا بھیانک دکھائی دینے کے باوجود اس لحاظ سے اپنے اندر مثبت پہلو بھی رکھتا ہے کہ اس یک طرفہ طرز زندگی نے انسان کی زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا کر دیا ہے جو فطرت انسانی کے تقاضوں سے متصادم ہے۔ مغربی طرز معاشرت میں اس کا مطالعہ کئی پہلوؤں سے کیا جا سکتا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ یہ چیز شعوری یا لاشعوری طور پر ایک سچی اور فطری روحانی دعوت کی طلب اور پیاس پیدا کرتی ہے اور اگر داعیانہ ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ نیز دعوت دین کے حکیمانہ اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مغربی معاشروں کی اس ضرورت پر توجہ مرکوز کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے اسلام کے دامن رحمت سے وابستگی کے راستے نہ کھل جائیں۔

دعوت دین کی ذمہ داری اور دیارِ مغرب میں اس کے لیے موجود وسیع میدان ہمیں دور جدید کی بعض ایسی اہم خصوصیات کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو نہایت واضح اور بدیہی ہونے کے باوجود، غیر داعیانہ طرز فکر کی بدولت امت کی نگاہ سے اوجھل ہیں۔

مثال کے طور پر حیرت انگیز سائنسی اکتشافات وانکشافات کی روشنی میں کائنات کے نظم میں خالق کے علم وحکمت اور قدرت ورحمت کی جو ایمان افروز تفصیلات سامنے آتی ہیں، وہ ایمان باللہ کی دعوت کے لیے غیر معمولی تائیدی مواد فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایسے محسوس ومشہود حقائق ہیں جو محض سامنے آجانے سے ہی ایک سلیم الفطرت انسان کے قلب ودماغ پر ایسا تاثر قائم کرتے ہیں کہ اس کے سامنے فلسفیانہ ومنطقی استدلالات ہیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔

پھر یہ کہ گوناگوں تاریخی وسماجی عوامل کے نتیجے میں مغربی ذہن میں عمومی سطح پر مذہب کے حوالے سے ایک نوع کی بے تعصبی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جو فکر واعتقاد کی سطح پر کسی بھی نئی بات کو قبول کرنے یا کم از کم اس پر غور کرنے کے لیے بڑی اہم ہوتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اپنے روایتی اور نسلی مذہب کے ساتھ وابستگی اس کے لیے کسی نئے مذہب کو اختیار کرنے میں ہمیشہ ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مغرب میں فکری سطح پر مذہب کے ساتھ عدم اعتنا اگر ایک جانب منفی پہلو رکھتا ہے تو اس لحاظ سے ایک مثبت پہلو بھی رکھتا ہے کہ اس کے نتیجے میں“مذہبی تعصب”جیسی ایک بڑی رکاوٹ بھی بڑی حد تک دور ہوئی ہے جو اسلام کی دعوت کے فروغ میں شاید سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی۔

عقیدہ ومذہب کے معاملے میں ریاستی جبر کے خاتمے نے بھی دعوت حق کے فروغ کے حوالے سے معاون اور سازگار فضا پید اکرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج مغرب میں نہ ریاست کسی مذہب کو اس مفہوم میں تحفظ دے رہی ہے جس مفہوم میں قرون وسطیٰ میں دیتی تھی اور نہ مذہبی احتساب کے وہ ادارے موجود ہیں جن کے ہوتے ہوئے اہل مغرب کے لیے بڑے پیمانے پر کیا، انفرادی سطح پر بھی تبدیلی مذہب ممکن نہیں تھی۔ یہ تاریخ وتہذیب کی سطح پر رونما ہونے والی ایک بہت بڑی اور نہایت جوہری تبدیلی ہے جس کی قدر وقیمت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔

انسانی تہذیب کے ارتقا نے دور جدید میں بڑے پیمانے پر مسلم آبادی کے دیار مغرب کی طرف نقل مکانی اور یوں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے باہمی اختلاط کے وسیع اور پر امن مواقع پیدا کیے ہیں۔ اسباب کی دنیا میں یہ پہلو بھی دعوت دین کے زاویے سے بہت اہم ہے، اس لیے کہ انسانی تاریخ میں مختلف مذاہب کے فروغ اور نشر واشاعت کا عمل بنیادی طو رپر اسی طرح کے اختلاط اور تعامل کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔

اس ضمن میں جدید ذرائع ابلاغ اور ان کی اثر انگیزی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے ذریعے سے دعوت حق کو کسی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے آخری کونے میں بسنے والے انسان تک پہنچا دینا جس طرح آج ممکن ہے، اس سے قبل تاریخ کے کسی دور میں ممکن نہیں تھا اور یہ چیز بنی نوع انسان کی سطح پر امت مسلمہ کی ذمہ داریوں اور ترجیحات کے تعین میں اساسی اہمیت کی حامل بن جاتی ہے۔

مغرب میں دعوت اسلام کا فروغ ایک اور پہلو سے بھی غور وفکر اور توجہ کا متقاضی ہے:

دور جدید میں بطور ایک سیاسی طاقت کے، اسلام کے عالمی احیا کی بات کرتے ہوئے عام طور پر اس کے ایک ہی امکان پر غور کیا جاتا ہے، یعنی مغرب کی سیاسی ومعاشی بالادستی کا خاتمہ اور اس کی جگہ امت مسلمہ کا دوبارہ عروج اور سرفرازی سے ہم کنار ہونا۔ تاہم تاریخ کا مطالعہ ہمیں ایک دوسرے امکان پر بھی غور کی دعوت دیتا ہے۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کو عالمی سیادت کے منصب سے محروم کیا جاتا ہے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ منصب بالعموم کسی دوسری قوم کو ہی سونپتے اور اسے تاریخ وتہذیب کے ارتقا میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع عنایت کرتے ہیں۔ تاریخ کے عمومی قوانین کی رو سے عام طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی مغلوب قوم ازسرنو اٹھے اور قوت واقتدار حاصل کر کے دوبارہ دنیا کی باقی قوموں پر غالب آ جائے۔ البتہ ایسا بارہا ہوا ہے کہ سیاسی طور پر غلبہ پانے والی کوئی قوم فکر ونظریہ اور عقیدہ ومذہب کے میدان میں مغلوب قوم سے متاثر ہو کر اس نظریہ حیات کی علم بردار بن جائے اور یوں فاتح قوم کی قوت وصلاحیت اور استعداد مفتوح قوم کے عقیدہ ومذہب کی خدمت کے لیے استعمال ہونے لگے۔

اس کی بڑی واضح مثالیں پچھلے مذاہب کی تاریخ میں بھی ملتی ہیں اور اسلام کی تاریخ میں بھی۔ مثال کے طور پر مسیحی مذہب کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ اپنے آغاز کے بعد کم وبیش تین صدیوں تک اس کے پیروکار رومی سلطنت کے مظالم اور مذہبی ایذا رسانی کا نشانہ بنے رہے۔ تاہم چوتھی صدی میں خود رومی شہنشاہ نے مسیحی مذہب کی پیروی قبول کر لی اور اس کے بعد وہی مذہب جسے اس سے پہلے رومی سلطنت میں جائے پناہ نہیں ملتی تھی، سلطنت کا سرکاری مذہب قرار پاتا ہے۔ گویا مسیحیوں کو رومیوں پر سیاسی غلبہ تو نہیں ملتا، لیکن خود رومیوں کو مسیحی مذہب قبول کرنے کی توفیق مل جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں مسیحیت دنیا میں ایک غالب مذہب اور ایک بڑی سیاسی قوت کے طو رپر ابھر کر سامنے آتی ہے۔

اسی عمل کا اعادہ ہمیں یورپ کی قرون وسطیٰ کی تاریخ میں نظر آتا ہے۔ جب مختلف وحشی قوموں کی تاخت کے نتیجے میں مغربی رومی سلطنت تباہ ہو جاتی ہے تو مسیحیت بطور ایک مذہب کے ان مشرک او ربت پرست قوموں کے سامنے مغلوب ومفتوح ہو جاتی ہے، لیکن جلد ہی ہم دیکھتے ہیں کہ مسیحیت انھی وحشی اور اجڈ قوموں کو اپنے رنگ میں رنگ لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور پھر مسیحیت کو دوبارہ اقتدار مل جاتا ہے، لیکن اس صورت میں نہیں کہ وہ ان حملہ آور قوموں پر طاقت کے میدان میں غالب آ جائے، بلکہ اس شکل میں کہ ایک نیا گروہ جو طاقت کے زور پر غالب آگیا تھا، وہ حلقہ بگوش مسیحیت ہو جاتا ہے۔

ہماری اسلامی تاریخ کا ایک بہت بڑا انقلاب بھی اسی تاریخی اصول کا مظہر ہے جس کے متعلق اقبال نے اپنا مشہور شعر کہا ہے:
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

تاتاری نسل جو کہ بعد میں ترکی سلطنت کی شکل میں پانچ سو سال تک مسلمانوں کی قیادت اور اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی، اصل میں مسلمان نہیں تھی۔ تاتاریوں نے پہلے تو آکر مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، لیکن پھر خدانے انھی سے اپنے دین کا کام لیا اور وہ عالم اسلام کا بازوئے شمشیر زن بن گئے۔ان مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ احیائے اسلام کی حکمت عملی پر غور کرتے ہوئے ہمیں تاریخی قوانین اور تاریخ کے عمل کا ذرا وسعت، گہرائی اور فکری لچک کے ساتھ مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ایک ایسی قوم کے لیے، جو ہر لحاظ سے زوال کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، فتح اور غلبے کی توقعات قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اس پہلو پر بھی نظر رکھنی چاہیےکہ ممکن ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ ان قوموں کو ہدایت اور توفیق دے دے جن کو تکوینی سطح پر اس دنیا کی قیادت سونپی گئی ہے اور بائبل کی تعبیر کے مطابق وہ اس وقت “دنیا کے پھاٹکوں کے مالک”ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...