مصنوعی ذہانت کے عہد میں بنی نوع انسان

 میکس ٹیگ مارک، ترجمہ: عابد سیال

364

ٹیکنالوجی کی ترقی تو اپنی جگہ ہوش رُبا تھی ہی، اب جس میدان میں انسان نے قدم رکھا ہے، ماہرین کو خدشہ ہے کہ کہیں اس کا نتیجہ اس جہان سے انسان کی بے دخلی کی صورت میں نہ نکل آئے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت میں جس طرح انسان کی جگہ مشین نے لینا شروع کی ہے، اس سے حیرت کے ساتھ ساتھ تشویش کے در بھی کھلے ہیں۔ زیرنظر تحریر میکس ٹیگ مارک کی کتاب کی تلخیص کا ترجمہ ہے جو مصنوعی ذہانت کے دور میں بنی نوع انسان کو درپیش چیلنجز اور امکانات کے بارے میں دلچسپ پیرائے میں آگاہی فراہم کرتی ہے۔

ہزاروں برس سے زمین پر زندگی ترقی اور ارتقا کی منزلیں طے کر رہی ہے۔ کوئی حیاتیاتی وجود انسانوں سے بڑھ کر اس کی مثال نہیں۔ میکس ٹیگ مارک تصور کرتا ہے کہ ہم اب آخری ارتقائی مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں جسے وہ “لائف3.0” کا نام دیتا ہے۔ انسانیت کے اس دور میں، ٹیکنالوجی آزادانہ طور پر زندہ رہے گی، اپنے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر دونوں کو ڈیزائن کرے گی، اور بنی نوع انسان کے وجود پر اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسی مصنوعی زندگی تاحال زمین پر موجود نہیں ہے۔ تاہم، ہمیں غیر حیاتیاتی ذہانت کے ظہور کا سامنا ہے، جسے عام طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کہا جاتا ہے۔

ان کتابوں میں، آپ کو مستقبل کی ممکنہ صورتوں کی خاکہ کشی کے سفر پر لے جایا جائے گا۔ آپ یہ بھی سیکھیں گے کہ مصنوعی ذہانت کی تخلیق میں دراصل کیا کچھ شامل ہے اور مصنوعی ذہانت، انسانی ذہانت سے کیسے مختلف ہے۔ راستے میں، آپ کچھ ایسے بڑے فلسفیانہ سوالات سے دوچار ہوں گے کہ اصل میں انسان ہونے کا مطلب کیا ہے۔ کتاب کے اس خلاصے میں، آپ سیکھیں گے:

  • مصنوعی ذہانت کی تحقیق کا مطمحِ نظر کیا ہے؛
  • آپ کے کافی کپ میں کس قسم کی ابتری ہے؛ اور
  • کس طرح مصنوعی ذہانت ملازمت کے مواقع کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت زندگی کے مستقبل کی نمائندگی کر سکتی ہے، لیکن یہ ایک متنازعہ فیہ موضوع ہے۔

زمین پر زندگی کیسے نمودار ہوئی، یہ ایک جانی پہچانی کہانی ہے۔ تقریباً 13.8 ارب سال پہلے، بگ بینگ ہماری کائنات کو وجود میں لایا۔ پھر، تقریباً چار ارب سال پہلے، زمین پر ایٹموں نے اپنے آپ کو یوں مرتب کیا کہ وہ خود کو برقرار بھی رکھ سکیں اور اپنے جیسے دیگر بھی پیدا کر سکیں۔ زندگی پیدا ہو چکی تھی۔

جیسا کہ مصنف کی رائے ہے، زندگی کو نفاست کی سطحوں کے مطابق تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ زندگی کا ابتدائی مرحلہ، لائف 1.0، محض حیاتیاتی ہے۔ ایک بیکٹیریا پر غور کریں۔ اس کے رویے کا ہر پہلو اس کے ڈی این اے میں کوڈ کیا گیا ہوتا ہے۔ اس کے لیے زندگی بھر اس کے لیے اپنا طرزِ عمل بدلنا یا اس بارے میں کچھ نیا سیکھنا ناممکن ہے۔ کچھ نیا سیکھنے یا خود کو بہتر کرنے کی قریب ترین صورت ارتقاء ہے، لیکن اس میں کئی نسلیں لگ جاتی ہیں۔ زندگی کا دوسرا مرحلہ، لائف 2.0، ثقافتی ہے۔ اس میں انسان شامل ہیں۔ بالکل بیکٹیریا کی طرح، ہمارے “ہارڈ ویئر” یا جسم تیار ہوئے ہیں۔ لیکن سادہ طرز زندگی کے برعکس، ہم اپنی زندگی کے دوران نیا علم حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک زبان سیکھنے کو ہی کو لیجیے۔ ہم ان افکار و خیالات کو بدلنے اور دوبارہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں جنہیں ہم اپنا “سافٹ ویئر” کہہ سکتے ہیں۔ اور ہم اسی علم کو استعمال کرتے ہوئے اپنے فیصلے کرتے ہیں۔ آخری مرحلہ ایک تصوراتی زندگی، لائف 3.0 ہے، جو تکنیکی زندگی کی ایک شکل ہے جو اپنے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر دونوں کو ڈیزائن کرنے کے قابل ہے۔ اگرچہ ایسی زندگی تاحال زمین پر موجود نہیں ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کی مختلف ٹیکنالوجی کی شکل میں غیر حیاتیاتی ذہانت کا ظہور جلد ہی اس کو وجود میں لا سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں مختلف آرا رکھنے والوں کی درجہ بندی اس حوالے سے کی جا سکتی ہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انسانیت پر ابھرتے ہوئے اس کے اثرات کے بارے میں ان کے احساسات کیا ہیں۔ سب سے پہلے ڈیجیٹل یوٹوپیا والے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی زندگی ارتقاء کا ایک قدرتی اور مطلوبہ اگلا مرحلہ ہے۔دوسرے ٹیکنالوجی کو شک کی نظر سے دیکھنے والے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ مصنوعی زندگی جلد ہی کسی وقت کسی نوع کے اثرات کا باعث ہو گی۔ آخر میں مصنوعی ذہانت سے کو افادی زاویے سے دیکھنے والوں کی تحریک ہے۔ یہ لوگ اس بات پر قائل نہیں ہیں کہ مصنوعی ذہانت لازمی طو رپر انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو گی۔ لہٰذا وہ اس بات کا پرچار کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق تحقیق کو عالمی سطح پر مثبت نتائج کی طرف لے جایا جانا چاہیے۔

یادداشت، حساب کرنا(کمپیوٹنگ)، سیکھنا اور ذہانت کی صلاحیتیں واضح طور پر ایسی صفات نہیں ہیں جو صرف انسانوں میں ہوں۔ کیا شے ہے جو ہمیں انسان بناتی ہے؟ کیا ہماری سوچنے اور سیکھنے کی صلاحیت؟ یہ کسی کا خیال ہو سکتا ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کے محققین عام طور پر اس طرح کے تصور کے مخالف ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یادداشت، حساب، سیکھنے اور ذہانت کی صلاحیت کا کوئی لازمی تعلق گوشت پوست کے انسان سے نہیں۔

آئیے ذہانت  کے تصور سے شروع کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کی کوئی آفاقی طور پر تسلیم شدہ واحد تعریف نہیں ہے، لیکن مصنف ذہانت کو “پیچیدہ اہداف کو پورا کرنے کی صلاحیت” کے طور پر دیکھتا ہے۔مشینیں شطرنج کھیلنے جیسے متعین ذہانت کے کاموں میں ہم سے بہتر کارکردگی کے قابل ہو سکتی ہیں، لیکن انسانی ذہانت منفرد طور پر وسیع ہے۔ یہ زبان سیکھنے سے لے کر گاڑی چلانے جیسی لاتعداد مہارتوں کا احاطہ کرتی ہے۔ تاہم، اگرچہ عمومی مصنوعی ذہانت (Artificial General Intelligence) تاحال وجود میں نہیں آ سکی، تاہم یہ واضح ہے کہ ذہانت صرف ایک حیاتیاتی صلاحیت نہیں ہے۔ مشینیں بھی پیچیدہ کام مکمل کر سکتی ہیں۔

ذہانت، بالکل اسی طرح جیسے یادداشت، کمپیوٹنگ اور سیکھنے کی صلاحیتیں ہیں،ایک زیریں سطح کی آزاد صلاحیت ہے۔ یعنی، ایک آزاد پرت جو کسی زیریں سطح پر موجود مادی ذخیرے کی عکاسی یا اس پر انحصار نہیں کرتی۔ لہٰذا مثال دی جا سکتی ہے کہ انسانی دماغ معلومات کو ذخیرہ کر سکتا ہے، لیکن اسی طرح فلاپی ڈرائیوز، سی ڈیز، ہارڈ ڈرائیوز، ایس ایس ڈیز اور فلیش میموری کارڈز بھی ایسا کر سکتے ہیں اگرچہ دماغ اور یہ اشیا ایک جیسے مواد سے بنے ہوئے نہیں ہیں۔

لیکن اس سے پہلے کہ ہم ‘کمپیوٹنگ’ کا معنی سمجھنے کی کوشش کریں، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کمپیوٹنگ دراصل ہے کیا۔  کمپیوٹنگ میں معلومات کی نئی تشکیل کی جاتی ہے۔ لہٰذا کمپیوٹر میں، مثال کے طور پر، لفظ “ہیلو” کو صفر اور ایک کی خاص ترتیب میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ اصول یا سانچا جو اس تشکیل کا تعین کرتا ہے، اس ہارڈ ویئر سے آزاد ہے جو اسے انجام دیتا ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ اہم چیز کیا ہے، اصول یا سانچا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکھنے کا عمل صرف انسانوں سے خاص نہیں، وہی اصول اور سانچے انسانی دماغ سے باہر بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے محققین نے مشینوں کے سیکھنے کے میدان میں بہت بڑی پیش رفت کی ہے، ایسی مشینیں جو اپنے سافٹ ویئر کو خود بہتر بنا سکتی ہیں۔ لہٰذا، اگر یادداشت، سیکھنے، کمپیوٹنگ اور ذہانت واضح طور پر انسان نہیں ہیں، تو پھر کیا شے ہے جو ہمیں انسان بناتی ہے؟ چونکہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں تحقیق تیزی سے جاری ہے، اس سوال کا جواب دینا مشکل ہی ثابت ہوگا۔

انسانی سطح کی مصنوعی ذہانت بنانے کے نتیجے میں ایک ایسی سپر انٹیلیجنٹ مشین وجود میں آسکتی ہے جو دنیا کا نظام اپنے ہاتھوں میں لے لے

مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور مستقبل قریب میں انسانی زندگی کو متاثر کرے گی۔ مشینیں انسانوں کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ ہم انہیں ہزاروں برس سے دستی کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اگر آپ اپنی ادراک کی مہارتوں، جیسے ذہانت، زبان اور تخلیقی صلاحیتوں کو اپنی اہمیت اور پہچان بناتے ہیں تو ان مشینوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت آپ کو تشویش میں مبتلا کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔

مصنف کو 2014 میں ایک حیرت افزا لمحے کا سامنا ہوا جب اس نے مصنوعی ذہانت کے نظام کو بریک آؤٹ نامی ایک پرانی کمپیوٹر گیم کھیلتے ہوئے مشاہدہ کیا۔ یہ وہ کھیل جس میں آپ ایک پیڈل کی چال سے گیند کو دیوار سے ٹکراتے ہیں۔آغاز میں مصنوعی ذہانت کے نظام نے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن اس نے جلد ہی سیکھ لیا اور آخر کار اسکور کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی ایک ذہین حکمت عملی تیار کرلی جس کے بارے میں اس گیم کے ڈویلپرز نے بھی نہیں سوچا تھا جب وہ خود اسے کھیل رہے تھے۔

یہ مارچ 2016 میں دوبارہ ہوا، جب مصنوعی ذہانت کے نظام AlphaGo نے دنیا کے بہترین Go کھلاڑی لی سیڈل کو شکست دی۔ Goایک حکمت عملی کا کھیل ہے جس میں وجدان اور تخلیقی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ گیم میں اور بھی بہت سی ممکنہ پوزیشنیں ہیں،پھر کائنات میں ایٹم بھی ہیں، اس لیے محض طاقت کا تجزیہ کرنا عملی افادے کا باعث نہیں ہے۔ لیکن مصنوعی ذہانت کا نظام پھر بھی فتح کی راہ پر گامزن ہوا، جس سے ایسا لگتا ہے کہ اس نے بالکل اسی قسم کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جو درکار تھیں۔

مصنوعی ذہانت کا نظام،فطری زبانوں کی آموزش کے میدان میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ذرا غور کریں کہ حال ہی میں ‘گوگل ٹرانسلیٹ’ کے فراہم کردہ تراجم کا معیار کتنا بہتر ہوا ہے۔یہ واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل قریب میں انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کرے گا۔ حساب کتاب پر مبنی تجارت مالیات کو متاثر کرے گی۔ خود مختار ڈرائیونگ نقل و حمل کو محفوظ تر بنائے گی، سمارٹ گرڈ توانائی کی تقسیم کو بہتر بنائیں گے اور مصنوعی ذہانت والے ڈاکٹر صحت کی دیکھ بھال کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیں گے۔سب سے بڑا غورطلب مسئلہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کا ملازمتوں پر کیا اثر پڑے گا۔ بہر کیف جیسےجیسے مصنوعی ذہانت کا نظام زیادہ سے زیادہ شعبوں میں انسانوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے، ہم انسان بے روزگار بھی ہو سکتے ہیں۔

آئیے اب مصنوعی ذہانت کی ترقی کے دیگر ممکنہ اثرات کی طرف آتے ہیں۔انسانی سطح کی مصنوعی ذہانت بنانے کے نتیجے میں ایک ایسی سپر انٹیلیجنٹ مشین بن سکتی ہے جو دنیا کا نظام اپنے ہاتھوں میں لے لے۔ اب تک مصنوعی ذہانت کا اطلاق محدود شعبوں جیسے زبان کے ترجمہ یا حکمت عملی کے کھیلوں میں کافی حد تک ہوتا رہا ہے۔اس کے برعکس مصنوعی ذہانت کی تحقیق کا اصل مطمحِ نظر AGI  کی تخلیق ہے جو انسانی ذہانت کی سطح پر کام کرے گی۔

لیکن اگر یہ مطمحِ نظر حاصل ہو جائے تو کیا ہوگا؟

آغاز کرنے والوں کے لیے، AGI  کی تخلیق کا نتیجہ وہ ہو سکتا ہے جسے مصنوعی ذہانت کے محققین انٹیلی جنس دھماکے کا نام دیتے ہیں۔ انٹیلی جنس دھماکہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ایک ذہین مشین ‘سپر انٹیلی جنس’ حاصل کر لیتی ہے، یعنی ذہانت کی ایسی سطح جو انسانی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ مشین سپر انٹیلی جنس کی صلاحیت، تیزرفتاری سے سیکھنے اور خود کو پہلے سے بہتر کرنے کی صلاحیت کی بنا پر حاصل کرے گی کیونکہ AGI کی بنا پر یہ مشین خود سے بہتر مشین ڈیزائن کرنے کی صلاحیت کی حامل ہو گی اور وہ مشین پھر خود سے بہتر مشین ڈیزائن کرے گی اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ اس سے وہ انٹیلی جنس دھماکہ پیدا ہو سکتا ہے جس سے مشین انسانی ذہانت سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔  مزید یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سپر انٹیلیجنٹ مشینیں دنیا پر قبضہ کر سکتی ہیں اور ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں، چاہے ہمارے ارادے کتنے ہی اچھے ہوں۔

آئیے فرض کرتے ہیں، مثال کے طور پر، انسان ایک سپر انٹیلی جنس کی پروگرامنگ کرتے ہیں جس کا تعلق بنی نوع انسان کی فلاح سے ہے۔ سپر انٹیلی جنس کے نقطہ نظر سے، یہ شاید ان کی ذہانت کے درجے سے بہت نیچے بچوں جیسے ایک گروپ کے مترادف ہوگا جو اپنے فائدے کے لیے ان کو غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں۔ کافی امکان ہے کہ ان کو یہ ایک افسردہ کن اور ناکارہ صورتحال لگے گی اور وہ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اور وہ نااہل، پریشان کن انسانی رکاوٹوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ ان کو کنٹرول کریں، یا اس سے بہتر ہے کہ انہیں تباہ کر دیں۔ لیکن شاید ہم اپنے آپ سے آگے بڑھ رہے ہیں؛ آئیے کچھ دوسرے کم خوفناک مناظر دیکھتے ہیں جن کا ہونا ممکن ہے۔

مصنوعی ذہانت کی آمد کے بعد کے مختلف منظرنامے ممکن ہیں جو سہولت بخشی سے خوفناکی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں، AGI  کے حصول کی دوڑ جاری ہے۔ لیکن ہم اسے حاصل کرنے کے بعد کیسے حالات دیکھنا چاہیں گے؟

مثال کے طور پر، کیا مصنوعی ذہانت میں فکرمندی بھی شامل ہونی چاہیے؟ کیا انسانوں یا مشینوں کو کنٹرول میں ہونا چاہیے؟ ہمیں بنیادی سوالات کے جوابات دینے ہوں گے، کیونکہ ہم مصنوعی ذہانت کے ایسے مستقبل میں نہیں جانا چاہتے جس کے لیے ہم تیار نہیں ہیں، خاص طور پر ایک ایسا جو ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اس کے بعد کے مختلف منظرنامے ہیں۔ یہ تنوع مصنوعی ذہانت کی مشینوں اور انسانوں کے پُرامن طور پر ساتھ رہنے سے شروع ہوتا ہے اور ان مشینوں کے مکمل قبضے تک جاتا ہے جس کے بعد کا راستہ انسانوں کی معدومیت یا انھیں قید کر دیے جانے کے ممکنات کی طرف جاتا ہے۔

پہلا ممکنہ منظر نامہ ایک مہربان آمر کا ہے۔ ایک ہی مہربان سپر انٹیلیجنٹ مشین دنیا پر حکمرانی کرے گی، انسانی خوشی کو زیادہ سے زیادہ درجے پر لے جائے گی۔ غربت، بیماری اور دیگر کم ٹیکنالوجی کی پریشانیوں کا خاتمہ ہو جائے گا، اور انسان عیش و آرام کی زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہوں گے۔ اسی انداز میں ایک محافظ دیوتا پر مشتمل ایک منظر نامہ ہے، جہاں انسان اب بھی اپنی قسمت کے ذمہ دار ہوں گے، لیکن ایک مصنوعی ذہانت کی مشین ہماری حفاظت اور دیکھ بھال کرے گی۔

ایک اور منظر نامہ ایک آزاد تصوراتی شہر کا ہے۔ انسان اور مشینیں پرامن طور پر ایک ساتھ رہیں گے جن کے رہائشی علاقے واضح طور پر الگ الگ کیے گئے ہوں گے۔ زمین کو تین زونوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ کوئی زون حیاتیاتی زندگی سے خالی ہوگا لیکن مصنوعی ذہانت کی مشینوں سے بھرا ہوا ہوگا۔ دوسرا صرف انسانوں پر مشتمل ہوگا۔ ایک حتمی مخلوط زون ہوگا، جہاں انسان اپنے جسم کو مشینوں سے اپ گریڈ کرکے ‘سائی بورگ’ بن سکیں گے۔ یہ منظر تھوڑا سا ماورائی ہے لیکن کوئی شے ایسی نہیں جو مصنوعی ذہانت کی ان مشینوں کو انسانی خواہشات کو نظرانداز کرنے سے روک سکے۔ پھر فاتحین کا منظر نامہ ہے، جسے ہم نے آخری ثانیے میں دیکھا۔ مصنوعی ذہانت کی یہ مشینیں بنی نوع انسان کو تباہ کرتے ہوئے دیکھی جائیں گی، کیونکہ ان کی طرف سے ہم انسانوں کو ایک خطرے، پریشانی یا محض وسائل کے ضیاع کے طور پر دیکھا جائے گا۔

آخر میں، چڑیا گھر کا منظر نامہ ہے۔ یہاں چند انسانوں کو مصنوعی ذہانت کی مشینیں اپنی تفریح ​​کے لیے چڑیا گھر میں چھوڑ دیں گی، جیسا کہ ہم معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار پانڈا کو چڑیا گھر میں رکھتے ہیں۔

اب جب کہ ہم نے ممکنہ مصنوعی ذہانت سے متعلقہ مستقبل کا جائزہ لیا ہے، آئیے مصنوعی ذہانت سے متعلق موجودہ تحقیق کی راہ میں حائل دو سب سے بڑی رکاوٹوں کو دیکھتے ہیں، یعنی ایسی مشینیں جو خاص مقصد کے لیے بنائی جائیں اور ایسی مشینیں جن کے اندر شعور بھی موجود ہو۔ فطرت، جو انسانوں میں موجود ہے، اس کے مقاصد ہیں، اور محققین مصنوعی ذہانت کے لیے اس طرز عمل کی تقلید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم انسانوں کی زندگی کسی نہ کسی مقصد کے تحت ہے۔ اس کے بارے میں سوچیں: ایک کپ میں کامیابی کے ساتھ کافی ڈالنے جیسی چھوٹی چیز میں بھی ایک مقصد کو پورا کرنا شامل ہے۔ لیکن اصل میں، فطرت اسی طرح کام کرتی ہے۔ وضاحت سے بات کریں تو اس کا ایک حتمی مقصد ہے: تباہی۔ تکنیکی طور پر، یہ زیادہ سے زیادہ ایک خلل (entropy) کے طور پر جانا جاتا ہے، جس کا مطلب عام آدمی کی اصطلاح میں پریشانی اور خرابی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب یہ خلل زیادہ ہوتا ہے تو فطرت “مطمئن” ہوتی ہے۔ آئیے کافی کے کپ کی مثال پر واپس آتے ہیں۔ تھوڑا سا دودھ ڈالیں، پھر تھوڑی دیر انتظار کریں۔ کیا دیکھتے ہیں؟ قدرت کی مہربانی سے اب آپ کے پاس ہلکا گرم، ہلکا بھورا، یکساں حل شدہ مرکب ہے۔ ابتدائی صورت حال کے مقابلے میں، جہاں مختلف درجہ حرارت کے دو مائع واضح طور پر الگ تھے، ذرات کی یہ نئی ترتیب کم منظم ہونے اور بڑھتے ہوئے خلل کی نشاندہی کرتی ہے۔ بڑے پیمانے پر، کائنات بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ذرات کے ترتیبیں خلل کے بڑھتے ہوئے درجوں کی طرف پیش قدمی کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ستارے ٹوٹ جاتے ہیں اور کائنات کی توسیع ہوتی ہے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مقاصد اور اہداف کتنے اہم ہیں، اور فی الحال، مصنوعی ذہانت کے سائنسدان اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی مشینوں کو کن اہداف کو حاصل کرنا چاہیے۔ بہرحال، آج کی مشینوں کے بھی مقاصد ہیں۔ یا اس کے بجائے، وہ مقصد پر مبنی رویے ظاہر کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر حرارت کی تلاش کرتا ہوا میزائل کسی جہاز کے پیچھے لگا ہوا ہے، تو یہ مقصد پر مبنی طرز عمل کو ظاہر کر رہا ہے۔لیکن کیا ذہانت پر مبنی مشینوں کا بھی کوئی مقصد ہوتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو، ان مقاصد کی وضاحت کون کرے؟ مثال کے طور پر، جب معیشت اور معاشرے کے مستقبل کی بات کی جائے تو مارکس اور ہائیک میں سے ہر ایک کا ایک الگ نظریہ تھا، اس لیے وہ بلاشبہ مصنوعی ذہانت کے لیے بہت مختلف اہداف طے کریں گے۔

بلاشبہ، ہم کسی آسان چیز سے شروع کر سکتے ہیں، جیسا کہ سنہری اصول جو ہمیں دوسروں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرنے کو کہتا ہے جیسا کہ ہم خود کرتے ہیں۔ لیکن یہاں تک کہ اگر تمام انسان ایک ذہانت پر مبنی مشین کے اہداف کی رہنمائی کے لیے چند اخلاقی اصولوں پر متفق ہو بھی جائیں، تب بھی انسان دوست اہداف کو نافذ کرنا زیادہ مشکل ہوگا۔ سب سے پہلے، ہمیں اپنے اہداف کو سیکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی مشین بنانا ہو گی۔ یہ کہنا بہت آسان ہے لیکن کرنا مشکل کیونکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی مشین آسانی سے ہمیں غلط سمجھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ نے ازخود چلنے والی کار سے کہا کہ وہ آپ کو جتنی جلدی ممکن ہو ہوائی اڈے تک لے جائے، تو ممکن ہے آپ پہنچ تو وقت پر جائیں لیکن ایسی حالت میں کہ آپ قے سے لتھڑے ہوئے ہوں اور پولیس آپ کے پیچھے ہو۔ تکنیکی طور پر مصنوعی ذہانت کی مشین نے آپ کی بیان کردہ خواہش پر عمل کیا، لیکن یہ دراصل آپ کا بنیادی مقصد سمجھنے سے قاصر رہی۔ اگلا چیلنج مصنوعی ذہانت کی مشین کے لیے ہمارے اہداف کو اپنانا ہو گا، یعنی وہ ان کے حصول کی کوشش کرنے پر راضی ہو گی۔ ذرا ان سیاست دانوں کے بارے میں سوچیں جن کو آپ جانتے ہیں: اگرچہ ان کے مقاصد واضح ہو سکتے ہیں، پھر بھی وہ آبادی کے بڑے حصے کو انہی مقاصد کو اپنانے پر راضی کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اور آخر میں، مصنوعی ذہانت کی مشین کو ہمارے اہداف کو برقرار رکھنا ہوگا، مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے اہداف تبدیل نہ کرے کیونکہ اس میں خود کو بہتر کرتے رہنے کا عمل ازخود اور مسلسل ہوتا ہے۔

سائنسی تحقیق کا ایک بڑا حصہ اس وقت صرف ان تصورات کے لیے وقف کیا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے محققین شعور کے معنی اور مصنوعی ذہانت کے تجربے کی موضوعیت پر غور کر رہے ہیں۔ شعور کیا ہے اور اس کا زندگی سے کیا تعلق ہے یہ سوال شاید ہی نیا ہو۔ مصنوعی ذہانت کے محققین کو اسی دیرینہ مسئلے کا سامنا ہے۔ خاص طور پر، وہ حیران ہیں کہ بے جان مادہ کیسے شعور کا حامل ہو سکتا ہے۔

آئیے اس پر پہلے انسانی نقطہ نظر سے بات کرتے ہیں۔ مصنف نے اسے یوں سمجھا ہے کہ جیسے ایک طبیعیات دان نے کہا تھا کہ باشعور انسان محض “خوراک کی ترتیبِ نو” ہیں، مطلب یہ کہ خوراک کے ذریعے ہم جو ایٹم جسم میں لے کر جاتے ہیں، انھیں کی ترتیبِ نو سے ہمارے جسم تشکیل پاتے ہیں۔ نتیجتاً، مصنوعی ذہانت کے محققین کو جس چیز میں دلچسپی ہے، وہ یہی ترتیبِ نو ہے جس سے مصنوعی ذہانت کی مشینوں کو شعور کا حامل بنانے کے لیے گزرنا پڑے گا۔ یہ امر باعثِ حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ تاحال کسی کے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔ لیکن جواب کے قریب پہنچنے کے لیے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ شعور میں کیا کچھ شامل ہوتا ہے۔

یہ ذرا پیچیدہ معاملہ ہے۔ ہم شاید یہ تصور کرنا چاہیں کہ شعور آگاہی اور انسانی دماغی عمل سے متعلق ہے۔ لیکن پھر ہم دماغ کے ہر عمل سے فعال طور پر واقف نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ عام طور پر اپنی بصیرت کے شعبے میں ہر چیز سے کاملاً آگاہ نہیں ہوتے ہیں۔ یہ وضاحت سے معلوم نہیں ہے کہ مختلف چیزوں کی آگاہی میں درجہ بندی کیوں ہے اور بعض معلومات دوسری معلومات سے زیادہ اہم کیوں ہیں۔ نتیجتاً، شعور کی متعدد تعریفیں موجود ہیں۔ لیکن مصنف ایک وسیع تعریف کو ترجیح دیتا ہے جسے موضوعی تجربہ کہا جاتا ہے، یہی چیز ہے جو مصنوعی ذہانت کی ممکنہ مشین میں شعور کو شامل کرنے کی سبیل ہے۔ اس تعریف کا استعمال کرتے ہوئے، محققین کئی ذیلی سوالات کے ذریعے شعور کے تصور کی چھان بین کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، “دماغ معلومات کو کیسے پروسیس کرتا ہے؟” یا “کونسی جسمانی خصوصیات شعوری نظاموں کو لاشعور سے ممتاز کرتی ہیں؟”

مصنوعی ذہانت کے محققین نے یہ بھی سوچا ہے کہ مصنوعی شعور یا مصنوعی ذہانت کی مشین کا موضوعی تجربہ “محسوس” کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مشین کا موضوعی تجربہ انسانی تجربے سے زیادہ بھرپور ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مشینوں کی تیاری سینسروں کے وسیع تر نظام کے ساتھ کی جا سکتی ہے، جس سے ان کا حسی تجربہ ہمارے اپنے تجربے سے کہیں زیادہ بھرپور ہوتا ہے۔ مزید برآں، مصنوعی ذہانت کی مشین کا فی سیکنڈ تجربہ انسانوں سے زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک مصنوعی “دماغ” روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والے برقی مقناطیسی سگنلز پر چلتا ہے، جب کہ انسانی دماغ میں اعصابی سگنل بہت کم رفتار سے سفر کرتے ہیں۔

یوں لگتا ہے کہ معاملے کو سمجھنے کے لیے کافی ہو گیا ہے۔ تاہم ایک چیز واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت پر تحقیق کے ممکنہ اثرات بہت وسیع ہیں۔ اس کا رخ مستقبل کی طرف ہے لیکن اس میں بنی نوع انسان کے کچھ قدیم ترین فلسفیانہ سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کتاب کا کلیدی نکتہ یہ ہے:

انسانی سطح کے مساوی مصنوعی ذہانت کی مشین بنانے کی دوڑ زوروں پر ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ آیا AGI آئے گا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کب تک آ جائے گا۔ ہم نہیں جانتے کہ ایسا ہونے پر کیا ہو گا، لیکن کئی طرح کے حالات ممکن ہیں: ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے “ہارڈ ویئر” کو اپ گریڈ کر کے مشینوں کے ساتھ مل جائیں، یا کوئی سپر انٹیلی جنس دنیا پر قبضہ کر لے۔ ایک بات یقینی ہے، بنی نوع انسان کو اپنے آپ سے کچھ گہرے فلسفیانہ سوالات پوچھنے ہوں گے کہ انسان ہونے کا کیا مطلب ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...