نفرت انگیز تقریر کے سدِباب کا عالمی دن، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

102

آج 18 جُون منافرت پر مبنی تقاریر (Hate speech ) کے انسداد کا عالمی دن ہے۔ پوری دنیا میں اس دن کو اسی مناسبت سے منایا جانا شروع کیا گیا ہے تاکہ سماج میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر نفرت کو فروغ دینے کی کوششوں کے حوالے سے آگہی پیدا کی جائے اور اس عمل کو ایک ایسی برائی کے طور پہ سمجھا جاسکے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

نفرت انگیز تقاریر تشدد کو فروغ دینے کا سبب بنتی ہیں، تنوع کی اہمیت اور خوبصورتی کو ختم کرتی اور انسانوں کے مابین ہم آہنگی و رواداری کی اقدار کو گہناتی ہیں۔

نفرت انگیر تقاریر ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جس کا سامنا پوری دنیا کے ممالک اور اقوام کر رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ انسانوں کے مابین رسائی اور روابط کی ظاہری خلیج کم ہوئی ہے، لیکن اسی رفتار سے ایک دوسرے کے لیے عدم برداشت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی لیے نفرت انگیز تقریر کو جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں نفرت انگیز تقریر ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو وسیع پیمانے پر تشدد اور تنازعات کو جنم دے رہا ہے۔ اس کے باوجود مسئلے کی حساسیت کے مطابق کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ مبہم قوانین اور انتظامی پس و پیش منافرت کو ہوا دنے والے عناصر کو مزید ڈھیل اور بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بطور ریاست و سماج ہمیں کتنی فکر ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

نفرت انگیز تقریر کی کوئی بین الاقوامی متفقہ تعریف موجود نہیں ہے۔ البتہ تمام ممالک اپنے حالات و مسائل کے اعتبار سے اس پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے اور قوانین وضع کرتے ہیں۔ پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کی کئی جہتیں ہیں جن میں زیادہ سنجیدہ مذہبی ومسلکی منافرت پر مبنی تقاریر ہیں جن کے سدباب کے لیے ریاست کو باقاعدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ریاست کو چاہیے کہ وہ ایک خصوصی نظام وضع کرے جس کے تحت ہر قسم کی انگیز تقریر کا قوانین، تعلیم اور ذرائع ابلاغ سمیت دیگر وسائل کے توسط سے بخوبی سدباب کیا جاسکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...