ہمارے ادب کا ارتقا اور آج کا تہذیبی بحران

409

سماجی علوم کے ممتاز سکالر پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد، ’انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ‘ کے ڈائریکٹر اور سہیل یونیورسٹی کراچی کے ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز ہیں۔ اس سے قبل جامعہ کراچی کے ’پاکستان سٹڈی سنٹر‘ سے وابستہ رہے۔ ادب، تاریخ اور سیاسیات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور یہی ان کی بیشتر تحریروں کے بنیادی موضوعات ہیں۔ یہ مقالہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس منعقدہ 9 دسمبر 2021ء میں کلیدی مقالے کے طور پر پیش کیا گیا۔

یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اس سال آرٹس کونسل نے اپنی ادبی کانفرنس کو ادب اور ثقافت کے پچھتر سالہ جشن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پچھلے سات ساڑھے سات عشروں میں اردو سمیت پاکستان کی مختلف زبانوں میں جو ادب تخلیق ہوا ہے اس کا جائزہ لینا اس کانفرنس کا مقصود ہے اور مجھے امید ہے کہ کانفرنس کے مختلف اجلاسوں میں یہ کام بطریقِ احسن انجام دیا جائے گا۔ساتھ ہی پاکستانی ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر بھی سیر حاصل بحث ہوگی اور ہم اس موضوع پر بھی بہترین تجزیوں سے مستفید ہوں گے۔ میں نے اپنے مضمون کے لیے جو مرکزی خیال پیش نظر رکھا ہے وہ ادب اور تہذیب کے رشتے سے متعلق ہے۔ پچھلے پچھتر برسوں میں ادب اور تہذیب کے باہمی تعلق یا ان کے symbiosisکی جو صورت رہی ہے، اُس نے بجا طور پر ایک طرف ادب کی پرورش کی ہے اور دوسری طرف اس سے خود ہمارا کلچر بھی ثروت مند ہواہے۔ اس رشتے کی تفہیم اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج ہم ایک ایسے تہذیبی بحران کا شکار ہیں جس میں کلچر کی وسعت اور کشادگی سمٹ رہی ہے اور cultural space تیزی سے سکڑتی جارہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں آج ہم ایک بڑے تناقض اور paradoxکا شکار ہیں۔ ہم کلچر کا جشن ایک ایسے وقت منارہے ہیں جبکہ ہماری سوسائٹی میں کلچر کو غیر معمولی اندیشہ ہائے دوردراز کا سامنا ہے۔ اصنافِ ادب میں نئے تجربات کی آرزو مندی اپنی جگہ اور تخلیق کے نت نئے شگوفوں کے کھلنے کی خواہش بھی اپنی جگہ مگر آج اس بات کی بھی ضرورت ہے، اور بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ تہذیب و ثقافت کی جن کیاریوں میں ادب کے پھول کھلتے ہیں ان میں عسکریت پسندی، عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی کا زہریلا پانی کس بڑے پیمانے پر چھوڑا جارہا ہے۔

ادب کی تخلیق ایک سماجی عمل ہے اور سماج کی جملہ تخلیقی سرگرمیاں، ایک معاشرے میں رہنے والوں کا طرزِ فکر و احساس، ان کے رویے، ان کی پسند و ناپسند، یہ سب چیزیں تہذیب کی صورت گری کرتی ہیں لیکن تہذیب کی پہچان اس بات سے بھی متعین ہوتی ہے کہ اُس کا دائرہ کار کیا ہے؟ اس کی وسعت کتنی ہے؟ اس کی آبیاری کس قسم کے سماجی رشتوں کے ذریعے ہوئی ہے اور اس میں تخلیقی اظہار کی کتنی گنجائش موجود ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تخلیق کا شعوری عمل جو انسان کی نوعی خصوصیت ہے، وہ جس آزاد فضا کا متقاضی ہے، کیا وہ فضا بھی اُس کو میسر ہے کہ نہیں ؟ہم اپنے ادب کی تاریخ کو اس کے تہذیبی پس منظر سے جدا کرکے نہیں دیکھ سکتے۔

آج اگر ہم پیچھے مڑ کر اپنے ادب کے ارتقائی سفر کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہوگا کہ ماضی کے مختلف ادوار میں ہماری سماجی بنیادیں اور ہماری تہذیبی اساس اتنی فراخ اور کشادہ تو بہرحال کبھی نہیں رہی جو ادیب کو اپنے تخلیقی اظہار کی حسبِ منشا فضا فراہم کرسکتی۔ غالب کو ظرفِ تنگنائے غزل کے بقدرِ شوق نہ ہونے کا جو شکوہ تھا وہ شکوہ صرف غزل کی صنف کے بڑی حد تک مختص دائرے ہی کا شکوہ نہیں تھا بلکہ اپنے عہد کی تہذیب کا بھی شکوہ تھا جس کی وسعت شاعر کی منشا سے بہت کم تھی۔ وہ تو تمنّا کے اگلے قدم کے لیے دشتِ امکاں کو بھی نقش پا ہی پاتے تھے۔ تخلیق کاروں کو خواہ وہ کسی بھی ملک اور معاشرے کے رہنے والے کیوں نہ ہوں اپنی تخلیق کے لیے جس فضا اور آزادی کی طلب ہوتی ہے وہ مکمل طور پر توان کو دستیاب نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہ دستیاب فضا میں اظہار کے راستے نکالتے ہیں اور کسی قدر اپنی تشفی کاسامان کرلیتے ہیں۔ یہ دستیاب فضا مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں ہمارے سامنے آتی رہی ہے۔ یہ صورت حال مثالی کبھی بھی نہیں رہی لیکن آج کے ہمارے اندیشے اس فضا کے حد سے زیادہ محدود ہوجانے کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔

گذشتہ پچھتر برسوں میں اور اس سے پہلے بھی ہمارا ادب فکری اور نظری اعتبار سے مختلف نقطہ ہائے نظر، مختلف دبستانوں اور نظریاتی حلقوں سے وابستہ رہا ہے۔ ہمارے ادب میں اور مختلف دبستانوں میں ردّو قبول اور مبارز آرائی کی یا Battle of Ideasکی کارفرمائی بھی ہر دور میں موجود رہی ہے۔اس Battle of Ideas کی بڑی بامعنی حرکیات اور dynamicsتھیں۔ مختلف نقطہ ہائے نظر اپنی جداگانہ فکری اور تہذیبی اساس بھی رکھتے تھے۔ ان کے اپنے منابع اور مآخذ تھے۔ ایک طرف وہ اپنے مآخذ اور sourcesسے استفادہ کرتے تھے، اوراپنی روایت کو آگے بڑھاتے تھے اور دوسری طرف یہ دوسرے نقطہ ہائے نظر اور دوسرے دبستانوں سے اختلافِ رائے اور بحث و مباحثے کو بھی زندہ رکھتے تھے۔ان کا خواہ اپنے sourcesسے رجوع ہو یا دوسروں سے مکالمہ اور مناظرہ، دونوں کے لیے آزادیِ فکر اور آزادیِ اظہار کی دستیابی کم سے کم شرط کی حیثیت رکھتی تھی۔تہذیبی صورت حال اگر اس شرط کو پوری کررہی ہوتی تھی تو مکالمے بھی ہوتے تھے، مباحثے اور مناظرے بھی، ایک دوسرے کو یکسررد کرنے یا ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ قبول کرنے کی روش بھی برقرار رہتی تھی۔ ماضی میں برے سے برے ادوار میں بھی کچھ نہ کچھ گنجائش ایسی موجود رہی کہ تہذیب کی زمین یکسر بنجر نہیں ہوئی۔

گذشتہ ڈیڑھ، دو سو سال میں خاص طور سے، مگر اس سے پہلے بھی کتنے ہی فکری رجحانات اور ادبی نظریات سامنے آئے۔عہدِ وسطیٰ کا فکری منظر نامہ صوفیائے کرام کی انسان دوستی اور روایتی حلقوں کی راسخ الاعتقادی کے درمیان کشمکش سے عبارت تھا۔ انگریزی تسلط کے بعد ایک طرف جدید علوم اور سائنسی خیالات کی وکالت تھی تو دوسری طرف قدامت پسند روایتی حلقے تھے۔ ایک طرف راجہ رام موہن رائے، غالب اور سرسید تھے تو دوسری طرف اکبرالٰہ آبادی، منشی سجاد حسین اور ڈپٹی نذیر احمد تھے۔ اُسی زمانے میں ایک طرف محمد حسین آزاد اور انجمنِ پنجاب کے زیرِ اثر نیچرل شاعری کا دور دورہ ہوا اور خود غزل میں بھی ایک نئے طرزِ احساس کی نمو ہوئی چنانچہ تذکرہ نگاروں نے حسرت،جگر، یاس یگانہ اور فراق گورکھپوری کی غزل کو داغ اور امیر مینائی کی غزل سے مختلف اور نئی حسّیات کے حامل کے طور پر پہچانا۔

بیسویں صدی میں جدید افکار کی علمبرداری، ترقی پسند ادیبوں کے حصے میں آئی جنہوں نے جہد ِ حیات سے مشتق ماضی کی ترقی پسند روایت سے رشتہ جوڑتے ہوئے اپنے افکار میں روحِ عصر کو جگہ دی۔کم و بیش اسی زمانے میں حلقہ اربابِ ذوق کی بنا ڈالی گئی۔حلقے سے وابستہ اہلِ قلم کا خیال تھا کہ ادیبوں کا کسی انجمن میں یکجا ہونا اُن کی انفرادی سوچ کی راہ میں مزاحم ہوسکتا ہے۔ اُن کا یہ بھی تحفظ تھا کہ ترقی پسندوں کے سماجی انصاف اور انسان دوستی کے داعیے، ان کاایک راستہ متعین کردیتے ہیں اور یوں ان کا تخلیق کردہ ادب انفرادی آزادی کا مظہر نہیں بن پاتا۔ حلقے سے وابستہ ادیبوں کی دلچسپی کا محور ادب کی صورت گری اور فارم(form) کے تجربات تھے۔

آزادی کے وقت کچھ اور رجحانات ہمارے ادب میں داخل ہوئے۔ محمدحسن عسکری، ممتاز شیریں، ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر اور صمد شاہین نے پاکستانی ادب کی تحریک کھڑی کی۔ ان کا خیال تھا کہ ترقی پسندوں نے تقسیم کے وقت کے حالات پر جو تبصرے کیے ہیں یا انسانیت کی تحقیر کے مظاہر کو اپنی تخلیقات میں جس انداز میں جگہ دی ہے وہ ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتی ہے۔

پاکستانی ادب کے علمبردار حلقے کے ساتھ ہی اسلامی ادب کا مکتبہ فکر بھی سامنے آیا۔ ان کا طرزِ فکر بھی ترقی پسندوں کی مخالفت اور پاکستانی ادب کے مسلک کو مذہبی رنگ سے ہمکنار کرتا تھا۔ ادب ِاسلامی کے سرکردہ ادیب نعیم صدیقی اور اسعد گیلانی جماعتِ اسلامی سے وابستہ تھے جو قیام ِ پاکستان سے قبل مسلم لیگ اور اس کے مطالبۂ پاکستان کے بارے میں جو بھی تحفظات رکھتی تھی، آزادی کے بعد پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا اس کا مطمح نظر قرار پایا تھا۔ سو ریاست کے تجریدی تصور سے اس نے بھی اپنا پیمانِ وفا باندھا۔ یہ الگ بات ہے کہ چند ہی برسوں میں کسی نہ کسی حد تک پاکستانی ادب اور اسلامی ادب کے وابستگان کے سامنے بھی یہ حقیقت واضح ہونے لگی کہ مسئلہ صرف ریاست سے وابستگی کا نہیں بلکہ اظہار اور تخلیق کی آزادی کا بھی ہے، مسئلہ تہذیب کی دستیابی کا بھی ہے۔

چند ہی برسوں میں کسی نہ کسی حد تک پاکستانی ادب اور اسلامی ادب کے وابستگان کے سامنے بھی یہ حقیقت واضح ہونے لگی کہ مسئلہ صرف ریاست سے وابستگی کا نہیں بلکہ اظہار اور تخلیق کی آزادی کا بھی ہے

1960ء کے عشرے میں ایک فکری رجحان یہ ابھرا کہ پاکستان کی تاریخ اور ادب کی اساس پاکستانی خطے اور یہاں کے طبعی حقائق پر رکھی جائے، سو تاریخ نویسی میں جو کام قدرت اللہ فاطمی نے کیا، ادب میں اُس کی توجیحات ڈاکٹر وزیر آغا کی تحریروں میں سامنے آئی۔1960ءہی کے عشرے میں جدیدیت اور لسانی تشکیلات کے مکاتب ِ فکر ابھرے اور انہوں نے مغرب کے جدید ادبی نظریوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنا ادب پیش کیا۔

1960ء اور 1970ء کے عشروں میں ہی نثری نظم کی تحریک سامنے آئی اور بڑی بحث اس کے گرد گھومتی رہی۔ایک طرف قمر جمیل نثری نظم کی وکالت میں پیش پیش تھے۔ دوسری طرف محمد علی صدیقی اس صنف کے اعتبار کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔پھر سجاد ظہیر کی’ پگھلا نیلم‘ پاکستان میں چھپ کرسامنے آئی تو پتا چلا کہ ترقی پسند بھی اس صنف سے بہت پہلے سے نہ صرف واقف تھے بلکہ انہوں نے اس میں قابلِ ذکر شاعری بھی کی تھی۔کچھ عرصے بعد قمر جمیل اور محمد علی صدیقی دونوں ایک دوسرے کے کام میں قابلِ قبول پہلوؤں پر نشان لگاتے نظر آئے۔

گذشتہ ستر، پچھتر برسوں میں ہمارے ادب میں احتجاج کی روایت ایک بڑی نمایاں روایت بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ احتجاج دھیمے سُروں میں بھی موجود رہا ہے اور اس نے تیز آہنگ بھی اختیار کیا ہے۔ ہمارے بہت سے مزاحمتی شاعر مثلاً حبیب جالب، احمد فراز اور ایسے ہی بعض دیگر عوام میں غیر معمولی مقبولیت کے حامل رہے ہیں۔

ایک اور اہم شعبہ جس میں اہلِ قلم نے ایک تحقیقی اور تخلیقی کام کیا ہے وہ فیمنزم کا شعبہ ہے جو فیمنسٹ شاعری اور فکشن سے آگے بڑھ کر فیمنسٹ تنقید تک بھی چلا گیا ہے اور بعض فیمنسٹ ادیب اب اردو کے ادبی سرمائے کی ردّ ِ تشکیل (deconstruction)میں بھی مصروف نظر آتے ہیں۔بعض بڑے اور سکہ بند فکشن لکھنے والے اسdeconstruction کی زد میں آئے ہیں مگر اس پر اعتراض کی گنجائش اس لیے نہیں ہے کہ ادب کی دنیا میں تنقید کے معیار بدلتے رہتے ہیں اور کوئی تحریر ایسی تقدس مآب نہیں ہوتی کہ اس پر نئے معیارات کا اطلاق نہ کیا جاسکے۔

تقسیم ہند سے قبل اور اس کے بعد کے ادبی رجحانات کا یہ بہت ہی اجمالی سا جائزہ ایک تو یہ ظاہر کرسکتا ہے کہ ہمارے یہاں مختلف مکاتب فکر کم و بیش ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ ان کے درمیان ہونے والے مباحثے اور مکالمے بحیثیت مجموعی ادب کے کارواں کو آگے بڑھانے کا وسیلہ بنے ہیں۔ ہم ان میں سے کسی ایک یا دوسرے مکتبہ فکر سے اختلاف یا اتفاق کرسکتے ہیں لیکن اس بات سے اختلاف کی شاید گنجائش نہ ہو کہ افکار کا تنوع اور ان کے حوالے سے ردو قبول کا کلچر نئے خیالات کی نمو کا وسیلہ بنتے ہیں۔سو معاشرے کی جمہوری اساس اور کلچر کی کشادگی ادب کے لیے ناگزیر قرار پاتی ہے۔

ماضی میں مختلف ادبی اور فکری نقطہ ہائے نظر کے درمیان جو فاصلہ رہا وہ اپنی جگہ، ان نقطہ ہائے نظر کے علمبرداروں کی اپنے نقطہ نظر کی اصابت اور مخالف نقطہ نظر پر تنقید کی شدت بھی کتنی ہی کیوں نہ رہی ہو، دو چیزیں بحیثیت مجموعی مکمل طور پر ناپید نہیں رہیں۔ایک تو رواداری کا رجحان، جو کم تو ہوسکتا تھا مگر یکسر ختم نہیں ہوجاتا تھا، اور دوسرا یہ احساس کہ اظہار کی آزادی سب کی ضرورت ہے۔ اگر یہ احساس کسی ایک وقت موجود نہیں بھی ہوتا تھا تو جب تخلیق کارخود اظہار کی آزادی پر لگنے والی قدغن کا شکار ہوتے تھے تو اس آزادی کا احساس ضرور بیدار ہوجاتا تھا۔ ہمارے ادب میں افکار کی کشمکش کے پیچھے یہ دو رجحانات بہرحال موجود رہے۔

سرسید ہمیشہ علماء کے ہدف پر رہے۔ خود اُن کی بھی تنقید میں کوئی کمی نہیں تھی لیکن ان کی تحریروں میں وہ شذرات بھی شامل ہیں جن میں انہوں نے علمائے دیو بند کو اپنے مدرسے کے مالی معاملات کو زیادہ مرتب رکھنے کے لیے مشورے دیے تھے۔ ایک دوسرے کو سننے کا ایک اور فورم وہ مناظرے تھے جن میں علما، مسیحی پادری، اور وہ دانشور جن کو’نیچری‘کا لقب دے دیا گیا تھا، مناظرے کرتے تھے۔ ان میں بالعموم دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش بھی ہوتی تھی اور سامنے بیٹھے ہوئے اپنے ہم خیال سامعین سے واہ واہ کرانے کی سوچ بھی کارفرما رہتی تھی۔ لیکن ان مناظروں میں ایک ساتھ بیٹھنا اور دوسرے کی شدید ناقدانہ رائے سننا بھی کھیل کا حصہ تھا۔

کتنے ہی مباحث ہیں جو بیسویں صدی کے نصف اول میں اہلِ فکر کے مابین جاری رہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی مختلف نقطہ ہائے نظر کے ادیب ایک دوسرے کی بات سننے کے روادار تھے اس لیے کہ انہیں اپنی بات بھی دوسرے کو سنوانا مطلوب تھی۔ پاک ٹی ہاؤس میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس کے بعد لوگ مال روڈ پر YMCAمیں جاری حلقۂارباب ذوق کے اجلاس میں جابیٹھتے تھے۔ سبطِ حسن نے وہیں پر سید قاسم محمود کا افسانہ سنا اور پھر اس کو ’لیل و نہار‘ میں شائع بھی کیا۔ 1953ء میں ختم نبوت کی تحریک میں گرفتار ہونے والے مذہبی جماعتوں کے لوگ لاہور کی سنٹرل جیل میں پہنچے تو وہاں ترقی پسند ادیبوں سے ان کا سامنا ہوا۔ آئندہ مہینوں میں سبط حسن، مولانا مجاہد الحسینی کو انگریزی پڑھاتے اور مولانا صاحب، سبط حسن کو عربی کے اسباق دیتے نظر آئے۔ 1954ء کے اواخر یا 1955ء کے اوائل میں ’پاکستان کے معروف شہریوں‘ (Prominent Citizens of Pakistan) کی طرف سے 22 صفحات پر مشتمل ایک اپیل شائع ہوئی جس کا عنوان تھا’راولپنڈی سازش کیس کے اسیروں کی رہائی کی اپیل‘،(An Appeal for the Release of Rawalpindi Concpiracies Case Prisoners)۔ واضح رہے کہ راولپنڈی سازش کیس میں چند فوجی افسروں کے علاوہ انجمن ترقی پسند مصنفین اور کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض بھی شامل تھے۔ اپیل کے ساتھ درج ناموں کی فہرست انگریزی میں ہے مگر ابتدائی خط انگریزی اور اردو دونوں میں ہے۔ اپیل میں کہا گیا:

’’ہِزایکسیلینسی ملک غلام محمد، گورنر جنرل پاکستان، یور ایکسیلینسی،ہم نہایت ادب سے آپ کی توجہ ان حقائق کی طرف مبذول کراتے ہیں کہ راولپنڈی سازش کیس کے اسپیشل ٹریبیونل نے جن اشخاص کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا دی ہے انہیں اپیل کرنے کا حق نہیں دیا گیا، اور چونکہ گرفتار ہونے تک ان کی وفاداری اور حب الوطنی پر کبھی کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کیا گیا تھا، اور انہوں نے پاکستان کی بڑی اہم خدمات سرانجام دی تھیں، نیز یہ تمام ملزم ایک طویل عرصے سے جیل میں مقید رہے ہیں لہٰذا ہم یور ایکسیلینسی سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ آپ اختیارات ِ خصوصی کو استعمال میں لاتے ہوئے ان تمام قیدیوں کو کلی طور پر معافی دے کر رہا کردیں۔

ہم ہیں یور ایکسیلینسی

آپ کے وفادار خادم‘‘

راولپنڈی سازش کیس کے اسیروں بشمول سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض کی رہائی کی اپیل پر دستخط کرنے والوں کے ناموں پر ذرا غور کریں۔ ان میں کمیونسٹ پارٹی کے فیروزالدین منصور اور ایرک سپرین تو تھے ہی، سیاستدانوں میں افتخار حسین ممدوٹ، سردار شوکت حیات، بیگم جہاں آرا شاہنواز، حسین شہید سہروردی اور معراج خالد اور صحافیوں میں حمید نظامی، مظہر علی خان اورحمید اختر شامل تھے۔ لیکن چند نام بہت توجہ طلب ہیں۔ یہ ہیں جماعت اسلامی کے اخبار ’تسنیم‘ کے سابق ایڈیٹر نصر اللہ خاں عزیز، اور پھرخود جماعت اسلامی کے امیر سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ قیدیوں کو حقِ اپیل نہ دینے کا غیر جمہوری اقدام مختلف نقطہ ہائے نظرکے لکھنے والوں کو ایک نقطے پر مرتکز کرنے کا سبب بنا۔ سو ایک بار پھر طے ہوا کہ جمہوری آزادیاں سب کا حق ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں  Battle of Ideas کے راستے بھی مخدوش ہوجاتے ہیں۔

پاکستان کی ادبی تاریخ سے بیسیوں مزید ایسی مثالیں دی جاسکتی ہیں جہاں ادیبوں نے اپنے مخالفین پر شدید تنقید کے باوجود رواداری کا دامن مکمل طور سے ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور دوسرے کے حقِ اظہار رائے کی حتی المقدور حمایت بھی کرتے رہے۔

وہ ’فنون‘ اور ’اوراق‘ کے دبستانوں کے مباحث ہوں یا سلیم احمد اور صفدر میر کے نظریاتی جھگڑے، یا نثری نظم کے حوالے سے قمر جمیل اور محمد علی صدیقی کی بحث و تکرار، یہ سب لڑائیاں خواہ وہ نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہوں یا نہیں، ان کا ہونا ممکن اسی لیے ہوا کہ ان میں ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ بھی تھا اور جواب دینے کی گنجائش بھی موجود تھی۔ ادب کا کاروبار کلچر کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ کلچر کی اساس نہ ہو تو ردو قبول کا ماحول وجود میں نہیں آتا۔

آج اگر ہم کلچر کے دامن کے سمٹنے کا مشاہدہ کررہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ماضی میں جو گنجائش مختلف مکاتبِ فکر کے بنانے اور ان کے درمیان بحث و مباحثے کو جاری رکھنے کے لیے دستیاب تھی وہ رفتہ رفتہ ختم کیسے ہورہی ہے؟ اس ضمن میں تین اہم اسباب کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ پہلا تو خود ریاست کا کردار ہے۔ جہاں تک ریاست کا تعلق ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ قیام پاکستان کے وقت پاکستانی ادب کے تحریک گزاروں نے ریاست سے وابستگی کا جو سوال اٹھا دیا تھا وہ پچھلے پچھتر برسوں سے کسی نہ کسی شکل میں اہلِ قلم کا تعاقب کرتارہا ہے، اُس وقت یہ کہا گیا تھا کہ ادیب کو حکومت کی مخالفت کا حق تو حاصل ہے لیکن ریاست سے اس کو وفادار رہنا چاہیے۔ یہ بڑا سادہ لوحی کا اور معصومانہ خیال تھا کیونکہ ریاست اور حکومت کی تفریق ایک جمہوری نظام اور جمہوری دروبست میں تو ہوسکتی ہے جہاں ریاست جمہور کی تشکیل کردہ اور ان کے عزم و ارادے کی عکاس ہوتی ہے جبکہ آتی جاتی حکومتیں جمہور کی توقعات پر کبھی پوری اترتی ہیں اور کبھی نہیں۔ اور جب نہیں اترتیں تو انتخابات میں اُن کو رد کردیا جاتا ہے۔ لیکن جہاں ریاست اور حکومت دونوں غیر جمہوری ہوں وہاں کس سے وفادار ہوا جائے اور کس سے نہیں، یہ غیر متعلق سوال بن جاتا ہے۔ اگر ریاست شہریوں کے ساتھ بیگانگی پر استوار ہو تو ادیب کے لیے سوال یہ نہیں بنتا کہ وہ ریاست کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ ہے؟ بلکہ سوال یہ بنتا ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ ہے یا شہریوں کے ساتھ ہے؟

فلسفیوں، مفکروں اور تخلیق کاروں کا قد تو جمہوری ریاستوں کے فیتوں سے بھی نہیں ناپا جاسکتا۔تصور کریں کہ آج اگر افلاطون یہاں تشریف لے آئیں تو کیا ہم ان سے یونان کا ڈومیسائل پوچھیں گے؟ یا ابنِ خلدون سے ہم پوچھیں گے کہ تم کبھی تیونس میں، کبھی مراکش، کبھی الجزائر اور کبھی قاہرہ میں کیوں پائے جاتے رہے ہو۔ تم ہو کہاں کے؟ ہمیں خود کو باور کرانا ہوگا کہ سرحدیں قومی ریاستوں کی ہوتی ہیں، افکار کی کوئی سرحدیں نہیں ہوتیں۔ ادیب اپنے ضمیر اور اپنے لوگوں کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ ادیبوں اور مفکروں کی وابستگیاں نادرا کے دفتر میں طے نہیں ہوتیں بلکہ ان کے ضمیر کی بارگاہ میں رجسٹر ہوتی ہیں۔

گذشتہ ساڑھے سات عشروں میں باوجود اس کے کہ ہماری تاریخ کے بیشتر حصے میں مختلف آئین بھی موجود رہے ہیں مگر بنیادی حقوق کی شقیں محض نمائشی طور پر موجود رہی ہیں۔ ان شقوں کے علی الرغم آزادیِ رائے اور اظہار کی آزادی پر پابندی لگانے والے قوانین بڑی تعداد میں موجود نظر آتے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی ہوتا رہا ہے۔ ماضی میں ادبی جرائد، رسالے اور اخبارات پابندیوں کی زد میں آتے تھے۔ اب پرنٹ میڈیا کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی قدغنیں لگائی جاچکی ہیں اور اس کو بھی اگر ناکافی سمجھا گیا ہے تو کچھ چینلوں کو کچھ شہروں میں ناظرین سے اور بعض اخبارات کو کچھ شہروں یا ان کے علاقوں میں قارئین سے دور رکھا گیا ہے۔

دوسرا تہذیب شکن اقدام جو دوررس نتائج کا حامل ثابت ہوا ہے وہ نصاب اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے عسکریت پسند اقدار کو فروغ دینے کا اقدام ہے۔جنگیں بعض اوقات ریاستوں کی مجبوری بن جاتی ہیں لیکن دفاعی جنگوں کی مجبوری ایک چیز ہے اور جنگ اور اس سے وابستہ قدروں کو ایک مستقل طرزِ فکر و احساس بنا لینا ایک دوسری بات ہے۔ عسکریت پسندی اپنے جوہر میں متمدن معاشرت کی ضد ہے۔ عسکری اقدار کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ وقتی طور پر تو شاید کارآمد ہوجاتی ہوں لیکن ان کو مستقلاً اختیار کرلینا قوم سازی کے بجائے قوم کی تقسیم کا سبب بنتا ہے کیونکہ پھر قوم اس کو داخلی طور پر استعمال کرنے لگتی ہے اور یوں اس کا شیرازہ بکھرتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس امن کی قدریں لوگوں کو جوڑتی ہیں اور ان کے دور رس اثرات قلیل المدت اثرات سے کہیں زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

ایک تیسری چیز جس نے پاکستانی معاشرے اور ہمارے کلچر کو منفی طور پر متاثر کیا ہے وہ عدم رواداری اور خاص طور سے مذہبی عدم رواداری کا رجحان ہے جو سرکاری پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے اور آج اس نے پورے معاشرے کو مسموم کرکے رکھ دیا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی نے معاشرے کا جو حشر کیا وہ تو کیا، خو د اسلامی ادب کو غیر متعلق بنا کر رکھ چھوڑا۔ایک خانہ ویرانی ادھر نظر آتی ہے۔ اب نہ کوئی علامہ سید سلیمان ندوی ہیں نہ عبدالماجد دریا آبادی، اب کوئی حمید الدین فراہی ہیں نہ امین احسن اصلاحی، اب صرف جنت کے بیانیے ہیں، ایک سو پینتیس (135)فٹ کی حوریں ہیں جنہوں نے آرپار نظر آنے والے چالیس (40)لباس ایک کے اوپر ایک پہن رکھے ہیں۔ دودھ اور شراب کی نہریں بھی ہیں۔یہ سب مبارک ہو اُنہیں جو انشاءاللہ جنت میں جائیں گے۔ لیکن گناہ گار یہ تو پوچھ سکتے ہیں کہ جنت میں لائبریریاں بھی ہوں گی کہ نہیں؟ کاش جنت کی کسی ادبی کانفرنس کا یہ منظربھی ہمیں دکھایا جاتا کہ کانفرنس کے مرکز ی دروازے پر احمد شاہ[1]، امیرخسرو کا استقبال کررہے ہیں، ہم جیسے ادب کے طالب علم غالب اور ٹیگور کی قدم بوسی کررہے ہیں اور ٹالسٹائی ایک کونے میں بیٹھے گنگنا رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمن پوچھ رہے ہیں کہ یہ کم بخت یہاں کیا کررہا ہے؟ انہیں بتایا جارہا ہے کہ ناول لکھنا بھی عبادت تھا۔ اس نے سب سے بڑا ناول لکھا تھا۔

خواتین و حضرات، ہر کسی کو اپنے حصے کا زمانہ ملتا ہے۔ ہمارے حصے میں حضرت خادم حسین رضوی صاحب آئے۔ خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ جاتے جاتے اردو زبان میں ایسی value addition کرگئے جو برسوں یاد رکھی جائے گی۔

سو اس ثقافتی معدومی کے پس منظرمیں یا کلچرل اسپیس کے محدود سے محدود تر ہوتے چلے جانے کے تناظر میں جب کہ یہ تناظر ادب کی تخلیق اور لوگوں تک اس کے پہنچنے میں حائل ہے، اور صرف یہی نہیں بلکہ مختلف ادبی رجحانات کے اپنے اپنے منابع اور مآخذ تک رسائی میں بھی اس کے باعث رکاوٹیں حائل ہوچکی ہیں، آج ادب کا سب سے بڑا سوال اور ادیبوں کی سب سے بڑی ذمہ داری سمٹتی ہوئی ثقافتی اور تہذیبی بساط کو بحال کروانا ہے۔تہذیب کے سوتے خشک ہوگئے اور یہ کیاریاں سوکھ گئیں تو ادب کی کلیاں اور پھول کہاں کھل سکیں گے۔

میں اپنی گفتگو اقبال کی اس دعا پر ختم کروں گاکہ:

اس دور کی ظلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو

وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرمادے

احساس عنایت کر آثارِ مصیبت کا

امروز کی شورش میں اندیشہ فردا دے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1] آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...