نئے نقاد کے نام وارث علوی کا چھٹا خط

506

عزیزی و محبی!

یہ خط تمھیں قدرے تاخیر سے مل رہا ہے۔ تاخیر کی وجہ اسے لکھنے میں تساہل نہیں بل کہ۔۔۔۔۔۔ برخوردار، اب تم سے کیا چھپانا۔ اصل میں اس کا سبب فاروقی اور حنفی ہیں۔ دونوں نے وزیر آغا کے اکسانے پر ڈاک خانہء بہشت کے منصرم کو کسی طرح میرے خطوط کی ترسیل میں رخنہ انداز ہونے پر آمادہ کر لیا تھا۔ وہ واجبی سا ادبی ذوق رکھنے والا شخص ہے۔ اور تم تو جانتے ہی ہو،  ایسے آدمی کو پھانسنا تو ہمیشہ سے موصوفین کے بائیں ہاتھ کا کام رہا ہے۔

جب بھی خط پوسٹ کرنے جاتا، کبھی یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا کہ آج کی ڈاک تو صبح ہی بھیج دی گئی ہے اور کبھی یہ بہانہ بنایا جاتا کہ رجسڑی کلرک چھٹی پر گیا ہے۔ آج  ٹکٹوں کی کمی کا عذر تراشا جا رہا ہے تو کل لفافوں کے خاتمے کا بہانہ۔ غرض جتنے دن اتنے عذر۔ اتنے بہانے ایجاد کئے گئے کہ سرکاری محکمہء ڈاک کی یاد تازہ ہوگئی۔ دو تین ماہ کی خواری کھینچنے کے بعد مجھے شک گزرا کہ ایسا سادھارن آدمی بذاتہٖ اتنا عذرآور نہیں ہو سکتا، یقیناً کوئی کائیاں ہستی اس کی پشت پناہ ہے۔ زرا سا غور کیا تو معاملہ کُھل گیا۔ اچھا ۔۔۔۔ تو ڈاک خانہء بہشت کے ناظم الامور کے اس عیب کے  پیچھے اصل میں فاروقی کا دستِ غیب ہے اور میں گزشتہ تین ماہ سے موصوف کے پوسٹل سروس کے تجربے سے گھائل ہو رہا ہوں۔

سو اگلے روز ہی میں گھات لگا کر بیٹھ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ فاروقی، حنفی اور وزیر آغا؛ تینوں صاحبان دَبے پان٘و ڈاک خانہء بہشت میں داخل ہو رہے ہیں۔ ڈاک گھر کی کھڑکی سے جھانک کر اندر دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں: منصرم مذکور کو “جدیدیت کی فلسفیانہ اساس”، “شعر، غیر شعر اور نثر” اور “تصوراتِ عشق و خرد” کی ایک ایک جلد بہ طور رشوت پیش کی جارہی ہے اور وہ نادان کانچ کے منکوں کو لعل ہائے آبدار سمجھ کر پھولے نہیں سما رہا۔ یہ دیکھ کر مجھے شرارت سوجھی اور میں نے قاضی المظالم بہشت یعنی رئيس المحكمة العلیا کی گاڑی کے سائرن کی آواز نکالی جسے سنتے ہی موصوفین گھبرا اٹھے اور ایسے حواس باختہ ہوئے کہ اپنی کتب سمیت وہاں سے فرار ہوگئے۔ ان کا خوف، گھبراہٹ اور دوڑ دپٹ دیکھ کر مجھے جو تسکینِ قلب حاصل ہوئی، اس کا سرور ابھی تک میرے رگ و پے میں موج زن ہے۔ خیر آمدم برسرِ مطلب،  ڈاک خانہ میں داخل ہوا جہاں منصرم مذکور مارے خوف کے مسلسل کانپ رہا تھا۔ میں نے تادیبی نگاہوں سے اسے گھورا اور تنبیہی انداز میں اپنے سر کو اس طور سے جنبش دی کہ بے چارہ منت سماجت پر اتر آیا۔ میں نے اسے آئندہ محتاط رہنے اور بری صحبت سے بچنے کی تلقین کی۔ وہیں بیٹھ کر مکتوب ہذا لکھا اور اسے تھما کر اپنے عیش محل کی طرف روانہ ہوا۔ امید ہے تمھیں خط مل گیا ہوگا۔

میرے عزیز! یہ خانہء نقد بر انداز تو میرے تخمینوں سے کہیں بڑھ کر اڑیل واقع ہوا ہے۔ اس کے پے بہ پےخطوط کا صاف صاف مطلب تو یہی ہے کہ یہ محرکِ ہفت و ہشت تمھاری فکر و نظر کو بھرشٹ کرنے پر تُل گیا ہے۔ بھئی ایسی مداومت تو زادِ آخرت ہی کے لیے ہو سکتی ہے۔ ضرور بالضرور یہ طالبِ اجرِ غیر ممنون؛ ثواب سمجھ کر تمھیں گم راہ کر رہا ہے۔ سو تمھیں بھی چاہئے کہ جہاد سمجھ کر نقادِ شست انداز کی نقد کُش جبری پند و نصائح کی ہلاکت خیزی سے بچو۔ اور اگر ممکن ہو تو اس ستم ظریف سے یہ ضرور پوچھو:

’میری بربادیاں درست مگر

 تُو بتا کیا تجھے ثواب ہوا‘

میں نے گزشتہ خط میں لکھا تھا کہ نقادِ مغالطہ خیز ایک ایسی شریعت لے کر آیا ہے جس کا واحد امتی بھی یہ خود ہے۔ دیکھو کیسی الٹی بات کرتا ہے:

’’بزرگ نقاد کے پیش نظر یہ بات بھی تھی کہ تخلیق پراسرار، بھید بھری، کیفیات و معانی سے لبالب ہے کہ تنقید جیسی عقلی ومنطقی چیز اس کا ٹھیک ٹھیک ادراک کرنے سے بھی قاصر ہے۔ انھوں نے فن پارے کو ٹھیک پہچانا، مگر فن پارے کوسمجھنے اور بیان کرنے کے عمل کے فہم میں ٹھوکر کھائی۔ آدمی کو اپنی بزرگی ہی کو نہیں، اس حقیقت کو بھی مان لینا چاہیے کہ وہ بھی ٹھوکر کھاسکتا ہے۔‘‘

بھئی! اپنی بزرگی پر ایمان لا کر کوئی اپنی غلطی کیسے دھیان میں لا سکتا ہے۔ اپنی سہو و خطا تسلیم کرنا بزرگی یا استادی کا شعار نہیں طالب علمی و عاجزی کا افتخار ہے۔

’’انھوں نے فن پارے کو ٹھیک پہچانا، مگر فن پارے کو سمجھنے اور بیان کرنے کے عمل کے فہم میں ٹھوکر کھائی۔‘‘

نقادِ عجب گو سے ترنت پوچھو کہ اے بندہء خدا، کسی بھی فن پارے کی پہچان اس کی تفہیم سے کیوں کر جدا ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی فن پارے کو پہچان لے تو اس کے سمجھنے کے عمل میں ٹھوکر کیسے کھا سکتا ہے۔ اے گلِ نو دمیدہ! میں بار بار تمھیں چتاؤنی دے رہا ہوں کہ یہ باہم متضاد افکار تمھاری فکر و نظر کا انتم سنسکار کردیں گے۔ دیکھو یہ عدوئے فکر ونظر تمھیں کیسی الٹی الٹی شکشا دے رہا ہے:

’’لمبی عمر، کثیر تجربات اور ڈھیروں ڈھیر مطالعہ، چیزوں سے متعلق دانائی کی ضمانت نہیں ہیں۔‘‘

اے گلِ نو دمیدہ! میں بار بار تمھیں چتاؤنی دے رہا ہوں کہ یہ باہم متضاد افکار تمھاری فکر و نظر کا انتم سنسکار کردیں گے

اس کا مطلب یہ ہوا کہ چھوٹی عمر، قلیل تجربات اور قلتِ مطالعہ ہی وہ کنجیاں ہیں جن سے خانہء فہم و فراست اور دانائی کے قفل کھلتے ہیں۔ گمان تو یہی ہے کہ موصوف کا مطلب شاید یہ نہ ہو۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نقادِ غلط انگیز جو کہنا چاہتا ہے وہ کہنے پر قادر نہیں ہے۔ اسی لیے ہر بار بقول اپنے “بیان کرنے کے عمل کے فہم میں ٹھوکر” کھاتا ہے اور نتیجتاً ہمارا دل جلاتا ہے۔ باالفاظِ دیگر، اس مبتلائے ضعفِ تالیف کے کم زور افکار ہی کو فوری ملٹی وٹامنز کی حاجت نہیں، نحیف زبان کو بھی شربتِ فولاد کی اشد ضرورت ہے۔ موصوف کی زبان پر دست برد معاف کرنا “دسترس” ملاحظہ کرو:

’’ جب تم فن پاروں سے دوچار ہونے کو شعار کر لوگے تو تمھیں میری یہ بات زیادہ صراحت سے سمجھ آئے گی۔‘‘

فن پاروں سے دوچار کرنے والوں سے ہمہ وقت ہوشیار رہو اور یہ بھی سنو، نقادِ در انداز کیا کہتا ہے:

’’(اس زمانے میں تو یوں بھی ہم نے اپنے ذہن کو شکم بنالیا ہے ،جسے ہم کسی وقفے کے بغیر ،اس کی بھوک پیاس دیکھے بغیر،الم غلم چیزیں کھلاتے پلاتے رہتے ہیں)‘‘

بھئی، شکم کو کھلانے پلانے کا جواب نہیں۔ واقعاتی سقم نے جمالیاتی کجی کے ساتھ مل کر جملہ کو ’’دو آتشہ‘‘ بنا دیا ہے۔ افکار و اظہار کی ایسی، یکساں پست جہتی کس قدر کمیاب ہے۔ اللہ اکبر

اے برگِ گلِ رعنا! یہ نقادِ کہنہ فروش تمھیں مدرسانہ تنقید کے چبائے ہوئے، ازکارِ رفتہ اور مسخ شدہ اصولوں کی ایسی سیکنڈ ہینڈ درسی گائیڈیں بیچ رہا ہے جن کے زریعے تم محض نصابی امتحانات میں رعائتی نمبر لے کر بہ مشکل پاس ہو سکتے ہو؛ وہ تنقیدی بصیرت حاصل نہیں کر سکتے جو تخلیق کے بحرِ معانی میں غوطہ زن ہو کر اس کے سینے سے تعبیر و تشریح کے سیپ و موتی چنتی ہے۔

میں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’’خراب شاعری اور خراب افسانوں کو پڑھ کر آدمی خاموشی سے انھیں بھلا سکتا ہے، کیوں کہ چینی کے ظروف ٹیڑھے میڑھے بنے ہوں تو انھیں ایک طرف رکھ کر صحیح و سالم ظروف کو خریدا جا سکتا ہے، لیکن جب چینی کے ظروف کی دکان میں بد مست سانڈھ گھس آئے تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کا طرزِ عمل دوسرا ہوگا۔‘‘

نقادِ کہنہ پرست کے خطوط: تازہ کاری، تنوع اور ندرت سے پاک؛ جامد تنقیدی اصولوں کے وہ متروک صحیفے ہیں جن سے صرف اور صرف عبرت پکڑی جا سکتی ہے۔ خطوط کیا ہیں: عمدہ ادب کی پرکھ کے آج تک دریافت کیے گئے تمام غلط اصولوں کے کلیات ہیں جن سے کامل پرہیز اور یکسر متناقض اسلوب اختیار کر کے، تم میدانِ نقد میں یقینی بلند مقام حاصل کر سکتے ہو۔ اے نہالِ رعنا! یاد رکھنا، نقادِ ضرر رساں کے افکار سے پرہیز علاج سے کہیں بہتر ہے۔

نقادِ تفنگ انداز بیانی ہے:

’’لیکن فن پاروں کے سلسلے میں اگر تم چند بنیادی باتیں نہیں جانتے تو ان کے حسن، معنی ،اسرار یا بھید جو بھی کہیں، ان کا معمولی سا ادراک بھی نہیں کرسکتے۔ اگر تم دھرپد، خیال، ٹپہ، ترانہ سے متعلق سرے سے کچھ نہیں جانتے تو کلاسیکی موسیقی تمھارے لیے بیزار کن تکرار سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ لیکن اگر تم جانتے ہو کہ بول کیا ہے، سر کیا ہے، لے کیا ہے، ان کی بندش کیا ہے، استھائی اور انترے میں کیا فرق ہوتا ہے تو آپ خیال کی گائیکی کی داد اس طرح دیں گے، جیسے کوئی نیا عظیم الشان جزیرہ دریافت کرلیا ہو۔‘‘

اے صیدِ نقادِ دشوار فہم! فی الحال فن پاروں کے اسرار، معنی اور حسن کو گولی مارو اور پہلے دھرپد، ترانہ، ٹپہ، بندش، لے، انترہ اور استھائی کا گیان حاصل کرو جو تمھیں موصوف کی دی گئی تمثیل کا فہم حاصل ہو۔ اور آئندہ کسی نظیر سے کسی نکتہ کی تفہیم میں آسانی کی امید نہ رکھو۔ ہو نہ ہو؛ نقادِ دام انداز یہی چاہتا ہے۔ فن پاروں کے حسن، اسرار اور معنی کو ان کے مبادی علم کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ نکتہ سمجھانے کے لیے نقادِ تہیہ کار نے کلاسیکل موسیقی کی اصناف کی مثال دی ہے۔ اس مثال میں وہ تمام تر عیب موجود ہیں جو کم تر درجہ کے نقادوں کا امتیازی وصف ہے یعنی بلا وجہ علم کی نمائش۔ ایک ایک لفظ سے مترشح ہے کہ اس مشتاقِ نمود و نمائش کا مقصود تمھاری تربیت کی بجائے نمودِ علمیت ہے۔ عزیزِ من! عالمانہ تنقید دکھاوے کے بہکاوے میں آئے بغیر کھوٹے کھرے کی پہچان کا بنیادی فریضہ ادا کرتی ہے؛ غیر متعلقہ علوم کی نامانوس اصطلاحات کا پاٹھ کرکے داد وصول نہیں کرتی۔ یہ نقادوں کا نہیں نوٹنکیوں کا کام ہے۔ نظیر موضوع کو فہمیدہ بنانے کے لیے پیش کی جاتی ہے مزید پیچیدہ بنانے کے لیے نہیں۔ اصولاً، مبحث کی تفہیم میں غیر معاون مثال کی کھال ادھیڑ دینی چاہئیے۔ موضوع پر دسترس نہ ہو تو کائیاں شخص پیچیدہ بیانی اور الم غلم باتوں سے اپنا بھید بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

اور علم بھی طبع زاد نہیں بل کہ وہ جس کا لفظ لفظ مغربی تنقیدی کتب سے مستعار ہے

نقادِ بسیار نویس مزید بیانی ہے:

’’اسی طرح اگر طلسم کو غیر حقیقی اور سراسر فریب سمجھتے ہو تو داستانی طلسم کا کمال تم سے اوجھل رہے گا۔ داستان کو ناول کی طرز پر نہیں پڑھا جاسکتا۔ اسی طرح اگر تم ناول کو جدید انسان کی سب دیوتانما طاقتوں کے خلاف جسارت آمیز جدوجہد سے ہٹ کر پڑھو گے تو ایک سادہ پلاٹ والی کہانی اور بڑے ناول میں فرق کو نہیں پہچان سکوگے۔‘‘

محولہ بالا اقتباس میں نقادِ نادرہ جُو نے ایک ایسی بات کا انکشاف کیا ہے جو ادبی تنقید میں انقلاب برپا کر سکتی ہے: ’’داستان کو ناول کی طرز پر نہیں پڑھا جا سکتا‘‘ بھئی سبحان اللہ کیا اہم اور نایاب معلومات فراہم کی ہیں۔ فوراً جوابی خط لکھ کر نقادِ ممتا روپ کا، ایسا نادر نکتہ سمجھانے پر شکریہ ادا کرو اور خط کے ہم راہ اسے اپنے برتھ سرٹیفکیٹ کی کاپی بھی بھیجو تا کہ اسے معلوم ہو کہ تم نئے نقاد ضرور ہو؛ نرسری کلاس کے طالب علم نہیں جو تمھیں تنقید کے الف انار، ب بکری جیسے اسباق یاد کروائے جائیں۔

نقادِ خطبہ خواں کی اس بات نے مجھے حقیقتا چکرا دیا ہے:

’’اسی طرح اگر تم ناول کو جدید انسان کی سب دیوتانما طاقتوں کے خلاف جسارت آمیز جدوجہد سے ہٹ کر پڑھو گے تو ایک سادہ پلاٹ والی کہانی اور بڑے ناول میں فرق کو نہیں پہچان سکوگے۔‘‘

اس جملہ میں ادب کے روح پرور مطالعہ کی مہک کی بجائے کلاس روم کی بُو بھری ہوئی ہے اور موصوف کا ادب کی طرف رویہ والہانہ نہیں پیشہ ورانہ نظر آ رہا ہے۔ نقادِ بے دھڑک کی محولہ بالا سویپنگ سٹیٹمنٹ میں ایک غلغلہء خودرائی ہے کہ صرف اسی پر ادبی صداقتوں کا نزول ہوا ہے سو ادبی متن کو اسی کی نظر سے دیکھنا چاہئے۔ تم نے دیکھا کہ کیسے اس ستم ظریف نے ادبی مطالعے کی نوع بہ نوع جہتوں اور زاویوں کے کاروانِ لالہ و گل کے آگے اپنے نام نہاد علم و فضل کے کنٹینر رکھ کر اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے جو تفہیم، تعبیر اور تنقید کے علم اٹھائے، گنجینہء معنی کے جوہر کی تلاش میں رواں دواں تھا۔ اپنے علم، عظمت، اسٹیبلشمنٹ اور چودھراہٹ پر بلاوجہ کا مان آپ سے ایسی ہی آمرانہ حرکتیں کرواتا ہے۔ اور علم بھی طبع زاد نہیں بل کہ وہ جس کا لفظ لفظ مغربی تنقیدی کتب سے مستعار ہے۔

ناصح نقاد کا باقی خط بھی ایسا ہی اٹکل پچو ہے جیسے محولہ بالا اقتباسات۔ نقادِ زود نویس نے تمھیں دھڑا دھڑ چھ عدد خطوط تو لکھ مارے ہیں لیکن ہنوز اپنا مدعا وضاحت سے بیان نہیں کر پایا۔ لگتا ہے موصوف کو فقط لکھنے سے غرض ہے۔ وہ کیا لکھ رہا ہے؛ یہ اس کا مسئلہ نہیں۔ اس کارِ بےلطف کے لیے میں سیاہ بخت جو ہوں۔

اے مثلِ گلِ احمر، میں تم سے پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ نقادِ صید کناں نے ابھی تک تمھیں تخلیقی ادب کی پرکھ کا کوئی ایسا معروضی اور عصری معیار عطا نہیں کیا جو ہمارے دور اور ادبی مزاج سے جنما ہو اور جس کی مدد سے تم اعلا و ادنی ادب کو ممیز کر سکو۔ اس کے نقد کُش خطوط میں ہر مرتبہ ایک نیا تنقیدی ہدایت نامہ تو جاری کیا جاتا ہے لیکن اس ’’رشد و ہدایت‘‘ سے بہرہ ور ہونے کے لیے کوئی فقہی اصول وضع نہیں کیا۔جاتا۔ لہذا ان ہدایات کو پڑھ کر تم کسی فن پارے کی حقیقت کو سمجھو نہ سمجھو نِربل نقاد کی نارسائی کو ضرور سمجھ جاؤ گے جو تخلیقی ادب کی قدر کے تعین کے لیے کوئی نئی کسوٹی دینے کی بجائے اِدھر اُدھر کی باتیں کرکے اپنے من کا بوجھ ہلکا کر رہا ہے۔ اسے زیادہ سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔

میرے عزیز، مجھ سے اب اور زیادہ ان مہمل اور بے معنی باتوں کے لنگر کا بوجھ نہیں اٹھایا جاتا۔ ان الم غلم خیالات کے صندوق اٹھاتے اٹھاتے میرے کندھے جھکنے لگے ہیں۔ تم نے سنا ہوگا کہ بہشت میں کوئی بوڑھا نہیں ہوتا لیکن میری جان، یہ واقعہ نقادِ ضرر ناک کے خطوط سے پہلے کا ہے۔ دیکھو خط لکھتے لکھتے مجھ پر نقاہت طاری ہورہی ہے۔ میں اتنی توانائی ضرور بچا کر رکھنا چاہتا ہوں کہ اپنے عیش محل جاتے ہوئے راستے میں فاروقی، حنفی اور وزیر آغا سے چھیڑ خانی کرتا جاؤں۔ یقین مانو اس سے میرا انرجی لیول بڑھ جاتا ہے۔ آج واپسی پر جب شرارت سے آنکھ مارتے ہوئے ان سے کہوں گا: اگر کہو تو تمھاری کتب اور پیغام خاکسار، ڈاک خانے کے منصرم کو دے آئے۔ یہ سن ان کی جو حالت ہوگی، اس کے لذیذ تصور ہی سے میرے خون کی گردش تیز ہو رہی ہے۔ سو اب میں چلتا ہوں۔ باقی باتیں آئندہ ہوں گی۔ اپنا اور اپنے قلم کا خیال رکھنا۔

خیر اندیش

وارث علوی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...