ہمارے مذہبی رویے تحقیق پر نہیں، بلکہ تاریخ پر استوار ہیں

305

پہلے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں، اور اس کا مقصد بلا کسی مسلکی رجحان پر زور دینے کے، صرف اور صرف یہ سمجھنا ہے  کہ بطور سماج بغیر کسی مسلکی و مذہبی تفریق کے، ہمارا مجموعی رویہ مذہب اور مذہب کے نام پہ پختہ ہوچکی ثقافت کے حوالے سے کیسا بن چکا ہے۔

25 سال پہلے کی بات ہے، ایک مجلس میں شریک تھا۔ صاحب دعوت نے پیر سید نصیر الدین نصیر صاحب کو دعوت دے رکھی تھی۔ محفل شروع ہوئی، کچھ دیر بعد پیر صاحب تشریف لے آئے۔ کسی توقف و تامل کے بغیر، پیر صاحب نے آتے ہی ایک معروف بزرگ شخصیت کا نام لے کر سوال کیا ’’ فلاں بزرگ کیا کرتے تھے؟‘‘ صاحبِ دعوت اور منتظمین اس سوال کے آگے بے بس سے دکھائی دیے اور ان پہ سکوت کا عالّم طاری تھا۔ پھر انہوں نے خود ہی جواب دیا: ’’وہ قر آن مجید پڑھتے تھے، وہ لوگوں سے نہیں کہتے تھے کہ ہمارے بندے بنو، وہ کہتے تھے خدا کے بندے بنو، وہ لوگوں کو اپنی شخصیت کا اسیر نہیں بناتے تھے، وہ لوگوں کو خدا کا رستہ دکھاتے، وہ قرآن مجید پڑھتے اور قرآن مجید سکھاتے تھے۔‘‘۔ وہ یہ سب کچھ کہہ کر کچھ دیر بعد اٹھ کر چلے گئے۔ میرا خیال تھا کہ اُن کے جانے کے بعد پیر صاحب کی تعریف ہوگی کہ اُنہوں نے ہماری آنکھیں کھول دیں، ہمیں حقیقت کا راستہ دکھایا۔ ہم بھٹکے ہوئے تھے ہمیں شیخ صاحب کے بارے میں اُن کے حقیقی مشن سے آگاہ کیا۔ خیال تھا لوگ پیر صاحب کے وعظ و خطاب کے بعد قرآن مجید کی طرف راغب ہوں گے، پیر صاحب کا شکریہ ادا کریں گے کہ انہوں نے ہمیں قرآن مجید کی طرف راغب کیا۔ میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ منتظمین اور حاضرین نے پیر صاحب کی نہ صرف مخالفت کی، بلکہ پیر صاحب کو بزرگوں کے راستے سے ہٹا ہوا قرار دیا۔

میں آج بھی جب اس واقعہ پہ غور کرتا ہوں، اس واقعہ کی روشنی میں مزید عوامی رویے اور سوچ کا مشاہدہ کرتا ہوں تو میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ جب عوام میں کوئی بھی رسم  یا ثقافت مذہب کے نام پہ رواج پا جائے تو مذہب کے محدود تصور اور سال ہہ سال کی تقلید  کے باعث اُس سے دوری، دین سے دوری گمان کرلی جاتی ہے۔ میں نے کئی مساجد سے ائمہ و خطباء کی اس بنیاد پہ  چھٹی ہوتے دیکھی ہے کہ امام و خطیب کسی ایسی رسم و روایت سے اختلاف کر بیٹھتا ہے جس وجہ سے اُسے مسجد سے جانا پڑتا ہے۔

اندازہ کیجئے! لوگوں کو مذہبی رہنماؤں، صاحبزادوں اور خانقاہوں سے کتنی عقیدت ہوتی ہے لیکن اگر اسی گھرانے سے بھی کوئی شخص اٹھ کر کسی رسم  کی مخالفت کرے اور بتائے کہ دین کا اصل مبدأ یہ ہے تو کوئی بھی اُسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ، اسی دینی گھرانے سے تعلق رکھنے والی شخصیت کے ہی مخالف ہوجاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ دینی شخصیات جن سے لوگو ں کو بہت عقیدت و محبت ہوتی  ہے، اگر وہ آج زندہ ہوکر آجائیں اور لوگوں کو مذہب کے نام پہ راسخ ہوچکی رسوم ورواج سے متعلق تعلیم دیں اور انہیں بتائیں کہ دین کی اصل رُوح کچھ اور ہے تو قوی امکان ہے کہ لوگ اُنہیں ہی مسترد کردیں گے حتی کہ ان کے درپے ہوجائیں گے اور اُن کا تمسخر اڑائیں گے۔ خواہ وہ شخصیات جتنی بھی عظیم کیوں نہ ہوں۔

اقبال کایہ شعر حسب حال  ہے:

آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

جب عوام میں کوئی بھی رسم یا ثقافت مذہب کے نام پہ رواج پا جائے تو مذہب کے محدود تصور اور سال ہہ سال کی تقلید  کے باعث اُس سے دوری، دین سے دوری گمان کرلی جاتی ہے

یہ روایات و رسومات اپنا ایک پس منظر رکھتی ہیں۔ اس میں سماج کا عمومی رویہ اور سوچ بھی شامل ہوتی ہے۔ اس میں مذہب کی وہ آواز جو بچپن سے کانوں میں پڑتی ہے اس کا بھی کردار ہو تا ہے۔ معاشرہ کیسے ارتقاء کرتا اور آگے بڑھ رہا ہے، اس کا بھی اہم کردار ہے۔ اس میں عوام کی معاشی حالت بھی ایک محرک ہوتی ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس سارے پس منظر سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام بوجھ صرف مذہب کے کندھوں پہ ڈال دیا جاتا ہے، جب کہ دیگر عوامل بھی موجود ہوتے ہیں۔ کیونکہ مذہب ہی ایسا عنصر ہے جو سب بوجھ برداشت کر لیتا ہے۔ اور لوگ اس معاملے میں صرف جذباتی نہیں ہوتے بلکہ ہنسی خوشی اسے قبول کر تے ہیں کیونکہ اس کے جلو میں انہیں کچھ ساتھ مل جاتا ہے۔

عوام کسی بھی حالت میں ہوں لیکن وہ مذہب سے وابستہ کسی بھی روایت کو آسانی سے ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب  ایک عالم، فقیہ، یا تعلیم یافتہ گدی نشین ان مروجہ اور مقلدانہ نظریات پہ زد لگاتا ہے جو انہوں نے طویل عرصے سے دیکھے، کیے اور اپنائے ہوتے ہیں۔ تو وہ انہیں ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ الٹا اپنے دفاع میں وہ یہ کہہ کر خود کو تسلی دیتے ہیں کہ ہم بزرگوں کے راستے کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ بزرگ جو دنیا سے جاچکے ہیں۔ یعنی کہ واضح بات ہے، جو وفات پاگئے وہ زیادہ معتبر ہو جاتے ہیں اور جو زندہ ہیں انہیں معتبر و مستند بننے کے لیئے مرنا ہو گا۔

زوالِ علم و ہنر کی علامت یہ بھی ہے کہ محققین کی جگہ خطیبوں کی بہتات ہوجائے، جو خیال و فکر تو ایسے پیرائے میں بیان کریں اور ایسی چاشنی و لفاظی سے کہ لوگ عش عش کر اٹھیں لیکن مقصدِ کلام کی اہمیت کم ہو جائے یا مقصد ذہن کے اُفق سے بالکل غائب ہو جائے۔ عوام ایسے لوگوں کو اپنا بڑا خیال کرتے ہیں جو الفاظ کے گورکھ دھندے میں اُلجھائے رکھیں۔عمل کے بغیر جنت کی راہوں کو آسان کردیں۔ جن کا دین محض افضلیت بیان کرنے کی لفاظی پہ مبنی ہو، اطاعت و عمل کا تردد بس معمولی ہو۔

ایسے ماحول میں، جگانے والا اور سیدھی بات کہنے والا پسند نہیں آتا۔ لیکن ضروری یہ بھی ہے کہ حق بات کہنے والے اپنی بات نہ بدلیں، کیونکہ حق ایک ہوتا ہے، وہ کبھی نہیں بدلتا۔ علماء کرام اور سکالرز کو حق بات ہی کہنی چاہیے۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہے تو حق بھی روایت بن جاتا ہے، بات ہوتی رہنی چاہیے۔ عوام آج نہیں تو کل کسی دن ضرور قبولیت و تعمیل کی طرف آجائیں گے۔ اگر نہ بھی آئیں تو بھی اپنی کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ ذمہ داری تو بس پیغام پہنچانے اور کوشش کرنے کی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...