امن مذاکرات کی قیمت

308

اگر حکومت کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر بھی لیتی ہے تو اس سے سکیورٹی اداروں کو محض عارضی یا جزوی مہلت ملے گی۔ ہوسکتا ہے گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گروہ کے خلاف برسرپیکار سکیورٹی اداروں کا امن مذاکرات سے مقصود یہ ہو کہ پاک افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنایا جاسکے اور سابقہ فاٹا کی مرکزی دھارے کے ساتھ مربوط اشتراک کے پراسس کو تیز کیا جاسکے، لیکن اِس گروہ کے ساتھ ایسا کوئی بھی معاہدہ بہرحال ملک پر منفی اثرات ہی مرتب کرے گا۔

زیادہ تر ماہرین ، سیاستدانوں، سول سوسائٹی ممبران، قانون نافذ کرنے والے عناصر اور فوجی کمانڈرز جنہوں نے تنظیم کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا، ان کا خیال ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت اچھا فیصلہ نہیں ہے۔ بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کو دہشت گردوں کے ساتھ ہتھیار ڈالنے سے کم کسی شرط پر بات چیت نہیں کرنی چاہیے، جبکہ سکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ یہ گروہ پہلے ہی شکست کھا چکا ہے۔ یہ مفروضہ بھی اختلافی اور متنازع فیہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدے کے بعد قبائلی علاقوں میں استحکام آجائے گا اور افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد کے انتظامی امور کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ایک تو ٹی ٹی پی کے اندر سے کچھ ناراض اراکین اور دھڑے الگ ہوسکتے ہیں جو ممکنہ طور پہ ایک یا ایک سے زائد نئے گروہ تشکیل دے سکتے ہیں، یا پھر ’داعش خراسان‘ میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں جس نے پہلے ہی پاکستان کے اندر حملوں میں تیزی دکھائی ہے۔

ان اقدامات کے پیچھے اداروں کے دوسرے جغرافیائی سیاسی مقاصد بھی ہوسکتے ہیں جن پہ پہلے کئی بار بات ہوچکی ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’تحریک طالبان پاکستان‘ کے دشمن ممالک کی انٹیلی جنس ایجسیوں کے ساتھ روابط کو منقطع کیا جاسکے۔ جو بھی ہو، بہت سے مبصرین کی رائے ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ انجام کار افغان طالبان کی اندرونی مسابقتی کشمکش میں حقانی گروہ کو مضبوط بنائے گا۔ اگر ایسا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا حقانی گروہ پاکستانی مفادات کا تحفظ کرے گا؟ ٹی ٹی پی کے حقانیوں کے ساتھ ہمیشہ خوشگوار تعلقات رہے ہیں اور حقانی کبھی بھی اس کے خلاف کاروائی نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مسئلے کا کوئی بھی حل باہمی افہام و تفہیم اور ’کچھ لو، کچھ دو‘ کے اصول پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس تناظرمیں ٹی ٹی پی کے ساتھ امن کا معاہدہ ایک فریب خیالی محسوس ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ فاٹا انضمام کی تنسیخ کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ ٹی ٹی پی اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اپنے حالیہ بیان میں گروہ نے دوٹوک انداز میں عندیہ دیا ہے کہ وہ سابقہ فاٹا کی انضمام سے سے قبل والی آزاد حیثیت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’اگر پاکستانی حکومت اور سکیورٹی ادارے امن چاہتے ہیں تو انہیں قبائلی علاقہ جات کی سابقہ حیثیت بحال کرنی ہوگی۔‘‘

مالاکنڈ میں شریعت کے نفاذ اور قبائلی اضلاع تک اس کی توسیع سمیت ٹی ٹی پی کے دیگر مطالبات بظاہر پاکستانی ریاست کے لیے قابل قبول ہیں۔ اگرچہ ضلع مالاکنڈ میں ’نظامِ عدل ریگولیشن، 2009ء‘ ابھی تک فعال ہے، لیکن مذکرات کاروں کی جانب سے مطالبے کو تسلیم کرنے کا ظاہری رجحان اشارہ کرتا ہے کہ علاقے میں متوازی انتظامی ڈھانچے کا وجود ان کے لیے زیادہ پریشان کن نہیں ہے۔ مذاکرات میں مصروف ریاستی ادارے بظاہر اس بارے فکرمند نہیں ہیں کہ ٹی ٹی پی کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے کیا قانونی، سیاسی اور سماجی اثرات و عواقب مرتب ہوں گے، جو بعد میں مزید پیچیدہ تنازعات کو جنم دینے کاباعث بن سکتے ہیں۔ یہ وہی ذہنیت ہے جس نے اس مسئلے کو پارلیمان میں زیربحث لانا ضروری نہیں سمجھا، یہاں تک کہ حکومت کو بھی دہشت گردوں کے ساتھ امن مذاکرات کی تفصیلات کا بہت کم علم ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سکیورٹی اداروں نے سوات، خیبر اور وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے سے قبل پارلیمان کی حمایت کا مطالبہ کیا تھا، اور جواب میں پارلیمان نے مسلح افواج کی مکمل حمایت کا اظہار کیا تھا۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ ہزاروں اموات، بھاری مالی نقصانات، منفی بین الاقوامی تأثر اور سفارتی بحرانوں کے ذمہ دار گروہ کے خلاف تمام کامیابیوں کو ضائع کر دے گا

تاہم امن مذاکرات کے عمل کو مجاز حیثیت دینے کے لیے سکیورٹی اداروں نے قبائلی جرگوں کو ساتھ شامل کیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے میڈیا بیان کے مطابق ایک جرگہ یا کمیٹی 32 محسود قبیلہ کے ترجمان افراد پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرے جرگے میں مالاکنڈ کے مختلف قبائل کی 16 نمائندہ شخصیات شامل ہیں۔  دونوں جرگوں نے افغانستان میں 13 اور 14 مئی کو ٹی ٹی پی سے ملاقات کی۔ بعد ازاں میڈیا کی خبروں سے اطلاع آئی کہ 57 رکنی جرگہ جو موجودہ اور سابقہ پارلیمانی ارکان سمیت قبائلی نمائندگان پر مشتمل ہے، یکم جُون کو کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے کابل روانہ ہوا ہے۔

جرگے میں خیبرپختونخوا حکومت کی نمائندگی وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کر رہے ہیں۔ تاہم بات چیت ابھی تک فاٹا انضمام کا فیصلہ واپس لینے، ٹی ٹی پی کا نام تبدیل کرنے اور قبائلی اضلاع سے پاکستانی افواج کے انخلا کے بنیادی مطالبات پر رکی ہوئی ہے۔ پاکستانی ریاست نے اب تک جو حاصل کیا ہے وہ ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کو بغیر کسی تعطل کے جاری رکھنے کا عہد ہے۔

جنگ بندی کے نتیجے میں دہشت گردانہ حملوں میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ٹی ٹی پی نے کسی دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم ’گل بہادر گروپ‘ کی طرف سے جنگ بندی کے عرصے میں سیکورٹی فورسز کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گروہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے کم از کم چھ دہشت گرد حملوں میں ملوث پایا گیا ہے، جو واضح طور اشارہ ہے کہ ’گل بہادر گروپ‘ امن مذاکرات سے خوش نہیں ہے۔ اس گروپ کا خیال ہے کہ ریاست کو اس کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے، کیونکہ بقول اس کے، وزیرستان میں اس کا اثرورسوخ زیادہ ہے، اور وہ یہ بھی سمجھتا ہے اگر اسے اجازت دی جائے تو وہ ٹی ٹی پی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

یہ ایک نازک صورتحال ہے۔ اگر قبائلی اضلاع میں بڑھتے ہوئے ذیلی قوم پرست رجحانات کو اس کے ساتھ پیش نظر رکھا جائے تو معاملہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس سارے مخدوش منظرنامے کو کسی رسمی اتھارٹی، وسیع قانونی اختیارات کے حامل فورم یا سکیورٹی اداروں کے بغیر، اکیلے جرگہ نہیں سنبھال سکتا۔

اس مسئلے کو میڈیا، پارلیمنٹ اور دیگر پالیسی فورمز کے توسط سے مرکزی دھارے کی بحث میں لایا جانا چاہیے۔ اقوم متحدہ کی سکیورٹی کونسل کمیٹی کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کے پاک افغان سرحد سے ملحقہ مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چار ہزار جنگجو موجود تھے اور یہ وہاں غیر ملکی جنگجوؤں کا سب سے بڑا گروہ تھا۔ اگر ٹی ٹی پی پاکستانی ریاست کے ساتھ یہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کے بعد گروپ کے ارکان کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انسداد دہشت گردی کے ضمن میں پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ رہا ہے کہ اس نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ کیا اور ان کے معاون مراکز سے ان کا رابطہ منقطع کیا۔ اور اس کے پیچھے ریاست کو مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ، ملک بھر میں ہزاروں مدارس، مذہبی گروہوں اور پالیسی ساز حلقوں کی حمایت حاصل تھی۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ ہزاروں اموات، بھاری مالی نقصانات، منفی بین الاقوامی تأثر اور سفارتی بحرانوں کے ذمہ دار گروہ کے خلاف تمام کامیابیوں کو ضائع کر دے گا۔

بشکریہ: روزنامہ ڈان، مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...