دہشت گردی سے متعلق اُمور میں پارلیمان کے کردار کا مطالبہ

133

گزشتہ روز وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹویٹ میں یہ بتایا کہ ان کی جماعت نے اعلی سطحی اجلاس میں دہشت گردی سے جڑے مسائل، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو پارلیمان میں زیربحث لایا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ تمام جماعتوں سے اس پر گفتگو کریں گے۔

پارلیمان قومی مسائل پر بحث ومباحثہ کے لیے سب سے اہم اہم ار مرکزی فورم سمجھا جاتا ہے۔ دہشت گردی کا قضیہ ملک کو درپیش مسائل میں سب سے زیادہ گھمبیر اور اثرات کے اعتبار سے تباہ کن ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پچھلی دو دہائیوں کے دوران اس مسئلہ کے ضمن میں مجموعی طور پہ پارلیمان کا کردار کمزور یا غیرمتعلق رہا ہے۔ حالانکہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود قومی سیاسی فورم کا کردار زیادہ مفید اور فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ ماضی قریب کی کچھ مثالیں اس کی شاہد ہیں جب چند مواقع پر دہشت گردی کا مسئلہ پارلیمنٹ میں زیربحث لایا گیا۔

پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کا حالیہ بیان ظاہرکرتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ٹی ٹی پی کے ساتھ جاری مذاکرات کی پیش رفت سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا اور انہیں اس معاملے پر شدید خدشات ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ سیاسی حلقے کی جانب سے اس مسئلے پر پارلیمان کو اس کا کردار ادا کرنے دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس پر دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی آگے آنا چاہیے، کہ بطور عوامی نمائندوں کے یہ ان کا جمہوری فریضہ ہے۔

پارلیمان کو نظرانداز کرکے ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ کمزور، غیرووزن دار اور غیرشفاف ہوگا، جس کے نتائج منطقی طور پہ ملکی مفاد بھی نہیں نکلیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...