پاکستان فلم انڈسٹری 1947ء سے 1964ء تک: نئی شناختوں کی تعمیر

زیر نظر اقتباس سلیمان آصف کے مضمون ’’پاکستان فلم انڈسٹری 1947ء سے 1964 تک: نئی شناختوں کی تعمیر‘‘ سے لیا گیا ہے۔

118

ستر کی دہائی انڈین پنجاب میں شروع ہونے والی سیاسی اتھل پتھل اور پاکستانی سینما میں سکھ کرداروں کی غیر معمولی تصویر کشی کا نقطہ آغاز تھی۔ ستر کی دہائی کے اواخر میں خالصتان تحریک سے منسلک سکھ عسکریت پسند علیحدہ وطن ” خالصتان” کے لیے جدوجہد میں مصروف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ انڈیا کے اندر ان کے لیے ایک علیحدہ وطن بن جائے۔ ان کی یہ جد وجہدبتدریج اَسّی کی دہائی میں اپنے نقطہ عروج کو پہنچ گئی۔ انڈیا پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا تھا کہ وہ خفیہ طور پر سکھ بغاوت کی حمایت کر رہا تھا، تاہم آخر میں یہ پاکستان کی مدد ہی تھی جس کی وجہ سے سکھ عسکری تحریک کو کچلا گیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہی سکھ اقلیت کی تصویر کشی میں بھی ڈرامائی تبد یلی نمودار ہو گئی۔ یہ پاکستان میں اتنی چھوٹی اقلیت ہے کہ قومی مردم شماری کے فارم میں اس کے لیے علیحدہ سے کوئی تخصیصی خانہ تک موجود نہیں۔ پاکستانی سینما میں سکھ کرداروں کو اب شیطانی کردار کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا، حالانکہ 1947 میں مشرقی پنجاب میں سکھوں کے مسلمان مخالف تشد د کی لا تعداد کہانیاں موجود ہیں۔

مندرجہ بالا نکتے کا حوالہ ہدایت کار اور اداکار سنگیتا کی مشہور زمانہ فلم ” مٹھی بھر چاول” ہے جو 1978 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ یہ مشہور زمانہ ترقی پسند اردو لکھاری را جند سنگھ بیدی کے ناول ” اک چادر میلی سی ” کی فلمی تشکیل تھی۔ فلم کو سنگیتا کے سینمائی سفر میں طاقتور ترین پیش کش کے طور پر سراہا جاتا ہے، جس میں ایک سکھ ہوم اور تمام تر سکھ کرداروں کو حساسیت اور کھرے پن کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ” مٹھی بھر چاول” کو بہترین فلم ( طیب رضوی ) و بہتر ہدایت کار و بہترین اداکار ( سنگیتا)، بہترین تدوین (زیڈ اے زلفی ) اور بہترین خصوصی پر فارمنس ( غلام محی الدین ) کے نگار ایوارڈ دیے گئے۔ پانچ نگار ایوارڈ کے ساتھ یہ فلم ریکارڈ توڑ فلم ثابت ہوئی۔

اس کے ایک برس کے بعد نیشنل فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ( نیفڈ یک، اب یہ ادارہ غیر فعال ہو چکا ہے)  نے نسیم حجازی کے تاریخی ناول ” خاک اور خون پر مبنی تاریخی ڈارمہ پروڈیو س کیا۔ یہ رومان اور خسارے کی کہانی تھی جس کا پس منظر پاکستان کی خون میں نہائی ہوئی تخلیق تھا۔ ناول نگار شریف حسین جو اپنے کہیں زیادہ مقبول قلمی نام نسیم حجازی (1996-1914) سے مشہور اور ایک باثر لکھاری سمجھے جاتے ہیں وہ تاریخی واقعات سے ماخوذ اسلامی سیاسی تاریخ کے عروج وزوال کی داستانیں تخلیق کرتے تھے۔

یہ فلم بعینہٖ ناول کی مانند برطانوی ہند کے مسلمانوں کی پاکستان کے لیے جد و جہد کا بیان او ر ان میں سے بہت سوں پر ہونے والے نسلی تشدد کی، جو آگے چل کر مشرقی پنجاب میں ان کی نسل کشی پر منتج ہوئے،عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ واضح طور پر یہ تحریک پاکستان کی عظمت اور مسلمانوں کی سکھوں کے ہاتھوں سہی جانے والی وحشت انگیزی کا بیان ہے، تاہم پلاٹ کھلم کھلا اس بربریت کی ذمہ داری اشتعال انگیزی پھیلانے والے ہندو سیٹھ رام لکشمن پر عائد کرتا ہے جو سکھ نوجوانوں کو مسلمان برادری کے خلاف اکسا کر نسل کشی کی حد کو پہنچا ہوا قتل عام کرتا ہے۔ سکھوں کی جانب سے کیا گیا تشدد،اگر انہیں سے بری نہیں کر دیا گیا تو بھی اس کا کم از کم جوازضرور پیش کیا گیا اور بپھرے ہوئے جتھوں کی کارروائی کی ذمہ داری مکار سیٹھ پر ڈال دی گئی ہے۔

سکھ برادری کی نرم عکاسی کی طرف جھکاؤ اس کے بعد آنے والی فلموں میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر “بت شکن ” جسے 1974 میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ موہن چند کی زندگی کی عکاسی ہے (یہ کردار اداکار یوسف نے ادا کیا )کہ کیسے وہ ایک سنگدل نفسیاتی مریض سے ایک راست اور پرہیز گار مسلمان بن جاتا ہے اور اس کا نام محمد علی رکھا جاتا ہے۔ انجام کار وہ برطانوی ہند میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی وحشت انگیزیوں کا بدلہ لیتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے۔ہندو پولیس افسر گووندہ بدی کا مجسم نمونہ ہے (یہ کردار اداکار ادیب نے ادا کیا )۔ وہ یہ کوشش بھی کر گزرتا ہے کہ محمد علی کے ساتھ سودے بازی کر لے اور اس کے واپس ہندو مت کی طرف لوٹنے پر اس کی جان بخشی کر دے۔ فلم کا ہیرو یقیناًاس کی بجائے پھانسی کے پھندے کو چوم لینے کو ترجیح دیتا ہے۔اس سارے ڈرامے میں پاکستان کے معروف مزاحیہ اداکار عمر شریف نے کھڑک سنگھ نامی سکھ کا کردار ادا کیا ہے جو روایتی کلیشے کے مطابق شرابی مزاحیہ سکھ کا کردار ہے جو بھانڈ پنا اور جگت بازی کرتا ہے، لیکن وہ “جبلی” طور پر کسی سےکینہ نہیں رکھتا۔

اسی طرح کی ایک فلم 1995 میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی “جیوا” ہے جس میں ایک قابل محبت سکھ جوڑا نیکو سکھ (یہ کردار غلام محی الدین نے ادا کیا ) اور بندو(ادکار نیلی) کا ہے جن کی خوش طبعی اور لاابالی پن اس انتقا می ڈرامے کو کچھ شوخ اور چنچل بنا دیتا ہے۔

کسی بھی فلمی صنعت کے لیے کلیدی مثال زندگی کی نمائندگی اور اس سے پھوٹنے والے متضاد اور اوپر نیچے ہوتے ہوئے پہلوؤں کو اس طرح پیش کر نا ہو تا ہے کہ وہ فلم بینوں کے لیے خودان کا ایک عکس بن سکے

نوے کی دہائی کے وسط سے دو ہزار کی دہائی کی ابتدائی سالوں تک،لاہور میں بننے والا پاکستانی سینما تقریباً ایک دہائی تک زوال کا شکا ر رہا اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ 2002 میں قابل تکریم نگار ایوارڈ بند کر دیا گیا۔ اس عرصے کے دوران آرٹ ہاؤس انداز کی چند ایک فلمیں مثلا ًہدایت کارصبیحہ سومار کی 2002 میں بنائی جانے والی ” خاموش پانی ” نے کوشش کی کہ وہ “حب الوطنی” سے بھر پور فلموں کے مقابلے میں ایک متبادل بیانیہ تشکیل دے کر مذہبی تنوع کو انسان دوست رنگ دے سکیں۔

“خاموش پانی “اس بات کی کوشش تھی خواتین کی بقا، خسارے اور مزاحمت کے بیانیے کو پراپیگنڈاسینما کے بگولوں سے محفوظ کیا جا سکے۔ اس میں ایک سکھ لڑ کی ویرو کی زندگی کو پیش کیا گیا جو تقسیم کے دوران اپنے گھر والوں سے جدا ہو گئی اور اس کی پرورش مسلمان عائشہ ( یہ کردار اداکار کرن کھیر نے ادا کیا) کے طور پر پاکستان میں ہوئی۔ زیر نظر معاملے کا جائزہ بڑی صراحت سے اس قیمت کے بارے میں آگاہی بخشتا ہے جو ہر مذہب کی عورت نے سب سے بڑی نسلی صفائی کے دوران ادا کی۔ ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوئے جن میں سے دس لاکھ کے قریب لوگوں کو کسی بھی منزل پر پہنچنے سے قبل ہی قتل کر دیا گیا۔ ہر مذہب کی عورت چہار سو قتل، عصمت دری اور اغوا کا نشانہ بنی اور ان سب چیزوں کو فریق مخالف کی ہمیشہ قائم رہنے والی بے عزتی کا باعث سمجھا گیا۔ اس فلم نے متعدد ایوارڈ جیتے، جن میں سوئٹزر لینڈ میں منعقد ہونے والا چھپنواں لو کار نوانٹر نیشنل فلم فیسٹیول کے دوران ملنے والا قابل تکریم گولڈن لیپر ڈایواڈبھی شامل تھا۔

مہرین جبار کی “رام چند پاکستانی” (2008) انڈیا پاکستان کے مابین 2002 میں ہونے والی سرحدی کشیدگی کے دورانیے پر مبنی ایک دلت ہند و خاندان کی کہانی ہے۔ یہ خاندان انڈیا پاکستان سرحد کے قریب نگر پار کر کے علاقے میں رہتا ہے اور حادثاتی طور پر بین الا قوامی تنازعے کا شکار بن جاتا ہے۔ کہانی آٹھ برس کے رام چند کی اپنی ماں سے ہونے والی تکرار کے بعد اس کے نادانستہ سرحد پار کر جانے اور انڈین بارڈر سیکیورٹی کے ہاتھوں میں پہنچ جانے کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا پیچھا کرتے ہوئے  اس کا باپ بھی سرحد پار کر کے پکڑا جاتا ہے۔ مختلف واقعات کے اتار چڑھاؤ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باپ اور بیٹا پانچ برس تک بغیر کسی اندراج کے قیدی بن کر گزار دیتے ہیں۔ رام چندر کی ماں چمپاکا  کر دار انڈین اداکار ند تاد اس نے ادا کیا۔ اس فلم کو فری بورگ انٹر نیشنل فلم فیسٹیول (سوئٹزر لینڈ) میں بہترین فلم کا آڈ ینس ایوارڈ ملا سائن فین میں FIPRESCI پرائز دیا گیا، اور لنڈن فلم فیسٹیول میں honourable mention دیا گیا۔

مصنف و ہدایت کار شعیب منصور کی 2007 کی فلم “خدا کے لیے “پاکستان میں سینما کی نئی لہر کے مرکز کو لاہور سے کراچی منتقل کرنے کا سبب کی۔ سینماکی یہ نئی لہر بلند معیار کی پروڈکشن، عمدہ تدوین اور وسیع موضوعات پر مبنی تھی۔ یہ اگرچہ روایتی کمر شل سینما میں قابل ذکر متانت تولائی تاہم اس بڑے پیمانے پر مذہبی تنوع دکھائی نہیں دیا۔ اگر چہ نوجوانوں کی سر کردگی میں بننے والے اس نئے سینما نے ” بیگانے ” کا مضحکہ بنانے سے بڑی حد جان چھڑا لی ہے ( جو کہ تخفیفی اور سہل پسندانہ ہوتا ہے) تاہم اس کے ساتھ ساتھ مذہبی تنوع کی عکاسی بھی کم کم ہی ہو پائی ہے۔

2008 میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی ہدایت کار عاصم عباسی کی فلم “کیک ” نے بڑی تعریفیں سمیٹیں۔ برطانیہ کے اخبار گارڈین میں مائیک میکاہل نے اسے ریٹنگ کے لیے پانی میں سے چار ستارے دیے۔ اس نے عاصم کی پہلی فلم کو سراہتے ہوئے لکھا ” پاکستانی سینما طویل عرصہ سے اپنے قریبی انڈین سینما کی کمرشل رسائی کا مقابلہ کرنے کی سعی کر رہا تھا لیکن عاصم عباسی کی متاثر کن پہلی فلم یقینی طور پر کامیاب اور بعض جگہوں پر تو یہ بہت انقلابی محسوس ہوتی ہے “۔

نہایت ہی غیر متوقع طور پر اس فلم کا کلیدی کردار گوان نژاد مسیحی نوجوان رومیوکاہے ( یہ کردار عدنان ملک نے ادا کیا)۔ فلم کا پلاٹ کراچی کے ایک امیر خاندان کے بچے اور ان کے والدین کے باہم ذاتی تضادات اور ہم آہنگی کے گرد بنایا گیا ہے جن کو چند ماہ کے دورانیے میں اپنے آپ اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ دریافت کے ہر عمل کی مانند یہاں بھی کہیں گہرائی میں دفن تلخیاں انبساط کی گھڑیاں، غم اور لا محالہ ایک عمیق زیادہ با معنی انسانی تعلق فروغ پاتا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں رومیو ایک وجیہ مردنرس کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے ، جو سوچ بچار کرنے والا اپنے کام میں مگن اور مؤد بانہ انداز میں بیمار باپ ( یہ کردار محمد احمد نے ادا کیا) کا خدمت گزار ہے۔ رومیو کے مرحوم والدین بھی اس گھرانے کے احسان مند رہےجہاں اب یہ کام کرتا ہے۔تاہم وہ واحد مدد نہیں جو اس نوجوان نے بے حد نگہداشت اور حساسیت کے ساتھ پیش کی۔ ماضی میں اس نے ایک مخصوص خفیہ خدمت بھی سر انجام دی تھی۔ جس کے طفیل اس کے مالک کا گھرانہ ایک تباہ کن جھٹکے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا۔

ایک اور خفیہ شے جو اس پلاٹ میں چلتی ہے وہ رومیو اور مالک کی بڑی بیٹی زرین ( یہ کر دار آمنہ شیخ نے ادا کیا ) کے ما بین چلنے والی خاموش الفت ہے۔ تاہم رومیو کو یقین ہے کہ اس کے پیار کی بیل منڈھے نہیں چڑھنے والی اور یہ تعلق صرف زرین سے ای میل کے تبادلوں تک ہی محد ودر ہنے والا تھا۔ خود زرین بھی اس بات کو مخفی ہی رکھتی ہے۔

فلم کے انجام کی طرف بڑھتے ہوئے ہمیں فلیش بیک کے ذریعے علم ہوتا ہے کہ رومیو نے گھر کی چھوٹی بیٹی زارا ( یہ کردار اداکار ہ صنم سعید نے ادا کیا )کی تیز رفتار کار تلے کچلے جانے والے ایک غریب دیہاتی لڑکے کی موت کا الزام بھی اپنے سر لیا تھا۔ کار اصل میں زارا چلارہی تھی جو حادثے کے بعد خوفزدہ ہو کر موقع سے بھاگ نکلی اور وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ اس حادثے میں وہ بچہ اپنی جان سے گزر گیا تھا۔ اس کے خاندان نے اسے گرفتاری اور سزا سے بچانے کے لیے ایک کہانی گھڑی۔ اس کے گھر والوں نے اسے غلط اطلاع دی کہ حادثے میں زخمی ہونے والا بچہ بچ گیا تھا اور اس کے خاندان نے شکریے کے ساتھ اس حادثے کے عوض مالی مدد قبول کر لی تھی۔ تاہم سچ اس کے بالکل برعکس تھا۔ حادثے کا شکار ہونے والے بچے کے اہل خانہ نے دیت کی رقم قبول کرنے سے منع کر دیا اور وہ اس معاملے کو قانون کی عدالت میں لے جانے پر مصر  رہے۔ خاندان نے زارا کو خاموشی سے ملک سے یہ کہہ کر باہر بھجوادیا کہ اسے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان بھیجا جارہا ہے۔ اسی اثنا میں خاندان کے وفادار رومیو نے الزام اپنے سر لے لیا اور اس کے بدلے میں اسے چار سال کی جیل بھگتنی پڑی۔ تاہم، سچ سامنے آنے پر سارا خاندان ایک مخصوص مساوی در جے پر آن کھڑا ہوتا ہے جہاں خاندان کا ہر فرد جاننے اور نہ جاننے کے اپنے بوجھ کو اتار پھینکتا ہے کہ یہ بو جھ اترنے کے بعد زند گی کوئی نیا رخ اختیار کر سکے۔ رو میواور زرین کے خاموش پیار کی بات کھل جاتی ہے اور وہ یکجا ہو جاتے ہیں۔

کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک عمدہ فلم ہے، جس میں نہایت اعلیٰ درجے کی اداکاری، نا قابل فراموش موسیقی، اچھی فوٹو گرافی اور شاندار اسکرین پلے یکجا دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم فلم کے واحد مسیحی کردار کا ہر دم قربانی کا بکر ابننے کے لیے آمادہ رہنا، بغیر کوئی سوال کیے ایک اشراف مسلمان خاندان کی خدمت گزاری اور وفاداری، بتدریج اس خاندان کا اسے اپنی شرائط پر قبول کر لینابطورا یک فرد اس کی خود مختاری پر سوالیہ نشان ہیں۔

اس کے ساتھ ہی پاکستانی سینما میں مذہبی اقلیتوں کی عکاسی کا ایک دائرے میں چکر مکمل ہو جاتا ہے۔ فرسودہ سے لے کر دقیانوسی تک اور کمتر سے لے کر بد ھو تک کا۔ یہ کون جانتا ہے کہ کو وڈ کے بعد کا سینمااپنے جلو میں کیالائے گا۔

کسی بھی فلمی صنعت کے لیے کلیدی مثال زندگی کی نمائندگی اور اس سے پھوٹنے والے متضاد اور اوپر نیچے ہوتے ہوئے پہلوؤں کو اس طرح پیش کر نا ہو تا ہے کہ وہ فلم بینوں کے لیے خودان کا ایک عکس بن سکے۔ تاہم، پاکستانی سینما کے معاملے میں بڑی حد تک یہ یک رنگی عکاسی کہیں عمیق، ساختی اور تاریخی گر ہوں اور مساوی بے ربطگیوں کو بھی متوازی طور پر بے نقاب کرتی ہے۔ پاکستانی سینما میں مذہب اور بڑی حد تک نسلی سینمائی عکاسی اور نمائند گی، دراصل قومیتوں اور اقلیتوں کی سیاسی، ثقافتی اور تاریخی بیگانگی کا شکار ہیں۔ اس معاملے کا کوئی انجام یا اقلیتوں کی شمولیت کے لیے کوئی کوشش ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس جاری عمل کے متعلق دفاع کے لیے اکثر ایک دلیل پیش کی جاتی ہے کہ اس حوالے سے عمومی آگاہی اور بین المذاہب مکالمہ موجود نہیں ہے۔ جہاں یہ بات کسی حد تک درست ہے، وہیں راقم کے خیال میں بیگانگی پیدا کرنے کا یہ احساس ہمیشہ آگہی کی کمی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا، اور مکالمہ ہمیشہ بے ساختہ نہیں ہوتا۔ راقم کی دلیل ہے کہ بیگانہ بنانے اور تخفیف کا یہ عمل عموما بہت سوچ سمجھ کر پیدا کیا جانے والا مستقل نوعیت کا ایجنڈا ہوتا ہے؛ اور مکالمے کے جڑ پکڑنے اور نمو پانے کے لیے لازمی ہے کہ مساوی میدان سب کو مہیا ہو۔

لہٰذا جب تک پاکستان کے آج کل بہت خبروں میں رہنے والی اور نوجوانوں کی سرکردگی میں پیدا ہونے والی سینما کی نئی لہر صدق دل سے کہیں زیادہ ولولے کے ساتھ سوچ سمجھ کر غلط فہمی اور غلط عکاسی کی شکار زندگیوں کو دو بار ہ دریافت نہیں کرتی، یہ خود کو دائمی طور پر مذہبی و نسلی اقلیت کے وجود کی بیگانگی اور تخفیف کے جھولے پر جھولتا ہوا ہی پائے  گا اور ایسا کرنے کی صورت میں یہ خود کو حقیقی زندگی کا عکاس آئینہ نہیں بنا پائے گا بلکہ یہ اس کی مسخ شدہ اشکال کو ہی پیش کر تار ہے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...