خلیجی ممالک کا ردعمل مؤثر تنبیہ، مگر بھارتی حکومت کا اقدام ناکافی

628

چند دن قبل بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والی دو شخصیات کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی گئی جس کے بعد سے مسلم دنیا سے بھارت کے خلاف سخت ردعمل آیا ہے، بالخصوص خلیجی ممالک نے سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کیے۔ او آئی سی نے بھی اعلامیہ جاری کیا جس میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھارت کے اسلام مخالف رویے پر اس کی جوابدہی کی جائے۔

اس ردعمل کے بعد بھارتی حکومت نے توہین میں ملوث دونوں شخصیات کو اپنی جماعت سے نکالا ہے اور کہا کہ یہ ان کا انفرادی فعل ہے، جماعت کا موقف نہیں ہے۔

بی جے پی کا اسلام مخالف رویہ ہمیشہ کھلا اور عیاں رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ان کی جارحانہ اور ظالمانہ کاروائیاں کافی وقت سے جاری ہیں۔ بلکہ یہ قضیہ ان کی سیاست کا محور بن گیا ہے جس کے اثرات ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ یہ واقعہ اسی سیاست کا تسلسل ہے کہ اب سرعام اسلام کی مقدس شخصیات کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جارہی ہے۔

اس واقعے پر خلیجی ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، دوطرفہ مضبوط اور وسیع اقتصادی تعلقات کی وجہ سے، جس کا ایک وزن ہے اور اس کے اثرات پر بھی بات ہو رہی ہے۔

یہ ایک سال کے دوران دوسری مرتبہ ہے کہ خلیجی ممالک نے بھارت میں فروغ پانے والے اسلام مخالف طرزعمل پر سخت تنبیہ کی ہے۔ گزشتہ برس جب خلیجی ممالک میں کچھ بھارتی شہریوں نے #corona_jihad کا ٹرینڈ چلایا تھا تو اس پر سفارتی سطح پہ سخت جواب دیا گیا تھا اور عوام نے بھی #send_hindutuva_back_home کے ٹرینڈ کے تحت بھارتی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

بھارت میں بی جے پی اپنے مسلمان مخالف بیانیے کا اظہار کافی وقت سے اور کئی طرح کے اقدامات کے ساتھ کرتی رہتی ہے۔ تاہم خلیجی ممالک کی جانب سے کبھی کوئی خاص ردعمل نہیں آیا۔ لیکن اب یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر اسلام اور مقدس شخصیات کے خلاف زبان استعمال کی جائے تو اس پر عرب ممالک سے سخت جواب دیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک میں بھارت کے مذہبی منافرت پر مبنی رویے کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی اور اس پر ردعمل ایک خوش آئند امر ہے۔

اگرچہ خلیجی اور دیگر مسلم ممالک اس واقعے کے بعد بھارت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس پر حکومتی سطح پہ معافی مانگی جائے، لیکن اس وزارت خارجہ نے معافی مانگنے سے انکار کیا ہے۔ ملوث شخصیات کو جماعت اور عہدے سے فارغ کرنا کافی نہیں ہے، حکومت کو اس پر معافی مانگنی چاہیے کیونکہ اس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...