بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاست کی ذمہ داری

371

آج سے دو دہائی قبل جب بلوچستان میں پانچویں علیحدگی کی تحریک کا آغاز ہوا تو ماضی کی تحریکوں کے ساتھ تقابلی جائزہ لیتے ہوئے خیال یہ کیا جا رہا تھا کہ یہ تحریک بھی جلد سبوتاژ ہوجائےگی۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔

یہ رائے ماضی کے سینئر سیاسی رہنماؤں کی بھی تھی جو اُس وقت ماضی کی علیحدگی کی تحریکوں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ وابستہ تھے۔ مگر موجودہ مسلح جدوجہد کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ روزِ اوّل سے ہی ان تحریکوں کی قیات متوسط طبقے کے لوگ کرتے آرہے ہیں اور جس میں ان کا کردار نمایا و کلیدی ہے۔

موجودہ تحریک میں شدت اس وقت آ ئی تھی جب بلوچستان کے بزرگ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کوجنرل پرویز مشرف نے یہ کہہ کر بلوچستان میں آگ لگا دی کہ “میں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں ہوں” بلوچستان کے ” تراتانی ” کے پہاڑوں پر بمباری کرتے ہوئے انہیں شہید کر دیا گیا اور کسی کو ان کی آخری رسومات تک ادا نہیں کرنے دی گئیں۔ مقامی انتظامیہ کی سربراہی میں تابوت کو تالہ لگا کر سرکاری سرپرستی میں دفنایا گیا۔ نواب صاحب کی شہادت ایک قومی سانحہ تھا اور ریاست کے اس رویے نے  مزید نفرتوں کو جنم دیا اور نتیجہ میں شدید عوامی رد عمل سامنے آیا۔ نواب بگٹی کی شہادت کے ردِ عمل میں جہاں پورا بلوچستان سراپا احتجاج تھا وہیں ملک بھر میں ترقی پسند روشن خیال دانشوروں نے بھی یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اُس وقت کے آمر کی اس پالیسی سے بلوچستان میں مزید خلفشار بڑھے گا اور نفرت کی ایک نئی لہر جنم لے گی۔

وہی ہوا، نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچستان بھر میں علیحدگی کی تحریک کو عوامی مقبولیت اور ہمدردیاں حاصل ہونا شروع ہو گئیں اور یوں تحریک بلوچستان بھر میں پھیل گئی، اس میں عام لوگوں اور نوجوانوں کی شرکت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ اور قیادت بھی کسی حد تک نوجوانوں تک منتقل ہو گئی۔

گزشتہ تمام تحریکوں کی مانند یہ تحریک اس لیے مختلف تھی کہ باقی تحریکوں کی وسعت اتنی نہیں تھی، وہ انتہائی محدود تھیں جبکہ موجودہ تحریک کے آغاز ہی سے اس کی وسعت مکران اور بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلنا شروع ہو گئی۔

ابتدائی دنوں میں یہ رائے بھی دی جاتی تھی کہ اس کی باگ ڈور سنبھالنے والے صرف بندوق چلانا جانتے ہیں۔ جدید دور کی گوریلا جنگ یا معروضی سیاسی حالات سے ان کی حکمت عملی مطابقت نہیں رکھتی۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ وہ انتقام لیں گے۔

نواب بگٹی کے اور سانحہ مرگاپ کے بعد اس  تحریک میں مزید شدت پیدا ہو گئی (سانحہ مرگاپ، جس میں تین سیاسی رہنماؤں کو لاپتہ کرنے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشوں کو تربت یدراک کے مقام پر پھینک دیا گیا، واضح رہے کہ یہاں سے بلوچستان میں “کِل اینڈ ڈمپ” کی شروعات ہوئی تھی۔)اور عوامی سطح پر اس نصب العین کے رہنماؤں سے ہمدردیاں بڑھنے لگیں۔ بلوچستان بھر میں جوان اور بزرگ سبھی بالواسطہ یا بلاواسطہ اس میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔

بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، اس کے سیاسی حل کے لیے قوم پرست قیادت کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے

مقبولیت میں کمی

دوسری جانب اس کی عوامی مقبولیت میں کمی اس وقت پیدا ہونا شروع ہوئی کہ جب مسلح تنظیموں کا ہدف سیاسی جماعتوں کے رہنما بنے۔ کیونکہ بیک وقت مقامی اور علاقائی سطح پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ہدف بنا کر قتل کرنے ،مخبری کرنے اور منشیات فروشوں کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے عوامی ہمدردیوں میں نمایاں کمی آنا شروع ہوگئی۔ جس میں اس وقت زیادہ تر ہدف غوث بخش بزنجو کےمکتبِ فکر کے رہنما بنے۔ جن سیاسی رہنماؤں کو ہدف بنایا گیا وہ علاقائی اور سیاسی سطح پر بہت مقبول تھے۔ انہیں علاقائی سطح پر سیاسی مسیحا کہا جاتا تھا۔ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ علاقائی سطح پر دیگر مکاتب فکر کے افراد بھی ہدف بنے۔ ان ہی حکمت عملیوں کی وجہ سے تحریک سے عوام کی ہمدردیاں کم ہوتی گئیں اور ابتدائی دور میں محاذمیں شامل اہم رہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے جس کی بنا پر چند رہنماؤں نے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنا الگ گروپ بنایا جو کہ بعد میں حکومت بلوچستان کی جانب سے دی گئی ( ایمنسٹی) کے تحت جنگ سے دستبردار ہوگئے، خاموشی اختیار کر گئے اور سرکار کے مقامی و علاقائی سہولت کار بنے۔  جس نے علیحدگی اختیار کی اُن منحرفین کو بھی مسلح تنظیموں نے ہدف بنایا۔

بلوچستان کے حوالے سے چند پالیسیاں غلط تھیں

طاقتور حلقوں کا خیال تھا کہ بلوچستان میں جاری شورش اور خلفشار سے نمٹنے کے لیے مقامی سہولت کاری یا ( ایمنسٹی ) کے تحت مسلح تنظیموں کے منحرفین ان کے لیے بہترین آلہ کار ثابت ہوسکتے ہیں مگر اس طرح کی حکمت عملی اور پالیسی کی وجہ سے بلوچستان میں حالات مزید کشیدگی کی طرف بڑھنے لگے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جوعناصر مسلح تنظیموں کےبالواسطہ یا بلاواسطہ متاثرین تھے، وہ اس تنازعے کے ‘بینیفشری’ ہوتے گئے اور جو اس تنازعے سے مستفید ہو رہے ہوں گے ، انھیں نوازا جا رہا ہوگا تو بھلا وہ کیسے چاہیں گے کہ بلوچستان میں امن ہو اور کشیدگی ختم ہوجائے۔ کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر بلوچستان میں امن ہوگا تو ان کی ضرورت ختم ہوجائے اور ان کی ضرورت ختم ہوگی تو وہ مستفید نہیں ہو سکیں گے۔

سرکار ِ حاکم کو شاید یہ علم بہت دیر بعد ہوا ہوگا کہ جن کو ہم اپنے لیے خیر سمجھ رہے ہیں اور وہ روزانہ ہمیں مشورے دینے میں مصروف عمل ہوتے ہیں وہ تو خود پناہ کی  تلاش میں ہیں، وہ شورش کی شدت کو کم کرانے میں ہماری کیا مدد کرسکتے ہیں؟ بلکہ وہ تو چاہتے ہی ہیں کہ بلوچستان میں خلفشار اسی طرح برقراررہے تاکہ ہماری اہمیت اور ضرورت ہمیشہ باقی رہے۔ مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ سرکار جن کو سہولت کار کے طور پر  اپنے لیے مددگار سمجھ رہی تھی ، وہ تو سرکارکی پشت پناہی میں سرکار کے لیے عوام کے اندر مزید دشمنیاں پیدا کرنے میں لگے ہوئے تھے ۔ انہوں نے علاقائی سطح پر معزز اور شریف النفس شہریوں کو تنگ کرنا، اور علاقے میں اپنا رعب و دبدبہ قائم کرنا تھا، اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ سرکار ِ حاکم کے بارے میں عوامی سطح پر ایک منفی بیانیہ قائم ہوا۔

بلوچستان تنازعہ اور اس کا سیاسی حل

چند مسلمہ حقیقتیں ہوتی ہیں کہ جہاں بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوگا وہاں انتظامیہ یا ریاست تنازعات کے حل کے لیے  سائنٹفک طریقے سے حکمتِ عملی اور پالیسیاں مرتب کیا کرتی ہے۔  ابتدائی دنوں میں تنازعات سے نمٹنے کے لیے تشدد کی پالیسی اختیار کرنے کا مطلب اسے مزید شدت کی طرف لے جانا تھا۔

بلوچستان میں دو دہائیوں سے جاری شورش اور ریاست کی حکمتِ عملی سے یہی ا ندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ وہ اس مسئلے کو دراصل کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتی اور ریاست نے اسے طاقت ہی کے ذریعے  حل کرنے کی مستقل پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ اس کا خیال یہی ہےکہ بلوچستان کا مسئلہ طاقت سے  حل ہوگا۔ طاقت کے ذریعے بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کی پالیسی نے بلوچستان کے عوام کے دلوں میں مزید نفرتیں پیدا کی ہیں کیونکہ ریاست نے صرف بلوچ سمجھ کے انہیں ہدف بنایا جوکہ انتہائی غلط پالیسی تھی۔ اس طرح کی غلط حکمتِ عملی اور پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان کامسئلہ بجائے حل ہونے کے مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مقتدر قوتوں کی غلط پالیسیاں ہیں۔

ریاست یہ سمجھ رہی تھی کہ شورش کا مقابلہ کے لیے متبادل لوگ ہمارے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اور ہمارے کام کو آسان بنا دیں گے، جو  ا س کی بہت بڑی غلط فہمی اور خام خیالی تھی۔  وہ جو خود اس تنازعے کی وجہ سے مستفید ہورہے ہیں وہ کیسے چاہیں گے کہ شورش کی شدت میں کمی آئے۔

نوجوانوں کی رائے کو نظر انداز نہ کیا جائے

اس تمام تر صورتحال میں نوجوانوں کو، جو  بلوچستان کا سب سے زیادہ باشعور اور سلجھا ہوا طبقہ ہے،  مکمل طور پر نظر انداز کرکے انھیں مجبور کیا گیا کہ وہ انتہا پسندی کی طرف جائیں۔ صوبے کی سب بڑی آبادی اور حالات سے باخبر ایک اکثریتی آبادی یعنی نوجوانوں کو ہم کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں جبکہ ان کا دعویٰ بھی ہےکہ بلوچستان کی قیادت کو سنبھالنے کی صلاحیت اس طبقے میں ہے اور حقیقت بھی یہی ہےکہ اس وقت بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے  کے لیے ضروری ہےکہ نوجوانوں کی رائے کو اہمیت دی جائے کیونکہ اس وقت وہ بلوچستان میں ہر محاذ پہ قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کو نمائندگی دی جائے اور جہاں پالیسیاں بنتی ہیں ،وہاں ان کی نمائندگی اور رائے کو اہمیت دی جائے ۔ وہ حالات کو ایک سائنٹفک اور مخصوص نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ نظام سے انھیں بے دخل کر کے  ہمیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مایوس ہوکر گوشہ نشینی اختیار کر لیں گے۔  ہر انسان کو اپنے فکری کتھارسس اور اظہارِ رائے کے لیے آزادانہ ماحول چاہیے۔ اگر انہیں تسلی سے نہیں سنا جائے گا تو یہ فطری عمل ہے کہ وہ کسی جگہ تواپناکتھارسس کریں گے۔  اب بھی وقت ہےکہ ان کی رائے کو اہمیت دی جائے۔  میر غوث بخش بزنجو صاحب  کہتے ہیں کہ” اگر ہم نے آج کے نوجوان کو نہ  سنا تو آنے والے وقت میں بلوچستان میں اٹھنے والی  آواز کسی کو بھی نہیں سنائی دے گی۔”

نوشکی اور پنجگور جیسے واقعات

خیال یہ کیا جارہا تھا کہ مسلح جدوجہد کرنے والے چند لوگ ہیں، ہم جب بھی چاہیں انہیں ختم کرسکتے ہیں مگرنوشکی اور پنجگور کے واقعات نے صورتحال کو یک دم تبدیل کردیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ یہ جنگ اب ایک شعوری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، شاید اب انہوں نے اپنی حکمت عملیاں تبدیل کی ہوں۔ اور نوشکی اورپنجگور کے واقعات کا اہم ترین پہلو یہ بھی تھا کہ ان میں سارے لکھے پڑھے نوجوان تھے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا بالکل مختلف واقعہ تھا۔

بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، اس کے سیاسی حل کے لیے قوم پرست قیادت کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے۔اب بھی وقت ہےکہ ریاست اپنا رویہ تبدیل کر ے، جیسا  کہا جاتا ہےکہ “ریاست ماں جیسی ہوتی ہے”۔  ریاست صرف ایک دہائی تک بلوچستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پہ نظرثانی کر کے ایک “ماں جیسی ریاست”  بن کر بلوچستان کو ایک اولاد کی نگاہ سے دیکھے۔ اپنی تمام تر حکمت عملیوں پہ نظرثانی کر کے اپنے رویوں میں بہتری اور تبدیلی لائے تو ایک دہائی کے بعدبلوچستان کے حالات بالکل مختلف ہوں گے۔ جنگ کو شورش تک محدود کیا جانا چاہیے، اس کا  بدلہ عام لوگوں یا طالب علموں سے نہ لیا جائے تو حالات ضرور بہتری کی طرف جائیں گے۔

دوسری اہم بات یہ بھی ہےکہ جمہوری سیاسی قیادت کو موقع دیا جائے کہ وہ عوام میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرے اور عوام کو ان کا پورا حق دیا جائے کہ وہ مرضی سے اپنے نمائندے منتخب کریں. جو لوگ راتوں رات منتخب ہوکر آتے ہیں ان کا کوئی سیاسی و سماجی پس منظر نہیں ہے اور نہ ہی ان کی جڑیں عوام میں ہیں۔اس طرح کے رویوں سے بھی تنازعے  کی شدت میں اضافہ ہوتاہے، کیونکہ بلوچستان میں دوسری جانب بھی یہی بیانیہ ہےکہ اس ملک میں جمہوریت نہیں ہے، جمہوری طریقے سے وہ اپنے حقوق حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔اس سوچ کے باوجود بھی اگر جمہوری اداروں کو اہمیت نہیں دی جائے گی تو پھر حالات کو قابومیں رکھنا مشکل ہوتا جائے گا۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی بھی ہے۔ اس کے سیاسی حل کے لیے ضروری ہےکہ بلوچستان کی قوم پرست سیاسی قیادت کو ترجیحی کردار ادا کرنے میں آزادانہ ماحول اور اختیارات دیے جائیں، بلوچستان کا مسئلہ بلوچستان کی قوم پرست سیاسی جماعتوں کے بغیر حل ہونا ناممکن ہے۔ بلوچستان میں جاری شورش کے حل کا راستہ ایک سیاسی طریقے سے ہی  نکل سکتا ہے، یہ جو سرگوشیوں میں ہمیشہ مصروف ہوتے ہیں انہیں ملک اور صوبے کی کوئی پروا نہیں، وہ صرف اپنی سیاسی وسماجی عیش و عشرت اور بقا کی خاطر سرگرداں ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...