پاکستان میں فلم کا میڈیا ریاستی الجھاؤ کا شکار

زیرنظر اقتباس روزنامہ ڈان سے وابستہ صحافی، فلمساز اور نقاد حسن زیدی کے مضمون "کچھ یقینی بے یقینیاں، پاکستان کا ثقافتی انتشار" سے لیا گیا ہے۔

258

پاکستان میں فلم کا میڈ یا عرصہ دراز سے ریاستی الجھاؤ کا شکار ہے۔ اگر چہ جناح صاحب نے خود اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ نئے ملک میں سینما کو فروغ دیا جائے ، تاہم یہ میڈیا پاکستان بننے کے ابتدائی برسوں میں ہی سینما کی ترقی کے لیے کسی ریاستی پالیسی کی عدم موجودگی اور اس انڈسٹری میں کام کرنے والوں کے لیےسماجی نا قبولیت کے گھیرے میں آ گیا تھا۔ موخر الذکر معاملے کا تعلق بڑی حد تک اس طبقاتی پس منظر سے تھا جس سے اس میڈیم میں کام کرنے والے لوگ تعلق رکھتے تھے کہ مذہبی دائیں بازو کے بہت سے لوگ اسے اسلامی تعلیمات کے خلاف تصور کرتے تھے۔ انڈسٹری کے بارے میں موجود اس تاثر کی وجہ سے کہ یہاں اخلاقی معیارات ڈھیلے ڈھالے ہیں اور مبینہ طور پر یہ حدود و قیود سے آزاد جگہ ہے، وہ خواتین جن کا تعلق نام نہاد “اچھے” خاندانوں سے تھا وہ خاص طور پر اس سے اپنا دامن بچاتی تھیں۔ اس کے نتیجے میں ابتدائی زمانے میں یہاں کام کر نے والی بہت سی، اگر اکثریت نہیں تو، خواتین فنکارائیں ان علاقوں سے لی جاتی تھیں جنہیں “ریڈ لائٹ ایر یا “تصور کیا جاتا تھا۔

مذہبی ناپسندیدگی ( خاص طور پر اس لیے بھی کہ پاکستانی فلمی روایت بر صغیر کے سینما سے منسلک ہے جس میں ناچ گانوں پر بہت زور دیا جاتا ہے ) اور سماجی طور پر قدامت پسندوں اور حتی کہ دانشور طبقے کی جانب سے انڈسٹری میں کام کرنے والے ہنر مندوں کو غیر اہم گرداننے کی وجہ سے ( چند ایک مستثنیات کے علاوہ انہیں زیادہ تر سطحی، غیر مہذب اور غیر سنجیدہ نوعیت کی تفریح کا خو گر ہی سمجھا جاتا تھا) یہ ہوا کہ اگرچہ پاکستانی سینما ساٹھ اور ستر کی دہائی میں مقبولیت کی انتہاؤں کو چھو رہا تھا، ریاست کے ساتھ اس کا رشتہ متضاد نوعیت کے جذبات کا حامل ہی تھا۔

ان تضادات نے جنرل ضیاء الحق، جس نے پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کا تختہ الٹ کر حکومت سنبھالتے ہوئے ملک کی اسلامائزیشن کا عہد کیا تھا، کے دور میں سخت الفاظ کا چولا پہن لیا۔ اس حوالے سے ایک ذاتی گواہی براڈ کاسٹر، پاکستان ٹیلی وژن ( پی ٹی وی ) کے سابق مینجنگ ڈائر یکٹر اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے سابق سربراہ آغاناصر کی ہے۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کے مسائل کے بارے میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران جنرل ضیاء نے شرکاء سے پوچھا کہ کیوں ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ز ناکاروں کے لیے کچھ کر یں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی سینما کو جد یدتکنیکی و سائل، ٹیلی وژن اور ویڈیو کیسٹس کی دستیابی، بیرون ممالک میں بننے والی فلموں کی بے روک ٹوک پائیریسی، اور سخت گیر سنسر شپ جیسے حقیقی مسائل کا سامنا تھا اور شہروں میں سینما گھر جانے کے کلچر میں بھی ریاستی پالیسیوں کے باعث بدلاؤ آرہا تھا۔

یہ بات بالکل سمجھ میں آنے والی ہے کہ اس اجلاس کا کچھ نتیجہ نہ نکلا اور ایک سخت گیرسنسر شپ جنرل ضیاء کی حکومت نے عائد کر دی جس نے سماجی طور پر تبدیلی کے خواہاں اور ریاستی اختیار پر سوال اٹھانے والی ہر شے کو ممنوع قرار دے دیا۔ پہلے ہی ڈوبتی ہوئی فلمی صنعت مزید ڈوب گئی۔ تاہم ایک ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اس کی وجہ سے پاکستان میں ایک نئی طرح کا سینما وجود میں آ گیا۔ وہ سینما جو اپنے وجود کے لیے سنسنی خیز تشدد کا محتاج تھا، عموماً یہ دیہاتی اور جاگیر دارانہ دنیا کی عکا سی تھی اور یہ سینما جانے والے ایک مخصوص طبقے، شہر میں رہائش پذیر، غیر شادی شد ہ محنت کش مرد،کو ہی اپنی جانب راغب کر تا تھا۔

بہت برس بعد جب میں نئے بنائے گئے سندھ بورڈ آف فلم سرٹیفیکشن کار کن بنا (اسے سندھ سنسر بورڈ بھی کہا جاتا تھا )، تو میں ممبران کے اس گروپ کا حصہ تھا جنہوں نے فیصلہ کیا کہ فلم “وار”(2013) کو اپنے پُر تشدد مناظر اور عامیانہ زبان کے استعمال کی وجہ سے بالغان والا سر ٹیفکیٹ دیا جانا چاہیے۔ اس سرٹیفکیٹ کا مقصد یہ تھا کہ اٹھارہ برس سے کم عمر بچوں کی فلم دیکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ فلم کے حمایتیوں نے اس چیز کو بالکل پسند نہ کیا، وہ چاہتے تھے کہ فلم کو یونیور سل ریٹنگ کا سرٹیفکیٹ دیا جائے، جس کی وجہ سے ہر عمر کے ناظرین (بشمول بچے ) اس فلم کو دیکھ سکیں۔ اس وقت مجھے نجی طور پر بورڈ کے اس وقت کے سر براہ نے بتایا کہ میں اس معاملے سے پرے رہوں کیونکہ فلم کے مربی، اس فلم کو رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کر نا چاہتے تھے اور جن ناظرین کو وہ متوجہ کر نا چاہتے تھے ان میں پندرہ یا سولہ برس کے نوجوان بھی شامل تھے۔

اس سلسلے میں ہونے والے جائزہ اجلاسوں میں سے ایک کے دوران جب میں نے نشان دہی کی کہ کچھ مناظر میں دہشت گردوں کو لوگوں کے سر اڑاتے ہوئے دکھا یا جا رہا ہے اور یہ مناظر کسی طور بھی بچوں کے دیکھنے کے لیے مناسب نہیں ہیں تو مجھے، ایک ایسے ممبر نے جو سر ٹیفکیٹ میں تبدیلی کے لیے آمادہ گروپ کا حصہ بن گیا تھا، جذبے سے عاری انداز میں کہا کہ ” یہ تو عام سی چیز ہے اس میں ایسی بڑی بات کیا ہے۔ کسی حد تک یقیناًوہ صاحب صحیح کہہ رہے تھے۔ پچھلے برسوں میں پاکستانی سینما میں تشدد کے ایسے مناظر کو “نارملائز”کیا جا چکا تھا، حتیٰ کہ غالب بیانیے پر سوالات اٹھانے، رومانوی محبت اور نازک پہلوؤں کو دکھانے پر رکاوٹ تھی یا انہیں نظر انداز کیا جاتا تھا۔

گاہے بگا ہے، فلم ساز بھی اپنی جانب سے ریاستی طاقت کے مراکز کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جنگ جو یانہ حب الوطنی سے بھر پور فلمیں اس امید پر بناتے ہیں کہ اس سے ان کے کاموں میں “نظریہ پاکستان ” کو فروغ دینے کے کام کا اضافہ ہو جائے گا، حالانکہ ابھی اس نظریے کی با قاعد ہ تعریف متعین ہو نا باقی ہے۔

میں، بد قسمتی سے، بحیثیت فلمساز اور 2001 سے 2014 تک کارا فلم فیسٹیول ( کراچی انٹر نیشنل فلم فیسٹیول ) چلانے کے دوران ریاستی اہلکاروں کو صوابدیدی اختیار سونپ دیے جانے کے مضمرات کا بر اہ راست گواہ ہوں۔ اس کے علاوہ 2013 سے 2016 تک میں نے سندھ فلم سنسر بورڈ میں بھی خدمات سر انجام دیں۔ بطور صحافی بھی میں نے میڈ یاسنسر شپ پر سوال اٹھایا۔

ملک کے فلم کوڈ کے مطابق فلم میں کیا کچھ دکھانے کی اجازت نہیں ہے یا اسکرین پر کیا شے نہیں آ سکتی اس کی شرائط اس قدر مبہم اور صوابدیدی نوعیت کی ہیں، اور ان کی اتنی وسیع وضاحت ہو سکتی ہے کہ عملاً کسی بھی فلم ساز کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ یقین سے کہہ سکے کہ کیا چیز مسئلے کا باعث بن سکتی ہے اور کیا نہیں۔ در حقیقت، اور یہ میری سوچی سمجھی رائےہے کہ اگر قانون کی ممکنہ حد تک کھلی تشریح کی جائے تو کسی عمدہ اور غیر عامیانہ فلم کا پاکستان میں بننا ممکن ہی نہیں ہے۔

ایسی کسی بھی چیز پر جو ممکنہ طور پر قومی سلامتی، مذہب، لسانی ہم آہنگی اور خارجہ پالیسی کے کسی بھی پہلو پر سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ کوئی بھی ایسی شے جو عامیانہ یا فحش ہو ( یہاں ان چیزوں کی کوئی تعریف متعین نہیں کی گئی اور اسے انفرادی صوابدیدی تشر یح پر چھوڑ دیا گیا ہے ) پر پابندی کے بعد کسی بھی فلم ساز کے لیے فلمانے کو صرف گھر یلو قسم کے ڈرامے اور “محفوظ”رومانس یا پھکڑ کا میڈی ہی بچتی ہے۔ اکثر اوقات فلم ساز خود کو سیلف سنسر کرتے ہیں تاکہ کسی بھی ایسے مواد سے بچا جا سکے جو آگے چل کر ان کے لیے مشکلات کا سبب بنے اور ان کی ساری سرمایہ کاری یا تو ڈوب جائے  یا افسر شاہی کے ہاتھوں برباد ہو جائے۔

گاہے بگا ہے، فلم ساز بھی اپنی جانب سے ریاستی طاقت کے مراکز کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جنگ جو یانہ حب الوطنی سے بھر پور فلمیں اس امید پر بناتے ہیں کہ اس سے ان کے کاموں میں “نظریہ پاکستان ” کو فروغ دینے کے کام کا اضافہ ہو جائے گا، حالانکہ ابھی اس نظریے کی با قاعد ہ تعریف متعین ہو نا باقی ہے۔

معاملات کو اسی مفعولیت کے ساتھ قبول کر لینے کے باعث ( باوجود بہت سی کاوشوں کے، کسی حکومت نے کوشش نہیں کی کہ وہ بے سر و پا قسم کے سنسر قوانین کی درستی کے لیے کو شش کرے یا فلم کے معاملات کے گرد گھومنے والے قوانین کا از سر نو جائزہ لے کر انہیں کوئی با معنی شکل دے ) جو شکل بھی ہے وہ ہمارے آس پاس موجود ہے۔ ملک میں سینما کے زوال کے متعدد عوامل ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ ہمیں سخت گیر اور صوابدیدی سنسر شپ کو ہر گزنظر انداز نہیں کر نا چاہیے کہ جس نے بہت سے فلم سازوں کو انڈسٹری سے دور کر دیا۔

ستر کی دہائی تک پاکستان دنیا بھر میں فلم سازی کے سر فہرست دس ممالک میں شمار ہوتا تھا۔ اب کم از کم پچیس برس سے پاکستان اپنی دم توڑتی ہوئی فلمی صنعت کے بارے میں نوحہ کناں ہے۔ اَسّی  کی دہائی کی ابتدا میں ایک موقع پر پاکستان میں ایک برس کے دوران سو سے زائد فیچر فلمیں بنائی گئیں۔ 2013 میں ہونے والی ایک چھوٹی سی بحالی کے بعد، آج یہاں صرف 25 فلمیں بنتی ہیں۔ 1980 میں پاکستان میں بارہ سو سینماگھر تھے۔ جب 2001 میں کار افلم فیسٹول کا آغاز ہوا تو ایک فلم ملک بھر میں صرف سولہ اسکرینوں پر ریلیز ہوتی تھی۔ آج، ملٹی پلیکسز میں ہوئی بڑھوتری کے باوجود( یہ پالیسی ہے جس کے لیے کارا فلم نے ترغیب کاری کی) اب بھی ان سکرینوں کی تعداد ایک سو پچیس سے کم ہے۔

مسئلہ پالیسی میں تسلسل کے فقدان اور ریاست کی نا اہلی کا ہے جو معروضی حقائق کو مد نظر رکھ کر کیے جانے والے عملی اقدامات اور قلیل مدتی حکمت عملی کے مابین فرق کر نے میں ناکام ہے۔ مثال کے طور پر دو ہزار دس کی دہائی میں پاکستانی فلم کا جو احیاء ہوا اس کی کافی حد تک وجہ 2007 میں میں اٹھائی جانے والی وہ پابندی ہے جو پینتالیس برس سے انڈین فلموں پر عائد تھی۔ اس کام کے لیے بھی کارا فلم فیسٹیول 2002 سے ترغیب کاری کا کام کر رہاتھا۔ دلیل یہ تھی کہ کچھ مختصر عرصے کے لیے پاکستان فلم انڈسٹری کو پہنچنے والے نقصان کو اس لیے نظر انداز کر دینا چاہیے کیوں کہ طویل دورانیے میں ان کی وجہ سے پاکستان کی سینما انڈسٹری کو از حد ضروری سرمایہ کاری حاصل ہوتی۔

بعینہٖ ایساہی ہوا۔ پاکستانی سینما کو ہونے والے نقصان کے ابتدائی دور کے بعد وہ پیسا جو سینما ؤں سے کمایا گیا تھا اس کی مدد سے مزید ملٹی پلیکسز تعمیر ہوئے اور اچھے معیار کی ایسی پاکستانی فلموں کے لیے بھی سرمایہ کاری دستیاب ہو نے لگی جو ناظرین ( خاص طور پر نوجوان لو گ اور خواتین) در حقیقت دیکھنا چاہتے تھے۔ امید کا دیا پھر جل اٹھا تھا اور پاکستانی فلموں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور پاکستان فلم ساز روایتی باکس آفس مسالے سے ہٹ کر اہم معاملات پر بھی توجہ کرنے لگے۔ اس قسم کی فلموں سے،ا گرچہ ان کی تعداد بھی بہت کم تھی، یہ اندازہ قائم کیا جا سکتا تھا کہ اس حوالے سے بہتری کا عمل جاری تھا۔ لیکن ایک بار پھر بغیر اس سارے معاملے کی نوعیت کو سمجھے ہوئے ریاست نے تمام انڈین فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کر دی (2016-2017 میں چند ماہ کے لیے اور پھر دوبار و2019 میں )۔

اس کو تاہ نظر پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سینما کا کاروبار تباہ کن گڑھے میں جا گرا( جس وقت پابندی کا اطلاق ہوا اس وقت تک سینماؤں سے حاصل ہونے والا ستر فیصد ریونیو بالی وڈ فلموں ہی کی دین تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف سینما سرکٹ میں ہونے والی توسیع اور پاکستانی مواد کی پروڈکشن رک گئی۔ سنسر شپ کے حوالے سے دو بار ہ سختی اور انتہا پسند خیالات رکھنے والوں سے نپٹنے کے لیے ریاستی نااہلی کے نتیجے میں کچھ انتہائی عمدہ قسم کا سینما فلم بینوں کی نگاہوں تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

ایسی ہی ایک دلچسپ مثال حالیہ دنوں میں بننے والی فلم “زندگی تماشا “کی شکل میں ہمارے سامنے ہے جو ملکی سنسر بورڈ سے متعدد بار پاس ہو جانے اور سینٹ کی ایک خصوصی کمیٹی سے کلیرنس حاصل کرنے کے باوجود سینماؤں میں ریلیز نہیں ہو سکی کیونکہ ایک مذہبی انتہا پسند گروه، تحر یک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی ) کی جانب سے اس سلسلے میں دھمکیاں دی گئی تھیں۔ ٹی ایل پی والوں نے بھی یہ فلم دیکھی بھی نہیں تاہم ان کے خیال میں یہ فلم مذہبی جذبات اور ملائیت پر ایک حملہ ہے۔ فلم کے ہدایت کار اور سر مایہ کار مستقل اس بات کی تردید کر تے ہیں لیکن، ایک بار پھر ریاست نے خود کو اتنا کمزور ثابت کیا کہ وہ مذہبی دائیں بازو سے نپٹنے میں ناکام رہی۔ صورت حال اس وقت مزید مضحکہ خیز ہو گئی جب یہ فلم عالمی میلوں میں دکھائی گئی اور اسے آسکرز میں پاکستان کی فلم کے طور پر شامل کیا گیا جبکہ آج تک پاکستان میں اس فلم کو نمائش کے لیے پیش ہی نہیں کیا جا سکا۔

اس کے بر عکس بڑی ہی فراخ دلی کے ساتھ نہایت ہی سادہ قسم کے بیانیے کے لیے ریاستی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹیلی وژن اسکرینوں پر ایک مقبول ترک ڈرامہ سیر یز جس میں تیر ہو یں صدی میں پہلے عثمانی سلطان کے والد کی زندگی دکھائی گئی ہے، اردوزبان میں ڈھال کر چلائی جارہی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے بھی اس کام کی حمایت کی اور کہا کہ یہ سیریز “اسلامی تاریخ کے اسباق دیتی ہے، باوجود اس حقیقت کے خود اس سیر یز کے تُرک لکھاری نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا کہ اس کہانی میں پیش کیے جانے والے اکثر ” حقائق ” گھڑے گئے ہیں۔ در حقیقت اس بات کے کوئی تاریخی ثبوت دستیاب نہیں ہیں کہ اس کہانی کا مرکز ی کردار، خانہ بدوش جنگجو قبیلے کا سردار ارطغرل، حقیقت میں مسلمان تھا بھی یا نہیں۔ تاہم یہ حقیقت ارطغرل غازی نامی اس سیر یز کو پاکستان بھر میں ایک ثقافتی قوت بننے سے نہیں روک سکی۔ پشاور سے لے کر کراچی تک کئی کاروباروں نے یہ نام اختیار کر لیا اور نوجوان اس سیریز کے کرداروں کے لباس میں دکھائی دینے لگے، ان لوگوں کی اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر کی جانے والی پوسٹیں جوش و جذبے سے بھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

یہ ایک پر فخر ماضی طاقت ور ر ہنما جنگجو کی عظمت بیان کرنے والا ایک تازہ ترین مستعار خیال ہے جو بظاہر ایک بے ضرر قسم کی فینٹسی دکھائی دیتا ہے لیکن جو کسی بھی متبادل ثقافتی پڑاؤ کی عدم موجودگی کے سبب پاکستانیوں کے تخیل پر چھایا رہے گا۔ در حقیقت میرا استدلال یہ ہے کہ ایسے سادہ بیانیے اور استعارے، جن کو مزاحمت کا سامنانہیں ہوتا، بہت بڑی تعداد میں ناظرین کو ساده ترین حقائق پر یقین د لا کر انہیں انتہا پسندی کی جھولی میں گرا دیتے ہیں۔ کسی طاقت ور مسیحا کے متعلق سادہ بیانیہ سیاسی طیف کے کسی ایک ہی رُخ کی ملکیت نہیں ہوتا۔ 2013 میں بنائی گئی فلم “وار” کے ویلن وہ انتہا پسند دہشت گرد تھے جو پاکستان میں بد ترین تشدد لانے کے ذمہ دار تھے۔ تاہم، ہاتھ کی صفائی سے کام لے کر فلم میں دکھایا گیا کہ ان لوگوں کو مکمل طور پر غیر ملکی ( یعنی انڈین   ) کنٹرول کرتے ہیں جو نہ صرف ان کی ڈوریں ہلاتے ہیں بلکہ ان کے تمام کاموں کی منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں۔ حکمت عملی واضح طور پر یہ تھی کہ اوسط پاکستانیوں کی نظر میں ان انتہا پسندوں کو محض بیرونی قوتوں کا آلہ کار بناکر پیش جائے۔ اس طریقہ کار میں مسئلہ یہ ہے کہ جب تک آپ اس قابل نہیں ہوتے کہ انتہا پسند ذہنیت سے اپنی شرائط پر نپٹیں تب تک اس بات کا امکان نہیں کہ ریاست اس قابل ہو گی کہ حقیقی ولنوں کی شناخت کر سکے۔ اس کی بجائے یہ ہمیشہ سائے کے پیچھے بھاگتی رہے گی اور اپنی پوزیشنوں کے حوالے سے معذرت خواہانہ رہے گی۔

کسی بھی ذہین انتہا پسند کے لیے یہ بہت آسان ہے کہ وہ کسی نظریاتی دلیل کو ریاستی بیانیے کی نفی کے لیے استعمال کر لے۔ اس حوالے سے، 2007 میں عسکری معاونت  سے بنائی گئی فلم “خدا کے لیے” اگر چہ “وار” جیسی عمدہ پیش کش نہیں تھی لیکن اس میں زیر نظر معاملے کے حوالے سے کہیں زیادہ واضح نقطہ نظر پایا جاتا تھا۔ کم از کم اس فلم نے کوشش تو کی کہ وہ عام پاکستانیوں کے اندر پائی جانے والے ثقافتی الجھاؤ جیسے حقیقی مسئلے کو گرفت میں لینے کی کو شش کرے اور بتائے کہ کیسے یہ الجھاؤ نو جوانوں کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی جانب  دھکیل دیتی ہے۔

کار افلم فیسٹیول چلانے کے دوران بھی ریاستی رٹ کے بارے میں ایسی ہی الجھنیں مجھے دیکھنے کو ملیں۔ جہاں ہر طرح کا پائیریسی والا مواد، جس میں انڈین اور مغربی مین سٹریم سینما میں ہونے والے کام سے لے کر ( حتیٰ کہ بر ہنہ فلمیں تک ) سارے پاکستان میں پھیلی ویڈیو کی دکانوں، غیر قانونی کیبل ٹی وی چینلوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے سے وسیع پیمانے پر دستیاب تھیں،  وہاں ریاستی سنسر شپ سینما اور فیسٹیول میں پیش کیے جانے والی فلموں کے لیے ہی مختص تھا۔ کارافلم نے دوٹوک انداز میں کسی بھی قسم کا مواد سنسر شپ کے لیے جمع کرانے سے انکار کیا۔ خیر اس وقت یہ معاملہ بھی تھا کہ حالات بھی کچھ مخصوص نوعیت کے تھے کہ اس زمانے کا فوجی حکمران خود بھی چاہتا تھا کہ ایسے ثقافتی پروگرام مثلاً عالمی فلمی میلے وغیر ہ منعقد کیے جائیں، اس کے نتیجے میں بعد ازاں انڈین فلموں سے پابندی اٹھالی گئی اور کارافلم کو سنسر قوانین سے مستثنیٰ کر دیا گیا۔

اس زمانے کی سب سے بڑی ستم ظریفی تو یہ تھی کہ جو لوگ اقتدار میں تھے وہ ا کثر اوقات ایرانی آرٹ ہاؤس سینما کی مثال دیا کرتے تھے کہ یہ کچھ ایسی شے ہے جس سے پاکستانی سینما کو سبق سیکھنا چاہیے۔ اس کی بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ ایرانی سینمانہ توانڈ ین تھا اور نہ ہی مغربی تھا، اور اس کا ماخذ ایک قدامت پسند مسلمان سماجی ماحول تھا جس کے بارے میں پاکستانیوں نے لا محالہ یہ فرض کر لیا تھا کہ یہ ہماری عبقریت کے لیے زیادہ سود مند تھا۔ اکثر یہ سوال پو چھا جاتا تھا کہ پاکستانی سینما کیوں اتنا عمدہ نہیں، جتنا عمد ہ ایران میں تخلیق کیا جا رہا تھا۔ اس طرح کے سوالات اٹھانے والے ان مخصوص حالات کو بالکل نہیں سمجھتے ہیں جن میں ایرانی سینما نے ارتقا پایا اور چلا (اکثر اسے ریاستی مدد دستیاب رہی، نہ ہی یہ لوگ اس بات کو بھانپ سکتے ہیں کہ بہت سی ایرانی فلمیں جنہوں نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی وہ در حقیقت خود ریاست پر کی جانے والی بہت ہی لطیف تنقید تھی۔ ایسی ہی فلموں کے لیے اگر پاکستان میں سرمایہ کاری حاصل بھی ہو جائے تو ان فلموں سے ریاست کے انہی کار پردازوں کے لیے بہت سے مسائل جنم لے لیں گے جو ایرانی فلموں کی تعریف کرتے ہوئے  نہیں تھکتے۔

بیرونی سرمایہ کاری سے بننے والی چند پاکستانی فلموں کو بیرونی دنیا میں شہرت حاصل ہوئی ( بہت سی ایرانی آرٹ ہاؤس فلموں کو بھی بیرونی ذرائع سے سر مایہ کاری حاصل ہوتی ہے ) تواکثر اوقات ان فلموں کو پاکستان کے بارے میں تاثر خراب کرنے کی سازش قرار دے دیا گیا۔ اکثر اوقات دو صاحبانِ اقتدار جو تبدیلی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں وہ کسی انقلابی تبدیلی کی راہ کھوٹی کر دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دو ہزار کی دہائی میں سامنے آنے والی ” روشن خیالی ” کی عمر بہت کم ثابت ہوئی اور افراد کے منظر سے ہٹنے پر یہ غائب ہو گئی۔

تاہم یہ بات بالکل واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ آزادی اظہار تخلیقی عمل کا انتہائی بنیادی جزو ہے اور جو بھی ادار ہ اور تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے قائم کی جائے، اسے ہر گز یہ اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ سوچ سمجھ سے عاری جماعت بندی اختیار کر لے یا افسر شاہی کے اختیار میں چلا جائے۔

پچاس برس قبل فیض احمد فیض نے اپنی کلچر رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی تھی:

“کسی بھی ترقی پذیر ملک میں ثقافتی سرگرمی کئی طرح سے سماجی۔ سیاسی سر گرمی کی شکل ہوتی ہے۔ صرف اسی سر گرمی کے ذریعے سے ہی قومی تعمیر میں عوام کی کامل شمولیت ممکن بنائی جاسکتی ہے۔۔۔ اگر ریاست یاذمہ دار عوامی ادار ہ مقبول عام فراغت اور جذ باتی اطمینان کی ضروریات پوری نہ کر پائیں گے تو یہ چیزیں غیر ذمہ دار ادارے مہیا کریں گے جن پر کوئی عوامی اخلاقی معقولیت کا دباؤ نہ ہو گا۔ جو چیزیں یہ مہیا کریں گے وہ کسی بھی قوم کی ذہنی اور اخلاقی صحت کے لیے منشیات افیون سے زیادہ ضر رر سال ثابت ہوں گی۔”

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...