شمالی پاکستان کی قومیں: تسلط، بالادستی اور نوآبادیت کی زد میں

600

تسلط، بالادستی اور نوآبادیت کا مفہوم:

تسلط:  کسی فرد یا قوم کی ایسی حالت جہاں وہ اپنے فیصلے خود نہ کرسکے؛  جہاں اس فرد یا قوم کو اپنے سیاسی و معاشی فیصلوں کا اختیار نہ ہو؛ جہاں اس کے وسائل کے بارے میں کوئی اور لوگ فیصلے کریں اور  جب وہ فرد یا قوم سیاسی اور سماجی طور پر کسی شمار میں نہ ہو۔ اس فرد، گروہ یا قوم کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ زیرتسلط ہے یا تسلط کا شکار ہے۔

نوآبادیت اور بالادستی: یہ تسلط کی واضح  اور ٹھوس شکلیں ہیں۔ نوآبادیت سے بہ ظاہر مراد یہی ہے کہ کسی گروہ یا قوم کو کوئی اور طاقت ور گروہ یا قوم اس کی اپنی  آبائی دھرتی اور زمینوں سے نکال باہر کرے اور خود وہاں قابض ہوجائے۔ اس کے لئے اس آبائی قوم کو قتل کیا جاتا ہے یا ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں جہاں وہ خود اپنی زمین اور وسائل چھوڑ کر کہیں اور جاکر مہاجر یا پناہ گزین بن کر رہے۔ اس کی حالیہ کئی مثالیں ہیں، تاہم سب کو فلسطین کے مسئلے کا یا پھر ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر کے مسئلے کا تو پتہ ہے۔

نوآبادیت کا نرم پہلو یہ ہے کہ مقامی لوگوں سے ان کی زمینیں سستے داموں خرید کر ان کو وہاں نوکر لگایا جائے۔ مقامی لوگوں کو چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسی کلاس فور اور چوکیدار کی نوکریاں دے کر فیصلہ ساز والی ملازمتیں بالادست کے پاس رہنے دیے جائیں۔ مقامی لوگوں سے ان کی ثقافت، زبان اور شناخت چھین کر مختلف طریقوں سے اپنی زبان، ثقافت اور شناخت ان پر ٹھونسی جائے۔ یہ سب بڑی نرمی سے ہوا ہے اور ہورہا ہے۔

دیسی/مقامی لوگوں کی تاریخ افریقا سے امریکا اور انڈیا تک ایسی رہی ہے کہ جہاں بھی نوآبادیت اور بالادستی آئی ہے ان مقامی لوگوں کی اشرافیہ نے شروع میں تھوڑی مزاحمت کی ہے تاہم اس مزاحمت کے بدلے ان نوآبادکاروں اور بالادستوں نے ان کو تھوڑی بہت مراعات زمین، سیاسی و سماجی عہدوں یا نقدی کی صورت میں دی ہیں۔ ان چیزوں کے بدلے ان مقامی زعماء نے سودا کیا ہے اور ان مقامی آبادیوں پر اس بیرونی تسلط کے لئے سہولت کار بنے ہیں۔

جب تسلط اور نوآبادیت کا یہ عمل دیر تک جاری رہتا ہے تو یہ آہستہ آہستہ مقامی آبادی کی نسلوں کی نفسیات میں داخل ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً وہ ان آبادکاروں کو مسیحا سمجھتے ہیں اور خود کو ان کے رنگ میں رنگنا پسند کرتے ہیں۔ اپنوں کے مقابلے میں ان بیرونی لوگوں کی عزت و احترام زیادہ کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں ان مقامی آبادیوں میں جہاں کوئی فرد یا نسل اگر اس حالت پر کوئی غصّہ محسوس کرے تو ان کا یہ غصّہ اپنوں پر زیادہ ہونے لگتا ہے کیوں کہ ان کی نفسیات میں یہ شامل ہوتا ہے کہ وہ ان بیرونی طاقت وروں سے مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ملکی سطح پر پاکستان کی موجودہ صورت حال آپ کے سامنے ہے جہاں غیروں کا نام لے کر اپنوں پر وار کیے جاتے ہیں  یا  پھروہ اندرونی جنگیں جن کو دہشت گردی کہا جاتا ہے جہاں کچھ باغی لوگ کسی خاص نظریے کے تحت اپنوں کو قتل کرتے ہیں اور اس کو غیروں کے خلاف جنگ سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس کی مثالیں نوجوان نسل کا اپنے بڑوں پر غصّہ ہونا یا ان کو اپنے سارے مسائل کا ذمہ دار ٹھرانا وغیرہ یا پھر مقامی رہنماؤں کو چھوڑ کر کسی غیر کے پیچھے ہوجانا شامل ہیں۔ ایسے میں کسی تشدد آمیز حالت سے بچنے کے لئے ایسے سماجی، سیاسی اور تعلیمی عمل شروع کیا جانا ضروری ہوتا ہے کہ جس کی مدد سے اس تسلط کو اہستہ اہستہ پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جاسکے۔

اس تعارف کے بعد اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا  توروالی سمیت اس کی طرح شمالی پاکستان کی ایتھنِک (ethnic)  قومیں تسلط اور نوآبادکاری کے شکار ہیں؟

جب تسلط اور نوآبادیت کا عمل دیر تک جاری رہتا ہے تو یہ آہستہ آہستہ مقامی آبادی کی نسلوں کی نفسیات میں داخل ہوجاتا ہے

اس سوال کا جواب دینے کے لئے تاریخ میں جانا تو ہے ہی لیکن ایسا یہاں ممکن  نہیں۔ تاریخ اور ماضی کو چھوڑ کر موجودہ سیاسی و معاشی صورت حال میں اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں۔ اسی سوال کا جواب دینے کے لئے چند ضمنی سوالات توروالی کمیونیٹی کی مثال دے کر پوچھنے ہیں اور ان کا ہاں یا نہیں میں جواب دینا ہے۔

1۔ کیا ہمارے وسائل (جنگلات، پانی، زمین) کے استعمال کے سارے فیصلے ہم کرتے ہیں؟ مثلاً کیا جنگلات کا جو ترقیاتی فنڈ ہوتا ہے وہ ہمارے علاقوں میں خرچ ہوتا ہے؟ نہیں۔ کیا پانی پر جو منصوبے بنائے جاتے ہیں ان سے ہمیں بجلی مفت میں فراہم کی جاتی ہے یا اس کی جو رائیلٹی ہوتی ہے وہ ہمیں ملتی ہے؟ نہیں۔

2۔ کیا ہمارے ہاں جنگلات کے محکمے میں سارے ملازم مقامی طور پر بھرتی کیے جاتے ہیں؟ نہیں۔

3۔ کیا ہمارے ہاں مڈل اور ہائی سکولوں میں مقامی آساتذہ بھرتی کیے جاتے ہیں؟ چند ایک کے علاوہ۔ نہیں۔

4۔ کیا ہمارے ہاں گرلز سکولوں میں مقامی اُستانیاں بھرتی ہوسکتی ہیں؟ نہیں۔

5۔ کیا ہم سے تاریخ میں ہماری زمینیں چھین لی گئی ہیں؟ جی ہاں۔ اگر نہیں تو تحقیق کریں۔  مثلاً دسویں صدی اور اس سے پہلے کا سوات تو ایک طرف جوتُوال/ توروال آٹھارویں صدی تک تھا اس کی سرحدیں اب سکڑ کر کتنی رہ گئی ہیں؟ اور سکڑنے کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

6۔ کیا علاقے میں سیّاحت کے فروغ کے منصوبوں میں جو فیصلے کیے جاتے ہیں ان میں ہماری کوئی آواز یا رائے شامل کی جاتی ہے؟ نہیں۔

7۔ کیا ہم جیسی قوموں کو ان جنگلات اور یہاں کے پانی کے ذخائر کے مالک مانا جاتا ہے؟ نہیں۔

8۔ آیا افسر شاہی اور دوسرے شعبوں میں توروالی جیسی دیسی قوموں سے لوگ شامل ہیں؟ نہیں۔

9۔ کیا ہمارے لئے ایسے ہی سکولز اور کالجز قائم ہیں جیسے کہ بالادست قوموں کے لئے؟ نہیں۔

10۔ کیا ان انتظامی و افسرشاہی کے دفاتر میں ہمارے بارے میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ ہم پسماندہ، جاہل اور بے علم لوگ ہیں؟ ہاں۔

11۔ کیا بالادست قوموں کے عام لوگوں میں ایسا تعصب نہیں پایا جاتا جہاں ہمیں وحشی، جاہل اور بے وقوف سمجھا جاتا ہے؟ ہاں۔

12۔ کیا ہم ان بالادست لوگوں کی طرف سے دی گئی شناخت پر اتراتے ہیں اور اپنی شناخت سے بھاگتے ہیں؟ بہت حد تک ہاں۔

13۔ کیا ہماری نوجوان نسل کا اپنے بڑوں پر اعتماد رہا ہے یا وہ ان کو کسی قابل سمجھتی ہے؟ نہیں۔

14۔ کیا ہم دانستہ اور غیر دانستہ طور اپنی زبان چھوڑ کر دوسری زبانوں کے الفاظ استعمال نہیں کرتے؟  ہاں کرتے ہیں۔ کیا ہم سے ہماری ماضی اور تاریخ بھول گئے ہیں؟ ہاں۔ کیا ہم اپنی تاریخ اور ماضی وہی نہیں سمجھتے جو ان بالادست لوگوں نے ہمیں بتائی ہے؟ کافی حد تک ہاں۔ کیا ہم ان کی شناخت اپنانے پر فخر محسوس کر رہے ہیں؟ ہاں۔

15۔ کیا ہمیں اپنی ثقافت بری نہیں لگتی ؟ مثلاً ہم پشتو اور اردو کے گانے شوق سے سنتے ہیں اور اس  پر پابندی نہیں لگاسکتے جبکہ اپنے موسیقاروں اور گائیگوں کو کمتر سمجھتے ہیں؟ ہاں۔

16۔ کیا ہمارے گاؤں اور دیہات کے نام اپنی زبان کے ہیں یا سرکاری طور پر پشتو ز یا اردو زبان میں ہیں؟ کیا ہم سرکاری طور پر گورنئی کی بجائے گورنال لکھ سکتے ہیں؟ زوڑ کلے کی بجائے پُران گام لکھ سکتے ہیں؟ درولئی کی بجائے دیریل لکھ سکتے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں پرائمری سکولوں میں  بچوں کو ان کی زبان میں پڑھائی کی جاتی ہے؟ کیا سرکاری نصاب کی کتابوں میں  توروالی زبان شامل ہے؟ کیا کسی سرکاری نصاب میں شمال میں بولی جانے والی ان زبانوں پرمضامین تک شامل ہیں؟ نہیں۔

تو پھر بالادستی اور کسے کہتے ہیں!

اس پوری بحث کے بعد یہ سوال ابھرتا ہے کہ اس نہ ختم ہونے والی نوآبادیت اور تسلط سے نجات کیسے ممکن ہے؟

یوں تووسیع تناظر میں یہی لگتا ہے کہ پورا پیارا ملک بھی اسی طرح نوآبادیت کی جدید صورت استعماریت کا شکار ہے جو کہ بیرونی ہے، تاہم خود اسی نوآبادیت کے بطن سے پیدا ہوکر یہاں اندرونی طور پر بھی نوآبادیت ہر سطح پرنہ صرف موجود ہے بلکہ اس کو بڑی چاہ سے مختلف پالیسیوں کے ذریعے فروغ دیا جارہا ہے۔ نوابادیت کی ایسی صورت حال کو جہاں کسی ایک ریاستی یا ملکی ڈھانچے میں رہتے ہوئے طاقتور قومیں اور گروہوں چھوٹی قوموں اور گروہوں پر سیاسی، ثقافتی اور معاشی  تسلط برقرار رکھتے ہیں اندرونی نوآبادیت کہا جاتا ہے۔ ہمارے ملک اور معاشرے میں یہ اندورنی نوآبادیت اپنے پورے زور سے جاری ہے۔ 11/9 کے بعد تو گویا نوآبادیاتی ریاستوں کو ایک نیا اور کارگر ہتھیار مل گیا ہے۔ کوئی بھی اپنے جائز حق کے لئے آوز اٹھائے تو اس کو ”دہشت گردی“ کی بڑی ٹوکری میں ڈال کر کچل دیا جاتا ہے۔ غدّار، ملک دشمن اور بیرونی ایجنٹ کے ٹھپّے تیار کرکے رکھے ہیں۔ جوں ہی کوئی ذرہ سی بھی اس گھٹن والے تسلط کے خلاف اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائے اس پر مذکورہ بالا لیبلز لگا کر پورے معاشرے میں بدنام کیا جاتا ہے۔ ان کی آہ بھی غدّاری تصّور ہوتی ہے، ان کی فریاد نسل پرستی اور قوم پرستی تصّور ہوتی ہے جبکہ ان کے سینے پر گھٹنے رکھ کر دبانے والے ہمیشہ سے محّب وطن ہوتے ہیں!

پاکستان میں چار بڑی قومیں کچھ حد تک اپنی آواز اٹھا سکتی ہیں اور ملکی انصرام میں ان کو حصّہ لینے کا کچھ نہ کچھ حق دیا جاتا ہے۔ ان چاروں میں بھی ایک آدھ کو بڑا مقام حاصل ہے اگرچہ اسکا اظہار کبھی نہیں کیا جاتا اور نہ اس اظہار کو کرنے دیا جاتا ہے۔ دیگر تین قومیں کافی حد تک اپنے وجود کا احساس دلاسکتی ہیں۔ تاہم ان چاروں کے علاوہ جو بیسیوں قومیں یہاں بستی ہیں ان کا وجود  کوئی مانتا ہے نہ ہی ان کو کسی شناخت اپنانے کی اجازت ہے۔ ان قوموں کو اکثر ان بڑی قوموں میں ڈال کر ان کے ساتھ نتھی کیا جاتا ہے۔ ایسی قومیں شمالی پاکستان میں زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔ ان کو قوم سیاسی طور پر نہیں کہا بلکہ ایتھنِک لحاظ سےethnically  یہ اپنی ذات میں قوم ہیں کیوں کہ یہ اپنی آبائی دھرتی، اپنی ثقافت اور الگ زبان رکھتی ہیں۔ شمال میں کئی ایسی ایتھنِک کمیونیٹز کواگر اجتماعی درجہ بندی میں شمار کیا جائے تو یہ پوری آبادی ”داردی“ قوم کی بنتی ہے۔ داردی قوم میں اگرچہ کئی لسانی گروہ موجود ہیں اور اپنا الگ الگ وجود رکھتی ہیں تاہم ثقافتی لحاظ سے ان میں تاریخی طور پر اور بڑی حد تک موجودہ صورت میں بھی، ایک مماثلت پائی جاتی ہے۔ مگر ماضی کی سخت گیر نوآبادکاری کی وجہ سے ان کا یکتا وجود بکھر گیا اور یہ تنگ گھاٹیوں میں مقید ہوگئیں۔ اس نوآبادکاری کی وجہ سے یہ لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے اور ان ہی کے بیچ نوآبادکار دیوار بن گئے۔ یوں ان کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہوگیا اور یہ لوگ متشر رہنے لگے۔ مختلف سلطنتوں اور نئی قومی ریاست نے ان کےسیاسی مراکز توڑ دیے جس کی وجہ سے ان کی طاقت کا شیرازہ بکھر گیا۔ ان کی نئی نسلوں سے اپنی تاریخ بھول گئی اور وہ اپنے ماضی کے بارے میں بلکل نابلد رہی۔ انہوں نے بتدریج خود کو بقول فرانٹز فینن (Frantz Fanon) نوآباد کار کی دی ہوئی ایمیج (image) کے مطابق ڈھالا۔ ان کی نفسیات میں ایک لحاظ سے نوآباد کار سے محبت  پیدا ہوگئی۔

گزشتہ تین دہائیوں میں جب دنیا سوشلزم اور کیپِٹلزم کےدو بڑے حصّوں سے نکل کر کیپِٹلزم کے ہی پیداکردہ عالم گیریت ( globalization) کی شکار ہوئی تو ذرائع ابلاغ میں کثرت، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں وسعت اور صارفیت کی مقبولیت کی وجہ سے جہاں دنیا ایک طرف  گلوبل اکائی اوریکسانیت کی طرف بڑھی وہی پہ کئی قوموں اور گروہوں کو اپنی بقا اور شناخت کی فکر ستانے لگی۔ میکس ویبر کے نزدیک  کمیونیٹی (community) کا احساس فطری ہوتا ہے۔ اسی طرح افلاطون سے لیکر نطشے (Nietzsche) تک فلسفیوں کے نزدیک انسان میں عزت، عظمت اور قبولیت کے حصول کی چاہت بھی فطری طور پر پائی جاتی ہے۔ افلاطون اس کو تھیموس(Thumos) یعنی عزت نفس، عظمت اور مقبولیت کا اعلی احساس کہتا ہے تو نطشے اس کو Self Affirmation  لکھتا ہے۔  یہ افراد کی نفسیات (psyche) میں پایا جاتا ہے اور بقول علامہ اقبال افراد کے ہاتھوں میں تو اقوام کی تقدیر ہوتی ہے۔ اس لئے افراد کا یہ احساس قوم کا احساس بن جاتا ہے۔ افراد اور قوموں میں یہ احساس شناخت کلچرل/ایتھنِک شناخت (identity) اور قبولیت (recognition) کے جذبےمیں نمودار ہوجاتا ہے۔ اسی احساس کی بدولت شناخت کی سیاست (identity politics) پیدا ہوجاتی ہے جو کہ طبقاتی سیاست کی طرح ہی اس ہمہ گیر تسلط، ثقافتی حلول (assimilation) اور معاشی استحصال کے خلاف مزاحمت ہے۔  جہاں ہمیں اگر کسی گروہ میں ایسے اجتماعی احساس کا  مشاہدہ  نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس گروہ میں ایسا کوئی احساس موجود ہی نہیں۔ موجود تو ہوتا ہے تاہم اس کی صورت وہ نہیں ہوتی جس کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں یا جس کے بارے میں ہمارے پہلے سے کوئی خیال موجود ہوتا ہے۔ یہ احساس اس وقت شدّت اختیار کرجاتا ہے جب اس کا ملن مادی محرومیوں سے ہوجاتا ہے۔ جہاں محرومی زیادہ ہو وہیں پہ اس احساس کا بڑھنا زیادہ ہوجاتا ہے تاہم اس احساس کی پیدائش کی وجہ صرف مادی نہیں ہوتی۔ جدید معاشی نظریہ (سرمایہ دارانہ اور شراکتی دونوں) انسان میں اس کے مختلف رویّوں، عادات اور اعمال کا ماخذ صرف مادی مفاد گردانتا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ انسان میں ایسے احساس کا نفسیاتی پہلو بھی ہے جس کے لئے مادی مفاد کا ہونا لازمی نہیں۔ مثلاً ہیرو بننے کی خاطر اپنی جان تک دے دینا کسی معاشی مفاد کی خاطر نہیں بلکہ اس thumos کی وجہ سے ہوتا ہے۔ قبولیت، عزت اور عظمت کے اس احساس کو انسانی حق کے طور پر قبول کیے بغیر دنیا میں تکثیرت (pluralism) اور اس کے نتیجے امن ممکن نہیں ہوگا۔ گلوبلائزیشن اورلبرل جمہوریت کے معروف اقدار جیسے انسانی مساوات بے معنی ہوجاتے ہیں جب عالم گیریت کے اس دور میں کئی زیر تسلط اور زیردست گروہوں اور طبقات کو امتیازی حقوقequity  کی بنیاد پر نہیں دیے جاتے۔ ان امتیازی حقوق کی عدم موجود گی میں گلوبلائزیشن محض سماجی ڈاروینیت Social Darwinism بن جاتا ہے جہاں سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر طاقتور گروہ اور قومیں ہی بقا کرسکتی ہیں۔ٕ

گزشتہ دو مہینوں سے پورے شمالی پاکستان یعنی سوات، چترال، دیر کوہستان، گلگت بلتستان اور کوہستان میں چند سکالرز، سماجی و سیاسی کارکن ایک ہمہ گیر تحریک کے لئے مسلسل سوچ بچار کر رہے ہیں

تو ان زیر تسلط قوموں کو کرنا کیا چاہے؟

تسلط اور بالادستی سے نجات کی بنیادی ذمہ داری ان گروہوں اور قوموں کی بن جاتی ہے جو اس کے شکار رہیں۔ کیوں کہ بالادست نوآبادکار، بیرونی اور اندرونی دونوں، کبھی بھی زیر تسلط گروہوں یا قوموں سے دلی ہمدردی (empathy) محسوس نہیں کرسکتے۔ اس درد کا باہمی احساس اس وقت ہوسکتا ہے جب کسی کو اس کا ذیستی  تجربہ (lived experience) ہو۔ لہذا ن مقامی قوموں کو اس ہمہ گیر تسلط سے نجات کے لئے ان  محاذوں پر سرگرم ہونا ہے: علمی، فکری، سماجی، معاشی اور سیاسی۔ ایک طرف اپنے نوجوانوں کو علمی و تعلیمی لحاظ سے اگے کرنا ہے تاکہ وہ اس نفسیاتی تسلط کا مقابلہ علمی اور پیشہ ورانہ طور پر کرسکے اور ساتھ ان کی  معاشی سرگرمیاں زیادہ ہوں۔ دوسری جانب کمیونیٹی اور شناخت کا احساس پیدا کرنا ہے۔ پھر اسی احساس کے تحت  صاحب کاروبار لوگوں کو اپنے نوجوانوں کی مدد کرنی ہے تاکہ کوئی ہمہ گیر معاشی ترقی ممکن ہوسکے۔ ان سب محاذوں کا اگلہ اور اہم محاذ سیاسی ہے کیوں کہ یہ سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں اوراس علمی، تعلیمی و معاشی تسلط سے مقامی سیاسی  جد وجہد کے ذریعے ہی جان چھڑائی جاسکتی ہے۔ ایسی سیاست طبقاتی اور شناختی دونوں سطح پر کرنی پڑتی ہے۔ ملک کے اندر اس کے آئین کے دائرے میں رہ کر وہاں آئین اور پالیسیوں میں ایسی تبدیلیوں کے لئے ان زیرتسلط گروہوں اور قوموں کو جدوجہد کرنا پڑے گا کہ  وہ ان پالیسیوں اور آئین کو نوآبادیت کے شکار ان قوموں کے حق میں تبدیل کرسکے۔ مثلاً ہمارے ہاں مقامی سطح پر لازمی ہے کہ  ان پہاڑی علاقوں کو سرکاری طور پر پسماندہ اور دشوار گزار قرار دلواکر ان کے لئے تعلیم، جنگلات، پانی، پن بجلی، سیّاحت اورروزگار کے دیگر مواقع میں خصوصی مراعات دی جانی چاہیئں۔ ایسا ممکن ہےتاہم اس کے لئے ایک مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لئے لڑنا جھگڑنا لازمی نہیں تاہم اپنی سیاسی، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں میں تیزی لانی ہے اور جرات کے ساتھ ان سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ہے۔

ایسے میں اگر شمالی پاکستان میں بستی ان پسی ہوئی اقوام اور  گروہوں کے لئے کوئی مشترک سیاسی تحریک شروع کی جاتی ہے تو یہ بہتر ہوگا اور اس پر اس ملک میں بستی دوسری بڑی اقوام اور ریاست کو پریشان نہیں ہونا چاہے۔ ایسی تحریک لازمی ہے اگر ان مقامی قوموں کے حقوق پر اقتدار اور طاقت کے مراکز میں کوئی ڈسکورس ( برابری کی سطح پر بات چیت) کرنی ہے ورنہ یوں ہی منتیں اور درخواستیں کرتے رہیں گے جن کا ان مراکز پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اب ایک ہی راستہ ہے۔ کہ ایک ایسی سیاسی تحریک ایک مکّمل اتحاد کی صورت میں پروان چڑھانا ہے۔ ایسی مضبوط تحریک ہی کی بدولت ان مقامی دیسی مگر پسماندہ و درماندہ قوموں کو طاقت کے ایوانوں میں سنجیدہ لیا جائے گا۔ ایسی تحریک کوئی علیحدگی پسند تحریک نہیں بلکہ بنیادی طور پر حقوق کی تحریک ہوگی۔

گزشتہ دو مہینوں سے پورے شمالی پاکستان یعنی سوات، چترال، دیر کوہستان، گلگت بلتستان اور کوہستان میں چند سکالرز، سماجی و سیاسی کارکن ایسی  ہمہ گیر تحریک کے لئے مسلسل سوچ بچار کر رہے ہیں۔ انہوں نے سارے مسائل کا جائزہ لیکر اور بڑی سیاسی پارٹیوں کو ان مقامی آبادیوں  کے حقوق کے بارے میں سردمہری کو محسوس کرکے ایسی فکر کا آغاز کیا ہے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے تاہم  ناممکن نہیں۔ ابتداء میں اس تحریک کا نام ’’شمالی پاکستان حقوق اتحاد‘‘ (Northern Pakistan Rights Alliance) بھی تجویز کیا گیاہےاور اب اس تحریک کے مقاصد، سٹریٹیجی اور مربوط لائحہ عمل پرمکالمہ ہورہا ہے۔ منشاء و مقصد یہ ہے کہ سماجی، ثقافتی اور سیاسی طور پر ایک ایسا بیدار، متحرک اور مشترک گروپ بنایا جائے جومرکز اور صوبوں میں اس قدر بااثر ہو کہ طاقت کے ان مراکز میں مقامی آبادیوں کے حقوق کے لئے ان قوّتوں کے سامنے ایک متاثرکن اور نتیجہ خیز بات چیت اور لین دین  کی پوزیشن میں آجائے تاکہ یہ مراکز ان مضافاتی علاقوں کے لوگوں کو سنجیدہ لے۔ اس کے لئے اپنے ایسے نمائندوں کی سیاسی تربیت کرنی ہوگی تاکہ وہ منتخب ہوکران مقاصد، یعنی اس دائمی تسلط اور بالادستی سے نجات حاصل کرنے کے لئے مؤثر کوششیں کرسکیں۔ ایسے افراد کو سیاست میں اگے لانا ہوگا اور ان کی بھرپور پشت پناہی کرنی ہوگی۔ لیڈر بنتے نہیں بنائے جاتے ہیں۔ اگر ایسے افراد نہ بھی ملے تو اس تحریک نے اس کے لئے تربیت بھی کرنی ہے اور مقامی لیڈرز خود تیار کرنے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...