بحرانی صورتحال میں پولیس کی کارکردگی

343

امن وامان اور نظم وضبط کو بحال رکھنے کے لیے پولیسنگ کا کام کچھ آسان نہیں ہوتا، بالخصوص سماجی سیاسی انتشار کے وقت یہ ذمہ داری اور بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس وقت قانون نافذ کرنے والے افراد کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، کردار اور حوصلے کا امتحان ہوتا ہے، اور سب سے اہم یہ کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ذاتی سیاسی، مذہبی، نسلی اور سماجی رجحانات و میلانات پر کیسے قابو پاتے ہیں۔ عام طور پہ ان کے ذاتی تعصبات اور جماعتی رجحانات کے ساتھ ’عوامی تأثر‘ سے متعلق خدشات قانون کی حکمرانی کو بحال رکھنے کے لیے ان کی صلاحیتوں کو محدود بنادیتے ہیں۔

سیاسی خیالات سے قطع نظر، گزشتہ ہفتے پولیس نے پنجاب اور اسلام آباد لانگ مارچ کو جس طرح سنبھالا ہے، اس سے ان کے اعتماد اور حوصلے میں اضافہ ہوگا۔ جب سے تحریک لبیک پاکستان کے سیاسی اور مذہبی منظرنامے پر متحرک ہوئی ہے، پولیس پر بہت زیادہ دباؤ رہا ہے۔ تحریک لیبک کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کا اختتام ہمیشہ ایسے معاہدوں کے ساتھ ہوا جن میں اس بنیادپرست گروہ کو فوقیت حاصل رہی۔ ان احتجاجات کے دوران پولیس کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا: نہ صرف یہ کہ ان کے کئی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، بلکہ یہ بھی ہوا کہ اکثر انہیں باہر کر کے نیم فوجی دستوں کو پولیس کا کام سونپ دیا جاتا۔ مجموعی طور پہ ریاستی اداروں اور سیاسی حکومتوں، دونوں نے پولیس کو اپنا مطلوبہ ردعمل دینے کا موقع نہیں دیا اور ان کی عزت نفس کو قائم رکھنے میں ان کی مدد نہیں کی۔

تاہم، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس نے حالیہ سیاسی بحران سے زیادہ اعتماد کے ساتھ نمٹا ہے، جس کے باعث تحریک انصاف کا لانگ مارچ ایک ہی دن میں ختم ہوگیا۔ ہوسکتا ہے سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک پس پردہ ہونے والی کوششیں، عوام کی طرف سے کم شرکت اور عدلیہ کا کردار اس کے محرکات ہوں، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ مظاہرین کو ایک حد میں رکھنے کا کریڈٹ پولیس کو جاتا ہے۔

پولیس کو بھی نقصان اٹھانا پڑا، تین اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کئی زخمی ہوئے، اور ان کی تذلیل بھی کی گئی۔ نقل وحمل اور آنسوگیس کے اخراجات کے علاوہ، صرف پنجاب پولیس نے مالی نقصان کا تخمینہ 15 ملین کے قریب لگایا، کیونکہ مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو آگ لگادی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لانگ مارچ کے دوران دارالحکومت میں امن امان کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے 149 ملین خرچ ہوئے۔ تاہم یہ لاگت اس سے بہت کم ہے جو اس مقصد کے لیے نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی صورت میں آتی۔

محکمہ پولیس کی صلاحیت بڑھانے اور ان کے لیے اضافی وسائل مختص کرنے کی بجائے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں نازک سیاسی حالات اور انسداد جرائم کی مہمات کے لیے نیم فوجی دستے اتارنے کو ترجیح دیتی ہیں

یہ دراصل دہشت گردی کا سنجیدہ اور اپنی نوعیت کا ایسا چیلنج تھا جس نے ریاست کو مجبور کیا کہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی سمیت بہتر آپریشنل اقدامات کرے۔ کراچی البتہ ایک استثنا تھا کہ جہاں منظم جرائم اور پرتشدد سیاسی تنازعات سے نمٹنے کے لیے سندھ رینجرز کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئیں، تاہم اس حکمت عملی کا منفی اثر یہ پڑا ہے کہ شہر میں پولیس کا ڈھانچہ کمزور ہوگیا۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی، مگر کچھ پیچیدہ صورتحال ہے جہاں غیرمعمولی حالات نے فرنٹیئر کور اور فوج کو آگے آنے پر مجبور کیا جنہوں نے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے روایتی ڈھانچے (جو اگرچہ کمزور تھا) کے متوازی سکیورٹی اور امن وامان کی بحالی کا اپنا نظام فعال کیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں، بالخصوص محکمہ پولیس کی صلاحیت و کارکردگی میں بہتری اور اضافہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ صلاحیت سے جڑے مسائل کے علاوہ، یہ بھی ہے کہ پولیس کے وسائل کم ہیں اور اس کے پاس مطلوبہ لوازمات اور سازوسامان کی کمی ہے۔ لیکن ان مسائل کو حل کرنے اور محکمہ پولیس کے لیے اضافی وسائل مختص کرنے کی بجائے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں نازک سیاسی حالات اور انسداد جرائم کی مہمات کے لیے نیم فوجی دستے اتارنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ سویلین سکیورٹی اداروں کو بااختیار بنانا اور نیم فوجی دستوں کی ان کی اصل ذمہ داریوں میں مشغولیت بحال کرنا ملک میں مستحکم اور پائیدار قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔

پولیس بطور ادارہ عوام کے غصے اور جذبات کو جس طرح جذب کرسکتا ہے، ایسے کوئی دوسرا سکیورٹی اداہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ جب بھی فوجی اور نیم فوجی دستوں کی شہری علاقوں میں تعیناتی ہوتی ہے، تو ناگزیر طور پہ اس کی ایک سیاسی قیمت بھی ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے امیج اور تأثر کو بچانے کے لیے قیمت ادا نہں کرسکتے تو ریاستی ادارے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور انجام کار اس سے عدم استحکام کو ابھارنے والے عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ بہت سے پولیس افسران کا خیال ہے کہ اگر انہیں تحریک لبیک کے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی تو وہ ان سے بہتر طریقے سے نمٹ سکتے تھے۔ لیکن ریاستی اداروں کو یا تو پولیس پر بھروسہ نہیں تھا یا ان کے پیش نظر کچھ اور تھا۔

پولیس کی کارکردگی کے علاوہ، اشتعال انگیز سیاسی تقاریر کے مسئلے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں نے نفرت انگیز تقاریر پر قابو پانے کے لیے چند اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ تاہم، اس وقت ایک زیادہ جامع فریم ورک کی ضرورت ہے، کیونکہ اشتعال انگیز سیاسی تقاریر پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اپوزیشن سمجھتی ہے یہ ان کا آئینی حق ہے کہ وہ نتائج کی پروا کیے بغیر عوامی اجتماعات میں جو کچھ بھی چاہیں کہہ سکتے ہیں۔ سیاسی قیادت ہجوم کو جوش میں رکھنے کے لیے کسی بھی طرح کی اشتعال انگیز زبان استعمال کرسکتی ہے، چہ جائے کہ وہ کسی مذموم ارادے سے ہو۔ جب وہ خونی انقلاب، جلائو گھیراؤ اور گھسیٹو جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا اثر عوام کے ذہنوں پر پڑتا ہے۔ سیاسی قیادت کو علم ہونا چاہیے کہ ہجوم کی نفسیات کیسے کام کرتی ہے۔

بیان بازی، گندی زبان اور اشتعال انگیز تقریر کا استعمال کسی ایک سیاسی یا مذہبی جماعت تک محدود نہیں ہے۔ سب اپنی اپنی جگہ پہ اس کا حصہ ہیں۔ اگرچہ اشتعال انگیز تقریر پر روک لگانے کے لیے کچھ قوانین موجود ہیں اور پولیس اکثر مقدمات بھی درج کرتی ہے، لیکن عدلیہ نے اس طرح کے الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور بالآخر سیاسی بنیادوں پر ایسے مقدمات کو نمٹا دیا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ ایک ضابطہ اخلاق متعارف کرانے میں کردار ادا کر سکتی ہے جو تمام سیاسی اور مذہبی اداکاروں کو پابند بنائے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی نہ کریں۔ ضابطہ اخلاق میں چند تادیبی سزائیں شامل کی جاسکتی ہیں، جیسے کہ کچھ ہفتوں سے لے کر ایک سال تک کے لیے پارلیمنٹ کی رکنیت معطلی، کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت بھاری جرمانہ عائد کرنا، وغیرہ۔ اسی طرح سیاسی مفادات کے حصول کے لیے مذہب کے استحصال کو روکنے کے لیے ایک سخت ضابطہ ہونا چاہیے اور یہ مقصد قانون سازی کے عمل کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتیں معاہدہ کریں کہ وہ مذہب کے استعمال سے گریز کریں گی جس سے عوامی جذبات کو بھڑکایا جائے۔

یہ بدقسمتی ہے کہ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے مذہبی بیانیوں کے غلط استعمال کی وجہ سے نقصان اٹھایا ہے، اس کے باوجود کسی نے بھی اپنی قیادت میں اس مسئلے بارے حساسیت پیدا نہیں کی جس کے باعث سماج میں منافرت اور عدم برداشت کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ یہ معاملہ اگرچہ پولیس کے دائرہ کار میں نہیں آتا، لیکن اس کا خمیازہ پولیس کو بھگتنا پڑتا ہے، کیونکہ ایک عام آدمی کی نظر میں پولیس ریاست کی علامتی نمائندہ ہوتی ہے، اور اس کے خیال میں ریاست ہی ہے جو ظلم کر رہی ہوتی ہے۔

بشکریہ: روزنامہ ڈان، مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...