بین المذاہب ہم آہنگی میں نوجوانوں کا کردار: پنجاب میں جامعات کے طالب علموں کے ساتھ منعقدہ ورکشاپس کی مفصل رپورٹ

فضہ بتول

129

تعارف

موجودہ دور میں، جہاں بہت سے ممالک میں آبادی کے زیادہ ہونے سے بڑھ کر یہ امر تشویش کا باعث ہو گیا ہے کہ وہاں کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب کم ہو رہا ہے، پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب اسے نوجوانوں کی قوم ظاہر کرتا ہے۔ نظری سطح پر دیکھا جائے تو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو توانائی اور کام کرنے کی صلاحیت سے لیس ہے، اسے قومی معیشت اور جی ڈی پی کی نمو میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

تاہم، عملی طور پر، پالیسی سازی میں نوجوانوں پر توجہ کے فقدان نے پاکستان کی اس صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی طاقت سے فائدہ اٹھا سکے اور معاشی ترقی کے لیے نوجوانوں کی توانائیوں کو استعمال کرسکے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ امن اور سلامتی سے متعلق پالیسی گفتگو اور تشکیل میں نوجوانوں کی شمولیت کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے، حالانکہ پُرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی سمیت پاکستان میں سکیورٹی کے جملہ مسائل کے حل میں نوجوانوں کا کردار لازمی ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان میں جس سطح کی مذہبی انتہا پسندی اور تشدد دیکھا گیا ہے وہ ان نوجوانوں کے مہیب کردار کے بغیر ممکن نہیں تھا جو پرتشدد نظریات میں مبتلا تھے اور عسکریت پسند گروہوں کے ہاتھوں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں تنازعات اور عداوتوں میں نوجوانوں کے استعمال کیے جانے کو دستاویزی شکل دی ہے۔ پاکستان میں، طالبان کمانڈر قاری حسین نے بچوں کو “خدا کی خوشنودی کے حصول کا وسیلہ ” قرار دیا۔ دہشت گرد تنظیموں نے نوجوانوں کو تشدد کی کارروائیوں میں استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور بچوں اور نوعمر وں سے انسانی بم کا کام لیا۔ تاہم، عقیدے کی بنیاد پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو پیش آمدہ تلخ تجربات کے باوجود، نوجوانوں کو پالیسی سازی سے باہر رکھا جاتا ہے۔ نوجوانوں کے بارے میں کوئی ایسی مؤثر یا فعال پالیسی نہیں ہے جس پر بات کی جا سکے، حالانکہ قائدین اکثر نوجوان آبادی کی نمو کو قومی طاقت کا وسیلہ قرار دیتے ہیں اور نوجوانوں کی اصلاح و بالیدگی کا وعدہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ خوش بیانی کم ہی کسی نوع کے پالیسی اقدامات کی صورت اختیار کر پاتی ہے۔ نتیجتاً، نوجوانوں کو بڑی حد تک بے ہنگم اور مایوس چھوڑ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ثابت کرنے کے لیے پہلے ہی کافی شواہد موجود ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں کی موجودہ نسل دل میں غصہ رکھتی ہے، جس کا اظہار اکثر پرتشدد طریقوں سے ہوتا ہے جس میں انبوہ بن کر لوگوں کو بلاتفتیش و تحقیق سزا دینے اور قتل کرنے جیسی صورتیں بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف نظام نوجوانوں کو انصاف فراہم کرنے میں مسلسل ناکام ہے۔ عوامی تعلیمی نظام کے بڑھتے ہوئے زوال نے، جس کی بڑی وجہ ترجیحات کی کمی اور جزوی وجہ تعلیم کی نجکاری ہے، پاکستان میں نوجوانوں کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست ملک کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داری سے منحرف ہو گئی ہے، اور مہنگے اور نسبتاً غیر معیاری نجی تعلیمی شعبے کے پھیلاؤ نے تعلیم تک عوام کی رسائی کو مزید کم کر دیا ہے۔ غربت نے بہت سے خاندانوں کو سستی سرکاری تعلیم کا بوجھ اٹھانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا، اور اس وجہ سے، وہ اپنے بچوں کو ایسے مدارس میں بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں مفت تعلیم اور رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ فرسودہ تدریسی طریقوں اور نصاب کے ساتھ موجودہ تعلیمی نظام زیادہ تر تعلیمی اور پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے جو نوجوانوں کو کامیاب پیشہ ورانہ مستقبل بنانے اور معاشرے میں ان کی سماجی و اقتصادی حیثیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح پڑھے لکھے نوجوان اپنے اردگرد کی دنیا کے بارے میں ابہام کا شکار ہیں اور اکثریت تنقیدی اور سائنسی سوچ سے عاری ہے۔ کئی برس کی اسکول کی تعلیم سماجی و اقتصادی بہتری میں بہت کم اضافہ کر پاتی ہے۔

اس تناظر میں، پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے سماجی امن اور ہم آہنگی کے موضوع پر نوجوانوں کی ہدفی تربیت اور تعلیم کا قصد کیا ہے۔ یہ خیال PIPS کے زیراہتمام منعقد ہونے والے بعض ابتدائی تحقیقی مطالعات سے اثرپذیر ہے جس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی، جن میں خاص کر جامعات کے طالب علم شامل ہیں، ملک میں امن و استحکام کو متاثر کرنے والے مسائل کے بارے میں حساسیت پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ لہٰذا، چاروں صوبوں میں بیس تربیتی اور تعلیمی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا جن میں سے نو پنجاب میں منعقدہوئیں۔ ورکشاپس کے انعقاد سے قبل ان تعلیمی شعبوں کی مفصل نشاندہی کی گئی جہاں باقاعدہ تعلیم کی کمی تھی، مثال کے طور پر، آئین اور جمہوریت کے پس پردہ تصورات، بنیادی حقوق، تنوع، تنقیدی اور سائنسی تحقیقات وغیرہ کے بارے میں حساسیت۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، پنجاب میں نو تربیتی اور تعلیمی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا جس میں درجنوں یونیورسٹیوں اور مختلف اضلاع کے سینکڑوں طلباء نے شرکت کی۔ ورکشاپس کو ماہرین اور نوجوانوں کے درمیان متنوع لیکن باہم مربوط مسائل پر بات چیت کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ ورکشاپ سے پہلے اور بعد میں شرکاء سے پاکستان میں امن اور ہم آہنگی سے متعلق مختلف معاملات پر ان کے نقطہ نظر اور آراء کو واضح کرنے کے لیے سروے کیا گیا۔ اسی طرح، چند شرکاء کو تفصیلی انٹرویوز کے لیے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا تاکہ اندازہ کیا جا سکے کہ پنجاب میں تعلیم یافتہ نوجوان اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد کی دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، اور ان کے عمومی رویوں پر ان کے طرزِ فکر کا کیا اثر ہوتا ہے۔

ورکشاپس کے نتائج سے ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جو ایک اعتبار سے اُمید افزا اوردوسری طرف پریشان کن ہے کہ نوجوانوں میں پھیلی ہوئی الجھن کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ زیرنظر رپورٹ ورکشاپس میں زیر بحث بنیادی موضوع اور متعلقہ مسائل سے بحث کرتی ہے اور پنجاب میں تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مشترک مسائل اور چیلنجوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس میں ورکشاپ سے پہلے اور بعد کے سروے کے نتائج کے ساتھ ساتھ انٹرویوز پر بھی مفصل انداز سے بحث کی گئی ہے۔ رپورٹ کے حاصلات علمی نقطہ نظر اور پالیسی سازی کے عملی اقدامات، ہر دو اعتبار سے گراں قدر ہیں۔ رپورٹ میں ان مسائل کو زیرِبحث لایا گیا ہے جو پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پریشان کرتے ہیں اور ان کی ممکنہ وضاحتیں بھی پیش کر دی گئی ہیں۔ آخر میں، رپورٹ پاکستانی نوجوانوں کی مجموعی حالت کو بہتر بنانے کے لیے سفارشات کا ایک مجموعہ پیش کرتی ہے۔ ورکشاپس لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سرگودھا اور بہاولپور میں منعقد کی گئیں۔

گفتگو کے موضوعات

شرکائے گفتگو نے متنوع موضوعات پر سیرحاصل گفتگو کی۔  گفتگو کے عنوانات درج ذیل ہیں:

  • کمزور لوگوں کو قربانی کی بھینٹ چڑھانا
  • سماجی ہم آہنگی کیوں؟
  • تنوع کی طاقت
  • جمہوری ملک میں کوئی رعایا نہیں ہوتی
  • ماحولیات، ثقافت اور عقیدہ
  • چستی اور ذہانت کافی نہیں ہے
  • مذہبی اقلیتوں کی ریاست
  • مذہبی بنیاد پرستی اور ثقافتی قدامت پرستی کے دوہرے چیلنج اور خواتین
  • قومی میڈیا اور اقلیتیں
  • آزادی اظہار
  • فکری جمود
  • جانبداری اور تعصب
  • قومیت کے بارے میں ایک نسل در نسل الجھن
  • نوجوانوں اور سیاست کے منقطع رابطے
  • تنوع بمقابلہ یکسانیت
  • تنوع پر نوجوانوں کے خیالات
  • شناخت اور حقوق

پروگرام سے مستفید ہونے والوں کے تاثرات کا تجزیہ

بعداز ورکشاپ سروے بنیادی طور پر ورکشاپ کے مختلف پہلوؤں پر مستفید ہونے والوں کے تاثرات پر مبنی تھا، اور اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا ان کی شمولیت سے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے بارے میں ان کے علم میں کچھ اضافہ ہوا۔ تربیتی ورکشاپس کے تقریباً تمام پہلوؤں پر بشمول مجموعی پروگرام ڈیزائن، موضوعات کا انتخاب وغیرہ، شرکا کے جوابات مثبت رہے۔ ایک بھاری اکثریت یعنی 99.6فیصد نے کہا کہ ورکشاپس نے سماجی امن اور ہم آہنگی کے موضوع پر زیربحث مسائل کے بارے میں ان کے فہم میں اضافہ کرنے میں مدد کی اور اتنی ہی تعداد نے کہا کہ انہوں نے ورکشاپس میں نیا علم سیکھا ہے۔ اسی طرح، ایک بڑی اکثریت (77.4فیصد) نے ورکشاپس میں فراہم کردہ مواد اور سفارشات سے مکمل اتفاق کیا، جب کہ 21.4فیصد نے کسی حد تک اتفاق کیا۔ صرف ایک نہ ہونے کے برابر تعداد 0.4فیصد نے کہا کہ وہ مواد یا سفارشات سے متفق نہیں ہیں۔

تعلیمی اور تربیتی ورکشاپس کو تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بین المذاہب تعلقات، سماجی امن، اور تنوع اور اجتماعیت جیسے سلگتے ہوئے مسائل پر تنقیدی گفتگو میں شامل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ لہٰذا، زیادہ تر نشستیں مکالماتی تھیں تاکہ شرکاء نہ صرف مقررین کو سن سکیں بلکہ اپنے خیالات اور رائے کا اظہار بھی کریں۔ اس بات کا خیال رکھا گیا کہ کلاس روم کے مخصوص ماحول کو نقل نہ کیا جائے جہاں اساتذہ اکثر یک طرفہ لیکچر دیتے ہیں۔ ورکشاپس کا مقصد اہم مسائل پر آزادانہ اظہار رائے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔ یہ مقصد حاصل کر لیا گیا کیونکہ 90.9 فیصد شرکاء نے کہا کہ انہیں بحث میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا گیا ہے، اور دیگر 6.3 فیصد نے کہا کہ انہیں صرف جزوی طور پر موقع فراہم کیا گیا، اور ایک چھوٹی تعداد (2.4 فیصد) نے کہا کہ انہیں موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

جواب دہندگان کی اکثریت (83.3 فیصد) نے کہا کہ ورکشاپ میں شرکت سے پاکستان کے شہریوں کے طور پر ان کے حقوق کے بارے میں ان کے فہم میں اضافہ ہوا ہے، اور اسی طرح تقریباً مساوی تعداد نے یہ بھی بتایا کہ انسانی حقوق کے بارے میں ان کی سمجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 3.2 فیصد کا خیال تھا کہ ورکشاپس میں شرکت سے انسانی حقوق کے بارے میں ان کی سمجھ میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ ورکشاپس میں سیشنز کے خصوصی حصے انسانی حقوق اور مذہبی آزادی سے متعلق کچھ اہم قومی اور بین الاقوامی دستاویزات جیسے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اور پیغامِ پاکستان وغیرہ پر بات چیت اور وہ عوامل جو ان کی تشکیل اور اپنانے کے لیے ضروری تھے، ان پر گفتگو کے لیے مختص تھے۔ زیادہ تر شرکاء (71.8 فیصد) نے بتایا کہ سماجی ہم آہنگی کی اہمیت کے بارے میں ان کی سمجھ میں اضافہ ہوا ہے، اور اسی طرح مزید 23.8 فیصد نے کہا کہ ان کی سمجھ میں کچھ حد تک اضافہ ہوا ہے، جب کہ 3.6 فیصد نے کہا کہ سماجی ہم آہنگی کے بارے میں ان کی سمجھ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ 96.8 فیصد نے کہا کہ وہ ورکشاپس میں اپنے سیکھے ہوئے علم اور تجربات کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ سانجھا کریں گے۔

ورکشاپ کے شرکاء سے تربیتی پروگرام کے اہم پہلوؤں کے بارے میں کچھ کیفیتی رائے فراہم کرنے کو بھی کہا گیا۔ مجموعی طور پر، جوابات سے پتہ چلتا ہے کہ اس پروگرام سے شرکا نے بھرپور فائدہ اٹھایا تھا۔ بہت سے شرکاء نے بتایا کہ ان ورکشاپس سے پہلے انہیں دوسرے عقائد کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں تھیں، اور پروگرام میں ان کی شرکت سے ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور دوسرے عقائد کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔ دوسروں نے کہا کہ ورکشاپس میں شرکت کے بعد انسانی حقوق کے تصور کے بارے میں ان کی سمجھ میں اضافہ ہوا ہے اور انھوں نے جانا ہے کہ انسانی حقوق کا معاملہ اس قدر اہم کیوں ہے۔ شرکاء نے یہ بھی رائے دی کہ نوجوان پاکستان میں ایک اہم سماجی کردار کےحامل ہیں کیونکہ ان کی اکثریت ہے، اور اس لیے نوجوانوں کو اہم سماجی مسائل میں مستقل تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے۔

مزید برآں، شرکاء نے بتایا کہ انہوں نے یہ جان لیا ہے کہ معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا کیوں ضروری ہے اور اسے کیسے فروغ دیا جائے، اگرچہ بین المذاہب ہم آہنگی کے بارے میں ان کا فہم اب بھی ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ کچھ کے مطابق، بین المذاہب ہم آہنگی کا مطلب ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طریقے سے رہنا اور بات چیت کرنا ہے، جب کہ دوسروں کا ماننا ہے کہ معاشرے کے تمام افراد کا پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہنا قطع نظر ان کے مذہبی عقیدے، ذات پات یا رنگ سے بین المذاہب ہم آہنگی کا معنی ہے۔ اسی طرح، کچھ شرکاء نے جواب دیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کا مقصد لوگوں کے مذہبی عقائد کا احترام کرنا ہے، چاہے وہ کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان ورکشاپس میں شرکت کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اکثریت نے جواب دیا کہ وہ پاکستان میں مذہبی تنوع اور ملک میں اقلیتوں کو درپیش سماجی مسائل اور چیلنجوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کون سے عوامل بین المذاہب ہم آہنگی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور کیا چیز مذہبی بنیاد پرستی کو جنم دیتی ہے۔ بہت سے طلباء کے لیے، ورکشاپس کے دوران دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول اور روابط بنانا ورکشاپس میں شرکت کے لیے ایک اہم ترغیب تھی۔ مجموعی طور پر، شرکاء کے جوابات سے پتہ چلتا ہے کہ ورکشاپس نے نوجوانوں کو پاکستان میں مذہبی اور ثقافتی تنوع کے بارے میں جاننے اور اس کی تحسین کرنے اور تنوع کو تسلیم کرنے کی اہمیت کو سمجھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

پنجاب میں نوجوانوں کے ذہنوں کے بارے میں کچھ تفصیلی آگاہی

حوصلہ افزا سوچ اور متصادم حقیقت

پنجاب میں انٹرویو کیے جانے والے طلباء نے نظامِ تعلیم، پیشہ ورانہ مستقبل کے امکانات اور اپنے عمومی مستقبل کے بارے میں ایک پرجوش نقطہ نظر ظاہر کیا۔ ان میں سے ایک بڑی اکثریت (64.6 فیصد) نے کہا کہ وہ پاکستان میں اپنے مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں، 27.1 فیصد کا بیا ن تھا کہ وہ کسی حد تک پُر امید ہیں جبکہ صرف 8.3 فیصد نے بتایا کہ وہ پر اُمید نہیں ہیں۔ اسی طرح ایک بھاری اکثریت کا خیال تھا کہ معاشرہ ان لوگوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے جو محنت کرتے ہیں، اور اسی طرح 31.3 فیصد نے کہا کہ پاکستان میں میرٹ کی قدر کی جاتی ہے اور 45.8 فیصد نے کہا کہ کسی حد تک میرٹ کی قدر کی جاتی ہے۔ جواب دہندگان پیشہ ورانہ مستقبل کے امکانات کے بارے میں اسی طرح پرجوش تھے کیونکہ 75 فیصد نے کہا کہ وہ سخت محنت کے ذریعے ایک باعزت پیشہ ورانہ مستقبل بنا سکتے ہیں چاہے ان کا تعلق غریب خاندان سے ہو۔

نوجوانوں کی اکثریت نے تعلیمی نظام اور اپنے اساتذہ کے بارے میں بھی موافق رائے کا اظہار کیا۔ 62.5 فیصد نے کہا کہ ان کے اساتذہ پیشہ ورانہ مستقبل کی رہنمائی میں مدد گار ہیں، اور دیگر 77.1 فیصد کا خیال ہے کہ تعلیم نے انہیں باعزت پیشہ ورانہ مستقبل بنانے کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کیا ہے۔ مزید برآں، جوابات سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب میں نوجوان روزگار کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہیں کیونکہ اکثریت (47.9 فیصد) نے کہا کہ ملک میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے کافی مواقع ہیں، مزید 29.2 فیصد نے کسی حد تک اس سے اتفاق کیا، اور 22.9 فیصد نے اختلاف کیا۔ اسی طرح، ایک بڑی اکثریت (77.1 فیصد) نے کہا کہ انہوں نے مسائل کے بارے میں تنقیدی انداز میں سوچنے کا ہنر سیکھ لیا ہے، اور 62.5 فیصد کا خیال ہے کہ یونیورسٹی کے کلاس روم میں خیالات کے آزادانہ اظہار کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اور 52.1 فیصد نے کہا کہ تعلیم حکومت کی ترجیح ہے، اور 20.8 فیصد نے جزوی طور پر اس سے اتفاق کیا جبکہ 27.1 فیصد اس بات سے متفق نہیں کہ تعلیم کو ترجیح حاصل ہے۔

اگرچہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پنجاب کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں امید کی کمی نہیں ہے، لیکن پھر بھی ان کے پرجوش ذہن کا تنقیدی تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ بہت سی چیزوں کے بارے میں ان کے خیالات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، جواب دہندگان کی اکثریت پیشہ ورانہ مستقبل کے مواقع کے بارے میں پرامید تھی، یہ سمجھتے ہوئے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے کافی ملازمتیں موجود ہیں۔

لیکن نوجوانوں کا یہ خیال کہ معیشت میں ملازمتیں فراہم کرنے کی صلاحیت ہے، ملک کی اصل صورت حال سے متصادم ہے۔ مالی سال2020-21 میں پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد 6.65 ملین تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ لیبر فورس سروے2017-18 کے مطابق، پاکستان “بے روزگار گریجویٹس” کے رجحان کا سامنا کر رہا ہے۔ نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح اوسط بے روزگاری کی شرح کے مقابلے میں پریشان کن حد تک زیادہ ہے۔ ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح 11.56 فیصد ہے، جو پاکستان میں 20 سے 24 سال کی عمر کے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔

اسی طرح اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ نوجوانوں نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کے بارے میں مبالغہ آمیز رائے دی ہے۔ انٹرویو کیے جانے والے افراد کی اکثریت کا خیال تھا کہ تعلیم نے انہیں کسی مسئلے کے بارے میں تنقیدی فکر کے قابل بنایا ہے۔ ان کے خیالات کے برعکس، تربیتی ورکشاپس میں نوجوانوں کی اکثریت میں منطقی سوچ اور استدلال کی صلاحیتوں کا فقدان دیکھنے میں آیا۔ ان میں چیزوں کے سازشی پہلو کی طرف راغب ہونے کا ایک قابل ذکر رجحان تھا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تنقیدی فکر اور استدلال کی صلاحیتوں کی کمی کو طرزِ تعلیم اور مجموعی نصاب سے جوڑا جا سکتا ہے جو تنقیدی مطالعے کے بجائے رٹّے پر مبنی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی جامعات میں آزادانہ تبادلہ خیالات کی گنجائش بھی رفتہ رفتہ سکڑ گئی ہے، اور روشن خیال اور تنقیدی آراء کے لیے رواداری میں کمی آئی ہے۔

طلباء کی اکثریت کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے کلاس روم میں خیالات کے آزادانہ اظہار کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، لیکن یہ تاثر اس حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا کہ یونیورسٹی کیمپس میں عقیدے کی بنیاد پر انتہائی عدم برداشت اور تشدد کے واقعات ہوئے ہیں، اور بعض مواقع پر لوگوں پر محض آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر بھی توہین رسالت کا الزام لگایا گیا ہے۔ پنجاب میں سب سے نمایاں معاملہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے استاد جنید حفیظ کا ہے، جنہیں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں سزا سنائی گئی۔ حفیظ کے ایک سابق رفیقِ کار کے مطابق، اس واقعے نے کیمپس میں تنقیدی گفتگو کا باب بند کر دیا۔ اور پنجاب کے دیگر تعلیمی اداروں میں مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت کے ایسے ہی مظاہر دیکھنے کو ملے ہیں۔ مارچ 2019 میں، ایک سینئر پروفیسر، ڈاکٹر خالد حمید کو ایک نوجوان طالب علم نے ایک تفریحی پروگرام میں مخلوط تقریب منعقد کرنے پر چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا۔ نوجوان قاتل نے پولیس کو بتایا کہ مخلوط تقریب اسلام کے خلاف ہے۔

مشترکہ شہریت پر آراء

یہ بات قابل غور ہے کہ پنجاب میں نوجوانوں کی اکثریت مشترکہ شہریت کے بارے میں مثبت سوچ رکھتی ہے۔ ان کے جوابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملک کے ثقافتی تنوع کو قبول کر رہے ہیں۔ 93 فیصد سے زائد طلباء نے کہا کہ پاکستان بہت سے عقائد اور مذاہب کی سرزمین ہے، اور اسی طرح 80 فیصد سے زائد نے کہا کہ تمام مذاہب اور عقائد کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح 85 فیصد نے کہا کہ تمام شہریوں کو، ان کے مذہبی عقائد سے قطع نظر، جملہ مواقع تک مساوی رسائی ہونی چاہیے، اور صرف 14.6 فیصد نے اس سے اختلاف کیا۔ اسی طرح، تقریباً یکساں تعداد (77 فیصد) نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو پاکستان میں اعلیٰ عوامی عہدوں پر فائز ہونے کے قابل ہونا چاہیے، حالانکہ آئین غیرمسلموں کو صدر اور وزیر اعظم جیسے اعلیٰ عہدوں پر فائز کیے جانے سے روکتا ہے۔

تاہم، جو بات تسلی بخش تھی وہ یہ تھی کہ نوجوانوں کی اکثریت اپنے ملک میں اقلیتوں کی حالتِ زار کو سمجھ رہی تھی۔ وہ مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم سے بخوبی واقف تھے کیونکہ 56 فیصد کا خیال تھا کہ ملک میں عقیدے کے ساتھ امتیازی سلوک ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ اہم امر ہے کیونکہ پاکستان میں مسائل کو نہ ماننا بھی ایک مسئلہ ہے۔ اکثر اوقات، سیاسی رہنما اور ریاستی حکام کسی مسئلے کی موجودگی سے انکار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، انسانی حقوق کی وزیر، ڈاکٹر شیریں مزاری نے ملک میں اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو نظر انداز کرتے ہوئے عوامی طور پر اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ لہٰذا، ایک ایسے سماجی تناظر میں جہاں حکومتی سطح پر انکار کا چلن ہے، یہ امید افزا ہے کہ انٹرویو کیے جانے والے نوجوانوں کی اکثریت نے زمینی صورت حال کے ادراک کا مظاہرہ کیا۔

تاہم دوسری طرف، ان شرکا کی تعداد بھی نظرانداز کیے جانے والی نہیں ہے جن کا خیال ہے کہ پاکستان میں عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔ درحقیقت یہ تعداد اب بھی حیران کن ہے کیونکہ تقریباً 42 فیصد نے یہ خیال ظاہر کیا ہے۔ یہ اس رجحان کی بازگشت ہے جس میں ملک کے لوگ اس بات کو تسلیم کرنے میں تامل کرتے ہیں کہ اقلیتوں کو امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگ آئینی شقوں کا حوالہ دیتے ہیں جو تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور آزادی فراہم کرتی ہیں، لیکن وہ اس بات کو واضح کرنے میں ناکام رہتے ہیں کہ آئین کے صفحات سے آگے کیا ہوتا ہے۔ انٹرویو کیے گئے نوجوانوں میں سے 77 فیصد سے زیادہ کا خیال تھا کہ آئین عقیدے کی بنیاد پر شہریوں کے درمیان امتیاز نہیں کرتا، جب کہ صرف 19 فیصد اس کے برعکس رائے رکھتے تھے۔

تاہم عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر ریاست کے ردعمل کے سوال پر انٹرویو کیے جانے والے افراد تقریباً مساوی طور پر تقسیم تھے۔ 50فیصد نے کہا کہ حکومت عقیدے کی بنیاد پر تشدد اور امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے مناسب کارروائی نہیں کرتی، اور تقریباً اتنی ہی تعداد اس کے برعکس رائے رکھتی ہے۔

صنفی اور نسلی فرسودہ تصورات

انٹرویو کے شرکاء کی اکثریت صنفی کردار کے بارے میں روشن خیال تھی، پھر بھی ایک قابل ذکر تعداد خواتین کےبارے میں فرسودہ سماجی تصورات کی طرف مائل تھی۔ دقیانوسی سوچ کی جڑیں عام طور پر کچھ ثقافتی اقدار میں ہوتی ہیں جو مردوں کے مقابلے خواتین کو کم صلاحیتوں کے ساتھ کمزور ظاہر کرتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مختلف شعبوں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے، انٹرویو کیے جانے والے نوجوانوں میں سے 85.5 فیصد نے اثبات میں جواب دیا۔ لیکن پھر انہی جواب دہندگان میں سے ایک اہم 45.9 فیصد نے کہا کہ عورت کا بنیادی کردار اپنے گھر اور گھریلو کام کاج کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ اسی طرح، ایک اور سوال کے جواب میں، جواب دہندگان میں سے 35.4 فیصد نے کہا کہ خواتین میں فطری طور پر مردوں کے مقابلے میں قوتِ فیصلہ کی کمی ہے۔ مجموعی طور پر ان جوابات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی ایک قابل ذکر تعداد خواتین کی آزادی کی حمایت تو کرتی ہے لیکن اب بھی خواتین کو روایتی گھریلو کرداروں میں دیکھتی ہے۔ ورکشاپس کے دوران بھی نوجوانوں میں صنفی مساوات کے بارے میں اس طرح کی الجھن اور متصادم سوچ دیکھی گئی۔ اس الجھن کی ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ خواتین کی حیثیت کے بارے میں نوجوانوں کا تصور صنفی مساوات کے روشن خیال بیانیے اور قدامت پسند سماجی اقدار و روایات سے بیک وقت متاثر ہوتا ہے۔

اسی طرح، صنفی بنیاد پر ظلم و تشدد کے بارے میں نوجوانوں کے تصورات میں الجھن کا عنصر ظاہر ہوا۔ مثال کے طور پر، جواب دہندگان کی ایک بڑی اکثریت (91.7 فیصد) نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن پھر انہی جواب دہندگان میں سے 39.6 فیصد کا خیال تھا کہ عصمت دری کے واقعات میں اکثر متاثرہ خواتین بھی کسی نہ کسی طرح ذمہ دار ہوتی ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ کج فکری پریشان کن ہے وہاں پاکستان کے اس وسیع تر مسئلے کی عکاس بھی ہے جہاں خود متاثرہ فرد پر الزام تراشی عام ہے۔ یہاں تک کہ قائدین اور مقبول شخصیات کو بھی متاثرین، خاص طور پر خواتین کے بارے میں الزام تراشی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، جون 2021 میں، وزیراعظم عمران خان نے، جو بڑے پیمانے پر نوجوانوں کے رہنما کے طور پر جانے گئے ہیں، پاکستان میں خواتین پر جنسی حملوں کے لیے ‘مختصر لباس پہننے والی’ خواتین کو مورد الزام ٹھہرایا۔  جوناتھن سوان کے ساتھ ایک انٹرویو میں، خان نے کہا کہ “ہمارے یہاں ڈسکوز نہیں ہیں، ہمارے پاس نائٹ کلب نہیں ہیں، لہذا یہ ایک بالکل مختلف معاشرہ ہے، یہاں کا طرز زندگی اور ہے، لہذا اگر آپ معاشرے میں فتنہ پھیلاتے ہیں تو،یہ سب نوجوان لوگ ہیں،ان کے پاس کوئی جگہ نہیں جہاں یہ جا سکیں، اس کے نتائج و اثرات معاشرے پر پڑتے ہیں۔”

ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین پر جسمانی اور جنسی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں کم سِن بچیوں کی بے حرمتی کی جاتی اور ان کو خطرناک تسلسل کے ساتھ قتل کیا جاتا ہے، عوامی شخصیات کی طرف سے متاثرہ فرد پر الزام لگانا نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ یہ معاشرے میں بدسلوکی کی ذہنیت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ لہٰذا، یہ امر باعثِ حیرت نہیں کہ نوجوانوں کی ایک خاصی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ عصمت دری کے واقعات میں اکثر خواتین ہی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ خواتین کے علاوہ پاکستان میں تیسری جنس کے افراد کے بارے میں بھی سوالات پوچھے گئے۔ نوجوانوں کی اکثریت (95.8 فیصد) نے کہا کہ تیسری جنس کے افراد برابر کے شہری ہیں، اور مساوی تعداد نے کہا کہ خواجہ سراؤں کو تعلیم اور ملازمت کے مواقع تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ یہ امر امید افزا ہے کہ نئی نسل تیسری جنس کے افراد کے بارے میں ایک مستحکم مثبت نقطہ نظر کی حامل نظر آتی ہے، باوجود اس کے کہ تیسری جنس سے متعلق ہونا ایک سماجی بدنامی سمجھا جاتا ہے، اور اس طبقے کو بڑے پیمانے پر معاشرے کی طرف سے امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تاہم، سماجی طبقات کے بارے میں اس نوع کے فرسودہ تصورات صرف صنفی معاملے تک ہی محدود نہیں ہیں کیونکہ بعض نسلی گروہوں کے بارے میں بھی عوامی تاثرات حقائق کی بجائے تعصبات پر مبنی ہیں۔ طویل عرصے سے، کچھ نسلی گروہوں پر میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے واضح طور پر عسکریت پسند ہونے کی چھاپ لگائی جا رہی ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ 56 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان نے کہا کہ بعض نسلی گروہوں میں شدت پسندی کا رجحان ہے۔ اسی طرح، 70.8 فیصد کا خیال ہے کہ پسماندہ صوبوں کے لوگ قومی مسائل کے بارے میں محدود سمجھ رکھتے ہیں۔ PIPS نے مشاہدہ کیا کہ پنجاب کے نوجوانوں کے برعکس، جنوبی بلوچستان اور ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) جیسے پسماندہ علاقوں کے طلباء نے بڑے صوبوں کے اپنے ہم منصبوں کے مقابلے میں قومی مسائل کی بہتر سمجھ کا مظاہرہ کیا۔

نوجوان اور پاکستانی سیاست کی داستانیں

انٹرویو کیے گئے طلباء کی اکثریت (60.4 فیصد) کا خیال تھا کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے، لیکن ان میں سے ایک کم تعداد (47.9 فیصد) نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کے خلاف دفاع پر زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ سازشی تھیوری کا رجحان بہت زیادہ تھا کیونکہ 56 فیصد سے زیادہ نے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کا ذمہ دار بیرونی سازشوں کو ٹھہرایا۔ اسی طرح ملک کے سیاست دانوں کو بھی ہمیشہ کی طرح منفی نظروں سے دیکھا گیا۔ تقریباً 92 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ پاکستان کے وسائل سیاسی قائدین کی بدعنوانی کی وجہ سے ضائع ہو رہے ہیں۔ سیاسی نظام کے سوال پر، ان میں سے ایک بڑی اکثریت (66.7 فیصد) نے کہا کہ جمہوریت پاکستان کے لیے موزوں ترین نظام ہے۔ تاہم، ایک قابل ذکر تعداد (39.6فیصد) کا خیال ہے کہ پاکستان میں ماضی کی آمریتیں جائز تھیں، حالانکہ اکثریت (45.8فیصد) اس بات سے متفق نہیں تھی کہ آمرانہ حکومتیں جائز تھیں۔ اسی طرح، 54 فیصد نے کہا کہ قومی مفاد میں آئین سے روگردانی کی جا سکتی ہے، اور 43.8 فیصد نے کہا کہ قومی مفادات کا تعین کرنا حکومت کا کام ہے۔ مزید 41.7 فیصد نے کہا کہ پاکستان کے قومی مفادات کا تعین کرنا پارلیمنٹ کا مینڈیٹ ہے۔

میڈیا اور صحافیوں کے بارے میں بھی جواب دہندگان کی آراء حاصل کی گئیں۔ نیوز بلیٹن کو 41.7 فیصد طلباء نے ٹیلی ویژن پر سب سے پسندیدہ پروگرام قرار دیا، اس کے بعد سیاسی ٹاک شو (18.8 فیصد) پسند کیے گئے۔ 10فیصد سے کچھ زیادہ نے مزاحیہ/تفریحی پروگراموں کے بارے میں پسندیدگی ظاہر کی۔ اسی طرح جواب دہندگان کے پسندیدہ ترین نیوز چینلز کی فہرست میں اے آر وائی سرفہرست ہے۔ اے آر وائی کے بعد جیو اور ڈان نیوز چینلز تھے۔ اینکر پرسن میں شاہ زیب خانزادہ کو زیادہ تر لوگوں نے اپنا پسندیدہ اینکر پرسن قرار دیا، اس کے بعد حامد میر اور عمران خان تھے۔

تاہم، صرف 6.3 فیصد طلباء نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے اخبارات پڑھتے ہیں، اور ان میں سے اکثریت نے فیس بک کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کو ترجیح دی۔ یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ سوشل میڈیا صارفین میں سے 68.8 فیصد نے سوشل میڈیا پر مذہبی طور پر نفرت انگیز مواد سے دوچار ہونے کی اطلاع دی۔ 89 فیصد سے زائد نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر مذہبی بحثیں دیکھتے ہیں۔ پاکستانی سوشل میڈیا سائٹس پر نفرت انگیز تقریر سمیت مذہبی طور پر نفرت انگیز مواد کا پھیلاؤ بڑی حد تک بے لگام ہے۔ عام طور پر، ریاست سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر ردِعمل ظاہر کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کرتی ہے حالانکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت یہ طے پایا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر کو روکا جائے گا۔

سفارشات

مشترکہ شناخت اور شہریت کا تصور ہائی اسکول کی سطح پر تعلیمی نصاب میں متعارف کرایا جا سکتا ہے تاکہ طلباء میں ثقافتی تنوع کو قبول کرنے کی روش پیدا ہو سکے۔ اور پاکستان کے ثقافتی تنوع کو مشترکہ ثقافتی ورثے کے طور پر فروغ دیا جا سکتا ہے تاکہ نوجوانوں کو ان کے ملک کی بھرپور سماجی بوقلمونی کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔

تمام سطحوں پر تعلیمی نصاب کو ایسے مواد سے پاک کیا جا سکتا ہے جو کسی بھی مذہبی عقیدے، خاص طور پر ہندومت کے خلاف امتیازی سلوک ظاہر کرتے ہیں یا اسے فروغ دیتے ہیں۔ ہندوؤں کے لیے نفرت کئی دہائیوں سے پاکستان میں عوامی تاثرات کی تشکیل پر اثرانداز ہو رہی ہے جس سے ملک کے سماجی تانے بانے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ریاست کو چاہیے کہ وہ سکول کی تعلیم کو نوجوانوں میں تنگ نظر ذہنی رویے پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔ اس پالیسی نے قومی یکجہتی کے بجائے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچایا ہے۔ یکساں قومی نصاب (SNC) میں ایسا تعلیمی مواد شامل کرنے کے لیے مزید اصلاحات کی جا سکتی ہیں جو مذہبی حوالے سے زیادہ اجتماعیت پر مبنی ہو۔

شہریت کے بارے میں طالب علموں کے نقطہ نظر کو وسیع کرنے کے لیے آئین کی اہم شقوں جیسے شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کے ساتھ ساتھ ریاست کے فرائض اور ذمہ داریوں کی تعلیم کو ہائی اسکول کی سطح پر لازمی بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستانی نوجوانوں کو ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ ان کی انفرادی زندگیوں پر پڑنے والے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے منفی اثرات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال، نوجوانوں کی اکثریت ان مسائل کے وسیع مضمرات کے فہم سے محروم ہے۔

نصابی کتابوں میں خواتین کو مساوی حقوق اور آزادیوں کے ساتھ دیگر شہریوں کی طرح مساوی انسان کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ خواتین کے کردار کے بارے میں درسی کتابوں میں طلباء جو کچھ پڑھتے ہیں، اسی سے صنفی کرداروں کے بارے میں ان کے تاثرات کی تشکیل ہوتی ہے۔

سماجی امن، اجتماعیت، اور تنوع کے بارے میں اساتذہ کو حساس بنانے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ وہ طلباء کے تصورات کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اساتذہ کو ایسے ہنر سیکھنے کی تربیت دی جا سکتی ہے کہ وہ ان پرتشدد نظریات کے خلاف بیانیے کو فروغ دیں جو اکثر تعلیمی اداروں میں اپنا راستہ بناتے ہیں۔

بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے پیغامِ پاکستان کی شِقیں یونیورسٹیوں میں پڑھائی جا سکتی ہیں۔

تنقیدی سوچ اور استدلال کو نصاب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

چھوٹے صوبوں اور اقلیتی مذہبی گروہوں کو مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ میں مناسب نمائندگی کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی دوسرا شخص یا ادارہ ان پسماندہ طبقات کی نمائندگی اور ان کے مفادات کا بہتر دفاع خود ان سے بہتر نہیں کر سکتا۔

پاکستان کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز کو کم کرنے میں سول سوسائٹی کی تنظیمیں تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وہ آگاہی مہم چلا سکتے ہیں اور سماجی امن اور ہم آہنگی کے موضوعات پر اساتذہ اور طلباء کے لیے تعلیمی اور تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کر سکتے ہیں۔

(ترجمہ و تلخیص: عابد سیال)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...