بھارت کا عدالتی نظام کشمیریوں کے خلاف ریاستی جبر کا آلہ کار

113

گزشتہ روز بھارت میں دہلی کی خصوصی عدالت نے حریت رہنما یاسین ملک کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔

حریت رہنما اور جماعت ’جموں وکشمیرلبریشن فرنٹ‘ کے سربراہ یاسین ملک کو تین سال قبل 2019ء میں گرفتار گیا تھا، اور اسی سال ہی بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا تھا۔ رواں ماہ 19 مئی کو ان پر غداری اور دہشت گردی کی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ انہوں نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا تھا اور کہا کہ یہ من گھڑت ہیں۔ ان کے وکیل نے متعدد بار عدالتی پراسس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک کو اس مقدمے میں سننے اور اپنا موقف پیش کرنے کا شفاف طریقے سے موقع نہیں دیا گیا۔

یاسین ملک کو سنائی گئی سزا ایک ایسے یکطرفہ طور پہ چلائے گئے جعلی مقدے میں سنائی گئی ہے جس میں بھارتی حکومت نے انصاف کے ضابطوں اور انسانی حقوق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریاستی جبر و ظلم کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ بھارت کا عدالتی نظم ریاستی عزائم کی تکمیل کا آلہ کار بن چکا ہے جس کے ذریعے کشمیر کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ کشمیر کے معاملات میں نہ صرف ریاست جابرانہ آمریت کا مظاہرہ کرتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ عدالتیں بھی جانبدارانہ رویہ اختیار کرتی ہیں۔ گزشتہ روز کا فیصلہ اسی رویے کا تسلسل ہے۔  بھارتی حکومت کے اس نوع کے ظالمانہ اقدامات نے کشمیری نوجوانوں سے پرامن سیاسی جدوجہد کا حق مکمل طور پہ سلب کرلیا ہے۔ یاسین ملک جیسے پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والوں کی ناجائز سزا کے خلاف عالمی سطح پر سخت ردعمل نہ آنا کشمیریوں میں مایوسی اور تنہائی کے جذبات کو مزید گہرا کرنے کا سبب ہے۔

بھارت نے کشمیری عوام کی نمائندگی کرنے والی تمام شخصیات کو جیلوں میں قید کر رکھا ہے یا ان پر پابندیاں عائد ہیں۔ مودی حکومت کے دوران کشمیر اور کشمیری عوام کو جس طرح ایک عرصے سے محصور بنا کر رکھا گیا ہے اس پر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو ردعمل دینا چاہیے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سفارتی سطح پر بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو متوجہ کرے اور کشمیر کی آواز کے تحفظ کی خاطر ہر ممکن کوشش بروئے کار لائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...