افغان طالبان اپنے ذرائع ابلاغ کی روشنی میں

277

افغان طالبان کی حکومت میں آمد کے ساتھ ہی پوری دنیا میں تسلسل کے ساتھ بحث جاری ہے کہ مستقبل میں خطے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ گروہ خود کو کتنا تبدیل کرے گا، سب سے بڑھ کر یہ کہ دیگر مذہبی عسکریت پسند جماعتوں کے بارے میں وہ کیا موقف اپنائیں گے۔ پاکستان کے لیے بھی یہی چیز سب سے اہم ہے جس کے سبب وہ طالبان کو ممکنہ حد تک سیاسی تعاون بھی فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کو ٹی ٹی پی اور داعش جیسی تنظیموں سے خطرہ ہے اور وہ طالبان سے امید رکھتا ہے کہ اس کے مفادات کی رعایت رکھی جائے گی۔ مغربی ممالک بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کو ان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

طالبان نے اپنی آمد کے ساتھ ہی دنیا کو یہ تأثر دیا تھا کہ وہ اپنی توجہ صرف افغانستان کی بہبود پر مرکوز رکھیں گے اور اس سے باہر کے معاملات میں نہ دخل اندازی کریں گے اور نہ دوسروں کو اس کی اجازت دیں گے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ طالبان سے کیا توقعات رکھی جاسکتی ہیں۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو طالبان کی آمد کے بعد یہاں عملاً صورتحال بگڑی ہے۔ اس کی وجوہات پر ماہرین گفتگو کر رہے ہیں۔ ایک پہلو البتہ یہ بھی ہے کہ طالبان کے افکار و عزائم بارے ان کے ذرائع ابلاغ کا جائزہ لیا جائے کہ عام لوگوں کو اس کے توسط سے کیا تأثر و پیغام دیا جاتا رہا ہے اور اب کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنا کس طرح کا چہرہ پیش کرتے آئے ہیں۔ کیا ان کا ایجنڈا قومی نوعیت کا ہے یا وہ اپنی شناخت اس سے آگے کی حدود تک پھیلاتے ہیں جس میں امت مسلہ یا عالمگیریت کا کوئی تأئر ملتا ہے۔

یہ واضح ہے کہ طالبان نے اپنے جھنڈے کے ساتھ افغانستان سے باہر عسکری کاروائیاں نہیں کیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ نظریاتی طور پہ دیگر ممالک میں کاروائیاں کرنے والے مذہبی عناصر کی حمایت نہیں کرتے؟ افغان طالبان نے اب تک اپنے سیاسی بیانات میں یہی دہرایا ہے کہ وہ ان عناصر کی حمایت نہیں کرتے۔ لیکن ان کے ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس اور ان کے ترجمان مجلات میں افغانستان کے اندر موجود یا پناہ گزین دیگر عسکریت پسند مذہبی جماعتوں کی مذمت نہیں کی گئی اور نہ ان سے کبھی دستبرداری کا اعلان کیا گیا، حتی کہ ان کے اپنے بڑے حریف داعش کے خلاف بھی کوئی خاطرخواہ مواد نظر سے نہیں گزرا۔ وجوہات جو بھی ہوں لیکن اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ افغان طالبان مذہبی عسکریت پسندوں کے حوالے سے ایسا ٹھوس نظریاتی موقف نہیں رکھتے جیسا سیاسی بیانات میں جھلکتا ہے، اور جس پہ وہ کھل کر اپنے ذرائع ابلاغ میں تسلسل کے ساتھ بات کرنا پسند کریں۔

وقت کے ساتھ چیزیں مزید واضح ہوں گی، تاہم کوئی حرج نہیں اگر طالبان کے ذرائع ابلاغ کے لٹریچر کا سرسری جائزہ لیا جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ ان کی جانب سے کیا لکھا پڑھا جاتا رہا ہے اوراب کیا صورتحال ہے۔

افغان طالبان کا میڈیا نائن الیون کے بعد امریکی مداخلت کے بعد متحرک ہوا۔ اس میں آڈیوز ویڈیوز کے علاوہ اردو، انگریزی، پشتو اور عربی میں مجلات و اخبارات کا اجراء شامل رہا۔ اِس مضمون میں ان کے مختلف سوشل میڈیا صفحات کے ساتھ دو مجلات کو سامنے رکھ کر بات کی گئی ہے۔ ایک ’الامارہ‘ (alemarah) کے نام سے میگزین ہے جو اردو انگریزی سمیت چار زبانوں میں ہے، اس کے علاوہ دوسرا مجلہ ’الصمود‘ (al somood) ہے جو عربی زبان میں ہے۔

ان ذرائع ابلاغ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں جو موضوعات زیادہ زیربحث رہتے ہیں ان میں عمومی مذہبی شناخت اور اسے لاحق خطرات، مغربی طاقتوں کی اسلام مخالفت، مشرق ومغرب کے مابین دینی وثقافتی اختلافات، تہذیبی تصادم، شہداء کے تذکرے اور فتوحات کے واقعے وغیرہ نمایاں ہوتے ہیں۔

افغانستان کے اقتدار پر حالیہ قبضے کے بعد سے ان کے ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس اور مجلات میں جو تبدیلیاں آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ افغانستان میں اپنی حکومت کے اقدامات بارے خبروں کو زیادہ ہائی لائٹ کیا جاتا ہے جن سے تأثر دیا جاتا ہے کہ طالبان عوامی مفادات کے لیے جان توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ دوسرا پہلو طالبان حکومت پر کی جانے والی تنقید کے جوابات دینا ہے کہ کیسے اسلامی اور افغانی اقدار سے دستبردار ہونے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے جس پر وہ کبھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ سخت گیر مذہبی اقدامات پر کی جانے والی تنقید کا جواب لے دے کے اسی روایتی نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ یہ اسلام و افغانی اقدار کے خلاف یلغار ہے۔ کوئی علمی و فکری زاویے نظر نہیں آتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی رویہ تو تبدیل ہوا ہے لیکن علمی، فکری اور مذہبی موضوعات پر ان کا استدلالی منہج تبدیل نہیں ہوا۔ تیسرا نمایاں پہلو اپنی قربانیوں کا ذکر کرنا ہے۔

طالبان میڈیا کے صفحات پر شروع میں یورپی ممالک میں داعش کی جانب سے کی جانے والی چند کاروائیوں کی تعریف بھی ہوئی تھی۔

طالبان میڈیا ابھی تک خود کو ایک جہادی شناخت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ ان کی تمام ویب سائٹس اور مجلات کے مرکزی صفحات پر بڑے لفظوں میں ان کی یہی شناخت درج ہے اور قتال کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر وہ اقتدار کے حصول کے بعد بھی اپنی یہی شناخت اولین و غالب رکھیں گے تو اس ذہنیت کے ساتھ وہ عسکریت پسندی سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔

یہ ان کے ذرائع ابلاغ پہ اقتدار پر قبضے کے بعد کی صورتحال ہے۔ البتہ اگر سال 2000ء سے 2020ء تک کے مرحلے میں شائع کیے جانے والے مواد کا جائزہ لیا جائے تو اس سے یکسر مختلف نظر آتا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کے افکار و عزائم صرف قومی نوعیت کے نہیں ہیں۔ لہذا یہ شبہات باقی رہتے ہیں کہ طالبان کے حالیہ سیاسی بیانات اور صورتحال کس حد تک شفاف ہیں اور کیا واقعی ان پر عملدرآمد ممکن ہوگا۔ کیا وہ عسکریت پسند مذہبی جماعتوں کے ساتھ باہمی تعاون کی طویل تاریخ سے بیک جنبش کنارا کرلیں گے۔

واضح رہے کہ طالبان میڈیا پر شائع ہونے والا سارا مواد باقاعدہ احتیاط اور متعلقہ طالبان ذمہ داران کی نظرثانی کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ 2020ء تک تمام زبانوں میں اس شعبے کی سربراہی موجودہ وزیرخارجہ امیر خان متقی کر رہے تھے۔ سال 2000ء سے لے کر امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے آخری مرحلے تک کے دورانیے کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ طالبان کی ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس ومجلات پر طالبان کے علاوہ دیگر جماعتوں کی نمائندہ شخصیات کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں جن میں سلفی جہادی جماعتیں اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں۔ ان کے صفحات پر ساری مسلم دنیا سے لوگوں کو جہاد کے لیے مدعو کیا جاتا رہا ہے۔

القاعدہ کے ساتھ تو طالبان کا گہرا تعلق ہمیشہ نمایاں رہا اور ان کے ذرائع ابلاغ میں مختلف ممالک میں القاعدہ کی ذیلی تنظیموں کی جانب سے ہونے والی کاروائیوں کی تعریف بھی ہوتی رہی ہے۔ ان آن لائن اخبارات اور ماہانہ مجلات میں کثرت کے ساتھ افغانستان کی امارت اسلامیہ کو ساری دنیا کے مجاہدین کی منزل کہا جاتا رہا ہے۔ موجودہ نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے 2007ء میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’’افغانستان دنیا کے ہر مجاہد کی پناہ گاہ ہے چاہے اس کو شہریت کوئی بھی ہو اور اس پناہ گاہ کا تحفظ ہر مسلمان پر لازم ہے۔‘‘

ان مجلات میں شائع ہونے والے مضامین میں کثرت کے ساتھ ساری دنیا کے مسلمانوں کی قیادت کرنے کا ذکر آتا ہے۔ جیساکہ ایک مضمون کا یہ اقتباس: ’’بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ تحریک طالبان ایک مقامی جماعت ہے اور حالات و ظروف کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل ہوجائے گی۔ لیکن اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ ایک عالمی حیثیت کی تحریک ہے جس کی شعاعیں ہر جگہ پہنچی ہیں۔ تمام مسلمانوں کی قیادت کرنا وہ اپنا فریضہ سمجھتی ہے‘‘۔

طالبان میڈیا میں دیگر مسلمان ممالک میں جہادی جماعتوں کے تحرک کی حوصلہ افزائی اور تعریف کی جاتی رہی ہے۔ مثال کے طور پہ ایک مضمون میں لکھا گیا: ’’بہت سی جماعتیں جہاد کے نام پر کام کرتی ہیں لیکن وہ قربانیاں نہیں دے سکتیں۔ جب ان ملکوں کی حکومتیں پابندی عائد کرتی ہیں یا عوام انہیں مسترد کرتے ہیں تو جہاد کا ذکر چھوڑ دیتی ہیں اور جمہوری وسیکولر حکومتوں کے تابع ہوجاتی ہیں۔‘‘

طالبان میڈیا اور ان کے مجلات کے مطابق وہ تمام جہادی جماعتوں کے روحانی باپ کی حیثیت رکھتے ہیں اور دیگر جہادی جماعتوں کو ان کی یہ حیثیت قبول کرنی چاہیے۔ اسی طرح جب تک وہ جماعتیں افغانستان میں ان کے مقابل نہیں کھڑی ہوتیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا؛ چاہے ان کے عزائم جو بھی ہوں۔ اس کی تائید 2015ء میں ملا اختر منصور کی جانب سے داعش کے قائد ابوبکر بغدادی کو لکھے گئے خط سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ بغدادی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں جب انہوں نے ’داعش خراسان‘ کی تشکیل کا اعلان کیا تھا: ’’امارت اسلامیہ کی قیادت شرعی ہے جس کی 1500 علماء اور اہل حل وعقد نے بیعت کی ہے جن میں شیخ حمود بن عقلاء اور شیخ اسامہ بن لادن بھی شامل ہیں۔ دینی بھائی چارے کی حیثیت میں امارت اسلامیہ آپ کے لیے خیر کی نیت رکھتی ہے اور آپ کے امور میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی، اور بدلے میں آپ سے بھی یہی امید ہے آپ ہمارے امور میں مداخلت نہ کریں۔‘‘ ملا اختر منصور نے اپنی قیادتی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے مزید لکھا کہ ’’عصرحاضر کے بڑے جہادی شہ سوار افغان جہادی فکر کے مطیع و خوشہ چیں رہے ہیں جن میں عبداللہ عزام، اسامہ بن لادن، ابومصعب الزرقاوی شامل ہیں۔‘‘

طالبان میڈیا پر 2006ء میں ملا عمر کا ایک خط شائع کیا گیا تھا جس میں انہوں نے اس سال ابومصعب الزرقاوی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’امارت اسلامیہ کے شہ سواروں میں سے ایک شہ سوار تھے‘۔

طالبان میڈیا کے صفحات پر شروع میں یورپی ممالک میں داعش کی جانب سے کی جانے والی چند کاروائیوں کی تعریف بھی ہوئی تھی۔

 پاکستان میں بہت سے مذہبی جہادی گروہ باہمی سطح پہ رقابت و مسابقت کے تناظر میں اپنی اپنی جماعت کی برتری بتانے کے لیے افغان طالبان کے ساتھ تعلق کا ذکر بھی کرتے ہیں، اور ہر جماعت اپنے حلقے میں دعوی کرتی ہے کہ اس کے وہاں زیادہ گہرے تعلقات ہیں۔ کیونکہ یہ تعلق ان کی مشروعیت کو وزن دار بناتا ہے اور لوگوں کو شمولیت کے لیے راغب کرتا ہے

یہ طالبان میڈیا سے لیے گئے چند پہلو ہیں، اگر تفصیل کے ساتھ ان کے ذرائع ابلاغ کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان حکومت میں آنے سے قبل تک خود کو باقی جہادی عنصر سے الگ یا محض افغانستان کی حد تک مشتمل تحریک کے طور پہ پیش نہیں کرتے رہے۔ اگرچہ وہ عملاً افغانستان میں فعال رہے، تاہم وہ اپنے آپ کو تمام مسلم دنیا کے جہادی عنصر کا روحانی باپ گردانتے رہے اور ان سے وابستگی کا اظہار کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بہت سے جہادی گروہ باہمی سطح پہ رقابت و مسابقت کے تناظر میں اپنی اپنی جماعت کی برتری بتانے کے لیے افغان طالبان کے ساتھ تعلق کا ذکر بھی کرتے ہیں، اور ہر جماعت اپنے حلقے میں دعوی کرتی ہے کہ اس کے وہاں زیادہ گہرے تعلقات ہیں۔ کیونکہ یہ تعلق ان کی مشروعیت کو وزن دار بناتا ہے اور لوگوں کو شمولیت کے لیے راغب کرتا ہے۔ کچھ سال قبل ہمارا طالب علموں کا ایک گروہ جنوبی پنجاب کی ایک جہادی تنظیم کے دفتر گیا جہاں اس کے سربراہ نے اپنی جماعت سے الگ ہونے والے گروہ پر اپنی سبقت کو واضح کرنے کے لیے اسی طرح کی بات کی تھی۔

طالبان قیادت کے حالیہ مذہبی سخت گیر اقدامات اسی کے عکاس ہیں کہ وہ اپنی نظریاتی شناخت کو سیاسی وسماجی فیصلوں میں غالب و نمایاں رکھیں گے۔ انہوں نے ایک طویل عرصے تک ایک ایسی تراث تشکیل دی ہے جس سے پیچھا چھڑانا بھی طالبان قیادت کے لیے آسان نہیں ہوگا (اگر وہ واقعی ایسا چاہیں بھی)۔ ان کے حلقے میں علمی وفکری مباحث و تنقیح کا پہلو بالکلیہ نظراندار رہا، لہذا صرف سیاسی ضرورتوں کی اساس پر تبدیلی ممکن نہیں۔ اس بنیاد پر قیادت کی بڑی حریف وسیع تر قدامت پسند ذہنیت ہے جو ان کے اندر بھی ہے باہر بھی۔

اگر طالبان صرف سیاسی مجبوریوں کی بنیاد پر لچک دکھاتے ہیں مگر نظریاتی تنقیح اور فکری نظرثانی کے لیے تیار نہیں ہوتے تو ان کے لیے القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں سے مستغنی ہونا یا ان سے دستبرداری بھی ممکن نہیں ہوگی۔ ایسے ماحول میں داعش کے لیے بھی ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا وجود باقی رکھ سکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...