بلوچستان میں شورش کی تنظیمِ نو اور نوجوانوں کی فعالیت

435

نوجوانوں کو نظرانداز نہ کیا جائے

اگر ہم صحیح معنوں میں بلوچستان کی صورتحال اور اس کی حساسیت کا ادراک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ بلوچ نوجوانوں کی بات سنی جائے۔ صوبے کےاندر وقوع پذیر ہونے والی سیاسی، نظریاتی اور سماجی تبدیلیوں کے بارے میں ان سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا۔ اس ضمن میں قبائلی رہنما، سردار اور نواب جن پر ریاست مسلسل انحصار کیے ہوئے ہے وہ زمینی مسائل و حقائق کے ساتھ اتنے متعلق نہیں ہیں۔ نہ ہی بیوروکریسی اور سکیورٹی ادارے صورتحال کا بامقصد اور درست جائزہ لے سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے صوبے میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے بلوچ نوجوان نالاں ہیں اور مطمئن نظر نہیں آتے۔

بلوچستان کا منظرنامہ تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب مقتدر اشرافیہ کے ہاں صوبے کی سنگین صورتحال سے متعلق تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے لیے اپنی پالیسی پر نظرثانی کر رہی ہے، تاہم ماہرین کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ مقتدر حلقے کی یہ تشویش یا نظرثانی کسی ایسی بڑی اور مؤثر تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکےگی جو صوبے کے معاملات کو ہموار کردے، جب تک کہ نوجوانوں کو توجہ نہیں دی جاتی اور صوبے کی حقیقی قوم پرست قیادت کو موقع نہیں دیا جاتا۔

شرح خواندگی میں اضافہ، سوشل میڈیا کے توسط سے معلومات تک رسائی، پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں زیرتعلیم بلو چ طلبہ کی خاطرخواہ موجودگی، فعال قوم پرست سیاست اور سی پیک پر گفتگو، یہ چند ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے بلوچ سماجی اقتصادی پسماندگی اور سیاسی مسائل سے متعلق آگاہی میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ مولانا ہدایت الرحمان کی ’’گوادر کو حق دو‘‘ تحریک اور کالعدم باغی گروہوں کے حملوں میں اضافے نے مقامی آبادی کو صوبے کے مسائل اور وہاں جاری کشمکش سے متعلق مزید حساس بنادیا ہے۔ پچھلے دنوں بلوچستان کے باشندوں، بالخصوص مکران کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ تأثر ملا کہ انہیں حکمران سیاسی جماعتوں، حزب مخالف اور میڈیا پر بھروسا نہیں رہا اور وہ ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ بلوچستان میں سکیورٹی قیادت کی جانب سے بات چیت کے دائرے کو وسیع کرنے کے پیچھے یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ ایف سی کے سربراہ اور مقامی آبادی کے مابین گفت وشنید کے علاوہ، حال ہی میں آرمی چیف نے بھی تربت اور پنجگور کے رہائشیوں کے ساتھ ملاقات کی تھی جنہوں نے ان کے سامنے کھل کر اپنی شکایات اور ناراضی کا اظہار کیا۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں کے منہجِ فکر اور ان کی بات کو توجہ دے کر بلوچستان میں موجود تنازعات اور شورش کی حرکیات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پچھلے چالیس برسوں کے دوران ریاست نے بھرپور کوشش کی کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایسے طلبہ پیدا کیے جائیں جو سیاسی سوجھ بوجھ سے نابلد ہوں، اور اسے اس مقصد کے حصول میں کافی حد تک کامیاب ملی بھی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اب بھی ایک ایسا حلقہ موجود ہے جو تنقیدی شعور اور سیاسی سوجھ بوجھ کا حامل ہے، اگرچہ اس کا دائرہ زیادہ وسیع نہیں ہے۔ سندھ حکومت نے لگ بھگ چار دہائیوں کے بعد حال ہی میں طلبہ تنظیموں پر سے پابندی اُٹھانے کی کوشش کی ہے۔ بلاشبہ طلبہ سیاست سے یہ اُمید باندھی جاسکتی ہے کہ اس کی فعالیت کے ساتھ نوجوانوں میں سماجی وسیاسی شعور کو فروغ ملے گا۔ تاہم اس حوالے سے بلوچستان کا انتظار شاید مزید طویل ہوگا کہ وہاں اس نوع کی آزادی کے آثار نہیں نظر آرہے۔

ریاست کو صوبے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنا نقطہ نظر بدلنا ہوگا۔ سرداروں نوابوں پر انحصار کم کرنا چاہیے، سیاسی عمل کو موقع دینا ہوگا اور نوجوانوں کو بے خوفی کے ساتھ اظہارِ رائے کی آزادی دینی چاہیے

ملک کے دیگر علاقوں کی طرح بلوچستان میں بھی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلی قسم غیرسیاسی ہے اور تنقیدی شعور کی حامل نہیں ہے۔ دوسری قسم ان نوجوانوں پر مشتمل ہے جو مذہبی ذہن رکھتی ہے مگر ان میں تھوڑا سا سیاسی شعور بھی موجود ہے۔ جبکہ آخری قسم میں وہ نوجوان آتے ہیں جو واضح سیاسی شعور کے حامل ہیں اور سیکولر سوچ رکھتے ہیں، لاپتہ افراد کی ایک بڑی تعداد اسی زمرے سے تعلق رکھتی ہے۔

حال ہی میں ’پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز‘ کے زیراہتمام کچھ مطالعاتی نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا جن کا عنوان تھا ’’سماج، مذہب اور سیاست: بلوچستان کے نوجوانوں کی نظر میں‘‘ ان نشستوں میں نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ پتہ چلا کہ غیرسیاسی طلبہ کی اکثریت کے طرزفکر میں تنقیدی شعور اور دلیل اساسی حیثیت نہیں رکھتے، اور یہ اعتماد کی کمی کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ انہیں قدرے پیچیدہ خیالات کی تفہیم میں مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریاستی ادارے اسی طرح کی نسل کو ترجیح دیتے اور پروان چڑھاتے نظر آتے ہیں۔

ایسے طلبہ جو مذہبی جماعتوں کی طرف میلان کے حامل ہیں وہ یا تو مدرسہ کا پس منظر رکھتے ہیں یا ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو کسی مذہبی جماعت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ یہ نوجوان سماجی اور مذہبی معاملات کے بارے حساس ہوتے ہیں لیکن ان کا دنیا کو دیکھنے کا انداز تنگ نظری کا شکار ہے۔ جبکہ دوسری طرف ریاست اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ ایسے طلبہ کو پسند نہیں کرتیں جو سوال پوچھتے ہیں، بالخصوص وہ طلبہ جو شہری حقوق، سیاست اور ملکی وسائل کی تقسیم کے بارے میں متجسس ہوتے ہیں۔ ریاستی مقتدرہ کا خیال ہے کہ اس قسم کے نوجوانوں کے اندر باغی گروہوں میں شامل ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، یا کم ازکم وہ ریاستی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہوئے اس پر کھلے عام بات کرتے رہیں گے۔ اس کے برخلاف ریاستی ادارے اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اُن طلبہ کے بارے میں زیادہ فکرمند نہیں ہوتیں جو بنیادپرست مذہبی جماعتوں کی طرف میلان رکھتے ہیں، اور یہ طلبہ غیرسیاسی نوجوانوں کو بھی متأثر کرتے ہیں۔ اس کے نتائج بالکل واضح اور عیاں ہیں، اس سارے منظرنامے کو سامنے رکھ کوئی بھی فرد یہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں انتہاپسندی دراصل کیسے اور کیونکر پھل پھول رہی ہے۔

نوجوانوں کا فکری تحرک وفعالیت اور طلبہ سیاست، دو ایسے عناصر ہیں جن کا کردار سیاسی سماجی ڈھانچے کی درست تفہیم اور سطح کے نیچے پکنے والے لاوے کا جائزہ لینے کے بہت اہم ہوتا ہے۔ ریاست نے طلبہ سیاست کو بری طرح مضمحل کردیا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ تنظیمیں اب بھی اپنا وجود باقی رکھے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پہ ’بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘ (BSO) کا صوبے میں قوم پرست اور علیحدگی پسند تحریکوں کے ضمن میں بہت نمایاں کردار رہا ہے۔ 1979ء سے اب تک یہ تنظیم کئی تبدیلیوں سے گزری ہے۔ یہ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوئی، اور بلوچ قیادت کے بدلتے سیاسی موقف کو دیکھتے ہوئے دوبارہ متحد ہوگئی۔ یہ ساری تبدیلیاں صوبے کے سیاسی منظرنامے میں وقوع پذیر ہونے والے تغیرات اور اُتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتی ہیں۔ قوم پرست قیادت نے سمجھوتہ کیا تو اس سے تنظیم تقسیم کا شکار ہوئی۔ اس کا ایک دھڑا ’بی ایس او آزاد ‘کے نام سے ڈاکٹر اللہ نذر نے 2002ء میں قائم کیا تھا اور یہ امر کا غماز تھا کہ نوجوان ریاستی پالیسیوں، حتی کہ قوم پرست قیادت سے بھی نالاں ہیں اور ان سے خوش نہیں ہیں۔ بعد کے سالوں میں’ بی ایس او آزاد‘ نے ’بلوچستان لبریشن فرنٹ‘ کو جنم دیا جو صوبے کے جنوبی علاقوں میں سرگرم ایک خطرناک باغی گروہ ہے۔

’بی ایس او‘ اب کئی دھڑوں میں منقسم ہوچکی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جماعت پر کڑی نگرانی کے سبب اس کی فعالیت کا دائرہ کم ہوگیا ہے، جس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ باغی گروہوں کے لیے جگہ ہموار ہوگئی اور وہ اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تعلیمی اداروں میں سیاسی شعور رکھنے والے نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں۔

ریاست کو صوبے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنا نقطہ نظر بدلنا ہوگا۔ سرداروں پر انحصار کم کرنا چاہیے، سیاسی عمل کو موقع دینا ہوگا اور نوجوانوں کو بے خوفی کے ساتھ اظہارِ رائے کی آزادی دینی چاہیے۔ وہاں زیادہ تر نوجوانوں کا خیال ہے کہ ریاست انہیں ملازمتوں کے اور ایک نارمل زندگی گزارنے کے مواقع بخوبی فراہم کرسکتی ہے، جو ان کا سب سے بڑا مطالبہ اور خواہش ہے۔

مقتدراشرافیہ کی سیاسی حکمتِ عملی

بلوچستان کے اندر جوں جوں سیاسی آگہی اور حقوق سے متعلق شعور میں اضافہ ہو رہا ہے، اسی طرح مسائل زیادہ الجھن کا شکار ہو رہے ہیں اور اس کا دباؤ مقتدر اشرافیہ پر بھی پڑ رہا ہے۔ گزشتہ احتجاجات اس کی واضح علامت ہیں۔ صوبے کے عوام کو پوری طرح ادراک ہے کہ وہاں کی معاشی سرگرمیوں کے تناظر میں ان کے کم ازکم کیا حقوق ہیں۔ بدقسمتی سے سی پیک منصوبے کی وجہ سے خطے میں سکیورٹی اور امن وامان کے مسائل غالب آگئے ہیں اور اس چیز نے منفی اثرات مرتب کیے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ان مسائل نے وہاں کے رہائشیوں میں غصے کو ہوا دی ہے۔ دوسرا یہ کہ چینی کارکنوں اور مقامی آبادی کے مابین خلیج اور میل جول کی کمی کے سبب نہ صرف سازشی نظریات نے جنم لیا ہے بلکہ چینی باشندے باغی گروہوں کا نشانہ بھی بنے ہیں۔ حالیہ احتجاج کے دوران ’احترام‘ ایک بنیادی مطالبہ تھا جو مولانا کی طرف سے کیا گیا تھا کہ مقامی عنصر اور آبادی کا احترام کیا جائے، اس کے ساتھ ٹرالنگ کے غیرقانونی طریقے سے مچھلیاں پکڑنے کو روکنا جس کی وجہ سے مقامی ماہی گیر بے روزگار ہوگئے تھے، اور ایران کے ساتھ غیررسمی تجارت کو دوبارہ کھولنا بھی ان کے مطالبات میں شامل تھے۔

جنوبی بلوچستان میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں وزیراعلیٰ اور مولانا ہدایت الرحمان کے مابین ہونے والے معاہدے کے بعد چوکیوں پر سکیورٹی اہلکاروں کا رویہ پہلے سے بہتر ہوا ہے اور چوکیوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ ایران کے ساتھ بتدریج سرحدی تجارت دوبارہ کھلنے کے بعد نیلی ایرانی گاڑیاں ’زمیاد‘ شاہراہوں پر واپس آگئی ہیں۔ یہ گاڑیاں ایرانی ڈیزل اور خوردنی اشیاء کی سمگلنگ کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ایک عام تأثر پایا جاتا ہے کہ زمیاد کی شاہراہوں پر واپسی کے سبب نوجوانوں کو کچھ مصروفیت میسر آئے گی جس سے بے روزگاری کا مسئلہ کم ہوگا اور نوجوانوں کو باغی گروہوں کے اثرات سے بچانے میں مدد ملے گی۔ اگرچہ ایران کے ساتھ غیررسمی تجارت پر پابندی اور سرحدی باڑ کی تعمیر کے پہلے والے سال کے مقابلے میں ایرانی گاڑیوں کی تعداد ابھی کم ہے، تاہم بلوچستان میں بہت سے لوگ پرامید ہیں کہ تجارت واپس معمول پر آجائے گی کیونکہ سرحدی علاقوں کے باسیوں کے لیے عملاً آمدنی کا یہی ایک واحد ذریعہ ہے۔

حکومت نے سرحدی آمدورفت کے لیے ضلع کیچ میں دو باضابطہ چیک پوائنٹس کھولے ہیں اور وہ دوسرے اضلاع میں بھی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صوبائی حکومت نے مقامی لوگوں کے لیے ایران میں داخل ہونے اور وہاں سے تیل لانے کے لیے ٹوکن رکھنے کی شرط ختم کردی ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشان تھے۔ اب مقامی انتظامیہ قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر ڈرائیور اور اس کے معاون کی رجسٹریشن کرنے کی مجاز ہے، ضروری یہ ہے کہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانا چاہیے تاکہ لوگوں کی تجارتی سرگرمیاں زیادہ سے زیادہ فعال ہوں۔

مکران کے علاقے، بالخصوص گوادر میں انتظامیہ کو ہدف دیا گیا تھا کہ سی پیک اور جنوبی بلوچستان کے لیے سابق وزیراعظم کے دیے گئے پیکج کے تحت ترقیاتی منصوبوں کو تیز کیا جائے۔ ان منصوبوں میں پانی کی ترسیل کی پائپ لائنوں کو تبدیل کرنا، گوادر میں توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کوئلے سے بجلی پیدا کرنا، پورے خطے میں فنی تعلیم کی فراہمی یقینی بنانا اور تربت میں ایک صنعتی منصوبہ قائم کرنا شامل ہیں۔ تاہم گزشتہ ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے شہری پرامید نہیں لگتے کہ یہ منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے۔ فکر کی بات یہ ہے کہ حکومت، بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں اثرورسوخ رکھنے والا ٹھیکیدار مافیا ان منصوبوں کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے، اگر وہ یہ ٹھیکے حاصل کرلیتے ہیں تو اس سے قومی خزانے کو نقصان ہوگا اور سی پیک کی ساکھ کو دھچکا لگے گا، جبکہ ریاست اور شہریوں کے مابین عدم اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔

مقتدر اشرافیہ سمجھتی ہے کہ مقامی رنجشوں اور شکایات کے ازالے کے لیے ترقیاتی کام کرنا ایک مؤثر حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بدعنوانی اور ان ترقیاتی منصوبوں میں پارلیمان اور شہریوں کی طرف سے نگرانی کا کوئی طریق کار نہ ہونے کی وجہ سے یہ حکمت عملی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی۔ عوام کا اولین مطالبہ ان کے لیے حقیقی سیاسی شراکت کو یقینی بنانا ہے جس کے تحت ان کی خواہش و ضروریات کے مطابق پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔

مکران کے لوگوں کا کلیدی مطالبہ آزادانہ و منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔ ماہرین کے مطابق منصفانہ انتخابات حقیقی قوم پرست قیادت اور جماعتوں کے لیے اقتدار میں آنے کا راستہ کھول سکتے ہیں، اور ان کی کارکردگی کا ریکارڈ نسبتاً بہتر ہے۔ بلوچستان کا سیاسی منظرنامہ پیچیدہ ہے، اِس وقت ضرورت ہے کہ مولانا ہدایت الرحمان کی سرپرستی میں آنے والی تحریک اور اس کے اسباب و مضمرات پر بھی بات کی جائے۔

بہت سے تجزیہ کاروں، قومی رہنماؤں حکمران جماعتوں کو شبہ ہے کہ مولانا کو ان کی مذہبی ساکھ کی وجہ سے یہ موقع ملا کہ وہ گوادر کے باسیوں کے اضطراب کو استعمال کرسکیں۔ ممکن ہے یہ ایک سبب ہو لیکن ان کی اصل کامیابی ایک ایسی حکمت عملی کی تشکیل میں پوشیدہ ہے جس کی بنیاد پر مذہبی نوعیت کی جماعتیں اپنے مطالبات منظور کرا پاتی ہیں، چاہے وہ تحریک لبیک ہو، جماعت اسلامی ہو یا شیعہ جماعتیں۔ جماعت اسلامی کے ساتھ ان کی وابستگی نے انہیں ایک ایسی طویل المدتی احتجاجی تحریک کی حکمت عملی تشکیل دینے میں مدد دی ہوگی، جسے قوم پرست جماعتیں وضع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ جماعت اسلامی کے عنصر سے ہٹ کر دراصل اس تحریک کے تانے بانے 2018ء کے احتجاج سے ملتے ہیں جس میں ’ایسٹ بے ایکسپریس وے‘ کے ڈیزائن میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، یہ سڑک گوادر کی بندرگاہ کو مکران کوسٹل ہائی وے سے جوڑتی ہے۔ اُس احتجاج کے دوران حکومت کو سڑک کے ڈیزائن میں تبدیلی اور ماہی گیروں کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت کے لیے مجبور کردیا گیا تھا۔ مولانا جو خود ایک ماہی گیر ہیں اُس تحریک کا حصہ تھے اگرچہ وہ تب اس کی قیادت نہیں کر رہے تھے۔

ان مظاہروں کی وجہ سے مقامی باسیوں کو اپنے مطالبات منظور کرانے کا ایک راستہ میسر آیا۔ جس طرح مولانا نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا قوم پرست جماعتیں ایسا نہیں کرسکیں۔ تاہم یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ آیا ان مظاہروں سے مولانا یا جماعت اسلامی مستقبل میں انتخابی فوائد سمیٹ سکتے ہیں یا نہیں، کیونکہ مکران کے علاقے میں قوم پرست جماعتوں کا نفوذ اب بھی کافی گہرا ہے۔

اس بات میں شبہ نہیں کہ بلوچستان میں قوم پرست جماعتیں خاصی اہمیت کی حامل ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ ایک امتحان ہوگا کہ وہ ایسے ہی آگے بھی اپنے روایتی اتحادیوں کو سیاسی رسوخ وفوائد مہیا کرتی رہے گی کہ جن کے پاس کاکردگی کا کوئی اچھا ریکارڈ نہیں ہے اور جو اسٹیبلشمنٹ کے لیے نیک نامی کا باعث بھی نہیں بنے، یا پھر ان سے قطع تعلق کرلے گی، تاہم یہ قطع تعلقی قدرے جوکھم کا سبب بھی بن سکتی ہے اور اس کے بعد کچھ مختلف چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں۔

بلوچ باغی گروہ اور اُن کی نئی قیادت

جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا،بلوچ مزاحمتی عنصر میں کچھ تبدیلیاں وقوع پذیر ہورہی ہیں اور ان کی تنظیمِ نو ہو رہی ہے۔ مزاحمتی تحریکیں اب قبائلی سرداروں کے زیراثر نہیں رہیں، ان میں شمولیت اختیار کرنے والے نوجوان متوسط طبقے سے آتے ہیں اور ان تحریکوں کی قیادت پڑھے لکھے نوجوان کرتے ہیں۔ جبکہ ریاستی ادارے اب بھی روایتی سرداروں نوابوں سے بات کرتے، ان پر تکیہ کرتے اور انہیں ہی اقتدار میں شراکت دار بناتے ہیں، کیونکہ یہ عناصر ریاستی مقتدرہ کی شرائط و مطالبات کو قبول کرتے ہیں اور اختلاف نہیں کرتے۔ ریاستی ادارے اپنی مصالحت کی نیم دلانہ کوششوں میں باغی گروہوں کی قیادت کو اپنے ساتھ بٹھانے کا کوئی منصوبہ نہیں بناتے۔ گزشتہ حکومت میں مزاحمتی قیادت سے بات چیت کے لیے شاہ زین بگٹی کو ذمہ داری سونپی گئی تھی، حکومت نے ان کا انتخاب کیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ بلوچوں میں بھی ایک متنازعہ شخصیت ہیں اور ان کی تعیناتی کے ساتھ ان مقاصد کا حصول ممکن ہی نہیں تھا جن کے لیے انہیں منتخب کیا گیا ہے۔

مذہبی ساکھ کے حامل گرہوں کو استعمال کرکے بغاوت کو کچلنے کا عمل نقصان دہ ثابت ہوگا

حالیہ کچھ عرصے سے باغی گروہوں کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں کی نئی لہر کا آغاز 26 جنوری کو ضلع کیچ کے علاقے دشت میں ’بلوچستان لبریشن فرنٹ‘ (BLA) کی جانب سے ایک چیک پوسٹ پر حملے کے ساتھ ہوا جس کے نتیجے میں دس سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

رواں برس جنوری سے اب تک بلوچ باغی گروہوں کی جانب سے تقریباً 17 حملے کیے گئے ہیں جن میں سے دس سکیورٹی اہلکاروں پر ہوئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں 51 افراد جاں بحق اور 97 زخمی ہوئے۔ ان مخدوش حالات کے پیش نظر سکیورٹی حلقے ہائی الرٹ پر ہیں اور نگرانی کو بڑھا دیا گیا ہے۔

کالعدم ’بلوچستان لبریشن آرمی‘ اور اس کی خطرناک گوریلا ذیلی شاخ ’مجید بریگیڈ‘ اس سال اب تک آٹھ حملے کرچکی ہیں، جن میں نوشکی، پنجگور، اور سبی کے اضلاع میں فدائین طرز کے کچھ بڑے حملے بھی شامل تھے۔ صوبے کے اندر متعدد باغی گروہ سرگرم ہیں۔ ان میں بی ایل اے، بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA)، بلوچ ریپبلکن گارڈ، یونائٹڈ بلوچ آرمی (UBA)، بی ایل ایف، بلوچ راجی اجوئی سانگر (BRAS) نمایاں ہیں۔ ان جماعتوں کی جانب سے زیادہ تر حملے صوبے کے اندر کیے گئے ہیں، البتہ ایک نئے بلوچ باغی گروہ بلوچ نیشنلسٹ آرمی (BNA) نے لاہور میں بھی ایک دہشتگردانہ حملہ کیا۔

اس کے علاوہ مارچ میں داعش خراسان نے بھی ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور تحریک طالبان پاکستان نے بھی فروری میں کوئٹہ کے اندر ایک حملہ کیا تھا۔ اس صورتحال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی کے مخدوش منظرنامے کی وجہ سے فرقہ وارانہ اور مذہبی شدت پسند تنظیموں کو بھی شہہ مل رہی ہے اور وہ بھی اپنی کاروائیوں میں تیزی لاسکتی ہیں۔

بہت سے تجزیہ کار دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کو افغانستان میں طالبان کی آمد کے ساتھ جوڑتے ہیں، اگرچہ ان دونوں کے مابین واضح تعلق جوڑنا ذرا مشکل بھی ہے۔ تاہم اب بھی کئی باغی گروہوں کی قیادت افغانستان میں چھپی ہوئی ہے جن کی قسمت کا فیصلہ کرنے سے طالبان ہچکچا رہے ہیں۔ بلوچ باغیوں کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ آپریشنل روابط ہیں یا نہیں، اس حوالے سے شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں کیونکہ باغی رہنما قوم پرست ہیں اور سیکولر نظریات کے حامل ہیں۔ افغانستان میں موجود بلوچ باغی رہنما اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں، ان میں سے کچھ تو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد ایران فرار ہوگئے ہیں یا بلوچستان واپس آگئے۔ بہرحال طالبان حکومت باغیوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل اپنے ملک کی بلوچ آبادی کو بھی مدنظر رکھے گی۔ اس میں شک نہیں کہ یہ صورتحال پاکستان کے لیے مایوس کن ہے، کیونکہ پاکستان میں یہ خیال غالب تھا کہ افغان طالبان کی آمد کے بعد بلوچ شورش کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

ممکن ہے کہ مجموعی علاقائی صورتحال نے بلوچ عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی کی ہو جس کے بعد حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، تاہم یہ بھی بدیہی امر ہے کہ افغانستان سے واپس لوٹنے والے باغیوں نے بھی صوبے کے باغی گروہوں کی تنظیمِ نو میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ قابل غور ہے کہ بلوچستان میں فعال گروہ باہمی سطح پر کارروائیوں کے لیے اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پہ جنوری میں یونائٹڈ بلوچ آرمی (UBA) اور بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA) نے مل کر ایک نیا دھڑا بلوچ نیشلسٹ آرمی (BNA) تشکیل دیا۔ نئے دھڑے کے ترجمان مرید بلوچ نے کہا ہے کہ ان کے اتحاد کا مقصد بلوچ مزاحمتی تحریک کو مضبوط کرنا ہے۔ اِس گروہ نے بھی مبینہ طور پہ BRAS میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

’بی این اے‘ اب تک تین دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے جن میں سے ایک لاہور اور دوسرا پنجگور میں کیا گیا۔ مبینہ طور پہ براہمداغ بگٹی کی زیرقیادت کام کرنے والی تنظیم ’بی آر اے‘ نے لاہور حملے کی مذمت کی تھی اور کہا کہ وہ خود کو اس نئے گروہ سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ اصل میں’ بی آر اے‘ کا ایک دھڑا جس کی قیادت گلزار امام کے پاس ہے، وہ ’بی این اے‘ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اپنا دھڑا 2018ء میں’ بی آر اے‘ سے خود کو نکالے جانے کے بعد تشکیل دیا تھا۔ اس کا تعلق جنوبی ضلع پنجگور سے ہے اور اس دھڑے کی زیادہ فعالیت مکران کے علاقے میں ہے، جہاں’ بی ایل ایف‘ بھی بہت مضبوط جڑیں رکھتی ہے۔ نو تشکیل شدہ دھڑے’ بی این اے‘ کا دوسرا گروہ’ یو بی اے‘ ہے جو مرید بلوچ کی قیادت میں’ بی ایل اے‘ سے علیحدگی اختیار کرنے والا دھڑا ہے۔

بلوچستان کے اندر مختلف دھڑوں اور اتحادوں کا اُبھرنا صوبے میں سرگرم شورش میں ایک نئی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ پہلے یہ تھا کہ روایتی طور پہ بلوچ قوم پرست سیاسی و عسکری جدوجہد کی قیادت قبائلی اشرافیہ یا بزرگ کرتے تھے، لیکن اب یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ BLF، BRAS اور BNA جیسی تنظیموں کی قیادت زیادہ تر متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے پاس ہے۔ یہ رجحان اس امر کا عکاس بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں موجود باغی رہنماؤں کے اندر خودساختہ جلاوطنی کی بنیاد پر بیرونِ ملک مقیم بلوچ قیادت کے بارے عدم اعتماد پیدا ہوا ہے۔

بلوچ باغیوں کا نیا چہرہ تعلیم یافتہ اور سیاسی طور پہ بنیادپرست ہے، اور یہ شورش کو گوریلا جنگ میں تبدیل کر رہا ہے۔ باغیوں کی پہلے والی قیادت قبائلی یا خاندانی مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ بات چیت کو یکسر مسترد نہیں کرتی تھی، جبکہ اس کے برعکس نئی قیادت کا معاملہ کچھ مختلف ہے، اس کا خاندانی وسماجی پس منظر متوسط نوعیت کا ہے جس کے سبب بغاوت ومزاحمت کا انسداد کچھ مشکل بن جاتا ہے۔

دہشت گردانہ حملوں میں اضافے کو کئی حوالوں سے دیکھا پرکھا جاسکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ بلوچ باغی گروہ اسے اپنی کامیابی گردانتے ہیں کہ ان حملوں کی وجہ سے انہیں بین الاقوامی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ اس سے سکیورٹی اہلکاروں پر زیادہ بڑے حملے کرنے کے لیے ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بعض مقامی ذرائع کا خیال ہے کہ یہ حملے مزید نوجوانوں کو متأثر کرنے اور بلوچ باغی گروہوں میں شمولیت کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں۔

اس کا تیسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ان حملوں میں اضافے کے بعد قوم پرست جماعتوں کے لیے موقع ہے کہ یہ بلوچ تنازعہ کے پرامن حل کے لیے خود کو بطور ایک سٹیک ہولڈر کے زیادہ متعلق و اہمیت کا حامل بنتا دیکھتی ہیں، تاہم انہیں یہ خطرہ بھی لاحق ہے کہ باغی عناصر اعتدال پسند بلوچ طبقات کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

جہاں تک صوبے میں انسدادِ بغاوت کے مسئلے کا تعلق ہے، تو ریاستی ادارے اس حوالے سے اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ البتہ ایک نکتہ قابل غور ہے کہ مذہب اور مذہبی ساکھ کے حامل گرہوں کو استعمال کرکے بغاوت کو کچلنے کا عمل نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف یہ کہ بلوچ نوجوانوں کے اندر غصہ بڑھے گا بلکہ تحریک طالبان پاکستان، داعش خراسان اور فرقہ وارانہ گروہوں کے تحرک کے لیے سازگار ماحول بن جائے گا۔ یہ بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ یہ سب گروہ افغان طالبان سے متأثر ہیں۔ بلوچستان کو اس وقت جس چیز کی زیادہ ضرورت ہے وہ ایک طویل المدتی سیاسی حکمت عملی کی تشکیل کرنا اور طاقت کے استعمال میں بتدریج کمی لانا ہے، جس کے لیے وہاں کے نوجوانوں اور ان کی حقیقی قوم پرست قیادت کو سننا اور ان کی شکایات و رنجشوں کا ازالہ بہت ضروری ہے۔

بشکریہ: روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...