کیا یہ محض سیاست ہے؟

152

چند دن قبل لاہور میں تحریک انصاف کے جلسے میں شریک ایک شخص میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر عمران خان حکم دیں کہ اپنے بیٹے کی گردن کاٹ دو تو میں یہ کرڈالوں گا۔ اس شخص کا چھ سات سال کا بیٹا اس کے سامنے ہی کھڑا تھا۔ اِس ہفتے تحریک انصاف کے حمایتی ایک شخص نے اس کے قائد پر توشہ خانہ کے معاملہ میں الزام لگانے کی وجہ سے دوسری جماعت کے فرد کو قتل کردیا، جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایسی بات پر کسی کو بھی قتل کردے گا تو اس نے جواب دیا، بالکل۔ ساتھ ہی اس کی بے آسرا ماں اور بہن بیٹھے تھے، جب سوال کیا گیا کہ تم جیل چلے جاؤ گے، پیچھے ان کا کیا بنے گا تو اس نے جوب دیا، ان کا اللہ مالک ہے۔

یہ محض دو واقعات نہیں ہیں، بلکہ سیاسی شدت پسندی کا وہ زہر ہے جو پورے معاشرے میں پھیل رہا ہے۔ الٹا اس نفرت انگیز ماحول کو سیاست اور سیاسی ردعمل کہا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسے کسی بھی طرح سے محض سیاست کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ سیاسی حدود سے تجاوز ہے۔ مخالفین پر اپنی طاقت اور دھاک کا مظاہرہ کرنے کے لیے عوامی جذبات کے بھیانک حد تک استعمال کو سیاست کے پیرائے میں مجاز نہیں بنایا جاسکتا۔ درست کہ سیاست میں افسانے کی آمیزش بھی کی جاتی ہے اور عوامی جذبات کو ابھارا بھی جاتا ہے، لیکن اگر یہ عمل کسی اخلاقی قدر کا ہی قائل نہ رہے اور لوگ ایک دوسرے کے وجود کو ہی برداشت نہ کرسکیں اور مرنے مارنے کی باتیں کرنے لگیں تو اس عمل کو سیاسی حربہ نہیں کہا جاسکتا۔

ایک ایسا سماج جہاں ادارہ جاتی سیاست لگ بھگ وجود ہی نہ رکھتی ہو اور نہ عوام اس کی اہمیت کے قائل ہوں، اس سماج میں پاپولزم جس حد تک بے مہار ہوسکتا ہے اس کی بہترین مثال پاکستان ہے۔ سیاست کے نام پر جو کچھ بھی کردیا جائے اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی، کیونکہ سیاسی ادارے نام کے اور غیرفعال ہیں اور کوئی امید نہیں کہ کوئی مسئلہ پارلیمان میں یا آئین و قانون کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔ دیکھا جائے تو اس ساری سیاسی دھماچوکڑی کی کوئی سمت بھی نہیں ہے۔ مذہب کا استعمال ہے، غداری کے الزامات ہیں، کرپشن کا شور ہے، ذاتی حملے ہیں۔ اور یہ تمام ہتھکنڈے عوامی جذبات کو اشتعال میں رکھنے کے لیے ہیں۔ نوجوانوں کو یہ محسوس کرایا جاتا ہے کہ مسائل کے حل کی خاطر قربانی دینی پڑے گی، اور وہ قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ قیادت اگر اپنی طاقت آئینی، پارلیمانی و قانونی راستوں سے کشید کرنے کی بجائے سڑکوں، مظاہروں اور ہجوم سے حاصل کرنے لگے تو اس سے صرف انتشار اور عدم استحکام ہی جنم لے گا۔

ایک ایسا سماج جہاں ادارہ جاتی سیاست لگ بھگ وجود ہی نہ رکھتی ہو اور نہ عوام اس کی اہمیت کے قائل ہوں، اس سماج میں پاپولزم جس حد تک بے مہار ہوسکتا ہے اس کی بہترین مثال پاکستان ہے

ملک میں ہمیشہ سے غیرجمہوری مقتدرہ کی فعالیت کے باعث سیاست کبھی ادارہ جاتی نہیں رہی، اسی لیے یہاں سیاسی زبان و کلام بے معنی و کھوکھلے رہے، اور ان میں عوامی ترجیحات، باہمی احترام اور شہریت وحقوق کی ترجمانی نہیں ہوسکی۔ اس لیے بہت آسان ہے کہ سیاست میں مذہب کا کوئی جتنا استعمال چاہے کرلے، ایک دوسرے پر غداری اور ملک دشمنی کا الزام عائد کیا جاسکتا ہے، تضحیک اور تحقیرآمیز رویوں کے لیے بھی بہت جگہ ہے، حتی کہ ایک دوسرے کی جان کے درپے بھی ہوا جاسکتا ہے۔ عوام کو سیاست کے نام پر اس ساری بے معنویت، منافرت اور انتشار کا بوجھ اٹھانا ہوگا، اگر وہ حقیقت میں سچے مسلمان اور محب الوطن پاکستانی ہیں۔

منافرت کی فضا کے بعد عوام نے صرف مخالف سیاستدانوں کا جینا ہی دوبھر نہیں کیا بلکہ نچلی سطح پر ایک دوسرے کے بھی درپے ہوگئے ہیں۔ یہ پاپولزم کی بدترین شکل ہے جس میں لوگ مذہب اور حب الوطنی کے نعروں کی اساس پہ جذبات کو ابھارتے ہوئے افراد کی ’اچھے شہری‘ اور ’برے شہری‘ میں تقسیم کرنے لگے ہیں جیساکہ خیر اور شر کی تفریق کی جاتی ہے۔ گویا ملکی مفاد کا تقاضا ہے کہ ایک یکساں سوچ کا حامل طبقہ غالب آئے، ورنہ سب کچھ تباہ ہوجانے کا خطرہ ہے۔ سیاست میں یہ فضا لاشعوری یا سادگی طور پہ نہیں بن رہی بلکہ واضح طور پہ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے۔ کیونکہ اس کے نتائج سامنے آنے کے بعد بھی مزید ہوا دی جارہی ہے۔

ادارہ جاتی سیاست ترقی اور بہبود کی حقیقی ضامن ہوتی ہے اور یہی واحد راستہ ہے جو مربوط معیشت و سماجی فلاح کو یقینی بناتا ہے۔ دنیا میں ایسا ہی ہوا ہے۔ جبکہ پاپولسٹ سیاست جمہوریت کے نام پر اور عوامی دباؤ کو ابھار کے ادارہ جاتی جمہوری سیاست اور ریاستی اداروں کو بے وقار کرتی ہے۔ برطانوی ماہرسماجیات کولن کراؤچ نے 2019س میں اپنے آرٹیکل (post democracy and populism) میں لکھا کہ برطانیہ کی معاصر تاریخ میں سب سے بدترین دن وہ تھا جب ملک کے دو بڑے اخبارات Daily Mail اور Daily Telegraph نے 3 نومبر 2016ء کو اپنے سرورق پر سپریم کورٹ کے تین ججز کی تصاویر لگائیں اور نیچے لکھا تھا ’عوام کے دشمن‘ اور ’ججز بمقابلہ عوام‘۔ وجہ یہ تھی کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے یا اس کا حصہ رہنے کے معاملے میں ان ججز نے کہا تھا کہ اس فیصلے میں صرف ریفرنڈم پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ پارلیمان کے ووٹ کو بھی اہمیت دی جائے۔ اس پر پاپولسٹ رہنماؤں اور ہمنوا صحافت نے ردعمل دیا کہ یہ فیصلہ عوام دشمنی ہے۔ گویا کہ جب بات پاپولسٹ سیاست کی ہو تو اس کے نزدیک عدلیہ اور پارلیمان بھی ممکنہ طور پہ عوام کے دشمن ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ ذہنیت ہے جو اپنی سوچ کے برخلاف ہر ادارے اور ہر فریق کو بالائے طاق رکھتی ہے اور کسی بھی مربوط پراسس کو لائق اعتنا نہیں سمجھتی۔

پاکستان میں اس وقت شدید ضرورت ہے کہ منافرت کی اس شدت کو کم کیا جائے۔ پارلیمان اور دیگر ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور ملک میں حقیقی ادارہ جاتی سیاست کو مضبوط کیا جائے۔ ورنہ جو آگ لگی ہے اس کی تپش کو محدود نہیں رکھا جاسکتا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...