عوام اور ملکوں کی قسمت ہیروز نہیں، خود عوام تبدیل کرتے ہیں

368

دُنیا میں ہر جگہ ایسا ہوتا ہے کہ سیاسی مبارزت اور رسہ کشی کے دوران بعض اوقات سیاسی و جمہوری اخلاقیات متأثر ہوتی ہیں اور نتیجے میں سماجی سطح پر ایک غیرشفاف ماحول پیدا ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شدید اختلاف کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ سیاسی مخالفین طاقت اور جیت کے حصول کی دوڑ میں ہوتے ہیں، نتیجے میں بعض اوقات وہ حدود کے پابند نہیں رہتے۔

پاکستان میں سیاسی عمل ہمیشہ غبارآلود اور اُونچ نیچ کا شکار رہا ہے۔ یہاں کی سیاست زیادہ تر تنازعات کی سیاست رہی ہے جس میں شخصیات کی باہمی رقابت اور مڈبھیڑ ایک نمایاں عنصر رہا۔ تاہم حالیہ کچھ عرصہ سے ملک کی سیاسی صورتحال جس ابتری کا شکار ہے وہ قابل تشویش ہے۔ سیاسی اختلاف سیاسی منافرت میں تبدیل ہوگیا ہے اور اس کا سب سے مخدوش پہلو یہ ہے کہ اس منافرت کا بڑا شکار نوجوان بن رہے ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان اسباب ومحرکات کا جائزہ لیا جائے اور ان  کاسدِباب کیا جائے جن کے باعث ہم سیاسی شدت پسندی کے اس مرحلے تک آپہنچے ہیں۔

پاکستان میں نوجوانوں کی بہبود اور ان کے مسائل وضروریات کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ہے جس کے سبب ان کے اندر غصے اور فرسٹریشن کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ان کی ناراضی اور غصے کے دراصل کئی مختلف عوامل ہیں، ریاست جن کا تدارک کرنے کی بجائے انہیں باقی رکھے ہوئے ہے۔ مفادات اور طاقت کی حرکیات کے اس کھیل میں نوجوانوں کی شخصیت اور ان کی فکری صلاحیتوں کو زد پہنچی ہے اور وہ بے سمت ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کی ذات کے اندر موجود اس خلا کو آسانی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جس طرح عسکریت پسند اور مذہبی عناصر ان کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں اسی طرح سیاسی جماعتیں اور شخصیات بھی اپنے مفادات کے لیے کچھ نعروں کی بنیاد پر ان کے غصے، فرسٹریشن اور بے سمتی کا استعمال کرتے ہوئے ان کی ذات کا استحصال کرتی ہیں۔

ہمارا سماج پہلے ہی مذہبی، آئیڈیالوجیکل اور دیگر کئی تنگ نظر رجحانات کی وجہ سے تقسیم اور عدم برداشت کا شکار ہے، اس پر سیاسی حلقوں کی جانب سے عدم برداشت کو ہوا ملنا افسوسناک بھی ہے اور اثرات کے اعتبار سے زیادہ خطرناک بھی۔ عوامی سطح پر رواداری اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے پہلے ہی سماجی ادارے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام تھے، ایسے میں سیاسی ہیجان نے جس منافرت کو اوپر اٹھایا ہے اس کے نتائج سامنے ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر منافرانہ تقسیم نے معاشرے کے لوگوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے، حالانکہ سیاست اور سیاسی عمل کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ یہ حقیقت میں لچک ، رواداری اور برادشت کا درس دیتے اور اسی کی عملی تربیت کرتے ہیں۔

نوجوانوں کا سیاسی شعور واضح اور حقیقی جمہوری اقدار پر استوار نہیں ہے اور نہ وہ درست معلومات رکھتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی عمل جن شدید مسائل و مشکلات سے دوچار ہے اس کے بعد یہ زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ نوجوان اپنے سیاسی شعور کے حوالے سے واضح ہوں اور درست معلومات رکھتے ہوں۔ واضح سیاسی شعور انہیں ہر قسم کی انتہاپسندی کا شکار ہونے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سیاسی تربیت نہیں کی جاتی اور صحت مند سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ خود مطالعہ کریں اور جمہوری و شہری اقدار سے واقفیت حاصل کریں تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ سیاست میں حتمیت اور اعتقادی جذبات کی جگہ نہیں ہوتی، نہ کوئی ایک فرد نجات دہندہ ہوسکتا ہے۔ یہ پاپولزم کی علامت ہے جو جمہوری وسعت ظرفی اور اختلاف کو جگہ دینے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہ انجام کار انتشار کو جنم دیتا ہے۔ جمہوریت میں عوامی مفادات کو ذاتی اور جماعتی مفادات پر ترجیح حاصل ہوتی ہے اور ملکی آئین و قوانین کا احترام کیا جاتا ہے۔

واضح سیاسی شعور اور درست معلومات نوجوانوں کو سیاسی منافرت کی بھینٹ چڑھنے سے بچا سکتے ہیں اور ان میں یہ ایقان پیدا کرسکتے ہیں کہ  عوام اور ملکوں کی قسمت ہیروز نہیں، بلکہ خود عوام تبدیل کرتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...