پاکستان کی تعلیمی پالیسیاں اور زبان کا مسئلہ

195

ان سب تعلیمی پالیسیوں پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ زبان کے مسئلے کو پاکستان میں سماجی، تعلیمی اور ثقافتی لحاظ سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ زبان کا صرف سیاسی و نظریاتی پہلو غالب رہا

پاکستان کی تخلیق دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ دو قومی نظریہ مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد ہر ایک الگ قوم مانتا ہے۔ مگر جس وقت مسلمانوں کے لئے ایک الگ مملکت کا مطالبہ کیا جاتا تھا اس وقت دنیا میں قومیت کا تصور وطن، زبان اور ثقافت کی بنیاد پر پل رہا تھا۔ اس لیے اس الگ قوم کے لئے ایک زبان اور ثقافت کا ہونا بھی ضروری تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم ہند سے پہلے اردو زبان کو صرف مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش جاری تھی۔

قومیت کے لیے مذہب، زبان اور ثقافت کا یہ ابہام پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہا۔ یہی وجہ ہے زبان کے مسئلے کو پاکستان کی کسی تعلیمی پالیسی میں حل نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی تعلیمی پالیسیاں اردو کی طرف زیادہ مائل رہیں لیکن اردو اور انگریزی کے متعلقہ رتبے (status) ہمیشہ مبہم رہے۔ البتہ ان پالیسیوں سے ’علاقائی‘ زبانوں پر ہمیشہ اردو کو فوقیت دی۔ دوسرا بڑا چیلنج جو زبانوں سے متعلق برقرار رہا وہ زبانوں کی تعلیمی افادیت اور قومیت سازی میں زبانوں کے کردار کا باہمی ٹکراؤ رہا۔ انگریزی کو اس کی علمی وسعت کی وجہ سے مسترد نہیں کیا جاسکا اور ’علاقائی یا صوبائی‘ زبانوں کو ’قومی وحدت‘ کے لیے خطرہ سمجھا گیا۔ ان پالیسیوں میں انگریزی زبان کو لعن طعن کا نشانہ تو بنایا گیا لیکن کہیں بھی اس سے جان نہیں چھڑا سکے۔ دوسری طرف علاقائی اور دیگر زبانوں کو ’قومی وحدت‘ کے لئے خطرہ سمجھ کر ان سے انکار نے ہی اس ’قومی وحدت‘ کو پاش کرکے رکھ دیا جس کی اہم مثال بنگلہ دیش کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

قومی تعلیمی پالیسیوں کے حوالے سے کئی سوالات نے ہمیشہ تعلیمی پالیسی سازوں کو پریشان کئے رکھا۔ مثلاً ملک کے لئے ایک زبان کونسی ہونی چاہئے؟ انگریزی کی کیا حیثیت ہو؟ کونسی زبان ذریعہ تعلیم (medium of instruction) ہو؟ علاقائی زبانوں کی حیثیت کیا ہو؟ اور کونسی زبان تعلیمی اداروں میں بطور مضمون کس جماعت سے شروع ہو؟

1947ء سے اب تک پاکستان میں کوئی نو تعلیمی پالیسی دستاویزات مرتب کی گئیں۔ ان میں سے پانچ کو فوجی آمروں کے ادوار میں مرتب کیا گیا۔

نومبر۔ دسمبر 1947ء کو کراچی میں پہلی پاکستانی تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں نئے مملکت کے لئے تعلیمی خدوخال کے لئے سفارشات ایک رپورٹ کی صورت میں مرتب کئے گئے۔ اس وقت کے وزیر داخلہ فضل الّرحمان نے اپنی تقریر میں اس نئی مملکت کے لئے بنیادی تعلیمی اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’اردو نے ایک غیر معمولی قوّت (vitality) اور حساسیت دیکھائی ہے۔ اردو خیالات کی ساری سطحیں ( shades of thoughts ) اور تخیل کے پیچیدہ اور نازک پروازوں کے اعلیٰ اظہار اور ابلاغ کا ذریعہ ثابت ہوئی ہے‘‘۔ (حوالہ گورنمنٹ آف پاکستان رپورٹ 1947ء)۔ اس کانفرنس میں اردو کو ’رابطے کی زبان ‘ (lingua franca) قرار دیا گیا۔ فضل الّرحمان نے اپنی تقریر میں کہا، ’’ جس آسانی سے اردو دوسری زبانوں سے الفاظ مستعار لیتی ہے، اردو کا فارسی، عربی اور سنسکرت سے تاریخی رشتہ اور شاعری و نثر میں اردو کی اعلٰی تخلیقی صلاحیت اس کو پاکستان کی رابطے کی زبان بنانے کے لئے ناقابل تردید جواز ہیں‘‘۔ اس کانفرنس میں انگریزی زبان کو بطور ذریعہ تعلیم مضر گردانا گیا تاہم اسے مغرب کے سارے سائنسی خزانوں اور تہذیبوں کو رسائی کا ذریعہ مانا گیا۔ اسی اجلاس میں صوبائی زبانوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ زبانیں نہ صرف ذریعہ تعلیم ہیں بلکہ ثقافت کی ابلاغ کے وسیلے بھی ہیں۔ اسی کانفرنس کی تعلیم پر کمیٹی نے تجویز کیا کہ تعلیم میں ذریعہ تعلیم ( medium of instruction ) کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا چاہئے تاہم اردو کو ہر صوبے میں ایک لازمی دوسری زبان کی حیثیت ضرور ہو۔ اسی طرح انگریزی کو بھی نصاب میں ایک لازمی زبان کے طور پر رکھنے کی سفارش اس کانفرنس میں کی گئی۔

اگلے بارہ سالوں کے لئے پاکستان میں تعلیمی پالیسی پر کوئی دستاویز نہیں ملتی۔ ان دس سالوں میں تاہم بڑے اہم واقعات رونما ہوئے۔ ان میں اہم ترین واقعہ بنگالی زبان کو بطور قومی زبان تسلیم کروانے کے لئے مشرقی پاکستان کے لوگوں کی تحریک ہے۔

بنگالی لوگ تقسیم سے پہلے ہی اردو کو مسلمانوں کی واحد زبان بنانے پر ناراض تھے۔ وہ بنگالی کو بھی مسلمانوں کی زبان سمجھتے تھے۔ تقسیم کے بعد اس وقت کے پاکستانی قیادت نے بنگالیوں کے اس مطالبے کو یکسر نظر انداز کیا۔ خود بانئی پاکستان نے 1948ء میں ڈھاکہ میں واضح کیا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہوگی۔ یوں بنگالیوں میں اضطراب بڑھتا گیا۔ انہوں نے بنگالی زبان کے لئے قومی زبان کی حیثیت کے لئے تحریک شروع کی۔ اس تحریک کے زیر اثر 1952ء کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے مشتعل طلباء پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں کم از کم سات طالب علم ہلاک ہوئے۔ اس تحریک کا اثر تھا کہ پاکستان نے 1954ء کو اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی قومی زبان تسلیم کیا اور 1956ء کے ائین میں اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ ابھی اس آئین کو دو سال ہی ہوئے تھے کہ ملک میں 1958ء کو مارشل لاء لگا اور جنرل ایوب خان ملک کے حکمران بن گئے۔

جنرل ایوب کے دورحکمرانی کے دوران ہی 1959ء کو تعلیم پر قومی کمیشن ( Commission on National Education) بنا۔ اس کمیشن کی رو سے اردو اور بنگالی دونوں کو پاکستان کی قومی زبانیں تسلیم کیا گیا۔ اس کمیشن نے سفارش کی کہ قومی زبانیں بتدریج انگریزی کی جگہ ہر سطح پر ذریعہ تعلیم ہونگی تاہم انگریزی کو چھٹی جماعت سے آگے ڈگری سطح کی تعلیم تک ایک لازمی مضمون کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔ اسی پالیسی میں کہا گیا کہ اگلے پندرہ سالوں میں یونیورسٹی سطح پر اردو زریعہ تعلیم کے طور پر انگریزی کی جگہ لے گی۔

1965ء کو پاکستان اور ہندوستان کے بیچ جنگ چھڑ گئی۔ دوسری تعلیمی پالیسی 1969ء کو آئی۔ اس دوران ملک کے حکمران جنرل یحیٰی خان تھے۔ اس پالیسی میں جو نئی باتیں شامل کی گئیں وہ اردو کو مغربی پاکستان میں اور بنگالی کو مشرقی پاکستان میں سرکاری زبان کا درجہ دینا تھا۔ اسی پالیسی میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ انگریزی کی تدریس بتدریج گھٹا کر اسے قومی زبانوں (اردو اور بنگالی ) میں تبدیل کیا جائے گا۔

اگلے سال 1970ء کو ایک اور تعلیمی پالیسی مرتب کی گئی جسمیں کوئی نئی بات نہیں تھی ماسوائے اس سفارش کے ذریعہ تعلیم کے طور پر زبان اپنانے کے وقت دیکھا جائے کہ وہ زبان تعلیم کے حصول میں آسانی پیدا کرے، جس میں ابلاغ واضح اور معروضی طور پر کیا جاسکے؛ اور جس سے تخلیقی اور تنقیدی فکر (creative and critical thinking) فروغ پائے۔

1971ء کو پاکستان اور انڈیا کے بیچ تیسری جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستانعلیحدہہوکر بنگلہ دیش بنا۔

1972ء کو ایک اور تعلیمی پالیسی سامنے ائی۔ اس وقت ملک پر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی۔ اس تعلیمی پالیسی میں زبان کے مسئلے کو سرے سے چھیڑا گیا نہ ہی ذریعہ تعلیم کا ذکر کیا گیا۔

1973ء کو پاکستان میں ایک جمہوری حکومت نے پہلا متفقہ آئین منظور کروایا۔ اس آئین میں زبان اور ثقافت کے حوالے سے آرٹیکلز 251 اور 28 اہم ہیں۔ ملک میں شہریوں کو اپنی زبان و ثقافت کے فروغ کا حق دیا گیا تاکہ وہ اس حق کو اردو کے خلاف استعمال کرے۔ اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا گیا۔ صوبائی اسمبلی کو اختیار دیا گیا کہ وہ صوبے کی کسی زبان کے فروغ و ترقی کے لئے ادارے بنائے لیکن یہ اقدامات اردو سے ’تعصب ‘ پر مبنی نہ ہو۔ آئین میں وعدہ کیا گیا کہ آئیندہ پندرہ سالوں میں اردو کو دفتری/ سرکاری زبان بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔

1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء لگایا۔ جنرل ضیاء نے پورے ملکی نظام کو اپنی فہم کے مطابق اسلامی بنانے کی ٹھانی۔ ان کے ہی دور میں 1979ء کو چھٹی تعلیمی پالیسی آگئی۔ اس پالیسی میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے پر زور دیا گیا۔ نجی سکولوں میں بھی اردو کو بطور ذریعہ تعلیم نافذ کیا گیا۔ اردو کے فروغ کے لئے اقدامات کئے گئے اور اسے مسلم شناخت کی علامت بنایا گیا۔ اس پالیسی میں سفارش کی گئی کہ اردو ذریعہ تعلیم ہوگی تاہم اس کے ساتھ تیسری جماعت سے ایک علاقائی زبان کو بھی پڑھایا جائے گا۔

1989ء کو ملک میں جمہوریت بحال ہوئی۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں تعلیمی پالیسی پر کوئی کام نہ ہوسکا۔ ان کی حکومت کو جلد فارغ کردیا گیا۔

محمد نواز شریف کی پہلی حکومت نے 1992 ء کو تعلیمی پالیسی بنائی جس کی رو سے ذریعہ تعلیم کا فیصلہ صوبوں نے کرنا ہے جہاں وہ کسی ایک صوبائی زبان، اردو یا انگریزی کو ذریعہ تعلیم بناسکتے ہیں۔ اس پالیسی نے آگے سفارش کی کہ اعلٰی سائنسی و تیکنیکی تعلیم انگریزی میں دی جائے گی۔

اس دوران یہ جمہوری حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں۔ بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت بھی جلدی ختم ہوا۔ عام انتخابات کے نتیجے میں دوسری مرتبہ محمد نواز شریف کی حکومت آئی جس نے 1998ء کو ملک کی آٹھویں تعلیمی پالیسی مرتب کی۔ اس پالیسی میں کوئی نئی بات نہیں کی گئی ماسوائے عربی زبان کے فروغ کے۔

1999ء کو فوج نے پھر حکومت کو چلتا کیا اور ملک کے حکمران اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف بن گئے۔ ان کی حکومت کے دوران خطے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ گیارہ ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینڑ اور پینٹاگون واشنگٹن پر حملے ہوئے جن کی ذمہ داری افغانستان میں اس وقت کے طالبان حکومت کے مہمان اسامہ بن لادین اور اس کی تنظیم القاعدہ نے تسلیم کی۔ امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا اور پوری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کی قیادت میں شروع ہوئی۔ پرویز مشرف کی حکومت امریکا کی اتحادی بن گئی۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی بیانیہ شروع ہوا۔ پاکستان میں تاہم حالات مختلف رہے۔ مرکز میں پرویز مشرف کی نام نہاد ’روشن خیال ‘ حکومت تھی جبکہ افغانستان سے متصل صوبہ سرحد (خیبر پختون خوا) میں سات مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوئی۔ جنرل مشرف نے خود کو دنیا کے سامنے روشن خیال پیش کرنا شروع کیا۔

اس کی حکومت کے دوران کئی تعلیمی و نصابی اصلاحات کی باتیں کی گئیں۔ مشرف کی حکومت نے تعلیمی پالیسی بنائی جسے 2009ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پیش کیا۔

اس پالیسی میں ایک طرف انگریزی کو اہمیت دی گئی تو دوسری طرف اسے ملک میں عدم مساوات کی ایک اہم وجہ بھی مان لیا گیا۔ اس پالیسی کی رو سے انگریزی زبان کچی جماعت (KG ) سے مضمون کے طور پر شامل ہوگی اور اس کے لئے منصوبہ بندی کا اعلان کیا گیا۔ ملک میں تعلیم میں پیچھے رہ گئے طبقات پر خصوصی توجہ کا وعدہ کیا گیا۔ جماعت اوّل سے ہی اردو، انگریزی، ایک صوبائی زبان اور حساب کو مضامین کی صورت میں رکھنے کی سفارش کی گئی۔ نویں جماعت تک ذریعہ تعلیم اپنانے کا اختیار صوبوں کو دیا گیا۔ چھٹی جماعت اور اس سے آگے سائنس اور حساب کے لئے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا۔ معاشرے کے نچلے طبقات کے بچّوں کو انگریزی پڑھانے کی بات بھی اس پالیسی میں کی گئی۔ آخر میں ایک جامع پالیسی ( language policy) زبانوں کے حوالے سے صوبوں، وفاق اور دوسرے تمام شرکاء (stakeholders) کی مشاورت سے مرتب کرنے کی بات کی گئی۔

2009 ء کے بعد وفاقی سطح پر کوئی تعلیمی پالیسی مرتب نہیں کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ 2010 ء کو پاکستان کی آئین میں اٹھارویں ترمیم ہے جس کی رو سے تعلیم کا شعبہ صوبائی بن گیا۔ اس کے بعد اب تک وفاقی سطح پر تعلیم پر کوئی پالیسی نہیں آئی۔ البتہ اس سال کے شروع میں وفاقی سطح پر قومی تعلیمی پالیسی 2016ء ( Education Policy 2016 National ) کی باتیں میڈیا میں گردش کر رہی تھیں لیکن ابھی تک اس پر پیش رفت کی کوئی خبر نہیں آئی۔

آئین میں اٹھارویں ترمیم (18th Amendment) میں ایک اہم پیش رفت آرٹیکل 25A کا شامل کرنا ہے جس کی رو سے پاکستان میں پہلی بار ریاست کو تمام بچّوں اور بچّیوں کے لئے جن کی عمریں پانچ سے سولہ سال ہیں فری اور لازمی تعلیم قانون کے مطابق دینے کا ذمّہ دیا گیا۔

اس ترمیم کے بعد پاکستان میں تعلیمی پالیسیوں میں زبانوں اور ذریعہ تعلیم کا مسئلہ ہنوز باقی ہے۔ صوبوں نے اب تک اس سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی۔ البتہ 2012 ء صوبہ خیبر پختون خوا کی اس وقت کی حکومت نے علاقائی زبانوں کے فروغ کے لئے قانون سازی کرکے ایک ایکٹ پاس کرایا جس کی رو سے صوبے میں ان علاقائی زبانوں کے فروغ و بقا کے لئے ایک ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور سکولوں کے نصاب میں صوبوں میں بولی جانی والی زبانوں کی بتدریج تدریس کا انتظام کیا جائے گا۔ اس قانون کی رو سے ابتدائی دو سالوں (2013 اور 2014 ) کے لئے صوبے میں دیگر چار زبانوں ہندکو، کوہستانی، کھوار اور سرائیکی کو اتبدائی جماعتوں یعنی ادنٰی میں پڑھانے کا اہتمام ان علاقوں کے سرکاری سکولوں میں کیا جائے گا جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ تاہم صوبے میں حکومت بدلنے سے یہ کام سرد مہری اور سستی کا شکار رہا۔ اب تک خیبر پختون خوا میں علاقائی زبانوں کے فروغ کے لئے وہ ادارہ قائم نہیں کیا گیا جس کے لئے 2012 ء میں قانون سازی کی گئی تھی۔

ان سب تعلیمی پالیسیوں پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ زبان کے مسئلے کو پاکستان میں سماجی، تعلیمی اور ثقافتی لحاظ سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ زبان کا صرف سیاسی و نظریاتی پہلو غالب رہا۔

اردو کو باوجود وعدوں اور قانون سازی کے سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا جاسکا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے بھی واضح احکامات دیے لیکن اردو دفتری یا سرکاری زبان نہ بن سکی۔ کئی دعووءں کے باوجود انگریزی کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکا۔ انگریزی بدستور پاکستان میں طاقت اور ترقی کی زبان رہی۔ پاکستان میں طاقت کے اہم سرچشموں مسلّح افواج، عدلیہ اور افسر شاہی کی زبان انگریزی ہی رہی۔ یہ تمام پالیسیاں اردو اور انگریزی کی اسیر رہیں۔ کچھ ذکر نام نہاد صوبائی زبانوں کا ملتا ہے لیکن پاکستان میں بولنے والی باقی ماندہ پینسٹھ (65) زبانوں کا ذکر کہیں موجود نہیں۔ ہمارے تعلیمی پالیسی ساز ایک ان دیکھے خوف کے شکار نظر آئے۔ انہوں نے صوبائی اور دیگر زبانوں کو اس خوف کی وجہ سے نظر انداز کئے رکھا کہ خدا ناخواستہ ان زبانوں کو تسلیم کرنے سے ’قومی وحدت ‘ کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس سلسلے میں 2014 ء کو دس زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کے بل پر قومی اسمبلی کے سٹیندنگ کمیٹی کے سیکریٹری صاحب کے تاثرات دلچسپ ہیں جن میں موصوف مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی وجہ بنگالی زبان کو قومی زبان کی حیثیت دینا گردانتے ہیں۔ اس بل کو اس سال گزشتہ مہینے ایک بار پھر ملتوی کیا گیا۔

پاکستان ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے ایک متنوع ملک ہے۔ اس کی بقا و ترقی یہاں کے اس تنوع کو تسلیم کرکے اس کی حفاظت میں ہے نہ کہ اسے مٹانے میں۔

اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور اسے یہاں پاکستان کی اکثر آبادی سمجھتی ہے۔ اسے اس حیثیت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ مگر اردو کے ساتھ دیگر زبانیں بھی پاکستان میں ہی بولی جاتی ہیں۔ ان زبانوں کو بھی قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔

جیسا کہ سپریم کورٹ کا حکم ہے اور آئین پاکستان بھی کہتا ہے اردو کو سرکاری زبان بنانے کے اتنظامات کئے جائیں۔ انگریزی زبان بلاشبہ ایک عالمی زبان بن گئی ہے۔ اس کی مانگ اب چین اور جاپان میں بھی بڑھ رہی ہے۔ یہ اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ابلاغ کی زبان بن گئی ہے۔ اس کی اس حیثیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن پاکستان کی مادری زبانیں اپنے اندر حکمت، تاریخ اور ثقافت کے خزینے لئے ہوئی ہیں۔ ان زبانوں کا معدوم ہونا پاکستان کے لوک ورثہ، دیسی حکمت اور تنوع کا مٹنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اب یہ بات ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ بچّوں کی ابتدائی تعلیم ان کی مادری زبان میں بہت مؤثر اور تیز ہوسکتی ہے۔

پاکستان کو ایک تین لسانی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے۔ ابتدائی (پرائمری) تعلیم کے لیے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم ہونا چاہئے، اس کے ساتھ اردو اور انگریزی بطور مضمون شامل ہوں۔ اس سے اگلی جماعتوں میں اردو اور انگریزی ذریعہ تعلیم بنائی جائیں، جبکہ مادری زبان کو ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھانا چاہئے۔ اس سے پاکستان میں تعلیم بھی بہتر ہوسکتی ہے، ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے اور ہماری نئی نسل اپنی دیسی روایات و زبانوں سے واقف بھی رہے گی۔ مزیدبرآں ہم اس نوابادیاتی ذہنیت میں بھی تبدیلی لاسکتے ہیں جو ہماری خوداعتمادی کو بری طرح تباہ کررہی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...