پاکستان میں مذہبی طبقے کا بدلتا سخت گیر تحریکی چہرہ

357

کسی بھی نظریے کی تحریکی شکل ضروری نہیں کہ انہدامی یا تشدد پسند بھی ہو۔ اسی طرح سے مذہی تحریکوں کا معاملہ ہے۔ دنیا کے بہت سے مذاہب میں مختلف صورتوں میں اور مختلف سطح پر تحریکی عمل کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، یہ سیاسی بھی ہے اور غیرسیاسی بھی۔ یہ تحرک البتہ عمومی طور پہ جزوی نوعیت کا ہوتا ہے کہ پورا مذہبی ڈھانچہ اور اس کے پیروکار اس مشغولیت کا حصہ نہیں ہوتے۔ جبکہ مسلم تناظر میں جو چیز اب الگ محسوس کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ رفتہ رفتہ مذہب کا پورا ڈھانچہ ہی تحریکی شکل اختیار کرگیا ہے اور وقت کے ساتھ سخت گیر ہوتا جارہا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی مثال سب سے نمایاں ہے۔ جس نوعیت کی تحریکیں یہاں موجود ہیں اور سماج پر جیسے ان کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ایسا باقی مسلم دنیا میں نظر نہیں آتا۔ اگر مذہب کا پورا ڈھانچہ ہی تحریکی شکل اختیار کرلے تو مذہب کی اصل روح مسخ ہوجاتی ہے اور اس عمل کے انہدامی ہونے کی جانچ کے لیے کوئی عدسہ لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ اتنا عیاں ہوتا ہے۔

ماضی میں مذہب کے نام پر جو تحریکات چلیں، ان میں سے جو وسیع پیمانے پر اور نمایاں رہیں وہ اپنے ساتھ کچھ علمی و فکری بنیادیں بھی رکھتی تھیں جو اگرچہ نصوص کی تاویل پر مبنی تھیں، لیکن ان تحریکات کے پیچھے بہرحال ایک علمی مشقت موجود تھی۔ بالخصوص سیاسی اسلام اور نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرنے والی جہادی وغیرجہادی تحریکوں کے رہنماؤں نے اپنے حق میں اچھا خاصا لٹریچر پیش کیا، اور اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا گیا کہ ایک وقت تک اس لٹریچر پہ نظرثانی بھی ہوتی رہی اور بعد کے رہنماؤں نے اپنے کئی مواقف سے رجوع بھی کیا، بالخصوص عرب دنیا سمیت بعض دیگر مسلم ممالک میں ایسا بہت ہوا ہے۔ (پاکستان میں تحریکات کے اندر کی سطح پر اس حوالے سے بھی خلا موجود رہا۔)

پاکستان کے معاصر نئے تحریکی چہرے ایک مربوط و طاقتور انتظامی ڈھانچہ تو رکھتے ہیں، لیکن ان کی علمی و فکری بنیادیں بہت کمزور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی مذہبی تحریکات میں مختلف جذباتی نعروں کے ساتھ عوام کی دینی غیرت وحمیت کو ابھارا جاتا ہے۔ آج کل توہین مذہب اور توہین رسالت کے موضوعات کو اتنی کثرت کے ساتھ اور بلا سوچے سمجھے بیان کیا جاتا ہے کہ یہ بالکل عوامی بن گئے ہیں۔ اور ستم ظریفی کہ اس موضوع پر اجارہ داری کے لیے مسابقت کا ماحول ہے جو سماج میں انفرادی سطح تک پھیل گیا ہے۔ اور اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک میں روایتی مذہبی حلقے کا اتنا بڑا نیٹ ورک جو سینکڑوں دارالافتاء اور مدارس کی صورت ہے ان میں سے کسی کو بھی سکت نہیں کہ وہ ادارہ جاتی سطح پہ اس موضوع اور جذباتی لہر پر لیت ولعل سے کام لیے بغیر علمی مباحثے کی دعوت ہی دے سکے۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کہ اب تحریکات زیادہ طاقتور اور پرکشش ہیں۔ حتی کہ مدارس کے اندر طلبہ میں بھی ان کا جذباتی رسوخ زیادہ ہے۔ روایتی مذہبی حلقہ تیزی سے مضمحل ہوتا جارہا ہے اور تحریکات ہی اسلام کی ترجمان بن گئی ہیں۔

مذہبی طبقے کا وقت کے ساتھ سخت گیر ہوتا تحریکی مزاج انہیں مسابقت اور طاقت کی حرکیات کے ضمن میں جس غیریقینی سطح تک لے جاتا ہے، یہ ایک لمحہ فکریہ ہے

کچھ عرصہ قبل تک ایسا تھا کہ مدارس کے اندر طلبہ کو تلقین کی جاتی تھی کہ وہ تعلیمی سفر کے دوران باہر کی مذہبی تحریکات سے خود کو دور رکھیں، اور اس کے لیے کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔ جلسوں میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، تحریکوں کے اخبارات و مجلات رکھنے پر پابندیاں عائد تھیں۔ صرف تبلیغی جماعت سے تعلق کی کھلی اجازت تھی۔ جو طلبہ تحریکات سے ربط رکھتے وہ ایسا چوری چھپے کرتے، لیکن عمومی ماحول تھا کہ زیادہ تر کسی نہ کسی تحریک کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے تھے۔ لیکن اب ایسی مشکل نہیں رہی۔ طلبہ سوشل میڈیا کی وجہ سے باہر کی مذہبی تحریکوں کے ساتھ زیادہ ربط میں آگئے ہیں جس کا مدارس کی مقتدرہ کو بھی بخوبی علم ہے۔

لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ طلبہ کئی برس مدارس کی چاردیواریوں کے اندر رہتے ہوئے بھی مدارس کی پالیسی کے برخلاف باہر کی مذہبی تحریکات کی جانب جھکاؤ رکھتے رہے ہیں؟ اس لیے کہ مدارس کی پالیسی فکری و علمی بنیادوں پر استوار نہیں کی گئی ہوتی۔ باہر کی مذہبی تحریکات چاہے کوئی جتنی بھی متشدد رہی ہو، ان کے خلاف مدارس کے اندر کسی فکری نوعیت کی تربیت کا ماحول نہیں رہا، نہ کوئی علمی سرگرمی متعارف کرائی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کی مقتدرہ کی خواہش کے برخلاف بھی طلبہ باہر متوجہ رہتے ہیں۔ اور عملاً ان کے لیے یہ پرکشش بھی ہے کہ ان کے لیے گہماگہمی کی حامل غیرنصابی سرگرمی اور ہوتی بھی کیا ہے جو ان کے اپنے مذہبی دائرے میں ہو اور اپنی طرف کھینچے۔

استعماری عہد سے قبل مسلم تاریخ میں مذہبی طبقہ کبھی تحریکی صورت میں متشکل نہیں رہا، حتی کہ جزوی طور پہ بھی ایسا مثالیں شاذ ہی ہیں جنہیں تحریک کا نام دیا جاسکے۔ مذہبی، فکری اور فلسفیانہ مباحث کی اساس پہ مسالک و فرقے رہے ہیں لیکن ان کی بنیاد پہ یا ویسے ہی مجموعی طور پہ ان کا سماج میں تحریکی عمل نظر نہیں آتا۔ خلافت کے منصب کے ساتھ اسلام کا نام جڑا رہا، لیکن مذہبی طبقے کی فعالیت دو چیزوں میں تھی: ایک وعظ واصلاح کی حیثیت میں اور دوسرا علمی مشاغل کی صورت۔ لیکن استعماری عہد سے ان کا سماجی سطح پر تحریکی عمل شروع ہوا جو مختلف شکلیں اختیار کرتا رہا اور یہ ساری شکلیں اب تک کسی نہ کسی سطح موجود ہیں۔ پہلے خلافت کے قیام کی تحریکیں، پھر آزادی کے بعد قومی ریاستوں میں نفاذ شریعت کی تحریکیں، اس کے بعد عالمی جہاد کے تصور کے تحت مغرب کے خلاف جہاد کی تحریکیں، بعدازاں اپنے مسلمان ممالک میں جہاد کی تحریکیں، پھر مسلکی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر تحریکیں، اور اب مذہبی شناخت و شعائر کے تحفظ تحریکیں جن کا نشانہ مسلم وغیرمسلم دونوں یکساں ہیں۔

پاکستان میں مذہبی تحریکات وقت کے ساتھ زیادہ مضبوط ہوئی ہیں۔ 1970ء سے باقاعدہ سیاست کا حصہ ہیں اور ہر فرقے کی سیاسی جماعت وجود رکھتی ہے۔ ان کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف تحریک لبیک نے 2017ء سے اب تک ریاست کو کئی بار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے۔ 1970ء کے انتخابات سے قبل یہ صرف پریشر گروپ تھیں، مگر بہت مؤثر تھیں۔ 1953ء میں احمدیوں کے خلاف اپنے مطالبات کی عدم منظوری کے بعد مظاہرے کیے، حالات اتنے خراب ہوئے کہ ستر دن کے لیے پہلا مارشل لاء لگادیا گیا۔ 1962ء میں ایوب خان کی حکومت کے دوران ان کے مطالبے پر جمہوریہ پاکستان کے ساتھ اسلامی کا لفظ لگایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ان کے مطالبات تسلیم کیے اور آئین میں مذہبی بنیادوں پر تبدیلی کی۔ جنرل ضیاءالحق اور جہاد افعانستان کے بعد ان کے لیے حالات مزید سازگار ہوتے گئے۔

پاکستان میں مذہبی طبقے کا تحریکی عمل سکڑنے کی بجائے مزید پھیلا ہے۔ تحریکی عمل کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ زیادہ سے زیادہ عوام کو جوڑتا ہے کہ یہی اس کی بقاء کی ضمانت اور طاقت ہوتی ہے۔ عوام پر اس کے اثرات کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ آج اگر کسی سے پوچھا جائے کہ ’’مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے؟‘‘ تو زیادہ امکان یہی کہ وہ تحریکی تأثر کے تحت ہی جواب دے گا جو جذباتی نعروں پر مبنی ہے۔ صلہ رحمی، ہے مواخات، رحم دلی، تزکیہ، برداشت اور اخلاق حسنہ جیسے موضوعات گم ہوتے جارہے ہیں۔

مذہبی طبقے کے تحریکی سخت گیر رویے اور غیرمجاز فعالیت پر روک لگانے کے لیے مدارس میں علمی وفکری تربیت کی ضرورت ہے کہ دین کے نام پر ایسے رویے اختیار نہ کیے جائیں، بلاشبہ مدارس ہی اس میں زیادہ کردار ادا کرسکتے ہیں۔

موجودہ مذہبی تحریکات نے مذہب کو جذباتی نعروں میں بدل کر رکھ دیا ہے کہ جیسے یہی اسلام کا جوہر ہو۔ اور ان کا اثر نیچے سے اوپر تک پورے سماج میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس سے سیاست بھی مستثنی نہیں۔

مذہبی طبقے کا وقت کے ساتھ سخت گیر ہوتا تحریکی مزاج انہیں مسابقت اور طاقت کی حرکیات کے ضمن میں جس غیریقینی سطح تک لے جاتا ہے، یہ سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے اور اس کے مستقبل میں کس حد تک انہدامی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اسے آسانی سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...