“نوجوان اور قومی بیانیہ: پاکستان میں تعلیم، تشددپسندی اور سکیورٹی سٹیٹ” – میری لال، تانیہ سعید

پروفیسر نورین درانی

159

نوجوانوں کے تناظرات کے مطالعات میں دلچسپی رکھنے والوں نے عالمی حوالے سے نوجوانوں میں، خاص طور پر مسلم نوجوانوں میں بیگانگیت اور بنیاد پرستی سے متعلق تناظرات میں اضافہ محسوس کیا ہے۔ نائن الیون کے بعد کے جغرافیائی سیاسی تناظر میں، اہم بین الاقوامی تنظیموں، غیر سرکاری تنظیموں اور دو طرفہ ایجنسیوں کے پالیسی ایجنڈے تعلیم، تنازعات اور بین الاقوامی ترقی کے درمیان تعلقات کے بارے میں تفکر میں مبتلا ہیں، اور اس کے بعد سے جاری عسکری سرگرمیوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر تعلیم اور سلامتی کے درمیان ایک انسلاک پیدا ہو گیا ہے۔

جب بیک وقت نوجوانوں کو ترقی کا ضامن بھی قرار دیا جا رہا ہے اور سکیورٹی رِسک بھی، تو اس معاملے کو نظرِتحقیق سے دیکھنے والی نگاہیں نوجوانوں پر اور بھی متوجہ ہو گئی ہیں۔ تحریری سرمائے میں نوجوانوں کی آواز اور ان کے تناظرات کو ثانوی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔

تحقیقی مطالعات کا پاکستانی نوجوانوں میں دلچسپی ظاہر کرنا مختلف وجوہات کی بنا پر قابل فہم ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی سیاسی محل وقوع، امریکہ کی زیر قیادت ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’، اس کی نوجوان آبادی، نوجوانوں کی بے روزگاری کی اعلیٰ سطح، صورت حال کے نازک اور متنازع ہونے کی سطح، کمزور جمہوری ڈھانچے اور ادارے، پاکستان میں نسلی اور لسانی تنو ع اور ریاست کی تشکیل میں اسلام کا مقام، آئین اور سماجی زندگی، یہ سب عوامل مل کر زیرنظر کتاب کو بین الاقوامی تعلیم اور ترقی کے میدان میں ایک بروقت اور انتہائی درکار کاوش بنا دیتے ہیں۔ کتاب پاکستان کی موجودہ سماجی، معاشی، اور سیاسی حرکیات کو پڑھے لکھے نوجوانوں کی آراء کے ذریعے ان کے سکیورٹی سٹیٹ سے تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے سامنے لاتی ہے۔

پاکستان کی آبادی کا تقریباً دو تہائی حصہ تیس سال سے کم عمر کے افراد پر مشتمل ہے اور اس وجہ سے ملک “امکانی طور پر اگلی دو دہائیوں میں ترقی کے لیے تیار ہے، اور یہ کتاب اس بات کی طرف ایک روزن کھولتی ہے کہ اس کے رُوبہ عمل ہونے کا امکان کیونکر ہے”۔ اگرچہ پاکستانی نوجوانوں کے خیالات اور نقطہ نظر پر کئی نصابی مقالات، کتب کے ابواب اور متفرق تحریریں موجود ہیں، یہ اس موضوع پر پہلی کتاب ہے جو نَو سال کے دورانیے میں جمع کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر مباحث اور نتائج مرتب کرتی ہے۔ تعلیم، سیاست، بین الاقوامی ترقی اور سکیورٹی اسٹڈیز پر بین العلومی ادب کے ایک بڑے حصے پر کام کرکے نوجوانوں کی آراء کا سیاق و سباق فراہم کیا گیا ہے۔ یہ تمام خصوصیات کتاب کو ماہرین تعلیم، محققین، پالیسی سازوں، اور کثیر الجہتی ایجنسیوں کے لیے ضروری بناتی ہیں جو پاکستان میں نوجوانوں کے مطالعے، تعلیم اور تنازعات اور تعلیم اور سیکورٹی کے مسائل و موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

کتاب کا آغاز ایک دیباچے سے ہوتا ہے جس کا محور 2018 کے قومی اور صوبائی انتخابات میں پاکستانی نوجوانوں کا کردار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی انتخابی ریلیوں نے پہلی بار متوسط ​​طبقے کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور پاپ اسٹارز،ڈی جےز اور مشہور شخصیات کی پرفارمنس کو اپنی ریلیوں کا حصہ بنایا۔ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان نے اپنی سیاسی تقریروں میں ایک نئے پاکستان کا خواب دکھا کر نوجوان پاکستانیوں کو مخاطب بنایا، اور بطور وزیر اعظم پہلے خطاب میں اپنی ان توجہات کی عکاسی کی۔ اس کے بعد کے چھ ابواب ریاست اور اس کے نوجوان شہریوں کے درمیان تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر مرکوز ہیں۔ کتاب کا تعارفی حصہ 1947 میں آزادی کے بعد سے ایک قومی ریاست کے طور پر پاکستان کے وجود کی سات دہائیوں کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ قارئین کو سلامتی کے معاصر ایجنڈوں اور انسدادِ دہشت گردی کی ریاستی حکمت عملیوں سے آگاہی فراہم کی گئی ہے۔ آگاہی کے اس سفر میں شدت پسندی کے انسداد کی قومی پالیسی میں بیان کردہ ‘قومی بیانیے’ کو بھی شامل رکھا گیا ہے جس میں دہشت گردی کی حمایت میں کمی لانے میں ہر شہری اور ہر ادارے کے کردار کا خاکہ موجود ہے۔

جب سے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی شرکت سامنے آئی ہے، نوجوانوں کو امن کی اہمیت اور اسلام اور پاکستان کے ساتھ اس کے باہمی روابط کے بارے میں تعلیم دینا ریاست کی ناگزیر ضرورت بن گئی۔ بہر حال، مصنفین کا استدلال ہے کہ ایسے لوگ جو پُرامن طور پر اپنے حقوق کا تقاضا کر رہے ہیں، اُن پر سختی کرنے سے شدت پسندی کے انسداد کی کارروائیوں پر منفی اثر پڑےگا۔

چونکہ سیاست اور روزمرہ کی زندگی پر تشدد اور دہشت گردی کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں، شہریوں کی طرف سے ریاست کے کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ مصنفین نے پاکستان کے عصری چیلنجوں کے بیان میں تین اہم ‘فالٹ لائنوں’ کی نشاندہی کی ہے: i۔ نسلی یا لسانی تقسیم یا علاقائیت؛ ii۔ مسلم اور غیر مسلم، سنی اور شیعہ مسلمانوں اور مختلف سنی فرقوں کے درمیان مذہبی تنازعات؛ iii۔ جمہوری اداروں اور فوج کے درمیان طاقت کا عدم توازن۔

ان تینوں فالٹ لائنوں میں ریاست اور شہریوں کے درمیان تعلق ایک مشترک انسلاک کے طور پر موجود ہے۔ یہ باب شہریت کے دو متصادم تصورات سے بحث کرتا ہے: شہریت ایک سماجی معاہدہ کے طور پر حقوق، ذمہ داریوں اور سیاسی شرکت کے ساتھ اور شہریت ایک مشترکہ شناخت کے طور پر مشترکہ قومیت، مذہب یا زبان کی بنیاد پر۔ مؤخر الذکر کو مابعد نوآبادیاتی ریاستوں میں زیادہ قابل اطلاق سمجھا جاتا ہے جہاں سماجی تانا بانا زیادہ بکھرا ہوا ہے جس کی ایک مثال پاکستان بھی ہے۔ یہاں اور دیگر ابواب میں’نوجوان‘ کی اصطلاح کو الجھایا نہیں گیا۔ باب کا اختتام بڑے پیمانے پر جمع کیے گئے بنیادی سطح کے تجرباتی ڈیٹا کی وضاحت کے ساتھ ہوتا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں سے 1900 سے زیادہ نوجوانوں کی آراء 2009-2018 کے درمیان نو سالوں میں اسکول اور یونیورسٹی دونوں سطحوں پر مختلف قسم کے تعلیمی اداروں سے اکٹھی کی گئیں۔ بہر حال، متعدد سطحوں پر جمع کردہ یہ ڈیٹا نہ تو ضروری طور پر ایک یکساں تحقیقی ڈیزائن یا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے یکساں طریقے کا استعمال کرتے ہوئے اکٹھا کیا گیا تھا، اور نہ ہی اس کی جمع آوری میں ایک جیسے جواب دہندگان تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔ حتیٰ کہ ڈیٹا کی جمع آوری کے مختلف ادوار میں شامل کے گئے موضوعات بھی ایک جیسے نہیں ہیں، اگرچہ تمام مراحل میں نوجوانوں کی شہریت کی شناخت، حقوق اور ذمہ داریوں کی سمجھ کا احاطہ وسیع سطح پر کیا گیا ہے۔ یہ امر مطالعہ کے طویل مدتی ہونے کے پہلو کو محدود کرتا ہے، جس کے نتیجے میں کچھ ابواب وقت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے تناظر میں تبدیلیوں یا استحکام کا تجزیہ کرتے ہیں جبکہ دیگر ابواب ایسے تجزیوں سے خالی ہیں۔

پہلا باب، نوجوان اور سماجی معاہدہ، نوجوانوں کے ریاست کے ساتھ سماجی معاہدے پرنوجوانوں کی آراء سے جانکاری حاصل کرنے کی سعی کرتا ہے جس میں پاکستان کو درپیش عصری چیلنجز، نوجوانوں میں بیگانگیت کے احساس، حقوق اور ذمہ داریوں، اور جمہوریت کے بارے میں نوجوانوں کے خیالات شامل ہیں۔ چونکہ نوجوانوں کے ان گروہوں نے حکومت کی کسی بھی دوسری شکل سے زیادہ ‘جمہوری حکمرانی’ کا تجربہ کیا ہے، اس لیے ریاستی شہری تعلقات کے بارے میں ان کے خیالات ‘جمہوری طرز حکمرانی’ کے تحت پروان چڑھنے والے ان کے تجربات سے تشکیل پاتے ہیں۔ اس کے باوجود، ان کا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کے تئیں ریاست کی ذمہ داری میں کمی آئی ہے۔ امداد کی فراہمی کے مغربی ترقیاتی اداروں کی جانب سے نئے روشن خیال ایجنڈوں کی بنیاد پر امداد کی سیاست نے ریاست کی عدم موجودگی کو مزید تقویت بخشی ہے، جس سے ریاست کے لیے اپنے نوجوان شہریوں کے ساتھ اپنا تعلق بحال رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق 2009 میں، تقریباً دو میں سے ایک نوجوان اس نوع کی بیگانگیت کی بلند یا بہت بلند سطح پر دیکھا گیا جس میں نسلی اقلیتوں کے درمیان بیگانگیت خاص طور پر زیادہ تھی۔ وقت کے ساتھ نوجوانوں کے اس احساسِ بیگانگیت میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی۔ مراعات یافتہ طبقے کے نوجوانوں نے یا تو پاکستان میں سماجی و اقتصادی عدم مساوات میں اپنے ہی طبقے کی شمولیت پر غور نہیں کیا یا اس جمود کو توڑنے کے لیے خود کو بے بس اور مایوسی کا شکار محسوس کیا، جس کی وجہ سے وہ سیاست میں دلچسپی کھو بیٹھے۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ بہت کم نوجوانوں نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا مسئلہ اٹھایا۔ نوجوان جہاں جمہوری اداروں اور سیاست دانوں پر تنقید کرتے ہیں اور “شہری ہونے کے ناطے اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں یا تو بے خبر ہیں یا لاپروا”، وہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فوج کو بہت زیادہ عزت دیتی اور انھیں انصاف اور سلامتی کا محافظ گردانتی ہے۔

دوسرے باب، نوجوان اور بدلتے ہوئے سیاسی کارکن، کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نوجوان سیاسی سرگرمیوں کو کیسے عمل میں لاتے ہیں۔ قارئین کو آگاہی فراہم کی گئی ہے کہ نوجوانوں کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت کی گنجائش میں کیسے تبدیلی آئی ہے۔ پاکستان کے قیام سے پہلے، مسلم لیگ کے ثابت قدم سیاسی اتحادیوں کے طور پر، نوجوانوں نے حصولِ پاکستان کے مقصد کو آگے بڑھایا۔ تاہم، 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں سیاسی جماعتوں اور فوج دونوں کی جانب سے طلبہ یونینوں کی سرپرستی کی گئی جس کے نتیجے میں نوجوان تنظیمیں یونیورسٹی کیمپس کے اندر سیاسی جبر کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہونے لگیں۔ صدر مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف 2007 کی وکلاء تحریک میں نوجوانوں کی شرکت اور پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی عمل میں ان کے بڑھتے ہوئے متحرک ہونے کے باوجود، چند ہی نوجوانوں نے تسلیم کیا کہ وہ سیاسی طور پر متحرک ہیں۔ مختلف اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں نے سیاست سے کنارہ کشی کی کئی وجوہات بتائی ہیں، جن میں بدعنوانی اور سیاستدانوں پر اعتماد کی کمی، تشدد کا خوف، بطور نمونہ کسی مثالی شخصیت کی کمی، اور اپنی بنیادی توجہ ملک کی نسبت اپنے خاندان کی ذمہ داری کی طرف ہونا شامل ہیں۔

طلباء کی سیاسی بیداری یونیورسٹی اور کالج کی سطح کی سیاست میں عملی حصہ لینے کی بجائے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کے اقدامات اور گفتگو پر تنقید کرنے تک محدود تھی۔ اس کے علاوہ، والدین نے سیاسی احتجاج میں شرکت کرنے سے اپنے بچوں کی حوصلہ شکنی کی۔ آبادکاری کے سماجی پہلو نے بھی سیاسی عمل میں شمولیت میں اپنا ایک کردار ادا کیا۔ دیہی اور چھوٹے علاقوں کے نوجوانوں نے شہری مراکز سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی نسبت سیاست میں زیادہ شمولیت کی۔ اسی طرح، NGO/سول سوسائٹی کے زیر انتظام اسکولوں اور مدارس میں طلباء نے سیاسی عمل میں شمولیت کی قدرے اعلیٰ سطحوں کا اظہار کیا، حالانکہ مؤخر الذکر کی سیاسی فعالیت مذہبی وابستگیوں کے حوالے سے تھی۔ سیاسی طور پر سب سے زیادہ فعال اور مصروف نوجوان یونیورسٹیوں میں سیاسیات کے شعبوں میں موجود ہیں۔ سیاست میں خواتین کی شمولیت کو اس بنا پر نامناسب سمجھا جاتا ہے کہ یہ کردار اسلام میں ان کے اصل مقام سے متصادم گردانا جانا جاتا ہے، اس کے باوجود خواتین کی ایک چھوٹی سی تعداد اپنے نسلی یا مذہبی گروہوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے آزادانہ سرگرم تھی۔ اگرچہ شواہد غیر حتمی ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایک نسل سے دوسری نسل تک، خاص طور پر سندھ میں، سیاسی بیداری میں کمی کا رجحان ہے۔یہ باب نوجوانوں کے نقطہ نظر کے درمیان اختلافات کا تجزیہ کرنے میں بہترین ہے۔ تجزیے کی گہرائی کی سطح مختلف ابواب میں مختلف ہے۔ نوجوانوں کے مختلف حلقوں میں سیاسی سرگرمی کس طرح مختلف ہوتی ہے اس کا اہم تجزیہ جیسا اس باب میں کیا گیا ہے، یہ دیگر ابواب سے زیادہ ممتاز ہے۔

نوجوانوں کے شہریت کے نقطہ نظر اور شناخت کی تشکیل کا تعلیم سے کیا تعلق ہے، یہ تیسرے باب، نوجوان، تعلیم اور شہریت کا موضوع ہے۔ یہ باب تعلیمی پالیسیوں، نصاب کی اصلاحات اور موجود علمی تحریروں کا ایک وسیع جائزہ پیش کر کے نوجوانوں کے شہریت کے مؤقف کو پس منظر فراہم کرتا ہے۔ یہ باب تاریخی تناظر میں ان طریقوں کا بیان کرتا ہے جن کے ذریعے جمہوری اور فوجی دونوں طرز کی مختلف حکومتوں نے تعلیم کو ایک سیاسی آلے کے طور پر اسلامی نظریے اور مسلم قومی مؤقف کو قومی اتحاد کے نشان کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ مؤقف، شہریت کے ایک غیرشراکتی تصور کو، مقامی اور بیرونی ‘غیروں’ کے خلاف عدم برداشت کو، غیراستدلالی حب الوطنی کو اور “اسلامی ریاست سے ایسی وفاداری جس میں شہری کے فرائض اور ذمہ داریوں کافہم بہت محدود ہے”، ان سب کو بڑھاوا دیتا ہے۔

تعلیم اور نوجوانوں کے شہریت کے تصور کے درمیان تعلق کو اجاگر کرنے میں مزید مسائل یوں درپیش ہوتے ہیں کہ مختلف قسم کی جن درس گاہوں میں وہ پڑھتے ہیں ان میں ریاست اور شہریت کے مختلف تصورات کے بارے میں کیا اور کس طریقے سے سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے۔

شہریت کی شناخت کے بارے میں نوجوانوں کی آراء، ‘شہریت کے تصور کو اس کی ابتدائی نسلی قوم پرست بنیاد سے حقوق، ذمہ داریوں اور سیاسی شراکت کی تفہیم کی طرف منتقل کرنے میں تعلیم کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں’۔ زیادہ تر نوجوانوں نے ‘صحیح قسم کی ‘اسلامی تعلیم’ کو پاکستان کے تمام مسائل کے علاج کے طور پر دیکھا، گویا غیر مسلم شہریوں کو منظر سے غائب سمجھا گیا۔ بہر حال، چند جواب دہندگان نے اس اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی جو تعلیم شہریت سے متعلق ذہن سازی اور ریاست اور شہری کے باہمی فرائض اور ذمہ داریوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں ادا کر سکتی ہے۔ ایک اور تناظر جو نوجوانوں کے مؤقف کی تشکیل کے لیے اہم ہے، ملک بھر میں دہشت گردی اور تنازعات کی فضا کو معمول پر لانا ہے، خاص طور پر شہری مراکز میں، اور نہیں تو کم از کم پاکستان کے ان مخصوص علاقوں میں جہاں کے لوگوں نے دہشت گردی اور عسکریت کا سامنا کیا ہو۔

نوجوان اور دہشت گردی کے عنوان سے چوتھا باب، نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد، عسکریت پسندی اور دہشت گردی، اور روزمرہ زندگی میں سلامتی کے معاملات کو معمول پر لانے کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ تنازعات سے متاثرہ پاکستان کے سیاق و سباق میں فوج پر نوجوانوں کا اعتماد غیر متزلزل ہے۔ صرف چند ایک نے ‘سکیورٹی سٹیٹ’ پر سوال اٹھایا، جب کہ زیادہ تر نے فرقہ واریت کو ایک مسئلہ سمجھتے ہوئے بھی یہ خیال ظاہر کیا کہ فوج اور اس کی جنگ فرقہ واریت کی ذمہ دار نہیں ہے۔ جب کہ کچھ نوجوانوں نے یہ تسلیم کیا کہ ‘فوج نے جمہوری عمل میں مداخلت کرکے حد سے تجاوز کیا’، انہوں نے اس خیال کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوان سیاستدانوں نے فوج کے پاس کوئی آپشن نہیں چھوڑا تھا۔ اس باب کا اختتام عدم برداشت اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے انسداد انتہا پسندی کی قومی پالیسی کے رہنما اصولوں (NCEPG) کے ذریعے بنائے گئے ‘قومی بیانیہ’ کی بحث کے ساتھ ہوتا ہے۔ دو اہم شعبے جن میں کام کی ضرورت ہے، ان میں شہریوں کی شمولیت کو مضبوط بنانا اور مربوط تعلیمی اصلاحات شامل ہیں۔ ان معاملات کو کس حد تک لاگو کیا گیا ہے اور اس کا کیا اثر ہوا ہے، خاص طور پر فکری استدلال کی مہارت یا سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں تعلیم کا کردار کیا رہا ہے، یہ موضوعات مستقبل میں ہونے والی تحقیق کے لیے خاص طور پر نتیجہ خیز ہوں گے۔ نوجوانوں کے خیالات نہ صرف تعلیمی مکالمے سے تشکیل پاتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر غالب فکری ماحول سے بھی اثر لیتے ہیں۔

پانچواں باب، نوجوان اور سوشل میڈیا، اس امر پر توجہ مرکوز کرتا ہے کہ نوجوان کس طرح سوشل میڈیا کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں اور اس میڈیا کو کس طرح نگرانی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پچھلے ابواب میں، قارئین کو پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال کی تمام ضروری سیاق و سباق کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم، دیگر ابواب کے برعکس اس باب میں تجرباتی ڈیٹا وسعت کا حامل نہیں ہے۔16- 2015میں جن لوگوں کے خیالات تک رسائی حاصل کی گئی ان کی اکثریت نے سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال کیا، لیکن فیس بک ٹویٹر سے زیادہ مقبول پلیٹ فارم تھا۔ وہ سوشل میڈیا کو بنیادی طور پر سیاسی سرگرمی کے لیے ایک پلیٹ فارم کے بجائے دوستوں اور خاندان کے ساتھ رابطہ رکھنے کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگرچہ سیاسی شعور کو فروغ دینے کے ایک ذریعے کے طور پر سوشل میڈیا کی صلاحیت قوی دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کا کردار ‘طالب علموں کو آف لائن اس شعور پر عمل کرنے کی ترغیب دینے میں’ محدود نظر آتاہے۔ ملک میں ہونے والی سیاسی پیش رفت سے خود کو باخبر رکھنے کے لیے نوجوانوں کا سوشل میڈیا پر انحصار خاص طور پر ایک ایسے تناظر میں پریشان کن ہے جہاں عالمی اور قومی سطح پر ‘جعلی خبریں’ رائے عامہ کی تشکیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کے بیانات بھی نگرانی اور ایذا رسانی کے ‘خوف’ کا اشارہ دیتے ہیں، جسے بے وجہ نہیں کہا جا سکتا۔ ریاست آن لائن سرگرمیوں کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتی ہے، اور آن لائن اختلاف پر سختی سے کریک ڈاؤن کرتی ہے۔

کتاب کی تکمیل ایک ‘اختتامیے’ کے ساتھ ہوتی ہے جس میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے سال کے ایجنڈوں اور پالیسیوں میں نوجوانوں کے امور کو کیا حیثیت دی گئی ہے۔ نوجوانوں کے لیے یکساں معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع کا وعدہ تو پورا نہیں ہو سکا، البتہ قومی سلامتی کے نام پر انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور اظہار کی آزادی پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ تاہم ‘سکیورٹی سٹیٹ’ نوجوانوں کے معاملے میں معصوم بنی ہوئی ہے اور قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔ اپنی متعدد خوبیوں کے باوجود، کتاب کسی ‘روایتی’ اختتامی باب کے بغیر اچانک ختم ہو جاتی ہے اور ان جیسے یا ان سے وسیع تر سوالات اٹھانے کا موقع فراہم نہیں کرتی کہ نوجوانوں کے شہریت کے سیاسی نقطہ نظر کی تشکیل میں، سیاسی طور پر سرگرم ہونے میں اور پاکستان میں سوشل میڈیا کے ساتھ مشغولیت میں آمرانہ سکیورٹی سٹیٹ اور تعلیم کا کردار کیا ہے۔

ایک نتیجہ خیز اختتامی بحث کے بغیر وسیع پیمانے پر جمع کیے گئے مشاہدات کے مضمرات اجاگر ہو کر سامنے نہیں آ سکے۔ بہر حال، پچھلے چھے ابواب میں تاریخی، سیاسی، تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور سلامتی کے تناظرات کی بھرپور وضاحتیں دی گئی ہیں جن میں رہ کر پاکستانی نوجوان بطور شہری اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کی آگاہی لیتے ہیں، شہریت اور سماجی عمل کے بارے میں اپنے تصورات بیان کرتے ہیں، سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں جسے چاہیے کہ اپنے قارئین کی سیاسی بصیرت کو بڑھانے میں معاون ہو کہ وہ پاکستانی سیاست سے بڑھ کر عالمی تناظر میں دیکھنے کے قابل ہو سکیں۔

NCEPG کے مابعد منظر نامے میں قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان میں تعلیم میں کس طرح کی اصلاحات لائی جاتی ہیں اور ان اصلاحات سے پاکستانی نوجوانوں کے شہریت کے تناظر، شناخت اور اس پر عمل درآمد کے ضمن میں کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، ان موضوعات پر پیش رفت اس کتاب کے کام کو آگے بڑھانے میں مفید ہو سکتی ہے۔

 

 

 

 

 

References

Dunne, M., Durrani, N., Fincham, K. and Crossouard, B. (2017). Troubling Muslim youth identities. Nation, religion, gender. Basingstoke: PalgraveMcMillan. ISBN: 978-0-230-34837-0 Durrani, N. and Crossouard, B. (2020). National identities and the external other in Muslim majority contexts: Youth narratives in Pakistan and Senegal. Social Identities, 26 (3):314–329. https://doi.org/10.1080/13504630.2020.1765761 Lopez Cardozo, M. T. A., Higgins, S., Maber, E., Brandt, C. O., Kusmallah, N., & Le Mat, M. L. J. (2015). Literature review: Youth agency, peacebuilding and education. Research consortium education and peacebuilding. University of Amsterdam. Novelli, M. (2013). The merging of security and development in the education sector: Discourses and Effects. Educação & Sociedade 34 (123): 345–370. Novelli, M. (2017). Education and countering violent extremism: Western logics from south to north? Compare: A Journal of Comparative and International Education, 47 (6): 835-851. © Bloomsbury Pakistan 2021

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...